PDA

View Full Version : الطاف حسین کا سیاسی ڈرون حملہ اوردہری شہریت



سید انور محمود
01-12-2013, 08:05 AM
تاریخ: 12 جنوری 2013
از طرف: سید انور محمود
الطاف حسین کا سیاسی ڈرون حملہ اوردہری شہریت

اکتوبر 2012 میں میں نے ایک مضمون دہری شہریت کے نام سے لکھا تھا اسکا پہلا پیراگراف کچھ یوں تھا:
"اب سے کوئی پانچ سال پہلے پی آی اے کی پرواز جو جدہ جارہی تھی میں بھی اُس میں سفر کررہا تھا ۔ پرواز کے ایک گھنٹے بعد ایرہوسٹس نے کھانا دینا شروع کیا اور جب وہ میرے برابر والے صاحب کے کھانے کی میز کھولنے لگی تو اُن صاحب نے ایرہوسٹس کو بتایا کہ وہ کھانا نہیں کھاینگے اور وہ دل کے مریض ہیں اور اِس وقت اُن کی طبیت بہت خراب ہورہی ہے، ایرہوسٹس نے اپنے سپروازر کو اطلاع کری وہ صاحب میڈیکل میں اچھی معلومات رکھتے تھے، باتوں سے پتہ چلا کہ وہ اپنے گاوں سے تین دن پہلے کراچی آگے تھے اور ڈاکٹر کو دکھایا تھا اور ڈاکٹر نے اُن کو کچھ ٹیسٹ بتاے تھے مگر پیسے نہ ہونے کی وجہ سے وہ جہاز میں بیٹھ گے- سعودی عرب کے ایک شہر قسیم میں ایک بقالہ میں 1200 ریال یعنی 40 ریال روزانہ پر کام کرتے ہیں یا تھے- ہر ماہ 1200 ریال میں سے 1100 ریال پاکستان بھیج رہے تھے۔ یہ صاحب صرف پاکستانی تھے اور سعودی عرب میں تھے اور اُنکو دہری شہریت کا بخار بلکل نہیں تھا۔ یاد رہے سعودی عرب وہ ملک ہے جہاں سب سے زیادہ پاکستانی تارکین وطن کام کرتے ہیں اور جہاں تک باہر سے رقوم بھيجنے کا معاملہ ہے تو سعودي عرب ميں مقيم پاکستانی تارکين سرفہرست ہيں۔ گذشتہ سال کل آنے والی رقم 10.2 ارب ڈالر میں سے سعودي عرب سے 2987.9 ملين ڈالر (27.5فيصد)، امريکا سے 1922.4 ملين ڈالر (17.7 فيصد)، برطانيہ سے صرف 1263.7 ملين ڈالر (11.6فيصد) ہے۔ مشرق وسطي، دیگر عرب اور افریقی ملکوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو بھی دہری شہریت کا بخارسرے سے نہیں ہے۔ سب کو نہیں ایک مخصوص ٹولے کو جو برطانیہ اور امریکہ میں رہتا ہے اُسکو دہری شہریت کا بخار آجکل شدت سے چٹرھا ہوا ہے- کیونکہ انکے مفادات پر عدالت عظمٰی نے چوٹ لگای ہے۔ اب تک دوہری شہریت کے حامل قومی اسمبلی کے چار، سینیٹ کے ایک اور صوبائی اسمبلیوں کے چار اراکین کی رکنیت معطل کر چکی ہے، ان میں سے اکثریت کا تعلق حکمران پیپلز پارٹی ہے۔ جن اراکین پارلیمان کی رکنیت معطل کی گئی ہے ان میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور صدر زرداری کی میڈیا کوارڈینیٹر فرح ناز اصفہانی بھی شامل ہیں۔ اور یہ زرداری کے عزیز ترین ساتھی ہیں۔"

