PDA

View Full Version : قیامت



ابوسفیان
01-06-2013, 09:54 PM
http://urdu.chauthiduniya.com/wp-content/uploads/2013/01/p-9a.jpg

قیامت آنے سے پہلے عرب کی زمین ہری بھری ہو جائے گی
◎ ◎ ◎ ◎ ◎ ◎
کنگ عبد العزیز یونیورسٹی کے شعبۂ’ ارتھ سائنس‘ نے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ اس میں پوری دنیا کے مشہور و معروف سائنسدانوں نے شرکت کی تھی۔
اس کانفرنس میں بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنس داں ماہر جمادات پروفیسر الفرید کروز نے بھی شرکت کی تھی۔ ان سے دوسرے بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنس داں جناب شیخ الزندانی نے ایک سوال کیا کہ آپ کے پاس اس بات کا کوئی واضح ثبوت ہے کہ جزیرہ نما عرب یا عرب کے بر اعظم کی سرزمین پھر سے ہری بھری ہوجائے گی اور کیا اس بات کے بھی ثبوت ہیں کہ یہ ریگستانی سرزمین سر سبز و شاداب اور ہری بھری تھی اور ان ریگستانی زمین پر نہرین اور ندیاں بہتی تھیں۔

پروفیسر الفرید کروز نے ان کے سوال کو غور سے سنا اور پھر جو جواب دیا وہ غور کرنے کے قابل ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ’ ’ہاں ایساہی ہونے والا ہے اور یہ معاملہ تو ہم سب کی جان کاری میں ہے اور ایسا ہونا سائنسی اعتبار سے ثابت بھی ہے اور دنیا کے تمام ماہر جمادات اس حقیقت سے آگاہ ہیں ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اگر آپ عرب کی سرزمین یا ریگستانی حصہ کو زیادہ گہرا کھودیں تو آپ کو اس کا جواب دستیاب ہوجائے گا کہ یہ سرزمین سبزہ زاروں سے بھری پٹی تھیں۔یہاںچراگاہ تھے اور بڑی بڑی نہریں اور ندیاں بہتی تھیں۔اس کی اہم مثال یا ثبوت یہ ہے کہ عرب کا ایک چھوٹا سا شہر جس کو ’’ فا‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔

وہ زمین کی کھدائی کے درمیان ریت اور بالو کے ڈھیر کے نیچے سے برآمد ہوا۔ بھلا ریگستان میں بغیر پانی اور ہریالی کے کوئی چھوٹا یا بڑا شہر کبھی بھی کیسے آباد ہوسکتا ہے یا ایسا شہر کبھی کیسے بس سکتا تھا۔اس سلسلے میں دیگر بہت سے ثبوت ہیں کہ عرب کی سرزمین ہری بھری سر سبز و شاداب اور نہروں و ندیوں سے بھری پٹی تھی‘‘۔ داکٹرشیخ الزندانی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پروفیسر الفرید کروز سے دوسرا سوال کیا کہ ان کے پاس اس کا بھی کوئی واضح ثبوت ہے کہ عرب کی سرزمین دبارہ ہری بھری اور چراگاہ ، ندیوں اور نہروںسے بھرجائے گی۔ ڈاکٹر الفرید نے اس کے جواب میں کہا کہ یہ تو ثابت شدہ حقیقت ہے، جسے ہم تمام ماہر جمادات جانتے ہیں ۔ہم لوگ اس بات پر غور کرتے رہتے ہیں اور نتیجہ بھی نکالتے رہتے ہیں ۔ اس لئے ثبوت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ایسا کب تک ہوگا۔

