PDA

View Full Version : کامران فیصل اور کوثر ملک اقبال ۔۔قاتل کون



بےباک
01-23-2013, 10:40 AM
مشکل میں پھنس جانے والے نیب کے گرو کا عروج و زوال
http://www.allurdu.com/wp-content/uploads/2013/01/nab-51.jpg
جنگ ۔۔ 23 جنوری 2013
اسلام آباد (احمد نورانی) کوثر اقبال ملک کون ہیں؟ نیب کے اب متنازع ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورسز، جو مقتول نیب افسر کامران فیصل کے سامنے آنے والے آخری موبائل فون پیغام کے مطابق اس پر سپریم کورٹ کے خلاف پرانی تاریخ میں حلف نامہ جمع کرانے کے لئے دباؤ ڈال رہے تھے، عروج و زوال سے گزرنے والے نیب کے یہ گرو اب مشکل میں ہیں۔انہوں نے ملک کے تین بینکوں میں ایک دن بھی حاضری دیئے بغیر ترقیاں حاصل کیں اور سینئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ کے منصب تک جاپہنچے ۔ کوثر اقبال ملک کیڈٹ کالج پٹارو کے فارغ التحصیل ہیں یعنی پٹارین ہیں، بنیادی طورپر نیشنل بینک پاکستان کے ایک سینئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ تھے، انہیں نیشنل بینک کے ساتھ ساتھ نیب سے بھی برطرف کیا جاچکا ، لیکن ہمیشہ ان کی واپسی ہوتی رہی اور وہ گزشتہ 8 سالہ سے غیرقانونی طورپر نیب میں ملازمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خصوصاً ایسے وقت جب کوئی بینک نیب کے ہاتھوں مشکل میں رہا، وہ بینک سے بینک حرکت کرتے رہے۔ 2004 میں بحیثیت اے وی پی ایک نجی بینک کے نمائندے کے طورپر 5 سال کے لئے کوثر اقبال ملک نے ممبر فنانشل کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کے طورپر نیب میں شمولیت اختیار کی، لیکن بعدازاں موقع سے فائدہ اٹھانے کی اپنی صلاحیت پر نیب میں رہتے ہوئے وہ بینک کے وائس پریذیڈنٹ بن گئے۔ انہوں نے فوج کی قیادت میں نیب میں اپنے اعلیٰ رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے ریگولر کیڈر میں ڈائریکٹر جنرل فنانشل کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کا منصب حاصل کرلیا جو گریڈ 21- کے مساوی ہے۔ اسی طریقے سے وہ ایک دن بھی کام پر گئے بغیر ایک اور نجی بینک میں سینئر وائس پریذیڈنٹ بن گئے۔ اس بینک کے نیب میں قرض نادہندگی کے کیسز زیرالتواء تھے، پھر ان ہی طریقوں سے وہ تیسرے بینک میں سینئر نائب صدر ہوگئے۔ اس بینک کے کیسز بھی نیب میں زیرالتواء تھے۔ وہ اس تیسرے بینک میں نہیں گئے اور بدستور نیب میں خدمات انجام دیتے رہے اور بالآخر نیشنل بینک میں سینئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ہوگئے جب نیب کے پاس اس بینک کے بڑے مالیاتی اسکینڈلز سامنے تھے۔ وہ ایف آئی اے پرائم بینک فراڈ میں ملزم تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق 45 لاکھ روپے کا فراڈ کیا گیا تھا۔ یہ کیس 2005 میں فنانشیل انویسٹی گیشن ونگ نیب کو منتقل کیا گیا اور بعدازاں دستاویز کی تبدیلی کے ساتھ بند کردیا گیا۔ 2010 میں اسٹیٹ بینک کی انسپکشن رپورٹ کے مطابق کوثر اقبال ملک نے اپنا اثرورسوخ بروئے کار لاتے ہوئے خود ایس ای وی پی ہونے کے باوجود پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے مکان کو انتہائی گراں کرایہ پر نیشنل بینک کو دیا۔ تاہم انہوں نے استفسار پر مکان کرایہ پر دیئے جانے کا دفاع کیا۔ان کے کئی اہم شخصیات سے تعلقات تھے جو حکمرانوں کی دوست ہیں۔ سابق ڈپٹی چیئرمین نیب سے جھڑپوں کے بعد انہیں فروری 2011 میں نیب سے ہٹا کر نیشنل بینک واپس بھیج دیا گیا۔ نیشنل بینک میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد ان کے اس وقت بینک کی اعلیٰ انتظامیہ سے اختلافات پیدا ہوگئے اور ایک ماہ کے اندر ہی انہیں برطرف کردیا گیا۔ تاہم کوثر اقبال ملک کو ایک بااثر شخصیت کی مداخلت پر بحال کردیا گیا اور انہیں وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل بھیج دیا گیا، جہاں سے ان کا آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ میں تبادلہ ہوا۔ 12 دسمبر 2011 کو انہیں دوبارہ اسی پوزیشن پر لایا گیا جہاں وہ چند ماہ قبل برطرف ہوئے تھے۔ اب وہ ڈائریکٹر جنرل فنانشل کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر آپریشنز نیب ہوں گے۔ نیب میں اپنی بحالی پر جب کوثر اقبال ملک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے طاقتور شخصیت سے اپنے کسی تعلقات کے تاثر کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کا فضل ہے کہ وہ عزت و وقار کے ساتھ نیب میں بحال ہوئے۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ این آر او سے متعلق کیسوں سے نمٹنے کے لئے انہیں حکومت نیب میں لائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مالیاتی فراڈ اور بینک مقدمات سے ان کا تعلق بنتا ہے، جبکہ اپنے ڈی جی آپریشنز بھی ہونے کے حوالے سے کوثر اقبال ملک نے کہا کہ کسی اور کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری بھی انہیں دی گئی۔ آخری بار جب وہ نیب میں دو اہم عہدوں پر فائز تھے تب 6 لگژری سرکاری گاڑیاں ان کے استعمال میں تھیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا انہیں بدنام کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ رابطہ کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ نیب میں غیرجانبدارانہ خدمات انجام دیتے ہوئے مالیاتی فراڈ پکڑنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی تمام جائیداد قانونی ہے، ان تمام باتوں کے باوجود کوثر اقبال ملک تقریباً ایک دہائی سے نیب کی بااثر ترین شخصیت ہیں۔ 16 جنوری کو اپنے ایک دوست کے ایس ایم ایس کے جواب میں کامران فیصل مرحوم نے بتایا تھا کہ وہ ڈی جی ہیڈکوارٹرز کے ساتھ ہیں اور ڈی جی ایچ آر ان سے کیس سے تبدیلی کے حوالے سے حلف نامہ چاہتے ہیں،انہوں نے اپنے دوست سے مشورہ مانگا تھا کہ اب وہ کیا کریں۔

بےباک
01-23-2013, 10:44 AM
16/ جنوری کی رات چیئرمین نے کامران فیصل کو بلایا تھا، نیب کا اعتراف
کامران فیصل کی لٹکی ہوئی فوٹو ۔ ایک صحافی نے موبائیل فون کیمرہ سے فوٹو بنائی ہے
http://sphotos-b.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash3/537088_407979619285881_1585509282_n.jpg

اسلام آباد (انصار عباسی) نیب نے باضابطہ طور پر منگل کو اس بات کا اعتراف کرلیا کہ بیوروکے چیئرمین فصیح بخاری اور ڈی جی ایچ آر کوثر ملک نے 16/ جنوری کی رات کامران فیصل کے ساتھ ملاقات کی تھی تاکہ رینٹل پاور پروجیکٹ کیس پر بات چیت کی جا سکے۔ اسی دوران بیوروکے ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے انتہائی اہم موبائل پیغام کی تصدیق کی، جس کے متعلق جنگ اور دی نیوز میں منگل کو خبر شایع ہوئی ہے۔ مذکورہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے اسلام آباد پولیس کو بتایا ہے کہ کامران فیصل پر اپنے سینئرزکا شدید دباؤ تھا کہ وہ رینٹل پاور پروجیکٹ میں انتہائی با اثر ملزم، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، کے حق میں اپنا موقف تبدیل کردیں۔ ذرائع کے مطابق، مذکورہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ کامران فیصل کو کوثر ملک نے ان کے راولپنڈی کے دفتر سے بلایا تھا۔ اسلام آباد ہیڈکوارٹرز میں کامران فیصل نے پہلے کوثر ملک سے ملاقات کی جس کے بعد انہیں چیئرمین سے ملوایا گیا۔ یہ وہی رات تھی جب کامران فیصل نے اپنے ایک ساتھی کو ایس ایم ایس پیغام بھیجا کہ ”ڈی جی ایچ آر کیس کی تبدیلی کے سلسلے میں گزشتہ تاریخوں کا ایک حلف نامہ بنوانا چاہتے ہیں، کیا کروں۔۔“ جواب میں کامران کے ساتھی نے انہیں پیغام بھیجا کہ ”کبھی مت دینا، اپنے ہاتھ خود نہ کٹوانا“۔ مذکورہ ساتھی نے اپنا بیان پیرکو اسلام آباد پولیس کو دیا اور تصدیق کہ کامران پر رپورٹ تبدیل کرنے کے لیے دباؤتھا۔ چیئرمین نیب اورکوثر ملک پر الزام ہے کہ 16/ جنوری کی رات ہونے والی ملاقات کے دوران انہوں نے مبینہ طورپرکامران فیصل کے ساتھ انتہائی توہین آمیز اندازمیں گفتگو کی۔ یہ ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی۔ بخاری اور کوثر ملک تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے لیکن نیب کے ترجمان ظفر اقبال نے چند روز قبل اس رپورٹ کو مکمل طور پر غیر درست قرار دیا تھا۔ منگل کو نیب کے ترجمان نے دی نیوزکے سینئر رپورٹراحمد نورانی کے ساتھ بات چیت کے دوران اس بات کو تسلیم کیا کہ 16/ جنوری کو فصیح، کوثر اور کامران کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ تاہم انہوں نے کامران فیصل اور ان کے ساتھ کے درمیان ہونے والے ایس ایم ایس پیغامات کے تبادلے کے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ کامران فیصل پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کامران فیصل کو فصیح اور کوثرکے ساتھ علیحدہ ملاقات کے لیے 16/ جنوری کی رات طلب کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ کامران فیصل نیب کی اس ایگزیکٹو بورڈ میٹنگ میں شامل نہیں تھے جو شام ساڑھے سات بجے منعقد ہوئی تھی تاکہ رینٹل پاورکیس کی 17/ جنوری کو ہونے والی سماعت پر بات چیت کی جا سکے۔ نیب کے ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ جب نیب کی پریس ریلیزکے مطابق کامران فیصل کو7/ جنوری 2013ءء کو رینٹل پاور کیس سے علیحدہ کردیا گیا تھا تو چیئرمین نیب اور ڈی جی ایچ آر کوثر ملک نے ان کے ساتھ علیحدہ ملاقات کے لیے انہیں کیوں طلب کیا اور وہ بھی رات دیر گئے؛ اس پر ترجمان نیب کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب یہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کیا وجوہات تھیں جن کی وجہ سے کامران فیصل نے خود کو اس کیس سے علیحدہ کردیا تھا۔ جب ترجمان نیب کوکامران فیصل اور ان کے ساتھی کے درمیان ہونے والے موبائل ٹیکسٹ پیغامات کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ وہ ان پیغامات کے متعلق کچھ نہیں جانتے لہٰذا وہ تبصرہ نہیں کرسکتے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں پولیس کی تحقیقات کے بعد ساری باتیں سامنے آ جائیں گی۔ ایک طرف جب نیب کے حکام اسلام آباد پولیس کی جانب دیکھ رہی ہیں کہ اس کیس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے، اسی وقت مرحوم کے لواحقین اور نیب کے نوجوان افسران کو حکومت، انتظامیہ، پولیس حتیٰ کہ حکومت کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیے گئے جوڈیشل کمیشن پر بھی بھروسہ نہیں۔