متحدہ قومی مومنٹ کےقائد الطاف حسین نے 10 جنوری کو سیاسی ڈرون حملہ کرتے ہو ئے دعویٰ کیا کہ وہ ثابت کردیں گے کہ قائد اعظم کے پاس برطانوی پاسپورٹ تھا۔ وہ دراصل قائد اعظم کے پاس برطانوی پاسپورٹ کاذکر یوں کررہے تھے تاکہ اپنی اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی دہری شہریت کا دفاع کرسکیں۔ الطاف حسین نے دہری شہریت کے دفاع کرتے ہوئے کہا کہ "آج پاکستان میں دہری شہریت کے بارے میں ہر جگہ بحث چل رہی ہے ۔دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو نہ صرف یہ کہ طرح طرح کے طعنے دیئے جاتے ہیں بلکہ ان کی حب الوطنی پر بھی شک کیا جاتا ہے ۔ میں یہاں تمام پاکستانیوں سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا کہ کیا کوئی شہری اپنی خوشی اور رضا سے اپنا ملک چھوڑ کر دیار غیر میں بسنا چاہتا ہے ؟ 70لاکھ پاکستانیوں کی حب الوطنی کوشک کی نگاہ سے دیکھناکسی بھی طرح جائز نہیں کیونکہ وہ ہرسال کھرربوں روپے کازرمبادلہ پاکستان کوبھیجتے ہیں جوپاکستان کی کمزورمعیشت میں ایک مضبوط ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ہماری معزز ومحترم عدلیہ اورمقننہ کو دہری شہریت کے معاملے کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور علامہ ڈاکٹر طاہر القادری سمیت کسی بھی پاکستانی شہری کے دوسرے ملک کی شہریت اختیار کرنے کے عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کے بجائے ان حالات اورمشکلات کو پیش نظر رکھنا چاہئے جن کے باعث انہیں کسی دوسرے ملک ہجرت کرنی پڑے اور وہاں کی شہریت اختیار کرنی پڑی۔ اسکے علاوہ میں مجبور ہوں کہ میرے پاس ڈپلومیٹک پاسپورٹ نہیں، کئی لوگ دس دس سال ڈپلومیٹک پاسپورٹ پرملک سے باہر رہے"۔ اس کے علاوہ الطاف حسین نے سوال کیا کہ "کیامسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے 8 سال ملک سے باہر نہ گزارے ؟ کیا محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری نے جلاوطنی نہیں گزاری ؟ کیا ان کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے جلاوطنی نہیں گزاری ؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کےبادشاہ میرے دوست نہیں لہذا میں نے برطانوی شہریت لی کیوں کہ پاکستان میں میری جان کو خطرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ اس کی وفاداری مشکوک ہوگئی یا وہ اپنے وطن اور ہم وطنوں سے بے خبر یا لاتعلق ہوگیا۔