یعنی عرب کی سرزمین پھر سے لگ بھگ کتنے عرصہ کے بعد ہری بھری ہوجائے گی۔یہ سچا واقعہ ہونے والا مسئلہ ہے جو اب عرب کی سرزمین سے زیادہ دور نہیں ہے۔ڈاکٹر شیخ الزندانی نے پروفیسر الفرید کروز سے دریافت کیا کہ ایسا آپ کس طرح اور کن بنیادوں پر دعویٰ کرسکتے ہیں؟انہوں نے جواب دیا کہ کیونکہ ہم لوگوں نے زمین کی تاریخ اور اس کے ماضی کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔
اس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ زمین کئی ادوار سے گزری ہے ۔ ان میں سے ایک برف کا زمانہ یعنی ICE AGE بھی ہے۔
ہمیں یہ بتانے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ برف کا زمانہ کیا ہوتاہے،مگر قاری کی آسانی کے لئے یہ بات بتانا ضرور ہے کہ ’’برف کا زمانہ‘‘ کا مطلب ہوتا ہے کہ میٹھے اور صاف و شفاف پانی کا بڑا حصہ اپنے آپ کو برف میں بد ل ڈالتا ہے اور آہستہ آہستہ شمالی قطبی علاقہ پر اکٹھا ہوکر دھیرے دھیرے جنوب کی طرف بڑھتا جاتا ہے اور اس کے اس موشن یا تحریک میں یا سفر کے دوران جو کچھ بھی اس کے نیچے آتا ہے،اس کو ڈھک لیتا ہے۔ موسمی حالات کو بدل ڈالتا ہے۔

یہی بدلاؤ عرب کے ریگستانوں میں بھی ہوگا یعنی جب آئس ایج کی وجہ سے عربی ریگستانوں میں موسم میں بدلائو آئے گا تو سارا عربی ریگستان یا براعظم ،دنیا کا ایسا خطہ یا علاقہ یا طبقہ بن جائے گا جہاں لگاتار بارش ہونے لگ جائے گی۔

کچھ ایسی ہی تحریک سعودی عرب کے’ ابہا‘ علاقہ میں شروع ہوگئی ہے۔وہاں بارش اور وہ بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ شروع ہوجائے گا بلکہ’ ابہا‘ کے علاقہ میں تو شروع بھی ہو چکا ہے۔
جو شمالی یورپ کے حالات و واقعات سے مطابقت رکھتے ہیں۔شیخ الزندانی نہایت توجیہ سے پروفیسر الفرید کروز کی باتیں سنتے جارہے تھے اور غور و فکر میں منہمک تھے ،لہٰذا انہوں نے ڈاکٹر الفریدسے دریافت کیا کہ آپ اپنی بات اور دعویٰ پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں؟انہوں نے جواب میں کہا کہ یہ ایک حقیقت ہے اور روشن باب کی طرح ہے۔ڈاکٹر شیخ الزندانی نے ان سے مزید سوال کیا کہ ان سب باتوں کی اطلاع حضور کو کس نے دی کہ قیامت تب تک نہیں آئے گی جب تک کہ عرب کی سرزمین پھر سے ہری بھری نہ ہوجائے،جس کا حوالہ مسلم شریف میں دیا گیاہے۔