بےباک
01-23-2013, 11:15 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/23/images/story3.gif


http://ummatpublication.com/2013/01/23/images/story2.gif

بےباک
01-23-2013, 11:39 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/22/images/story1.gif

http://ummatpublication.com/2013/01/21/images/story3.gif

http://ummatpublication.com/2013/01/20/images/story1.gif

بےباک
01-23-2013, 12:17 PM
چیئرمین نیب نے موجودہ عدلیہ کو بدعنوان ادارہ قرار دے دیا
روزنامہ جنگ 23 جنوری 2013
اسلام آباد (عمر چیمہ) کامران فیصل مرحوم کے لئے تعزیتی ریفرنس کے دوران نیب افسروں سے ویڈیو خطاب میں چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری نے عدلیہ کو ملک کا بدعنوان ترین ادارہ قرار دے دیا تاہم معاملے کی نزاکت کا احساس ہوتے ہی انہوں نے حکم دیا کہ ان کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ نہ بنایا جائے تاہم تیر کمان سے نکل چکا تھا یوں لگتا ہے کہ اب چیئرمین نیب کو مزید کسی قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عدلیہ کے خلاف زہر اگلتے ہوئے انہوں نے اسے نہ صرف ”بدعنوان ترین ادارہ“ قرار دیا بلکہ اسی سانس میں سپریم کورٹ پر الزام بھی لگا دیا کہ ان کو تین بار توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا دراصل سپریم کورٹ کی جانب سے اس کے پسندیدہ شخص کو نیب میں تعینات نہ کرنے کی سزا تھی۔ انہوں نے کامران فیصل کی موت کی سپریم کورٹ میں حاضر سروس جج یا سپریم کورٹ کے مقرر کردہ کسی شخص سے انکوائری کرانے کو بھی خارج از امکان قرار دے دیا۔ فصیح بخاری نے نیب افسروں کی جانب سے کامران فیصل کی موت پر قلم چھوڑ ہڑتال کے موقع پر تعزیتی اجلاس سے خطاب میں زہرافشانی کر رہے تھے جب وہ دل کی بھڑاس نکال چکے تو بات باہر نکل جانے کے ڈر سے انہوں نے نیب انٹیلی جنس کو تاکید کی کہ ان کی گفتگو ہال سے باہر نہ نکلنے پائے۔ بخاری اس وقت جوش خطابت کے عروج پر تھے اسی لئے انہوں نے افسروں کوکھل کر سوال کرنے کی اجازت دی۔ جس پر خیبر پختونخوا نیب کے ایک افسر خاور الیاس نے سوال پوچھا کہ رینٹل پاور کیس میں تو حکومت خود فریق ہے، وزیراعظم بھی ملزمان میں شامل ہیں تو کامران فیصل کی موت کی تحقیقات کے لئے اس کے قائم کردہ کمیشن پر کیسے اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ خاور الیاس نے اپنے دیگر ساتھیوں کی طرف سے کامران فیصل کی موت کی تحقیقات حاضر سروس جج یا سپریم کورٹ کے کسی نامزد کردہ شخص سے کرانے کی استدعا کی تاہم فصیح بخاری سوال پورا ہونے سے پہلے ہی بول اٹھے کہ ”آپ جانتے ہیں کہ عدلیہ اس وقت ملک کا بدعنوان ترین ادارہ ہے، میں موجودہ عدلیہ پر یقین نہیں رکھتا اگرنیب افسران جسٹس (ر) جاوید اقبال کمیشن کی تحقیقات سے مطمئن نہ ہوئے تو نیب خود سے اس معاملے کی تحقیقات کرے گا پھر انہوں نے کہا ”آپ جانتے ہیں کہ کیوں مجھے سپریم کورٹ نے تین بار توہین عدالت کا نوٹس بھیجا کیونکہ میں نے سپریم کورٹ کے کہنے پر سابقہ پراسیکیوٹر راجہ عامر کو نیب میں تعینات کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا، اس لئے عدالت میری دشمن بن گئی“۔ نیب ترجمان یا خاور الیاس سے رابطہ کرنے سے پہلے دی نیوز نے ویڈیو کانفرنس میں موجود کچھ افراد سے رابطہ کیا تو سب نے اس گفتگو کی تصدیق کی، متعدد بار رابطے کے باوجود نیب ترجمان نے کوئی جواب نہ دیا تو میں نے انہیں ٹیکسٹ میسج بھیجا جس کا متن یہ تھا ”دی نیوز کے رپورٹر عمر چیمہ اس امرکے بارے میں آپ کا موقف جاننا چاہتا ہے کہ کیا چیئرمین نیب نے عدلیہ کو بدعنوان کہا؟ اور کیا انہیں موجودہ عدلیہ پر بے اعتمادی ہے؟“۔ دو دفعہ پیغام بھیجا گیا مگر جواب ندارد، پھر خدا خدا کر کے نیب ترجمان کا پیغام آیا ”میں آپ کو ایک گھنٹہ بعد جواب دوں گا“۔ بہت انتظار کے بعد ان کا جواب آیا ”چیئرمین نیب عدلیہ کا بے حد احترام کرتے ہیں اس لئے وہ متعدد بار عدلیہ کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ ویڈیو کانفرنس کے دوران چیئرمین نیب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کی روشنی میں عدلیہ سمیت مختلف اداروں میں کرپشن کی بات کی تھی لہٰذا ان کی اس گفتگو کو عدلیہ پر بے اعتمادی قرار دینا ناانصافی ہوگی۔ ”دی نیوز نے خاور الیاس سے بھی رابطہ کیا تاہم انہوں نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے انکار کرتے ہوئے فون کال منقطع کر دی، وہاں موجود ایک عہدیدار نے بتایا کہ ویڈیو کانفرنس میں فصیح بخاری نے اپنی توپوں کا رخ ”جنگ گروپ“ کی طرف بھی موڑتے ہوئے کہا کہ جب سے انہوں نے ٹیکس نادہندگان کے خلاف کارروائی شروع کی ہے تب سے جنگ گروپ انہیں ہدف تنقید بنائے ہوئے ہے، جنگ گروپ سب سے بڑا ٹیکس چور ہے، ہم ان کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں اس لئے وہ ہمارے خلاف ہوگئے ہیں“۔ جنگ گروپ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ”نہ تو ہم ٹیکس نادہندہ ہیں اور نہ ہی ہمارے خلاف نیب میں کوئی انکوائری چل رہی ہے اور اگر ایسا کچھ ہوتا تو ہم اس سارے کو اس قدر کیسے نمایاں کرتے۔ نیب کو بتانا ہوگا کہ ہمارے خلاف کون سی تحقیقات چل رہی ہیں“۔ترجمان کے مطابق جب حکومت جنگ گروپ پر قابو نہیں پاسکتی تو اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں اور کرتی رہی ہے تاکہ اس کو تنازع بنادیا اور بدنام کردیا جائے۔ تاکہ لوگوں کا اعتماد مجروح ہو اور عوام میں اس کے بارے میں متعصبانہ رائے قائم ہو۔ ترجمان نے کسی بھی انکوائری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات شروع کریں۔ پچھلی حکومت نے بھی اس طرح کے الزامات لگائے تھے مگر ثابت نہیں کرسکے نیب یا دیگر ادارے مخاصمت اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں ۔ جنگ گروپ کوشش کرتا ہے کہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور وہ اپنا یہ فرض انجام دیتا رہے گا۔ نیب چیف کو اپنے اردگرد جمع ”کھوٹے سکوں“ کے حوالے سے بھی بہت سے چبھتے سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک افسر نے کہا کہ جناب آپ نے کنٹریکٹ بنیادوں پر اپنے اردگرد کھوٹے سکے جمع کر رکھے ہیں۔ اس پر فصیح بخاری نے کہا کہ کنٹریکٹ ملازمین کو تفتیش کاروں سے تبدیل کرنے کا مقصد یہ ہے تاکہ دونوں شعبے اپنا اپنا کام درست انداز سے کر سکیں۔ فصیح بخاری نے افسران کے خود پر عدم اعتماد پر دکھ کا بھی اظہار کیا۔ ایک نیب افسر نے رینٹل پاور کیس میں کامران فیصل اور کچھ دیگر افسروں کی تعیناتی کے بارے میں بھی تحفظات کا اظہار کیا، اس کے نزدیک انہیں تفتیش کا کوئی تجربہ نہ تھا، اس کے بقول کامران فیصل آئی ٹی کے ماہر تھے۔ انہوں نے تفتیش کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی تربیت نہیں لی تھی، اس طرح ناتجربہ کار ایڈیشنل ڈائریکٹر رضا خان کو کیس افسر بنا دیا گیا۔ ڈائریکٹر ایچ آر اینڈ ایڈمنسٹریشن میجر (ر) شہزاد سلیم بھی تفتیشی عمل سے نابلد ہیں تاہم نیب چیئرمین ان سب سوالات کے تشفی جوابات نہ دے سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمیشن پر اعتماد نہیں، چیف جسٹس از خود نوٹس لیں، والد کامران فیصل

کراچی (جنگ نیوز) نیب کے افسر کامران فیصل کے والد عبدالحمید نے کہا ہے کہ عدالتی کمیشن پر اعتماد نہیں، چیف جسٹس ازخود نوٹس لیں، کمیشن کھایا جائے یا بنایاجائے ایک ہی بات ہے، کمیشن چیزوں کو طول دینے کے لیے ہوتا ہے، آج تک کوئی کمیشن نتیجہ خیز نہیں دیکھا لہٰذا کامران فیصل کے لیے بننے والا کوئی بھی کمیشن قبول نہیں۔چیف جسٹس از خود نوٹس لیں ہمیں اُن ہی سے انصاف کی اُمید ہے۔ اِن خیالات کا اظہار اُنہوں نے جیو نیوزکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر کے ساتھ میاں چنوں سے ویڈیو لنک پرہونے والی گفتگو میں کیا۔ ”نیب کے تفتیشی افسرکی موت ایک معمہ کیوں بن گئی؟۔“ کے موضوع پر ہونے والے اس مباحثے میں ٹیلیفون لائن پر چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری ، متحدہ قومی موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی وسیم اختر ، عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد خان، دی نیوزکے معروف صحافی عمر چیمہ اور ویڈیو لنک پرکراچی سے سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل میمن شریک ہوئے۔ عبدالحمیدخان کا مزیدکہنا تھا کہ میرے بچے کا قتل ہوا ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ قاتل وہی ہیں جو اُس کی تحقیقاتی رپورٹ سے خائف تھے، قاتلوں کو تلاش کرنا ایجنسیوں کا کام ہے۔ اُنہوں نے فصیح بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے کو اِنہوں نے ابھی تک شہید قرار نہیں دیا، یہ اب تک اس بات کو خودکشی قرار دینے پرتلے ہیں۔ فصیح بخاری نے کہا کہ چیف جسٹس کامران فیصل کے قتل پر از خود نوٹس لینا چاہتے ہیں تو لے لیں تاہم شواہد جمع کرنا حکومت کا کام ہے جس کے لیے تیزی سے کام ہورہا ہے۔ فی الوقت کوثر ملک کو پولیس کے حوالے کرنے کی ضرورت نہیں ، حقائق تک پہنچنے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کامران کے والد کو یقین دلاتا ہوں کہ معاملے کے نتیجے تک پہنچیں گے۔ چیف جسٹس کے ازخودنوٹس لینے کے بعد سے کامران ہمیں کہتا رہا کہ مجھے اس کیس سے ہٹائیں، جب میں نے ہٹایا تو سپریم کورٹ کو غصہ آگیا کہ اِسے کیوں ہٹایا ہے۔ وسیم اختر نے کہا کہ جب سے ملک بنا ہے ایشوز اس وقت سے چل رہے ہیں مگر ہم نے اِس پرکوئی ٹھوس کام نہیں کیا، کامران کے والد صحیح کہہ رہے ہیں کہ کئی کمیشن بنے مگر اُس کے نتائج سامنے نہیں آئے۔ اُنہوں نے کہا کہ کامران کے والد کی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے کمیشن تشکیل دیا جانا چاہیے۔ زاہد خان نے کہا کہ اس ملک میں بدقسمتی سے کسی طبقے کو تحفظ حاصل نہیں، ہم ناکام ریاست کی طرف بڑھ رہے ہیں، ملک کی بدقسمتی ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے کیسزکے تحقیقاتی افسران اور ججز قتل کردیے گئے، صرف ایم کیو ایم اور اے این پی کو نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پراکھٹا ہونا ہوگا۔ سب کو سر جوڑکر بیٹھنا ہوگا کہ اس ملک کو اِس دلدل سے کس طرح نکالا جائے۔ عمرچیمہ نے کہا کہ کامران کے ایس ایم ایس ڈیٹا تک رسائی ہم سب کے لیے سرپرائز ہے تاہم اِن ایس ایم ایس تک رسائی کس طرح ہوئی صحافتی مجبوری کے تحت اُس کے ذرائع نہیں بتا سکتا ، کوثر ملک 2004ء میں بینک کی جانب سے نیب میں آئے، ہر سال اِنہوں نے بینک بدلا اور اپنی پوزیشن بڑھاتے گئے، کوثر ملک پٹاروکالج سے تعلیم یافتہ ہیں، دوسرا یہ کہ یہ بحریہ ٹاؤن میں رہتے ہیں، نیب سے اِنہیں فارغ کردیا گیا تھا مگر یہ اثر و رسوخ کی وجہ سے دوبارہ آگئے۔ نیشنل بینک میں وائس پریذیڈنٹ بن گئے، کسی بھی بینک میں ایک دِن بھی نہیں گئے مگر مسلسل ترقیاں پاتے گئے،ارسلان اور ملک ریاض کی جو مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنی تو کوثر ملک اُس کے بھی سربراہ تھے۔ لہٰذا اِن کے تعلقات بہت اوپر تک ہیں۔ نیب کہتی ہے کہ کامران کو 7 جنوری کو ہٹایاگیااور وہ 16 تاریخ کو اپنے دوست کے ساتھ ایس ایم ایس پر بات کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ میں ڈی جی کوثر ملک کے آفس میں بیٹھا ہوں، ہم باتیں بہت کرتے ہیں اورکام کچھ نہیں کرتے، نیب کے افسران بھی مطالبہ کررہے ہیں کہ حاضر سروس جج کی سربراہی میں کمیشن قائم کیا جائے جو سپریم کورٹ کی جانب سے تعین کردہ ہو جبکہ چیئرمین نیب کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوگا، جب تک کامران کے قتل کا معمہ حل نہیں ہوگا تو آر پی پی کا کیس بھی معطل رہے گا، اب تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ اِس طرح کے کیسز تو کبھی حل نہیں ہوئے۔ نیب نے کہا ہے کہ ہم کیس کی تحقیقات خود کریں گے، نیب نے اپنے معاملات اب تک حل نہیں کیے تو اس کے قتل کا معمہ کس طرح حل کریں گے؟۔ 2-3 گھنٹے کی تحقیقات ہوگئیں تو بہت سی چیزیں واضح ہوجائیں گی لہٰذا چیئرمین نیب کو بھی شامل تفتیش کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ نیب کے چیئرمین کو چاہیے کہ وہ اُن کے والد کے اصرار پر پیچھے ہٹ جائیں اور جس طرح کامران کے اہل خانہ چاہتے ہیں وہ انکوائری ہونے دیں اس کے علاوہ کوثر ملک کو پولیس کے حوالے کردیں۔شرجیل میمن نے کہا کہ اجمل پہاڑی کی رہائی کی ذمہ داری بھی عدالت پرہے، اجمل پہاڑی کے حوالے سے اُنہوں نے کہا کہ اگر تحقیقاتی اداروں نے پورٹ غلط تیارکی تو اُنہیں سزا دی جائے لیکن اگر وہ رپورٹ صحیح ہے اور اس کے باوجود بھی اُنہیں رہا کردیا گیا تو یہ درست نہیں۔

انجم رشید
01-23-2013, 12:40 PM
بہت بہت شکریہ اتنی مفید معلومات دینے کا
ایک بات کی سمجھ نہیں آرہی یہ ملک ریاض صاحب کن کن اسکنڈلوں میں شامل ہیں کہاں کہاں یہ کیا کیا کردار ادا کر رہے ہیں ایک طرف ڈاکٹر ارسلان کیس پھر طاہر القادری صاحب کا لانگ مارچ رکوانے کے لیے چوہدری صاحب کے ساتھ مل کر قادری صاحب سے ملاقات اب نیب کے افسر کامران کے قتل میں ان کا نام اور دوسری طرف کئی نجی ٹی وی چینلوں پر ان کے ادارے بحریہ ٹاون کے روزانہ چلنے والے فلاحی کاموں کے اشتہار؟

بےباک
01-23-2013, 10:00 PM
