PDA

View Full Version : نیپ کی ہٹ دھرمی ۔عدالت عظمی کے احکامات ماننے سے انکار



بےباک
01-18-2013, 09:07 AM
نیپ کی ہٹ دھرمی ۔عدالت عظمی کی توھین

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + ثناءنیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے رینٹل پاور کیس میں نیب کی تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران بنچ کے ممبران نے ریمارکس دئیے ہیں کہ نیب نے کیس کے ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر نہ کر کے انہیں کلین چٹ دینے کی کوشش کی ہے۔ نیب رپورٹ سے لگتا ہے کہ رینٹل منصوبوں میں بدعنوانی ہوئی ہی نہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ نیب حکام عدالتی فیصلوں کا مذاق اڑانا بند کریں ابھی تک ملزمان کے خلاف ایک بھی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا۔ نیب نے رینٹل پاور کیس سے متعلق تمام ریکارڈ عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دیا ہے جبکہ چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے کہا ہے کہ میں تحقیقاتی عمل میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی ہم نے کسی کو کلین چٹ دی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ ریفرنس دائر نہ کر نے کی رپورٹ حتمی نہیں ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے تک کیس کا ریکارڈ میرے پاس نہیں آتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ 1990ءسے تحقیقات کی نگرانی کا اختیار استعمال کر رہی ہے۔ تمام معاہدوں کی رپورٹ پیش کریں اور اپنے تفتیشی افسر سے ریکارڈ لے کر بات کریں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ریفرنس دائر کر نے کی واضح ہدایت کی ہے۔ نیب نے لکھا کہ ریفرنس دائر نہیں ہونا چاہئے آپ ملزمان کو کلین چٹ دے رہے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے کہا کہ میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے فصیح بخاری اور ریکارڈ کو آنے دیں ۔ نیب نے رینٹل پاور مقدمے کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ میں پیش کر دیا۔ ریکارڈ کپڑے کی بوریوں اور چادروں میں بندھا ہوا تھا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ نیب رپورٹ سے لگتا ہے کہ رینٹل منصوبوں میں بد عنوانی ہوئی ہی نہیں۔ نیب وکیل نے تحقیقات مکمل کر نے کی مدت نہیں بتائی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ کے تحقیقاتی افسر جو بھی کریں آخری ذمہ داری چیئرمین نیب کی ہو گی۔ سپریم کورٹ میں رینٹل پاور عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران نیب نے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کو گرفتار کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی وزیراعظم کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا جبکہ عدالت کو مطلوبہ ریکارڈ پیش کر دیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس کیس کی نگرانی کر سکتی ہے عدالت کے پاس حج کرپشن کیس، بنک آف پنجاب کیس اور تہلکہ ڈاٹ کام کیس کی مثالیں موجود ہیں نیب حکام ریکارڈ رجسٹرار کی بجائے عدالت میں جمع کروائیں ابھی تک ملزمان کے خلاف ایک بھی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا نیب حکام عدالتی فیصلوں کا مذاق ا ڑانا بند کریں۔ جمعرات کو رینٹل پاور عملدرآمد کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ راجہ پرویز اشرف سمیت تمام ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا، عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا چیف جسٹس نے کہا کہ 15 جنوری کو کہا تھا کہ ملزمان کے چالان داخل کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ رینٹل پاور کیس میں ایسے لوگ بھی ہی جو خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، ہم ایک بات جانتے ہیں کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 30 مارچ 2012ءکو فیصلہ نیب کی میز پر تھا تفتیش ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رینٹل پاور کیس کا فیصلہ سرکاری دستاویزات پر مبنی ہے اور عدالت نے نیب کے پیش کردہ دستاویزات پر ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا اور نپے تلے الفاظ میں حکم جاری کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کا ٹرائل نیب قانون کے مطابق ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان میں رینٹل پاور کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے چیئرمین نیب کو ہدایت کی ہے کہ 15 منٹ کے اندر تمام فائلیں لے کر آئیں، چیرمین نیب کا کہنا تھا کہ عدالت تحریری طور پر یہ حکم دے تاہم عدالت نے ان کی یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے زبانی حکم پر ریکارڈ لایا جائے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ رات 10 بجے تک بھی کیس سننا پڑا تو سنیں گے۔ چیئرمین نیب فصیح بخاری نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ہماری تحقیقات میں رقم کی رضاکارانہ واپسی ہوئی ہے، قومی خزانے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے، لگتا ہے پراسیکیوشن کے بجائے وکیل صفائی نے رپورٹ تیار کی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیئرمین نیب نے بتایا کہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ثابت نہیں ہوا، تفتیشی افسر نے اہم ریکارڈ سے پہلو تہی کی، اس رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس داخل کیا گیا تو ملزمان بری ہو جائینگے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی رپورٹ اور پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا، آپ کے بیان اور نیب کی رپورٹ میں تضاد ہے، جس ایڈیشنل پراسیکیوٹر نے رپورٹ تیار کی اس کیخلاف کارروائی کی جائے اور رینٹل پاور کیس کے تمام کیسز سے متعلق فائلیں پیش کی جائیں۔ اس موقع پر پراسیکوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہی ہے، سپریم کورٹ نیب کی تفتیش کا ریکارڈ نہیں دیکھ سکتی۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ تمام فائلیں پیش کر دونگا لیکن پراسیکیوٹر جنرل نے اہم قانونی نکتہ اٹھا دیا ہے، نیب آرڈیننس کے تحت ہی کام کروں گا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ چیئرمین نیب ہیں، سپریم کورٹ کے جج نہیں، سپریم کورٹ نے تمام دستاویزات دیکھنے کے بعد ہی فیصلہ دیا۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر اچانک اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ مجھے بھی نوٹس ملا ہے، مجھے بھی سنا جائے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی آپ ابھی تشریف رکھیں۔ پراسیکیوٹر جنرل کے کے آ غا کا کہنا تھا کہ نیب نے ملزم سے تفتیش اور انکوائری کرنا ہے اور اس سلسلہ میں تفتیشی افسر شہزاد بھٹی نے بہت محنت کی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسی لئے اس کا تبادلہ کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے چیئرمین نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نہیں ہم سپریم کورٹ کے جج ہیں تفتیشی افسران کو کام کرنے نہیں دیا جا رہا تفتیش نیب کا اور عملدرآمد عدالت کا مینڈیٹ ہے جس پر چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ کرپشن ثابت ہو تو ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے انہوں نے تفتیشی افسران کی جانب سے تیار کردہ تفتیشی ریفرنس کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نیب آرڈیننس کے تحت ہی کام کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ رینٹل پاور کیس سے متعلق تمام دستاویزات پیش کی جائیں عدالت نے کہا کہ نیب حکام کی رپورٹ اور بیانات میں تضاد ہے اور دانستہ طور پر عدالت کی حکم عدولی کی جا رہی ہے۔ چیف جسٹس نے چیئرمین نیب کو 15 منٹ کے اندر تمام فائلیں لے کر آنے کی ہدایت کی اور سماعت میں وقفہ کردیا گیا۔ دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو ریکارڈ پیش نہ ہونے پر عدالت نے دوبارہ برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیئر مین نیب کو ایک بجے تک ریکارڈ پیش کرنے کی مہلت دی۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے منگل کو نیب حکام کو چوبیس گھنٹے میں ملزموں کے خلاف ریفرنس دائر کر کے چالان پیش کرنے اور ان کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی تھی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس ہونا تھا جو تاحال نہیں ہو سکا جس کے باعث عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق رینٹل پاور کیس سے متعلق نیب کے پراسیکیوٹر اور دیگر افسروں کی چیئرمین سے غی رسمی مشاورت جاری رہی لیکن کسی باضابطہ اجلاس میں ریفرنس کی منظوری نہ دی جا سکی۔ مقدمے کی سماعت 23 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔ سپریم کورٹ نے رینٹل پاور کیس کی غلط رپورٹ پیش کرنے پر چیئرمین نیب کو انکوائری کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت عظمیٰ نے چیئرمین نیب کو حکم دیا کہ 23 جنوری تک اس مقدمہ میں ہونے والی تفتیش کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کریں۔ عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ چیئرمین نیب 2006ءسے لے کر اب تک کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق جتنے بھی معاہدے ہوئے ہیں ان میں سے کتنے معاہدے قانونی تقاضوں کے مطابق اور کتنے غیر قانونی ہیں، وہ اس بارے میں عدالت کو آگاہ کریں۔ نیب کے سربراہ ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے کرائے کے بجلی گھروں کے بارے میں ہونے والے معاہدوں کے مقدمے میں پندرہ جنوری کو سپریم کورٹ میں اپنے ادارے کی ہی تفتیشی رپورٹ کو ناقص قرار دیا تھا۔ فصیح بخاری کا کہنا تھا کہ ان افراد پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ثابت نہیں ہو سکا اور تفتیشی افسران نے ریکارڈ میں پہلوتہی کی ہے۔ چیئرمین نیب نے عدالت کو بتایا کہ وہ تحقیقات کا معاملہ یہاں پر بیان نہیں کر سکتے کیونکہ ملزمان خبردار ہو جائیں گے او ر اگر عدالت چاہے تو وہ چیمبر میں بیان دینے کو تیار ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عبوری تفتیش میں تفتیشی افسران ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکے ہیں اور اگر اسی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر کیا گیا تو ملزمان رہا ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس نے چیئرمین نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ وہ مختلف وجوہات کی بنا پر ملزمان کے خلاف کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ چیئرمین نیب نے عدالت کے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ وہ تفتیش میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ استغاثہ کی بجائے وکیل صفائی نے تیار کی ہے۔

