PDA

View Full Version : سپریم کورٹ کا وزیراعظم پاکستان کی گرفتاری کا حکم



تانیہ
01-15-2013, 04:37 PM
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2012/09/18/120918154825_raja_pervez_a_304.jpg

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے رینٹل پاور کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے میں ان تمام افراد کو چوبیس گھنٹوں میں گرفتار کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی بھی شخص بیرون ملک فرار ہوا تو اُس کی تمام تر ذمہ داری قومی احتساب بیورو کے چیئرمین پر عائد ہوگی۔

یہ حکم ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاسی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری اسلام آباد میں ہزاروں افراد کے ہمراہ اسمبلیوں کی تحلیل کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔

عدالت نے سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا کہ اس مقدمے میں ابھی تک ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی جبکہ عدالتی فیصلے کو آئے ہوئے کافی عرصہ ہوگیا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ابھی تک تو اس مقدمے کا ریفرنس بھی احتساب عدالتوں میں نہیں بجھوایا گیا تو ملزمان کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کے تفتیشی افسر محمد اصغر نے جب اس مقدمے کی تفتیش میں جب وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو بطور ملزم نامزد کیا تو اُس کا تبادلہ کردیا گیا اور اس ضمن میں سپریم کورٹ کا نام بھی استعمال کیا گیا کہ عدالت تفتیشی افسر کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو کے ترجمان نے گزشتہ برس جون میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف رینٹل پاور کے مقدمے میں’ نامزد ملزم‘ نہیں ہیں اور نیب ایک مرتبہ راجہ پرویز اشرف سے تحقیق کر چکی ہے اور اگر مناسب سمجھا گیا تو اُنہیں دوبارہ بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے تیس مارچ دو ہزار بارہ کو کرائے کے بجلی گھروں کے مقدمے کے فیصلے میں تمام بجلی گھروں کے معاہدوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان معاہدوں فوری طور پر منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا اور کہا تھا کہ معاہدے کرنے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

فیصلے میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور سیکریڑی خزانہ سمیت تمام حکومتی اہلکاروں نے بادی النظر میں آئین کے تحت شفافیت کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا ان افراد کی طرف سے بدعنوانی اور رشوت ستانی میں ملوث ہوکر مالی فائدہ حاصل کرنے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔

اسی معاملے میں سپریم کورٹ کے حکم پر پانی و بجلی کے دو سابق وفاقی وزراء لیاقت جتوئی اور راجہ پرویز اشرف اور سابق وزیرِ خزانہ شوکت ترین سمیت انیس افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے گئے تھے۔

bbc urdu (http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/01/130115_sc_rental_power_pm_zs.shtml)

بےباک
01-15-2013, 08:55 PM
خوب خبر ھے ، حکمرانوں کی ملک سے فرار کی تیاری کی افواہیں گردش کر رہی ہیں ، لاہور میں تو چار مطلوب افراد کے گھروں پر چھاپے مارے جا رھے ھیں ، اور ایرپورٹ پر جانے والی گاڑیاں بھی چیک ہو رہی ہیں ، کہیں ملک سے فرار نہ ہو جائیں ۔ اور نیپ کو واضع کہہ دیا ہے کہ اگر ان میں سے کوئی فرار ہوا تو اس سلسلے میں نیپ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان سیاسی جغادری کاسہ لیسوں سے اللہ ہمیں بچائے ، اللہ تعالی ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے ، اور ان فصلی بٹیروں سے جان چھڑا دے ، جتنی لوٹ کھسوٹ ان کے دور میں کی گئی سوچا بھی نہیں جا سکتا
کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپیہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کو بانٹا گیا اور وہ بھی ان کی صوابدید پر ،،یعنی وہ جہاں جی چاھے خرچیں ، کوئی پوچھ اور پڑتال کا خوف نہیں ، اس سے بڑا کھلا ڈاکہ اور کیا ہو گا ۔۔۔۔۔
:photosmile::photosmile:

سید انور محمود
01-15-2013, 10:55 PM
پی پی کے دور حکومت میں پاکستان کو کرپشن ‘ ٹیکس چوری اور بری گورننس کے باعث 8500 ارب سے زائد کی کثیر رقم کانقصان اٹھانا پڑا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق گیلانی حکومت کے دوران 2008ء میں 390 ارب ‘ 2009ء میں 450 ارب ‘ 2010ء میں 825 ارب اور 2011ء میں 1100 ارب کی کرپشن ہوئی۔ پتہ چلنے والے ان کرپشن کیسوں کا مجموعہ 2 ہزار 765 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی وزیر خزانہ نے خود ایف بی آر میں سالانہ 500 ارب سے زائد کی کرپشن کی تصدیق کی جو چار سال میں 2 ہزار ارب روپے بنتی ہے ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 2010ء میں 315 ارب کی کرپشن کی نشاندہی کی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 2011ء تک 30 ماہ کے عرصے میں 115 ارب روپے کی ریکوری کی۔ گردشی قرضے 19 کروڑ سے زائد ہیں۔ کے ای ایس سی کو 2008ء سے غیر قانونی طور پر سالانہ 55 ارب کے بینیفٹس دیئے گئے۔ پی ایس او ‘ پی آئی اے ‘ پاکستان اسٹیل ملز ‘ ریلوے ‘ سوئی سدرن ‘ سوئی ناردرن گیس کمپنی جیسے قومی ادارے سالانہ 150 سے 300 ارب روپے ہضم کر رہے ہیں۔