الطاف حسین کا کہنا کہ سترلاکھ پاکستانیوں کی حب الوطنی کوشک کی نگاہ سے دیکھناکسی بھی طرح جائز نہیں کیونکہ وہ ہرسال کھرربوں روپے کازرمبادلہ پاکستان کوبھیجتے ہیں جوپاکستان کی کمزورمعیشت میں ایک مضبوط ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔الطاف حسین کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ ان ستر لاکھ میں سے اکثریت محنت کشوں کی ہےجو نہ صرف اپنے پیاروں سے دور رات دن محنت کرتے ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو ان سے بہت سہارا ملتا ہے، یہ تمام محنت کش مجبوری سے گے ہیں ۔ان محنت کشوں کے نہ تو کوئی سیاسی عزام ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی حکومتی عہدے کی آرزو۔ یہ ستر لاکھ پاکستان کا سرمایہ ہیں اور سب کے سب محب وطن ہیں۔ یہاں انکے ماں باپ بیوی بچے موجود ہیں اور وہ ہم سے زیادہ ملک کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ میری اس بات کو وہ لوگ اچھی طرح سمجھ جاینگے جو خود یا انکے گھر کا کوئی فرد باہر ہو۔ اصل مسلہ چند سو افراد کا ہے اور یہ دہری شہريت کے حامل افراد ميں سے اکثر بيرون ملک رہائش رکھتے ہيں يا پھر محض پاکستان ميں اہم حکومتي عہدوں کا حصول کرنے کیلے آتے ہیں مگر بنيادی طور پر اپنے تعلقات امريکا، کنيڈا، برطانيہ جيسی رياستوں يا يورپی ممالک سے منقطع نہيں کرنا چاہتے۔ الطاف حسین کی برطانیہ میں رہنے کی وجہ جو بھی ہو مگر ان کا یہ دعوی نہ قابل قبول ہےکہ قائد اعظم اور وہ دونوں دہری شہریت کے حامل ہیں۔قائد اعظم کے جس پاسپورٹ کا الطاف حسین ذکر کررہے ہیں وہ 1946 میں برٹش انڈیا کی حکومت کا جاری کردہ ہےاور اس وقت پاکستان کا وجود نہیں تھا اور جب پاکستان بن گیا تو قائد اعظم کبھی ملک سے باہر نہیں گےاور جلدہی انکا انتقال ہوگیا۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف جوضیا الحق کی دین ہیں، جب وہ مشرف کی گرفت میں آئے تو انہیں اپنا انجام ذوالفقار علی بھٹو کی طرح نظر آنے لگا لہذا انہوں نے سعودی حکومت کے کہنے پر دس سالہ معاہدہ پر ملک سے جانا منظور کرلیا ۔ بے نظیر بھٹو نے اپنی مرضی سے جلاوطنی گذاری اور آصف علی زرداری نے جلاوطنی اپنے کرپشن کی وجہ سے گذاری- الطاف حسین توگذشتہ 22 سال سے پاکستانی عوام سے رابطے میں ہیں لیکن آج پاکستان میں کسی کو نہیں معلوم کہ دہری شہریت رکھنے والے معین قریشی اور شوکت عزیز کہاں ہیں، دونوں پاکستان میں وزیر اعظم کے عہدے پر رہ چکے ہیں۔ معین قریشی اور شوکت عزیز اپنے اپنے مقاصد پورے کرکے جاچکے۔اسلیے اب پاکستان کے عوام اور پاکستان کی عدلیہ آئین کے اوپر عمل چاہتے ہیں تاکہ صرف اور صرف پاکستان کا ہی شہری پارلیمینٹ کا ممبر بنے اور وہی سرکاری عہدے دار۔ حال ہی میں جب ایم کیو ایم کے کچھ اراکین اسمبلی نے استعفی دیے ہیں تو پتہ چلا کہ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت میں دہری شہریت کے حامل افراد موجود ہیں۔ روزنامہ جنگ بتاریخ 6 جولائی 2012 میں احمد نورانی نے دُہری شہريت والوں کا اصل مسئلہ کيا ہے؟ کے عنوان سے لکھا ہے کہ "دہری شہريت کے بيشتر حامی جو کچھ پاکستان ميں اور کچھ غير ممالک ميں مقيم ہيں ہر قيمت پر امریکی موقف کی حمايت اور اسلام آباد کے اقدامات کی مخالفت کررہے ہيں خواہ يہ کيری لوگر بل کا معاملہ ہو، دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا معاملہ ہو ، وزيرستان آپريشن اور نيٹو سپلائی کی بحالی کا معاملہ، ريمنڈ ڈيوس کا معاملہ ہو يا کچھ اوروہ اپني تحريروں اور دلائل ميں واشنگٹن کے موقف کی کھلی حمايت کرتے ہيں"۔ حسین حقانی اس کی ایک مثال ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کو کڑڑوں روپے خرچ کرکے وہ سیاسی حمایت حاصل نہیں ہے جس کی انکو توقع تھی۔ کیا وجہ ہے کہ اس کرپٹ حکومت کے مقابلے میں پاکستانی عوام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دلفریب نعروں کے باوجود الیکشن کا انقاد چاہتےہیں۔ سیدھی سیدھی بات یہ ہے کہ 65 سال بعد پاکستانی عوام کو جمہوریت کا تسلسل نظر آرہا ہے اور اس تسلسل کو وہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ہر دہری شہریت رکھنے والے پاکستانی سے پاکستان میں کوئی مسلہ نہیں ۔ اصل مسلہ وہ چندسولوگ ہیں جو دہری شہریت کی آڑ میں غیر ملکی مفادات کی تکمیل اور لوٹ مار کا کاروبار جاری رکھنا چاہتے ہیں اور ان کو ہی اس بات کی سب سے زیادہ تکلیف ہے۔ الطاف حسین کو چاہیے اس قانون کی بھر پور حمایت کریں کیونکہ یہ بات تو ریکارڈ پر ہے کہ جب الطاف حسین پاکستان میں تھے تب بھی وہ کسی اسمبلی یا سرکاری عہدے کے امیدوار نہیں تھے۔

