PDA

View Full Version : الطاف حسین کا قائداعظم پر تاریخی اورسیاسی ڈرون حملہ



سید انور محمود
01-12-2013, 01:01 AM
تاریخ: 12 جنوری 2013
از طرف: سید انور محمود
الطاف حسین کا قائداعظم پر تاریخی اورسیاسی ڈرون حملہبرطانیہ میں ہونے والا سب سے ہائی پروفائل سیاسی قتل برصغیر کے آخری برطانوی گورنر جنرل لارڈ ماونٹ بیٹن کا تھا ۔ انہیں 1979میں آئرش ری پبلکن آرمی نے ان کی کشتی میں نصب بم کا دھماکہ کر کے ہلاک کیا۔ لارڈ ماونٹ بیٹن، قائداعظم کا بدترین دشمن تھا۔ حملے سے صرف پانچ روز قبل لارڈ ماونٹ بیٹن نے بی بی سی کو اپنی زندگی کا آخری انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ”لیڈی ماونٹ بیٹن وفات پا کر یسوع مسیح کے پاس پہنچ چکی ہیں، میں بھی بوڑھا ہو چکا ہوں اور میرا آخری وقت اب دور نہیں۔ جی چاہتا ہے کہ اب سچ بولوں۔ میں نے دنیا کے اکثر و بیشتر حاکموں اور سیاستدانوں کو دیکھا مگر میں نے مسٹر جناح جیسا کھرا اور راست رو کسی کو نہیں پایا۔ مسٹر جناح بہت ہی ذہین شخص تھے۔ ہم نے اگر کبھی چاہا کہ کوئی لفظی کھیل کھیل کر، یہ یا وہ نکتہ لپیٹ کر پیش کردیں تو ان کی نظر فوراً اسی نکتے پر پڑتی تھی جسے ہم چھپانا چاہتے تھے۔ مجھے اپنی انگریزی زبان پر ناز تھا۔ مسٹر جناح کی مادری زبان انگریزی نہ تھی لیکن اس کے باوجود اعتراف کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے انگریزی زبان میں شکست دی۔ لارڈ ماونٹ بیٹن نے بتایا کہ اگرمسٹر جناح کسی بات پر نہیں کہتے یا ہاں کہتے تو اسکو بدلوایا نہیں جاسکتا تھا کیونکہ ان کے نہیں اور ہاں مدلل دلایل کے ساتھ ہوتے تھے۔ تقسیم ہند ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، ہم تقسیم نہیں چاہتے تھے مگر حالات نے وہاں لا کھڑا کر دیا۔ ایک شخص واحد کی جنبش سر پر فیصلے کا انحصار تھا۔ وہ برعظیم کو متحد رکھنے کے حق میں سر کو جنبش دے دیتا تو برعظیم متحد رہتا لیکن اس نے تقسیم کے حق میں سر کو جنبش دی، لہٰذا تقسیم کے سوا چارہ نہیں تھا۔ “