رینٹل پاور پلانٹ کیس : سپریم کورٹ نے رینٹل پاور کیس کے فیصلے سے تقریباً 455 ارب کا نقصان بچایا جو کہ فراڈ پر مبنی ایسا منصوبہ تھا جس پر پیپلزپارٹی کی حکومت کو فخر تھا اور رینٹل پاور پلانٹس کی ایڈوانس اور انٹرسٹ کی مد میں دی گئی 8 ارب 68 کروڑ کی رقم واپس لی۔

برباد گلستان کرنے کو بس ایک ہی الّو کافی تھا
ہرشاخ پہ الّو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

بےباک
01-16-2013, 08:29 AM
پی پی کے دور حکومت میں پاکستان کو کرپشن ‘ ٹیکس چوری اور بری گورننس کے باعث 8500 ارب سے زائد کی کثیر رقم کانقصان اٹھانا پڑا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے مطابق گیلانی حکومت کے دوران 2008ء میں 390 ارب ‘ 2009ء میں 450 ارب ‘ 2010ء میں 825 ارب اور 2011ء میں 1100 ارب کی کرپشن ہوئی۔ پتہ چلنے والے ان کرپشن کیسوں کا مجموعہ 2 ہزار 765 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی وزیر خزانہ نے خود ایف بی آر میں سالانہ 500 ارب سے زائد کی کرپشن کی تصدیق کی جو چار سال میں 2 ہزار ارب روپے بنتی ہے ۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 2010ء میں 315 ارب کی کرپشن کی نشاندہی کی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 2011ء تک 30 ماہ کے عرصے میں 115 ارب روپے کی ریکوری کی۔ گردشی قرضے 19 کروڑ سے زائد ہیں۔ کے ای ایس سی کو 2008ء سے غیر قانونی طور پر سالانہ 55 ارب کے بینیفٹس دیئے گئے۔ پی ایس او ‘ پی آئی اے ‘ پاکستان اسٹیل ملز ‘ ریلوے ‘ سوئی سدرن ‘ سوئی ناردرن گیس کمپنی جیسے قومی ادارے سالانہ 150 سے 300 ارب روپے ہضم کر رہے ہیں۔

رینٹل پاور پلانٹ کیس : سپریم کورٹ نے رینٹل پاور کیس کے فیصلے سے تقریباً 455 ارب کا نقصان بچایا جو کہ فراڈ پر مبنی ایسا منصوبہ تھا جس پر پیپلزپارٹی کی حکومت کو فخر تھا اور رینٹل پاور پلانٹس کی ایڈوانس اور انٹرسٹ کی مد میں دی گئی 8 ارب 68 کروڑ کی رقم واپس لی۔

برباد گلستان کرنے کو بس ایک ہی الّو کافی تھا
ہرشاخ پہ الّو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا

بہت خؤب ۔ حقیقت حال وہ ہے جو سامنے دکھائی دی جا رہی ھے ، اور بھی ہزاروں ایسے معاملات ہیں جو ابھی پردے میں ہیں ،

tashfin28
01-17-2013, 08:16 PM
پاکستان میں موجودہ سیاسی صورتحال – اور امریکی موقف

امریکی حکومت پاکستان یا کسی دوسرے ملک کی کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کی حمایت نہیں کرتی ۔ ہم ایک جائزاورقابل اعتمادجمہوری عمل کی حمایت کرتےہيں اورہم پاکستان ميں جمہوریت اورشفاف انتخابات کےبھر پورحاميوں میں سے ہیں۔

معزز قارئين کے معلومات کيلۓ، پاکستان میں موجودہ سیاسی صورتحال کے متعلق امريکی محکمہ خارجہ کے ترجمان وکٹوریہ کی طرف سے 16 جنوری 2013 کے ريمارکس:

"بنیادی طور پر، یہ مسئلہ پاکستانیوں کو حل کرنے کا ہے ۔ انہيں اپنے اندرونی سیاسی مسائل کوایک منصفانہ اور شفاف طریقے سے حل کرنے کی ضروت ہے ۔ پاکستان ميں ایک تسليم شدہ انتخابی عمل ہے جو آئين ميں موجود ہے۔ اس کا احترام کرنا ضروری ہے ۔۔۔ ہم پاکستان میں سویلین جمہوریت کی حمایت کرتےہیں ۔ اور موجودہ حالات کو جمہوریت اور آئین کےتحت حل کرنے کی ضرورت ہے" ترجمان امریکی محکمہ خارجہ،وکٹوریہ نولينڈ

محکمہ خارجہ ڈیلی پریس بریفنگ، براہ مہربانی ملاحظہ کریں :
http://video.state.gov/en/video/2098788029001

تاشفين - ڈیجیٹل آؤٹ ریچ ٹیم، شعبہ امریکی وزارت خارجہ
digitaloutreach@state.gov
www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu