PDA

View Full Version : میثاق اول ؟۔۔۔۔



اقبال ابن اقبال
01-15-2013, 10:09 PM
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ارشادباری تعالیٰ ہے،کہ
وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِلْعَالَمِینَ :یعنی ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (سورۃالانبیاء۔آیت(107
مذکورہ آیت کریمہ میں اس وضاحت کے بعد ،کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہانوں کے لئے رحمت بنا کربھیجاہے، اور مومنین کے لئے حکم شرع ہے،کہ وہ اس رسول محتشم شاہ بنی آدم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر اور آداب بجالاتے رہیں ،کہ جس نے تعظیم و توقیر کی،وہ بندہ مومن بن گیا اور جس نے ان سے انحراف کیا،وہ راستے سے بھٹکتے ہوئے دور گمراہی میں مبتلاء ہوگیا ۔
نیزاللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آداب و احترام و تعظیم و توقیر کا باقاعدۃًایک قانون و ضابطہ مقررفرمادیاہے اور یہ کوئی نیا ضابطہ وقانون نہیں،بلکہ دنیا کے وجود میں لانے سے بھی قبل بنا دیا گیا تھا ،چنانچہ اس کا ثبوت قرآن مجید کے ان میثاقوں سے ہے ،جوکہ عالم ارواح میں لئے گئے تھے ،جن کی تفصیل کچھ یوں ہے
کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں میثاق اول ارشادفرماتاہے،
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَأَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنْفُسِہِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی شَہِدْنَا أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ:یعنی اور (یاد کیجئے)کہ جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی اور ان کو انہی کی جانوں پر گواہ بنایا (اور فرمایا) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟... تووہ (سب) بول اٹھے،کیوں نہیں، (تو ہی ہمارا رب ہے) ہم گواہی دیتے ہیں۔ تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ)کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے۔ (سورۃ اعراف آیت 172)
مذکورہ میثاق اول، بنی نوع آدم سے ہوا ،کہ جو تمام انسانی ارواح سے تھا اور یہ میثاق ،توحید و وحدانیت کا اقرار ہے۔،نیز احادیث کریمہ سے بھی میثاق مذکورہ کی تائیدکچھ اس طرح ملتی ہے،کہ اِرشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے ،
أَخَذَ اللہُ الْمِیثَاقَ مِنْ ظَہْرِ آدَمَ بِنَعْمَانَ یَعْنِی عَرَفَۃَ فَأَخْرَجَ مِنْ صُلْبِہِ کُلَّ ذُرِّیَّۃٍ ذَرَأَہَا، فَنَثَرَہُمْ بَیْنَ یَدَیْہِ کَالذَّرِّ، ثُمَّ کَلَّمَہُمْ قِبَلًا " قَالَ:یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت (میں موجود انبیاء علیہم السلام ) سے مقامِ عرفہ پر میثاق لیا، پس آپ کی پشت سے تمام ذریت کو نکالا ،جسے اُس نے پیدا کیا تھا، پھر اُنہیں اپنے سامنے (سورج کی شعاعوں میں نظر آنے والے) ذرات کی شکل میں بکھیر دیا، پھر اُن کے ساتھ براہ راست کلام فرمایا،
پھر(آدم علیہ السلام کی پشت انورسے ان تمام ارواح انسان،جو قیامت تک دنیا میں پیدا ہونے والی تھی ، اُنہیں شکل ارواح دے کر آدم علیہ السلام کے سامنے لایا گیا) اﷲتبارک و تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کے سامنے اُن سب انسانی روحوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا،کہ( أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْْ :کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟...)تو سب نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے جواب دیا : بَلٰی (ہاں،باری تعالیٰ تو ہی ہمارا رب ہے)۔ جب سب نے اﷲتبارک و تعالیٰ کی اُلوہیت، وحدانیت اور ربوبیت کا اقرار کر لیا تو آگے قرآن فرماتا ہے ،کہ
شَہِدْنَا أَن تَقُولُواْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ:ہم گواہی دیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے۔
(مسنداحمد۔رقم الحدیث2455 ۔باب مسند عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔جزء4۔صفحہ267۔مکتبۃالشاملۃ) واضح رہے،کہ یہ عہدمذکورہ،محض انبیاء و رسل ہی سے نہیں تھا، بلکہ کل نسلِ بنی آدم وجملہ کائناتِ اِنسانی کے جملہ اَفراد سے تھا۔ جب انہوں نے قرار کر لیا تو حدیث میں مذکورہ کے مطابق، ملائکہ نے اس پر گواہی دی اور تمام فرشتوں کو اﷲتبارک و تعالیٰ نے گواہ بنایا۔نیزیاد رہے،کہ (شَہِدْنَا ) کے کلمہ میں ملائکہ کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اﷲتعالیٰ کی توحید وربوبیت کا اقرار کیا اور گواہ ہوگئے۔ (تفسیرقرطبی۔جزء7۔صفحہ318۔مک بۃالشاملۃ)
نیز ایک اور حدیث کریمہ کے مطابق اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام زمین و آسمان کو گواہ بنا یا،تاکہ جب یہ لوگ دنیامیں اپنے اپنے اوقات میں پیدا ہو چکے ہوں گے، اورشکل ا قوام میں موجود ہوں گے،تو تب اللہ تبارک و تعالیٰ کے بھیجے ہوئے انبیاو رسل آئیں گے اور انہیں توحید کی دعوت دیں گے، تو ان میں سے بے شمار لوگ منکر ہوجائیں گے (جیسا کہ ہوتے رہے)نیز کئی ایمان لائیں گے اور کئی ارواح اپنا اقرار بھول جائیں گی،وہ کفر و شرک کریں گی، منکر ہو جائیں گی، انبیاء کو ردّ کریں گی، اُن کی دعوت قبول نہیں کریں گی۔ جب قیامت کے دن وہ اِس اَمر سے منکر ہوں گے تو اُن کے انکار کو ردّ کرنے کے لیے یہ گواہی دلوائی تاکہ وہ یہ نہ کہ سکیں کہ ہمیں اس کا پتہ ہی نہیں تھا۔ (بحوالہ مسنداحمد)

بےباک
01-16-2013, 08:38 AM
وَإِذْ أَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِی آدَمَ مِنْ ظُہُورِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَأَشْہَدَہُمْ عَلَی أَنْفُسِہِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوا بَلَی شَہِدْنَا أَنْ تَقُولُوا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِنَّا کُنَّا عَنْ ہَذَا غَافِلِینَ
:یعنی اور (یاد کیجئے)کہ جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل نکالی اور ان کو انہی کی جانوں پر گواہ بنایا (اور فرمایا) کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟... تو وہ (سب) بول اٹھے،کیوں نہیں، (تو ہی ہمارا رب ہے) ہم گواہی دیتے ہیں۔ تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ)کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے۔ (سورۃ اعراف آیت 172)



جزاک اللہ جناب اقبال صاحب ، آپ نے سچ کہا ،یہی میثاق اول ہے ۔ جو اللہ اور بندوں کے درمیان طے پایا تھا ۔