جب ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کا سورج غروب ہونے کو تھا ۔ ہندوستانی مسئلے کا منطقی حل قریب نظر آرہا تھا ۔ لارڈ ماونٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے بنا کر بھیجا گیا۔ مسلم لیگ اور کانگریس کا موقف جاننے کے بعد وائسرائے نے اپنی طرف سے ایک منصوبے کا بلیو پرنٹ تیار کر لیا ۔ ہندوستان میں Dominion Statusکی حامل دو ریاستوں کا قیام اس منصوبے کا سب سے اہم ترین مقصد تھا۔3 جون 1947ء کو کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے اصولی طور پر اس منصوبے کو منظورکر لیا۔ اسی روز شام کو آل انڈیا ریڈیو پر لارڈ ماونٹ بیٹن نے پاکستان اور ہندوستان کے نام سے دو آزاد مملکت کا برطانوی شہنشاہ جارج ششم گورنمنٹ کی طرف سے اعلان کیا۔ اس سے پہلے ہندوں کے رہنما گاندی جی نےقائد اعظم محمدعلی جناح کو آزاد ہندوستان کا پہلا وزیراعظم بنانے کی پیشکش بھی کی تھی۔ قائد اعظم نے صاف الفاظ میں اس پیشکش کو ٹھکرادیا تھا۔ 14 اگست 1947 تک پاکستان برطانوی ہند یا برٹش انڈیا کا حصہ تھالہذا عوام پر برطانوی قانون لاگو ہوتا تھا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اپنے 10 جنوری کے سیاسی ڈرون حملہ میں قائد اعظم محمدعلی جناع پرتاریخی اورسیاسی حملہ کیا۔ الطاف حسین نے کہاکہ " قائد اعظم محمد علی جناح سلطنت برطانیہ کے وفادار تھے، قائد اعظم محمد علی جناح نے 15اگست 1947ء کو جو حلف اٹھایا تھا اس کے الفاظ بیان کرنے سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ حلف قائد اعظم سے لاہورہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرعبدالرشیدنے انگریزی زبان میں لیا تھا"۔ حلف کے الفاظ کا اردو ترجمہ یہ ہے: ’’میں محمد علی جناح ، قانون کے مطابق قائم ہونے والے پاکستان کے دستورسے سچی عقیدت اوروفاداری کا عہد مصمم کرتا ہوں اور میں عہد کرتا ہوں کہ میں پاکستان کے گورنر جنرل کی حیثیت سے شہنشاہ معظم جارج ششم اور ان کے ولی عہدوں اورجانشینوں کا وفادار رہوں گا۔‘‘ یہ تاریخ کا ایسا سچ ہے جس سے انکار کرنا ممکن نہیں ہے ۔الطاف حسین نے دعویٰ کرتے ہو ئے کہا کہ وہ ثابت کردیں گے کہ قائد اعظم کے پاس برطانوی پاسپورٹ تھا۔پاکستان کے99فیصدعوام کوتاریخ سے آگاہ ہی نہیں اور آج بہت سارے لوگوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ بنگلہ دیش کب بنا۔

یہ بات نہ قابل سمجھ ہے کہ الطاف حسین کو قائد اعظم محمد علی جناع سے کیا تکلیف ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں کہ الطاف حسین نے قائد اعظم کے متعلق بیان دیا ہو۔اب سےکچھ عرصے پہلے بھی وہ قائد اعظم کو سیکولر بناچکے ہیں ۔ اس سے قبل ہندوستانی دورئے میں الطاف حسین پاکستان کی نفی کرچکے ہیں، چند سال قبل دہلی میں الطاف حسین نے کھلے عام لفظوں میں ہندوستان کی بیورو کریسی سے التجا کی تھی کہ کراچی میں ’’مہاجروں‘‘ کیلئے بارڈر کھول دیا جائے تاکہ وہ سب اپنے گھروں میں واپس لوٹ آئیں۔ الطاف حسین کے متنازعہ بیانات سے نہ صرف ایک محبِ وطن پاکستانی کو دکھ ہوتا ہے بلکہ انکی اپنی سیاسی جماعت کو بھی نقصان ہوتاہے اور سب سے بڑھ کر ان لوگوں کو دکھ ہوتا ہےجن کے بزرگوں نے قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہا اورپاکستان ہجرت کی۔الطاف حسین کہتے ہیں کہ 99فیصدعوام کوتاریخ سے آگا ہی نہیں جبکہ وہ خود تاریخ سے نابلد نظر آتے ہیں۔ یہ سیدھی سی بات ہے کہ قائد اعظم کو برٹش انڈیا کے وقت جو پاسپورٹ جاری ہوا تھا وہ برطانوی پاسپورٹ تھا، لازمی بات ہے کہ پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے قائد اعظم سفر کرتے رہے ہیں۔ جہاں تک بات رہی 15اگست1947 کو جو حلف قائد اعظم اٹھایا تھا تو وہی حلف ہندوستان کے گورنر جنرل نے اٹھایا تھا کیونکہ یہ دونوں ملک تاج برطانیہ کے حکم پر ہی عمل میں آئے تھے اور اس وقت تاج برطانیہ کا آئین ہی تھا ۔ لیکن الطاف حسین نے برطانوی شہریت کے لیے جو حلف اٹھایا ہے اس میں الطاف حسین نے یہ حلف بھی دیا ہےکہ وہ برطانیہ کے لیےھتیار بھی اٹھاینگے۔ پاکستان کا پہلا آئین 1956 میں بنا اور اسکے ساتھ ہی تاج برطانیہ کا آئین ختم ہوگیا۔ الطاف حسین کو شاید یہ بات نہیں معلوم کہ لارڈ ماونٹ بیٹن کی یہ خواہش تھی وہ پاکستان اور ہندوستان دونوں کا گورنر جنرل بنے، ہندو رہنماوں نے اس بات کو مانا لیکن قائد اعظم نے اس بات کو رد کردیا۔ یہ ہی وجہ ہے لارڈ ماونٹ بیٹن، قائداعظم کا بدترین دشمن تھا۔