تھوڑی دیر کے لئے ڈاکٹر الفرید نے وقفہ کیا اور پھر گویا ہوئے، سنجیدگی سے فرمایا ’میں نہایت متحیر ہوں اور کافی متاثر بھی ہوں اس سائنسی حقیقت سے جسے میں نے قرآن اور حدیث میں پایا ہے، جنہیں ہم لوگ ثابت بھی نہیں کرسکتے تھے ۔سوائے گزشتہ چند سالوں کے سائنسی تحقیق کی بنیادپر۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور کو ہرگز اطلاع نہیں ہوسکتی تھی اگر خدا اپنے کلام کے ذریعہ یا الہام کے ذریعہحضور کو مطلع نہیں کرتا‘۔شیخ الزندانی کا کہنا ہے کہ ایسے حالات پیداہوںگے جزیرہ نما عرب یا عربی ریگستان میں اور غالباً اسی عرض البلاد اور طول البلد میں دنیا کے دوسرے ریگستانوں میں بھی ایسے ہی حالات پیدا ہوںگے اور یہ تمام خطے ہریالی اور چراگاہوں سے بھر جائیںگے۔ایسا ہی حوالہ ملتا ہے مختلف تحقیق اور تجزیہ سے، اور پھر مطابقت ثابت ہوجاتی ہے حضور کی حدیث سے۔ یہی اطلاع دنیا کے سینکڑوں سالوں کے ماحولیات کی تبدیلی سے ملتی ہے۔
ان باتوں کی تصدیق ،امریکی نقشوں کے ماہر تجزیہ کار اور ماہر آثار قدیمہ کے نظریہ سے ہوتی ہے۔ جنہوں نے امریکہ کے ’اریزونا‘ میں تحقیق اور ریسرچ کے بعد ثابت کیا۔یہ نتیجہ ماہر آثار قدیمہ اور تجزیہ نگار وںنے راڈار کے ذریعہ لئے گئے فوٹوز اور نقشہ کی چھان پھٹک سے حاصل شدہ نتیجہ اور ڈاٹا کی بنیاد پر دیا اور یہ کہا کہ راڈار سے لئے گئے تجزیہ سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جنوبی مصر اور سوڈان کے مغرب میں ہر پچاس سال میں صرف ایک آدھ ہی بارش ہوتی ہے اس کے باوجود وہاں بہت پرانا اور بڑے دریائوں کے بہنے کے چوڑے اور گہرے پاٹ موجود ہیں۔
ان پرانے چوڑے اور گہرے دریائوں کے نشانات میں ایسے ندیوں کے بھی نشانات ہیں جو دریائے نیل سے بھی بڑے ہونے کی علامت رکھتے ہیں۔
حال ہی میں عرب بر اعظم یا جزیرہ نما عرب کے سلسلے میں ’تقابلی مطالعہ‘ کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ اس مطالعہ میں خلائی فوٹو گرافس بھی تھے۔ اس سے پتہ چلا کہ اس علاقہ میں قدیم اور ہیبت ناک ندیاں بہتی تھیں جو پورے بر اعظم کو مغرب سے مشرق کی جانب کویت کی سرزمین کا محاصرہ کرتی تھیں یا کُوَرْ کرتی تھیں یا گھیرتی تھیں۔ جناب ڈاکٹر فاروق الباز ڈائریکٹر’ ناسا‘ نے خلائی تحقیقات اور’ تلاش ‘ نامی ادارہ کی کارکردگی کے توسط سے یہ ثابت کیا ہے کہ قدیم ندیوں کے ماحول میں زیر دست ماحولیاتی پانی کے مواد ،دستیاب ہوئے ہیں۔ایسا بلاشبہ 5000 سال قبل ندیوں کے دونوں ساحلوں کے درمیان ہونے والے آبخراتی جمائو اور پھیلائو سے ہوا ہوگا۔ امریکہ کے دوسرے ماہر جمادات ’ہرل ملکور‘ کی پیش گوئی ہے کہ عرب کی سرزمین یا ریگستان میں ہریالی لوٹ آئے گی اور ندیاں بہیں گی اور سوکھی و پٹی ہوئی ندیوں میں پانی بہنے کا راج ہوگا۔
موجودہ تیکنک اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ زمین پھر سے برف کے زمانہ یا آئس ایج کے دور سے گزرے گی جس کی شروعات بھی ہوچکی ہے۔ اس کی مدت سینکڑوں ہزار سال کی ہوسکتی ہے۔ اس کے بعد پھر گرمی کا زمانہ شروع ہوگا جو بذات خود دس سے بیس ہزار سال کی مدت کا ہوگا۔ یہی سسٹم یعنی ’برف کا زمانہ‘ یا’ گرمی کے زمانہ‘ کا چین گزشتہ ایک بلین سالوں سے دس بار دہرایا جا چکا ہے۔ شمالی خطہ میں برف کی تحریک یا برف کا زمانہ آئس ایج نے زمین کے ماحولیا ت کو یا فضا کو متاثر کیا ہے جس نے بارش کا طبقہ یا منطقہ کو بدل دیا اور اس کا رخ جنوب کی طرف ہوگیا۔ نتیجہ کے طور پر عربی جزیرہ نما اور صحرائے افریقہ یا شمالی افریقہ کا یہ حصہ بارش کے اس حلقہ میں آگیا۔ جہاں پچھمی ہوائوں سے لائے ہوئے بادل کے ذریعہ بارش ہوتی تھی۔ جو پچھمی اور پوربی حصہ میں بہتی تھی۔ اس بدلائو کی وجہ سے جہاں ندیاں بہتی تھیں اور ہرے بھرے چراگاہ تھے وہاں ریگستان کی حکمرانی ہوگی اور عرب کی ندیوں سے ہری بھری سرزمین ریت کے ڈھیر میں بدل جائے گی۔

◎ ◎ ◎ ◎ ◎ ◎ ◎ ◎ ◎ ◎ ◎ ◎
ϟღツϟღツϟღツϟღツϟღツϟღツϟ ღツϟღツϟღツ:photosmile:[/color]