PDA

View Full Version : اسلام آباد ڈیکلریشن ، معائدہ اسلام آباد



بےباک
01-17-2013, 10:51 PM
اسلام آباد ڈیکلریشن ، معائدہ اسلام آباد پر دستخط ھوئے
http://afpak.foreignpolicy.com/files/tahirulqadri.jpg
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2013/01/17/130117173106_qadri-pact.jpg


۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں تحریکِ منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری اور حکومت کے درمیان طے پانے والے ’اسلام آباد لانگ مارچ ڈیکلریشن‘ پر طاہر القادری اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے دستخط کردیے ۔۔
نیشنل اسمبلی 16 مارچ کو ختم ھونا تھا ،، اب سولہ مارچ سے پہلے تحلیل کر دی جائے گی اور
90 دن بعد انتخابات ھوں گے
ایک ماہ یعنی تیس دن میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ھو رھا ھے ، کہ ان ممبران کی نامینشین کے بعد جانچ پڑتال اور سکروٹتنگ کی جائے گی ، ان کو پری کلیرنس ھونی چاھیے
62 ،63 ، شق کے مطابق ھو گی ،جو اھل نہیں ھوں گے ان کو نکال دیا جائے گا
یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کرے گا ، جب تک کلیر نہی ھو گا اسوقت تک وہ کمپین بھی جاری نہین رکھ سکے گا

2
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان عوامی تحریک کے ساتھ مل کر مکمل اتفاق رائے ھو گا ، کئیر ٹیکر پرائم منسٹر کے نام پیش کریں گے شرط ھو گی کہ دونو غیر جانبدار ھوں گے
حکومت دو بندوں کے نام دے گی وہ بھی طاھر القادری صاحب کے مشورے کے پابند ھوں گے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
،الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ،،،
آئینی ماہرین کی مشاورت دوبارہ ھو گی ، 27 جنوری 2012 ،منہاج القران ،کے سیکرٹریٹ میں اسی مسلہ پر

۔۔۔۔۔۔
ہر اجلاس مرکزی مرکز منہاج میں ھو گا ، اس بارے اگر ضروری ہوا
اس الیکشن کمیشن کی تشکیل کے لیے ماہر قانون دان ایچ نائیک کی نگرانی میں کمیٹی بنا دی گیئی اور وسیم سجاد ، ایس ایم ظفر صاحب شامل ہوں گے

4:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الیکٹرل ریفارم یہ ہوگا
1: انتخابی اصلاحات میں ،،پاکستان کے 62 اور 63 اور 218 سیکشن 3،، کے مطابق چھانٹی ہو گی
2: عوامی نمائیدگی کا ایکٹ ، 76 سے 82 دفعات تک ، شقوں پر عمل ھو گا
3۔۔ صاف اور شفاف انتخاب انتخابات ھوں گے ،سخت نگرانی ہو گی ۔
4: سپریم کورٹ کے پیش کردہ ایجنڈے پر کام ھو گا جو سات ماہ پہلے دے چکی ھے انتخابی اصلاحات کے بارے ان پر عمل ہو گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
کسی کے خلاف کوئی انتقامی کاروائی نہیں ھو گی،،
۔۔دھرنے میں شامل بندوں اور خواتین کو ان کے گھروں میں پہنچایا جائے گا ،،، اور گورنمنٹ اس کا انتظام کرے گی ۔۔
http://gdb.rferl.org/DD1B0ED2-4510-4828-86A8-A1F7A9438547_w640_r1_s.jpg
بی بی سی اردو
ڈیکلریشن پر دستخط ہونے کے بعد طاہر القادری نے اعلان کیا کہ چار روز سے جاری اسلام آباد میں دھرنا ختم ہو گیا ہے اور جن لوگوں کی بسیں چھین لی گئی تھیں ان کو بسیں مہیا کی جائیں گی۔
اس ڈیکلریشن پر طاہر القادری اور وزیر اعظم کے علاوہ اس دس رکنی ٹیم کے ارکان کے بھی دستخط ہیں جنہوں نے یہ مذاکرات کیے۔
دستخط ہونے کے بعد طاہر القادری نے اعلان کیا کہ چار مطالبات میں سے تین پر اتفاق ہو گیا ہے جبکہ انتخابی اصلاحات پر میٹنگ ہو گی۔
حکومت کی دس رکنی ٹیم کے ساتھ چار گھنٹوں سے زیادہ مذاکرات جاری رہے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے اس اعلان کے بعد تمام رہنماؤں کا تعارف کروایا اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی تعریف کی۔ اس کے بعد انہوں نے چوہدری شجاعت حسین سے گفتگو کرنے کا کہا جنہوں نے مجمعے سے خطاب کیا۔
مذاکرات کے آغاز کے بعد طاہر القادری نے اعلان کیا تھا کہ مذاکرات جاری ہیں اور مجمعے سے کہا کہ وہ ابھی نہیں جائیں۔
طاہر القادری نے جمعرات کی دوپہر اسلام آباد کے ڈی چوک میں تیز بارش میں بھیگتے ہوئے دھرنے پر بیٹھے ہزاروں افراد سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ حکومت کو اصلاحات کے لیے جمعرات شام تین بجے تک کی مہلت دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شام سے قبل اس معرکے کو ختم کرنا ہے اور اگر صدرِ پاکستان ان سے مذاکرات کے لیے نہ آئے تو وہ امن کا آخری موقع بھی گنوا دیں گے۔
ان کے اس اعلان پر حکومت نے دس رکنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جس نے دھرنے کے مقام پر طاہر القادری کے کنٹینر میں ان سے بات چیت کی۔ اس کمیٹی میں پیپلز پارٹی اور حکومت میں اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان شامل تھے۔
مذاکراتی کمیٹی پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم، سید خورشید شاہ، قمر زمان کائرہ، فاروق نائیک، مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین، ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستار اور رکن اسمبلی بابر غوری، اے این پی کے سینیٹر افراسیاب خٹک اور فاٹا سے سینیٹر عباس آفریدی پر مشتمل تھے۔