آج ایک مخصوص گروہ یہ ثابت کرنے کی بار بار کوشش میں لگاہوا ہے کہ قائداعظم انگریزی سامراج کے وفادار تھے دراصل یہ وہی الزام ہے جو پاکستان کی تحریک کے وقت کانگریس قائداعظم پر لگایا کرتی تھی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی یا جن سنگھ ازل سے مسلمانوں کی سخت ترین دشمن رہی ہے اور اُس کی مسلم دشمنی کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔اس کے ایک رکن اور بھارت کے سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ نےاپنی کتاب ’جناح، بھارت، تقسیم، آزادی‘ میں لکھا ہے کہ ہندوپاک میں محمد علی جناع سے بڑھ کر سامراج دشمن اور کوئی نہیں دیکھا ۔ جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کو بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح پر ایک کتاب لکھنے کی بنا پر ان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی ہے۔ بھارت کے سابق ڈپٹی وزیراعظم اور بی جے پی کے صدرایل کے اڈوانی نے دو ہزار پانچ میں کراچی میں قائداعظم کے مزار پر حاضری دینے کے بعد کہا تھا کہ جناح ان شخصیات میں سے ہیں جو نہ صرف سیکولر تھے بلکہ انہوں نے اپنے ہاتھوں تاریخ بنائی۔ بھارتی اکھنڈتا کا پرچم اٹھانے والی آر ایس ایس کی جانب سے تو اڈوانی کے جو درگت بنی وہ اپنی جگہ لیکن سیکولر کانگریس بھی اڈوانی کی ذاتی رائےکو برداشت نہ کر سکی اور اسکے ترجمان نے جناح کو سیکولر قرار دینے کے اڈوانی کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اڈوانی کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ انکے نزدیک سیکولر کے معنی کیا ہیں؟ ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظم کو ان کے کٹر دشمن بھی انکو سامراج دشمن مانتے ہیں اور وہ قائد اعظم کو ایک سیکولربھی نہیں مانتےورنہ سیکولر کانگریس کا ترجمان اڈوانی سے یہ سوال کبھی بھی نہ کرتا کہ انکے نزدیک سیکولر کے معنی کیا ہیں؟

الطاف حسین نے اپنے 10 جنوری کے سیاسی ڈرون حملہ میں قائد اعظم محمدعلی جناع پرجوتاریخی اورسیاسی حملہ کیااس سے نہ تو الطاف حسین کو اور نہ ہی انکی جماعت کو کوئی فائدہ ہوا بلکہ ان کی تقریر کو پورے پاکستان میں حدف تنقید بنایا جارہا ہے۔ الطاف حسین کی تقریر خالی انکے جلسے میں بیٹھے ہوے لوگ ہی نہیں سن رہے تھے بلکہ پورے ملک میں سنی جارہی تھی اور پاکستان میں ابھی ممتاز مورخ ڈاکٹر صفدر محمود اور ان جیسے لوگ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب سے اس سلسے میں بات ہوئی تو انہوں نے فرمایا ہے کہ عنقریب وہ اس حوالے سے لکھیں گے، ڈاکٹر صاحب الطاف حسین کی تقریر پر افسوس کا اظہار کررہے تھے۔ الطاف حسین کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کی کتاب "جہدوجہد پاکستان" ضرور پڑھیں تاکہ ان کو پاکستان اور قائد اعظم کے بارئے میں حقیقی معلومات مل سکیں۔ وہ ڈاکٹر صفدر محمود کے اگر کالم ہی پڑھ لیا کریں تب بھی وہ بہت کچھ حاصل کرلینگے۔ لگتا ہے 99 فیصد تاریخ سے نابلد لوگوں میں الطاف حسین سرفہرست ہیں ۔