بےباک
01-12-2013, 10:41 AM
بہت خوب ، شاندار ، بالکل سچ لکھا ، بہت ہی مناسب ۔دل خوش کر دیا ،
آپ سے التماس ہے کہ آپ پاکستان کے اس نامور علامہ کے بارے لکھیے ، جن کو پہلا پاسپورٹ ایشو ہوا تھا اور سعودی عرب میں پہلے سفیر تھے ، ان کا نام
محمد اسد تھا ۔ جن کو پاکستان کا پاسپورٹ نمبر ایک ایشو ھوا تھا ،
http://urdulook.info/imagehost/?di=X99F
مئی1951ء میں پاکستان نے فیصلہ کیا کہ سفارت خانہ کھولنے کی اجازت حاصل کرنے کیلئے سعودی عرب میں ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجا جائے۔ لیاقت علی خان وزیراعظم تھے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیزالدین خان کو اس وفد کا سربراہ مقرر کیا لیکن عملاً وفد کی سربراہی جس شخص کے سپرد تھی ان کا نام محمد اسد تھا۔ وہ وزارت خارجہ میں جوائنٹ سیکرٹری تھے۔ ( یہ وہ زمانہ تھا جب گنتی کے چند جوائنٹ سیکرٹری ہوا کرتے تھے اور ایک ایک شخص کئی کئی افراد کا کام کرتا تھا یہ تو آدھے سے زیادہ پاکستان کے علیحدہ ہو جانے کے بعد وفاقی سیکرٹری روپے کے درجن ملنے لگے۔ رہے جوائنٹ سیکرٹری تو اب سینکڑوں کی تعداد میں ہیں)۔ آج کتنے تعلیم یافتہ پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ محمد اسد پاکستان کے کتنے بڑے محسن تھے اور کون تھے؟ کہاں سے آئے تھے اور کہاں چلے گئے؟

محمد اسد سعودی عرب کے بادشاہ عبدالعزیز بن سعود کے منہ بولے بیٹے تھے۔ عربوں کی طرح عربی بولتے تھے۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل (جو بعد میں بادشاہ بنے) محمد اسد کے پرانے دوست تھے۔ محمد اسد نے نہ صرف بھارتی لابی کو نیچا دکھایا۔ بلکہ بادشاہ سے سفارت خانہ قائم کرنے کی اجازت بھی حاصل کر لی۔ اس وفد میں آزاد کشمیر کی نمائندگی صدر آزاد کشمیر کے معاون یعقوب ہاشمی کر رہے تھے۔ انکے الفاظ میں ’’پاکستانی وفد کے قائد سمیت ہر ممبر نے محسوس کر لیا تھا کہ اگر علامہ اسد ساتھ نہ ہوتے تو شاید وفد کو بادشاہ سے ملاقات کا موقع بھی نہ مل سکتا۔ علامہ کی گفتگو کا سعودی حکمران پر اس قدر گہرا اثر ہوا کہ نہ صرف انہوں نے سفارت خانہ کھولنے کی اجازت دیدی بلکہ ہمیشہ کیلئے اس نوزائیدہ اسلامی مملکت کو سلطنت عریبیہ سعودیہ کے انتہائی قریبی دوست کی حیثیت میں منتخب کر لیا۔ آج ملت اسلامیہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ جو گہرے بردرانہ مراسم ہیں وہ اسی وقت سے چلے آ رہے ہیں‘ ہم میں سے کتنوں کو اس حقیقت کا علم ہے کہ اس کا سارا کریڈٹ علامہ اسد کو جاتا ہے۔ (نوائے وقت 27 اگست 1982) ۔

بےباک
01-12-2013, 01:24 PM
جناح نہیں گاندھی بھی برطانوی شہری تھے !