بےباک
02-01-2013, 07:26 AM
http://ummatpublication.com/2013/02/01/images/story2.gif

بےباک
02-01-2013, 08:03 AM
توقیر صادق کو پکڑنے والے پاکستانی شرلاک ہومز کی کامیابی کی کہانی
http://fc09.deviantart.net/fs71/i/2012/007/4/0/new_sherlock_holmes_by_allegator-d4ll8lp.jpg
اسلام آباد (انصار عباسی) نیب کی مدد سے فرار ہونے والے اوگرا کے 82/ ارب روپے کے کرپشن اسکینڈل کے مرکزی ملزم توقیر صادق کو پاکستانی شرلاک ہومز نے گرفتار کیا جنہوں نے اس مقصد کیلئے منفرد تکنیک استعمال کی۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی بی، ایف آئی اے، امیگریشن حکام، ایف آئی یو، اے این ایف، نیب، پولیس اور دیگر کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے توقیر صادق 21/ جون 2012ءء کو شارجہ بھاگ گئے حالانکہ ان کا نام جنوری 2012ءء سے یگزٹ کنٹرول لسٹ پر تھا۔ ان کے فرار ہونے کے حوالے سے ملک کے کسی ایئر پورٹ یا قانونی زمینی راستوں پر کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ عمومی طور پر یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ملزم اسلام آباد یا لاہور میں کسی سرکاری رہائش گاہ میں چھپا ہوا ہے لیکن وہ شارجہ اور دبئی میں مزے کر رہا تھا۔ جیسے ہی سپریم کورٹ نے متعدد مرتبہ نیب سے کہا کہ وہ ملزم کو گرفتار کرے تو بعد میں ایک تحقیقات کار کے ذریعے انکشاف ہوا کہ کس طرح نیب کے سینئر عہدیداروں نے ملزم کو گرفتار کرنے کی بجائے اسے بھاگنے میں مدد فراہم کی۔ نیب کے سینئر عہدیداروں سے مایوس ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کے آئی جی کو ہدایت دی کہ وہ ملزم کو تلاش کریں اور اسے عدالت میں پیش کریں۔ یہ اس کیس کا ٹرننگ پوائنٹ تھا جب صدر مملکت کے پولیس ایوارڈ یافتہ اور تمغہ امتیاز حاصل کرنے والے آئی جی پنجاب پولیس رانا شاہد نے اپنے ہنر اور تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا۔ رانا شاہد کو یہ کام 22/ دسمبر 2012ءء کو سونپا گیا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ایس پی کرامت اللہ ملک اور انسپکٹر مظہر حمید قاضی کے ہمراہ توقیر صادق کے اندرون اور بیرون ملک رشتہ داروں سے ملزم کے متعلق تفصیلات جمع کیں۔ انہوں نے وہ تمام موبائل فون سمیں برآمد کیں جنہیں توقیر صادق اور ان کے خاندان کے 11/ افراد استعمال کر رہے تھے۔ توقیر صادق کے پاس 8/ موبائل کنکشن تھے جو ان کے اپنے نام پر رجسٹرڈ تھے لیکن ایک نمبر (0333-4761744) کو چھوڑ کر سب نمبر بند تھے۔ دیگر معلومات کے علاوہ، انہیں اس کھلے نمبر کے حوالے سے تفصیلی سرگرمیاں معلوم کیں اور یہ پتہ لگایا کہ 10/ دسمبر 2012ءء کو یہ مخصوص موبائل جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی کے روانگی لاؤنج میں بند کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے فوری طور پر ایف آئی اے کو خط لکھ کر تمام 11/ انٹرنیشنل ایئرپورٹس کا ڈیٹا حاصل کرنے کیلئے کہا۔ لیکن یہ پتہ لگا کہ توقیر صادق نامی کوئی مسافر روانہ نہیں ہوا۔ لیکن انہیں اس وقت تسلی ہوئی جب انہیں ایک پرواز (PK-268) میں توقیر صادق کی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے نام ملے۔ انہوں نے کراچی سے کھٹمنڈو سفر کیا تھا۔ یہ سارا کام پولیس افسران نے ایک ہی دن میں مکمل کیا تھا۔ انہیں یہ کام 22/ دسمبر کو سونپا گیا اور 23/ دسمبر تک انہوں نے ساری معلومات اکھٹا کرلیں۔ انہوں نے اس کے بعد کھٹمنڈو کے امیگریشن آفس سے رابطہ کیا اور توقیر صادق کی اہلیہ کے ویزا کی نقل حاصل کرلی جس سے معلوم ہوا کہ خواتین نے نندنی ہوٹل میں قیام کیا تھا تاہم یہ ہوٹل بھی جعلی نکلا۔ اس کے بعد پولیس افسر نے پاکستانی سفیر ارشد سعود کھوسہ سے ملاقات کی جنہوں نے کسی بھی طرح کی معاونت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ رانا شاہد نے انہیں معاونت کیلئے رضامند کرنے کی کوشش کی کہ یہ سپریم کورٹ کا کام ہے جس نے ہائی پروفائل ملزم کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں لیکن سفیر کا کہنا تھا کہ وہ صرف اس صورت میں مدد کریں گے جب اسلام آباد میں حکمرانوں کی جانب سے انہیں ایسا کرنے کو کہا جائے گا۔ ارشد سعود نے فارن سیکریٹری کو خط لکھا لیکن انہیں مثبت جواب نہ ملا۔ اس کے بعد پولیس افسر اور ان کی ٹیم نے ایک مرتبہ پھر کھٹمنڈو میں اپنے رابطوں کے ذریعے یہ پتہ لگایا کہ توقیر صادق 25/ نومبر 2012ءء کو کھٹمنڈو پہنچے تھے جہاں سے وہ 26/ دسمبر 2012ءء کو شارجہ چلے گئے۔ کھٹمنڈو امیگریشن کے ذریعے پولیس ٹیم کو توقیر صادق کا دبئی کا موبائل نمبر پتہ چلا جو ان کے اپنے نام پر ہی رجسٹرڈ تھا۔ رانا کے علم میں یہ بات تھی کہ توقیر صادق دو پاسپورٹس (ایک نیلے رنگ کا جبکہ دوسرا عام اور سادہ ) استعمال کرتے ہیں۔ رانا نے اسلام آباد میں پاسپورٹ حکام سے کہا کہ وہ ملزم کے دونوں پاسپورٹ منسوخ کردیں اور ان کے ریڈ وارنٹ جاری کریں۔ انہوں نے ملزم کو ڈی پورٹ کروانے کیلئے ضروری کاغذات بھی بنوانے کیلئے کہہ دیا۔ اس کے بعد یہ ٹیم کھٹمنڈو سے پاکستان پہنچی اور 14/ جنوری کو نیب کے افسر وقاص خان کے ہمراہ دبئی کیلئے روانہ ہوگئی جنہوں نے جمعرات کو اپنے سینئر عہدیداروں کے اس گھٹیا کردار کا بھانڈا پھوڑا تھا جس کے تحت انہوں نے توقیر صادق کو فرار کرنے میں ادا کیا تھا۔ 15/ جنوری کی صبح رانا کی زیر قیادت ٹیم نے ابو ظہبی میں پاکستانی سفیر سے رابطہ کیا۔ سفیر جمیل احمد خان نے ٹیم کو بتایا کہ توقیر صادق کے حوالے سے انہیں دفتر خارجہ سے کوئی اطلاعات یا ہدایات نہیں ملیں۔ ان سے کہا گیا کہ وہ فوراً متحدہ عرب امارات کے دفتر خارجہ سے رابطہ کریں تاکہ ملزم کی گرفتاری میں پاکستانی ٹیم کی معاونت ہوسکے۔ سفیر نے مثبت جواب دیتے ہوئے مقامی سی آئی ڈی افسران سے رابطہ کیا اور ملزم کے متعلق تمام تفصیلات سے انہیں آگاہ کیا۔ اسی دن توقیر صادق کو مطلوب ملزمان کی فہرست میں شامل کردیا گیا۔ یکم جنوری 2013ءء کو پاکستان میں دفتر خارجہ سے کہا گیا تھا کہ تمام متعلقہ معلومات ابو ظہبی میں پاکستانی سفارت خانے کو فراہم کردی جائیں تاکہ ملزم کے پاسپورٹس منسوخ کرائے جا سکیں اور اس کے بعد انہیں یو اے ای سے ڈی پورٹ کروایا جا سکے۔ لیکن 15/ جنوری تک ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ ابو ظہبی کی سی ڈی آئی سے معلوم ہوا کہ توقیر صادق کو جنوری کے پہلے ہفتے میں گرفتار کرلیا گیا تھا کیونکہ ان کا نام انٹر پول کی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا لیکن کاغذات کی عدم دستیابی کی وجہ سے انہیں جانے دیا گیا۔ رانا اور ان کی ٹیم نے بعد میں اپنے مقامی رابطوں کی مدد سے توقیر صادق کو ڈھونڈ نکالا اور پتہ لگایا کہ ان کا مطلوب ملزم عجمان میں چھپا ہوا ہے اور انہیں ایک ال نور بیکری کے مالک ناصر مزروہی کے توسط سے تین سال کا رہائشی ویزا مل چکا ہے۔ ٹیم نے ناصر مزروہی سے ملاقات کی، ان کا انٹرویو کیا اور توقیر صادق کا پتہ پوچھا۔ مزروہی نے پولیس ٹیم کو ایک سجاد احمد نامی شخص کا پتہ بتایا جو پہلے ہی مزروہی کے ساتھ مل کر کام کیا کرتا تھا اور عجمان میں توقیر صادق کو رہائشی ویزا دلوانے میں اسی نے مدد کی تھی۔ 82/ ارب روپے کی کرپشن میں ملوث توقیر صادق کے اکاؤنٹ میں تین ارب روپے تھے جنہیں وہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کے 41/ مختلف اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشن کے ذریعے اِدھر سے اُدھر منتقل کرتے رہے اور آخر میں ایک معمولی بیکری اور تندور میں معمولی کیشیئر کی نوکری حاصل کرکے عجمان میں تین سال کا رہائشی ویزا حاصل کیا۔ ٹیم نے فوراً ساجد احمد نامی شخص سے رابطہ کیا لیکن اس نے غلط معلومات دے کر ٹیم کو چکما دینے کی کوشش کی اسی وجہ سے پہلا چھاپا ناکام رہا۔ بعد ازاں مقامی سی آئی ڈی نے ساجد کو دھر لیا، اس سے پوچھ گچھ کی جس کے بعد اس نے اپنے موبائل فون سے توقیر صادق سے ان کے موبائل (009715396468) پر رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ تندور / بیکری پر آجائیں۔ صادق نے آنے کا وعدہ کیا لیکن نہیں آیا اور موبائل بند کردیا۔ پاکستانی ٹیم اس کے بعد ابو ظہبی روانہ ہوگئی جہاں انہوں نے مقامی رابطوں سے ملاقات کی اور اس کے بعد انٹرپول کے مقامی چیف کرنل فیصل ال قاضی سے ملاقات میں کامیاب ہوئے۔ رانا نے انہیں تمام تفصیلات فراہم کیں جس کے بعد انٹرپول چیف نے وعدہ کیا کہ وہ دو روز میں ملزم کو گرفتار کرلیں گے۔ اس کے ساتھ ہی رانا نے مقامی سی آئی ڈی کے ساتھ مل کر توقیر صادق کے موبائل نمبر کے حوالے سے تفصیلات حاصل کیں۔ اسی معلومات کی بنیاد پر توقیر صادق کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ ان کے قریبی رابطوں سے تفتیش کی گئی اور معلوم ہوا کہ توقیر کے پاس تین سے زائد رہائش گاہیں ہیں۔ ان سب پر چھاپہ مارا گیا لیکن وہ نہیں ملے۔ بعد میں توقیر صادق نے مستقلاً اپنا موبائل فون بند کردیا۔ یہ محسوس کرتے ہوئے کہ گرفتاری کیلئے کی جانے والی کوششوں کے متعلق معلومات میڈیا میں آنے کی وجہ سے ملزم اپنی رہائش گاہیں تبدیل کر رہا ہے؛ ٹیم کے رکن اور نیب کے افسر وقاص خان حکمت عملی کے تحت پاکستان واپس آگئے اور میڈیا کو بتایا کہ ملزم کی تلاش کی گئی لیکن وہ نہیں ملے یہی وجہ ہے کہ ٹیم خالی ہاتھ واپس لوٹی ہے۔ یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی۔ توقیر صادق نے اپنا موبائل نمبر دوبارہ کھول دیا اور ساجد احمد سمیت اپنے وکیل اور دیگر لوگوں سے رابطے کیے۔ 25/ جنوری کو انٹرپول کے مقامی چیف سے ایک مرتبہ پھر رابطہ کیا گیا جس کے بعد ساجد احمد کو فوراً گرفتار کرلیا گیا اور اس کے بعد مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے جس کے بعد توقیر صادق بھی گرفتار کرلیے گئے۔ وہ ایک عراقی باشندے کے فلیٹ پر قیام پذیر تھے۔ 29/ جنوری کو باضابطہ طور پر ان کی گرفتاری کا اعلان کیا گیا۔

انجم رشید
02-01-2013, 12:36 PM
کل سپریم کورٹ کہ یہ الفاظ بہت اہم ہیں کہ نیب چرمین کے خط کو بنیاد بنا کر حکومت اور فوج کوئی غیر آینی اور غیر قانونی عمل نہ کرے ۔
جس سے یہ نظر آتا ہے کہ کچھ ہونے والا ہے یا تو حکومت ان ہتھکنڈوں سے الیکشن ملتوی کرنا چاہتی ہے یا کوئی اور مفاد حاصل کرنا چاہتی ہے ۔
چرمین نیب کو بھی کل توہین عدالت کا نوٹس جاری ہوا ہے یاد رہے یہ تیسرا نوٹس ہے ۔