ابوسفیان
01-12-2013, 02:47 AM
تقسیم ہند ایک بہت بڑا مسئلہ تھا، ہم تقسیم نہیں چاہتے تھے مگر حالات نے وہاں لا کھڑا کر دیا۔ ایک شخص واحد کی جنبش سر پر فیصلے کا انحصار تھا۔ وہ برعظیم کو متحد رکھنے کے حق میں سر کو جنبش دے دیتا تو برعظیم متحد رہتا لیکن اس نے تقسیم کے حق میں سر کو جنبش دی، لہٰذا تقسیم کے سوا چارہ نہیں تھا۔ “

مولانا ابو الکلام آزاد اور ہندوستان کی آزادی
مولانا آزاد نے اپنا پورا زور لگا لیا مگر پارٹیشن کو نہ روک پائے ۔ اپنے عزیز ترین دوست پنڈت جواہر لال نہرو سے تقسیم کے معاملہ میں مولانا کے شدید اختلافات ہو گئے تھے ۔ آزاد صاحب ہرگز بھی تقسیم نہیں چاہتے تھے توپنڈت نہرو ایک نئے ملک کے وزیر اعظم بننے کے ازحد خواہاں تھے۔ تقسیم کو روکنے کے لئے مولانا نے ہر ممکن کوشش کی اور ماہ مارچ 1947تک وہ مطمئن تھے کہ تقسیم نہ ہوگی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مہاتما گاندھی نے انہیں یقین دلا دیا تھا کہ تقسیم ہرگز نہ ہوگی ۔یہاں تک کہ مولانا کوگاندھی جی کا وہ مکالمہ بھی انہیں یاد تھا کہ جس میں فادر آف دا نیشن نے کہا تھا ،’’مولانا اگر تقسیم ہوئی تو میری لاش پر ہوگی!‘‘ مولانا ارونا کے سامنے یہ جملہ بولتے جاتے اور کہتے جاتے کہ آخر ایسا کیوں کر ہوا ؟یہی نہیں ، پنڈت نہرواور سردار پٹیل نے مولانا کو دلاسہ دیا تھا کہ پارٹیشن ہرگز بھی نہ ہوگا۔مولانا کوکیا پتہ تھا کہ محض انہیں دلاسہ دینے کے لئے یہ سب کہا جا رہا ہے۔ در اصل مولانا کو ہندوستان کے بڑے رہنماؤں نے استعمال کر لیا جن میں ان کے قریب ترین دوست پنڈت نہرو پیش پیش تھے ۔ آخر کیا وجہ تھی کہ مولانا آزاد تقسیم کے خلاف تھے،اس کی کئی وجوہات تھیں ۔وہ ایک جہاں دیدہ شخص تھے اور ان کی سوچ بہت دور تک جاتی تھی ۔ آج نہ صرف ہندو پاک بلکہ تمام دنیا میں مولانا کی دور اندیشی کا لوہا مان لیا گیا ہے۔