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
آخری وقت اشاعت: جمعہ 11 جنوری 2013
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2013/01/10/130110232726_jinnah-passport.jpg
جس شخص کی بھی رسائی انٹرنیٹ تک ہے وہ وکی پیڈیا پر محمد علی جناح کا نیلا پاسپورٹ دیکھ سکتا ہے جو انڈین پاسپورٹ ایکٹ مجریہ انیس سو بیس کے تحت اٹھائیس نومبر انیس سو چھیالیس کو پانچ برس کی مدت ( تا اٹھائیس نومبر انیس سو اکیاون ) کے لیے جاری کیا گیا تھا۔
اس پر بڑا بڑا لکھا ہے ’برٹش انڈیا پاسپورٹ، انڈین ایمپائر‘۔

جناح صاحب کی تصویر پر جو مہر لگی ہوئی ہے اس پر پاسپورٹ آفس کراچی گورنمنٹ آف سندھ درج ہے ۔چونکہ یہ پاسپورٹ برٹش انڈیا کے سبجیکٹ ( شہری ) کو جاری کیا گیا ہے لہذٰا اندر کے پہلے صفحے پر انگلستان کے بادشاہ کے بجائے گورنر جنرل برٹش انڈیا کی جانب سے یہ درخواست چھاپی گئی ہے کہ حاملِ ہذا کی دورانِ آمدورفت بلارکاوٹ راہداری، مدد اور ضروری تحفظ فراہم کیا جائے۔
یہ پاسپورٹ حاملِ ہذا (محمد علی جناح) کو جن ممالک کے سفر کی اجازت دیتا ہے وہ مجاز افسر نے ہاتھ سے لکھے ہیں اور درجِ زیل ہیں۔
برطانیہ براستہ عراق، ٹرانس جارڈن، فلسطین، مصر، اٹلی، فرانس، ہالینڈ، بلجئیم، سوئٹزرلینڈ اور مالٹا۔
نیشنل سٹیٹس (قومیت ) کے خانے میں لکھا ہوا ہے ’برٹش سبجیکٹ بائی برتھ ‘۔
انیس سو انچاس تک سرسئید احمد خان سے لے کر اقبال، علی برادران، حسرت موہانی، نہرو، سبھاش چندر بوس، محمد علی جناح، زوالفقار علی بھٹو، اندراگاندھی، میرے والد اور الطاف حسین کے والد سمیت ہر اس شخص کو برٹش سبجیکٹ کہتے تھے جو سلطنتِ برطانیہ کی زیرِ عملداری دنیا کے کسی بھی خطے میں پیدا ہوا ہو۔انیس سو انچاس میں برٹش سبجیکٹ کی اصطلاح میں ترمیم ہوئی اور دولتِ مشترکہ ( کامن ویلتھ سٹیزن ) کے شہری کی اصطلاح متعارف ہوئی۔
(انیس سو اکیاسی کے برٹش سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت برٹش سبجیکٹ کی اصطلاح میں مزید ترمیم ہوئی اور اسے برطانیہ اور آئرلینڈ کے شہریوں تک محدود کردیا گیا۔
اس خطے سے باہر برطانوی عملداری میں جو علاقے موجود تھے جیسے ہانگ کانگ، مکاؤ، جبرالٹر، فاک لینڈ وغیرہ تو ان کے لیے برٹش اوورسیز اور برٹش ڈیپنڈنٹ ٹیررٹریز کی اصطلاحات و اقسام وضع کی گئیں۔)
چنانچہ جب کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ محمد علی جناح اسی طرح برطانوی شہری تھے جس طرح میں ہوں تو ایسا دعویٰ کرتے وقت ازحد تاریخی و قانونی احتیاط کی ضرورت ہے۔