حالانکہ مولانا آزاد کی 23اکتوبر 1947والی تقریر بڑی پر مغز اور دل پر اثر کرنے والی تھی، مگر جو تقریر مولانا نے جامع مسجد کے سامنے اردو پارک میں 1اگست 1942کی تھی،جس میں’’انگریزوں بھارت چھوڑو‘‘کی داغ بیل ڈالی گئی تھی اور جس کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے، وہ امام الہند کی جامع مسجد کی سیڑھیوں سے دی گئی تقریر سے کہیں زیادہ مسحور کن اور دل پر اثر کرنے والی تھی ہو سکتا ہے کہ سرکار میں جان بوجھ کر اس کا ریکارڈ نہیں رکھا گیا ہو یا اسے خفیہ رکھا گیا ہو۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مولانا نے اس تقریر میں ببانگ دہل بغیر کسی لاگ لپیٹ کے نہ صرف جدوجہد آزادی ہند کی حقیقت پر کھل کر بولا تھا بلکہ تقسیم ہند اور ہندو مسلم تعلقات کے بارے میں کھل کر انہوں نے بات کی تھی۔ ان کی اس تقریر سے یہ سمجھ میں آجائے گا کہ وہ مذہب کے نام پر تقسیم کیوں نہیں چاہتےتھے۔
مولانا نے کہا کہ اگر تقسیم ہو گئی توہندؤوں اور مسلمانوں کے دل بھی تقسیم ہوں گے اور کدورتوں کابھی اضافہ ہوگا۔انہوں نے مسلمانانِ ہندکو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر تقسیم کا سانحہ پیش آگیا تو 1100سال سے جب ہندو اور مسلم ایک ساتھ رہتے چلے آئے ہیں اور جن کا تقریباً تقریباً سماجی ڈھانچہ اور کلچر یکساں ہے تو اس میں تبدیلی آئے گی اور یہ دونوں فرقے نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف اور مشکوک رہیں گے بلکہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو جائیں گے۔

مولانا نے یہ بھی کہا کہ اگر ہندوستان سے 8یا 10کروڑ مسلمان سرحد کے اس پار چلے گئے تو اس سے دونوں ممالک کے مسلم طبقات کمزور پڑ جائیں گے ۔
بیشک پاکستان میں مسلمان اپنی سرکار کا تعین کر لیں گے مگر ان میں وہ پختگی نہیں آئے گی کہ جو ان کے ہندوستان میں رہتے ہوئے دیکھی جاتی تھی۔ چونکہ ہندو اور مسلمان سینکڑوں برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر بن کر رہتے چلے آئے ہیں۔
مولانا آزاد نے اپنی اسی اردو پارک والی تقریرمیں کہہ دیا تھا کہ تقسیم ہونے کے بعد ہر حالت میں خون خرابہ ضرور ہوگا۔ مولانا کی یہ پیشین گوئی بھی سچ ثابت ہوئی ۔ انہوں نے مسلمانان ہند کو یہ سمجھانے کی پرزور کوشش کی کہ جو لوگ تقسیم کے بعد ہندوستان میں رہ جائیں گے، ان کی حالت غلاموں سے بد تر ہو جائے گی۔چاہے وہ کتوں کی طرح دم ہلاتے رہیں یا غرّاتے رہیں،ان کا پرسان حال کوئی نہیں ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ برادران وطن ان کے اوپر ہندوستان کے تقسیم کا الزام سیدھا مسلمانوں پر لگائیں گے جو کہ بالکل سچ ثابت ہوا۔ یہی نہیں اب تو اردو کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے اور بھگوا پریوار کے لوگ تو اردو کو بھی تقسیم کی زبان مانتے ہیں جب کہ آزادی سے پہلے جتنے مسلمان اردو زبان کے جاننے والے تھے، اس سے کہیں زیادہ غیر مسلم حضرات اردو کے دلدادہ تھے۔کرشن چندر،فراق گورکھپوری، مہندرسنگھ بیدی، گوپی چند نارنگ، کرتار سنگھ دگل، برج موہن دتّہ تریہ کیفی، برج نرائن چکبست، تلوک چند محروم،جگن ناتھ آزادوغیرہ اردو کے کچھ ایسے محقق و شعراء ہیں کہ جنہوں نے اردو کو مذہب کے جال سے بچا کر اپنے دل سے لگایا ہے ۔ خود وزیر اعظم جناب منموہن سنگھ اور ان کے دوست وزیر جناب کپل سبل اردو کے چاہنے والوں میں سے ہیں مگر افسوس کہ اردو کو فرقہ واریت سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے ۔ بسا اوقات میڈیا پر ایسی خبریں دی جاتی ہیں کہ فلاں دہشت گرد کو مار گرایا گیا اور اس کی جیب میں سے اردو میں لکھے پیغامات موصول ہوئے۔ بقول مولانا، اس قسم کی تمام چیزوں کا خمیازہ ان مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے کہ جو ہندوستان میں رہ گئے ہیں ۔
آج مسلمانوں کو اہم ترین عہدوں جیسے وزیراعظم، فوج،کے اہم عہدے ،فائنانس وغیرہ پر رکھنے سے ہندوستانی منتظمہ گھبراتی ہے ،کیونکہ ان پر بھروسہ نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ جب جب وطن پر نچھاور اور مر مٹنے کا موقع آیا ہے تو بلا شبہ مسلمان اس میں آگے رہا ہے چاہے وہ حولدار عبد الحمید ہو ں جنہوں نے پانچ پاکستانی ٹینک اپنے اوپر بارود لگاکر تباہ کر دئے تھے، بریگیڈیئر محمد عثمان ہوں ، جنہوں نے سیالکوٹ کی جنگ میں نام کمایا ہو یا کیپٹن جاویدہوں جنہوں نے کرگل میں پاکستانی فیوجیوں کے دانت کھٹے کئے ہوں۔ ادھرمسلم لیگ نے بھی مولانا آزاد کو اپنی ترشیوں ، طربتوں اورطنز کا نشانہ بنایا۔یہ مولانا آزاد ہی تھے کہ جنہوں نے پنڈت نہرو سے ایک مرتبہ پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ پنڈت جی کو ان ہندوستانی مسلمانوں کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ جنہوں نے اپنے وطن عزیز میں رہنا پسند کیا۔ حالانکہ ہندوستان میں رہ رہے مسلمانوں کو ایک اسلامی جمہوریہ میں جانے کا سنہرا موقع دیا جارہا تھا مگر انہوں نے ہندوستان کو ہی اپنا وطن جانا اور اسی کے ہو رہے۔ ان کا شعر تھا، ’’جو چلا گیا اسے بھول جا؍ ہند کواپنی جنت بنا‘‘ ہندوستانی مسلمانوں کا پنڈت نہروکو احسان ماننا چاہئے کہ انہوں نے پاکستان کے بجائے ہند میں رہنے کی ترجیح دی۔اس کے بدلے میں مسلمانوں کو یہ سننے کو ملتا ہے کہ وہ باہر سے آئی قوم ہے ۔