جب آئین نافذ ہوگیا تو گورنر جنرل صدر ہوگیا اور گورنر جنرل کا انیس سو پینتیس کے ایکٹ کے تحت حلف بھی نئے حلف سے بدل گیا
پہلی بات تو یہ ہے کہ جدید پاسپورٹ برطانیہ اور اس کی نوآبادیات میں انیس سو بیس کے پاسپورٹ ایکٹ کے تحت وجود میں آیا۔اس سے پہلے راہداری اور پرمٹ پر سفر ہوتا تھا۔
دوم یہ ہے کہ اگر برٹش سبجیکٹ ( شہری ) اور برٹش انڈین سبجیکٹ ایک ہی چیز تھی تو پھر برطانیہ کو اپنی نوآبادیات کے شہریوں سے خود کو الگ شناخت دینے کے لیے انیس سو بیس میں علیحدہ پاسپورٹ جاری کرنے کی کیوں ضرورت پڑ گئی جس پر موٹا موٹا لکھا تھا ’برٹش پاسپورٹ۔یونائٹڈ کنگڈم آف گریٹ برٹن اینڈ آئرلینڈ ‘ ( یہ نیلا پاسپورٹ انیس سو اٹھاسی میں یورپی یونین والے سرخ جلد کے پاسپورٹ سے بدل گیا )۔تو کیا برطانیہ اور اس کی تمام نوآبادیات میں صرف ایک پاسپورٹ کی ایک ہی جیسی عبارت سے کام نہیں چل سکتا تھا ؟
اگر بحث برائے بحث یہ مان لیا جائے کہ برٹش انڈین پاسپورٹ رکھنے والا بھی برطانیہ کا اتنا ہی شہری تھا جتنا کہ یوکے اینڈ آئرلینڈ کا پاسپورٹ ہولڈر، تو پھر مجاز افسر کو اپنے ہاتھ سے محمد علی جناح کے پاسپورٹ پر برطانیہ براستہ عراق لکھنے کی کیا ضرورت تھی اور اس پاسپورٹ پر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ ، کینیڈا اور دیگر برطانوی ڈومینینز اور نوآبادیات کے ناموں کا اندراج کیوں نہیں کیا گیا تاکہ جناح صاحب ایک ’برطانوی شہری ‘ کے طور پر جمیکا سے کینیا تک جس برطانوی نوآبادی میں چاہتے آ جا سکتے۔۔۔
اگر برٹش انڈین پاسپورٹ رکھنے والا خود بخود برطانوی شہری بن سکتا تو تیرہ اپریل انیس سو اکیاون کو پاکستان سٹیزن شپ ایکٹ کیوں نافذ ہوا جبکہ اس تاریخ کو بھی برطانوی بادشاہ پاکستان کا آئینی حکمران تھا اور گورنر جنرل پاکستان اس کا نمائندہ تھا۔تو کیا حکومتِ پاکستان کے اس ایکٹ کو بین الاقوامی قانون کے تحت برٹش انڈیا کی جانشین حکومت ( سکسیسر نیشن ) کا ایکٹ تصور کیا جائے یا تاجِ برطانیہ سے بغاوت سمجھا جائے ؟
رہی یہ بات کہ برطانوی بادشاہ یا ملکہ آزادی کے بعد بھی بھارت اور پاکستان کا آئینی سرپرست کیونکر رہے ؟ اس لیے رہے کہ چودہ اور پندرہ اگست انیس سو سینتالیس کے دن نہ انڈیا کا اپنا آئین تھا اور نہ پاکستان کا۔ چونکہ خلا میں کسی مملکت کا انتظام نہیں چلایا جاسکتا لہذٰا نئے آئین کے نفاز تک دونوں ممالک گورنمنٹ آف برٹش انڈیا ایکٹ مجریہ انیس سو پینتیس کے تابع رہے۔جب آئین نافذ ہوگیا تو گورنر جنرل صدر ہوگیا اور گورنر جنرل کا انیس سو پینتیس کے ایکٹ کے تحت حلف بھی نئے حلف سے بدل گیا (جیسے یحییٰ خان کی معزولی کے بعد انیس سو تہتر کے عبوری آئین کے نفاز تک خلا پر کرنے کے لیے بھٹو صاحب کو عبوری صدر کے ساتھ ساتھ چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا حلف مجبوراً اٹھانا پڑ گیا تھا۔)