مولانا اکثر کہا کرتے تھے کہ تقسیم کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کی مساجد ، مدارس و خانقاہوں کو بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ ان کی یہ پیشین گوئی بھی بالکل سچ ثابت ہوئی ۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ سینکڑوں مسجدیں ان کے ہاتھ سے نکل چکی ہیں اور جو بچی ہوئی ہیں ، ان کی بھی خیریت نہیں کیونکہ بابری مسجد سانحے کے بعد آر۔ایس۔ایس۔ کے پاس سینکڑوں مساجد کی فہرست موجود ہے جن کو منہد م کر وہ ان پر قابض ہونا چاہتی ہے۔
بقول مولانا ،اگر تقسیم نہ ہوتی تو آج بر صغیر دنیا کا طاقتور ترین ملک ہوتا اور مسلمان اس خطہ میں ایک معزز ترین قوم ہوتے۔ یہ ٹھیک ہے کہ آج مسلمان قائم و دائم ہیں جس کے لئے انہیں مولانا آزاد کا شکر گزار ہونا ہی چاہئے مگر ساتھ میں ان برادران وطن کا بھی کہ جو سیکولر ذہنیت کے قائل ہیں اور چاہتے ہیں کہ مسلم قوم بھی ترقی کرے ۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہندوستان کے زیادہ ترہندو سیکولر ہیں ورنہ یہاں پر مسلمانوں کا ناطقہ بند ہوجاتا۔جس طرح سے مغلوں کی پانچ سو سالہ سرکار سیکولر تھی ، اسی طرح کی سرکار کی داغ بیل مولانا نے ہندوستان میں بھی ڈالی بھلے ہی آج ان کو پورے ملک نے بھلا دیا ہو۔

(راقم مولانا آزاد کے پوتے ہیں)
(بشکریہ چوتھی دنیا)