تیس جنوری انیس سو اڑتالیس کو برٹش انڈیا کے ایک اور پاسپورٹ ہولڈر موہن داس کرم چند گاندھی کو گولی لگی
بات شہریت اور پاسپورٹ کی ہو رہی تھی اور جانے کہاں سے کہاں نکل گئی۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ پہلا پاکستانی پاسپورٹ انیس سو اکیاون کے سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت پاکستانی دفترِ خارجہ کے مڈل ایسٹ ڈویژن کے ڈپٹی سیکرٹری محمد اسد کو جاری ہوا۔تب تک برٹش انڈیا کے جاری کردہ پاسپورٹ پر پاکستان کی مہر لگا کر کام چلایا جاتا تھا ۔جبکہ بھارت میں تو سٹیزن شپ ایکٹ مجریہ انیس سو پچپن کے نفاز تک پرانے پاسپورٹوں پر نئی ریپبلک آف انڈیا کی مہر لگتی رہی۔بالکل ایسے جیسے پاکستان کے کرنسی نوٹوں کے اجرا تک برطانوی ہند کے کرنسی نوٹوں پر پاکستان کا ٹھپہ لگا کر کام چلایا جاتا رہا۔
چونکہ پاکستان میں تیرہ اپریل انیس سو اکیاون تک شہریت کا قانون ہی نہیں تھا اور برٹش انڈین دور کے قوانین سے کام چلایا جا رہا تھا تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ گورنر جنرل اور وزیرِ اعظم سمیت پوری کابینہ اور لیجسلیٹو اسمبلی کے انہتر ارکان سمیت مغربی اور مشرقی پاکستان کے سات کروڑ شہریوں میں سے ایک بھی پاکستانی شہری نہیں تھا۔سب کے سب ایک منقسم برٹش انڈیا کے شہری تھے اور اس ناطے برطانوی شہری تھے اور اس ناطے وہ جتنے ڈھاکہ اور کراچی میں بسنے کے قانوناً مجاز تھے اتنے ہی لندن اور برمنگھم میں بھی بسنے کے اہل تھے ؟؟؟
سوال یہ ہے کہ اگر جناح صاحب گیارہ ستمبر انیس سو اڑتالیس کے بجائے گیارہ ستمبر انیس سو اکیاون کو وفات پاتے تو ان کے پاس کون سا پاسپورٹ ہوتا ۔تو کیا ان کی وفات برطانوی شہری یا برٹش انڈین شہری کے طور پر ہوئی ؟؟؟
اور جناح صاحب کی وفات سے بھی نو ماہ پہلے تیس جنوری انیس سو اڑتالیس کو برٹش انڈیا کے ایک اور پاسپورٹ ہولڈر موہن داس کرم چند گاندھی کو گولی لگی تو جناح صاحب نے اپنے تعزیتی پیغام میں یہ کیسے کہہ دیا کہ ’ہی واز اے گریٹ انڈین‘۔انہیں تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ ’ہی واز اے گریٹ برٹش سٹیزن ‘۔۔۔۔
اور پھر برطانیہ نے اپنے اس مایہ ناز شہری کی راکھ کنگا میں بہانے کی اجازت کیسے دے دی۔گاندھی جی کی ایک سمادھی لندن میں بھی تو بننی چاہیے تھی ؟؟؟
جناح صاحب کا مزار کراچی میں ہے۔۔تعجب ہے کہ لندن میں ایک مجسمہ تک نہیں۔۔۔کیا ایسے ہی قدر کرتا ہے برطانیہ عظمیٰ اپنے شہریوں کی ؟؟؟
ہم تاریخ کا مضمون سیاق و سباق و وقت و حالات کی روشنی میں پڑھنا کبھی سیکھ بھی پائیں گے یا پھر ’ کاتا اور لے دوڑی ‘ کے فارمولے سے ہی کام چلاتے رہیں گے ؟؟؟

pervaz khan
01-12-2013, 02:37 PM
اچھی شئیرنگ کا شکریہ