لاہور+ اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں + نوائے وقت نیوز) چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کی اپیل کے باوجود نیب افسران نے ہڑتال ختم کرنے سے انکار کردیا ہے اور کام چھوڑ ہڑتال جاری رکھی۔ کامران فیصل کی پراسرار موت پر نیب کے ڈی جی ایچ آر کوثر اقبال ملک کو بھی شامل تفیتش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پولی کلینک ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ کامران فیصل کے طبی معائنہ کا کوئی ریکارڈ ہسپتال میں موجود نہیں ہے۔ نیب افسران اور ملازمین کی دوسرے روز بھی ہڑتال جاری رہی۔ نیب پنجاب کے افسران کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا جس میں واقعہ کی تحقیقات سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج سے کروانے کا مطالبہ کیا گیا۔ نیب افسران اور ملازمین نے چھ نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کرلیا ہے جس کے مطابق نیب کے تمام تفتیشی افسران آج رینٹل پاورکیس میں سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق نیب افسران نے ڈی جی نیب راولپنڈی خورشید انور بھنڈرسے ملاقات کرکے کامران کی پراسرار موت پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کامران فیصل کی ہلاکت پر جوائنٹ انوےسٹی گیشن ٹیم مقرر کی جائے۔ ڈی جی نیب نے ہدایت کی کہ ہڑتالی ملازمین کام پر واپس آجائیں۔ ڈی جی نیب پنجاب نے یقین دہانی کروائی کہ کامران فیصل کی موت کی مکمل تحقیقات کرائی جائیگی۔ دوسری جانب کامران فیصل کیس میں نیب کے ڈی جی ایچ آر کوثر اقبال ملک کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کے ڈی جی ایچ آر کوثر اقبال ملک نے کامران فیصل پر دباﺅ ڈالا تھا کہ وہ تفتیش سے الگ ہونے کیلئے پرانی تاریخ یعنی 15 نومبر 2012ءکا بیان حلفی دیں۔ ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنا استعفیٰ دیں اور اس میں وجہ تحریر کریں کہ وہ سپریم کورٹ کے دباﺅ میں آکر مستعفی ہو رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایچ آر کوثر اقبال کو ضرورت پڑنے پر گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔ دریں اثناءپولی کلینک ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو ایک خط کے ذریعہ بتایا ہے کہ ہسپتال میں کامران فیصل کے طبی معائنہ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ۔ انتظامیہ نے مزید کہا کہ کامران فیصل کے ماہر نفسیات سے علاج کرانے کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ۔ پولیس کی تحقیقاتی ٹیم نے ہسپتال انتظامیہ سے درخواست کی تھی کہ کامران فیصل نے ہسپتال سے علاج کروایا اور اس سلسلہ میں سلپس بھی ملی ہیں ۔ ان پر ڈاکٹر نجمہ عزیز کے دستخط موجود ہیں جن کے بعد ہسپتال میں اس ریکارڈ کو چیک کیا گیا اور ہسپتال میں 12 اکتوبر کو کسی کامران فیصل نامی شخص کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔ ڈاکٹر نجمہ عزیز کا کہنا ہے کہ کامران فیصل ذہنی مریض نہیں ڈپریشن کا شکار تھے۔ معائنے کے لئے صرف ایک مرتبہ میرے پاس آئے۔ انہوں نے اپنا تحریری بیان تھانہ سیکرٹریٹ میں جمع کرا دیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کو کامران فیصل کے موبائل فون کا ریکارڈ ابھی تک نہیں مل سکا۔ چیئرمین نیب فصیح بخاری نے کہا ہے کہ کامران فیصل کیس میں میڈیا اندازوں پر مبنی خبروں سے گریز کرے۔ نیب اعلامیہ کے مطابق کامران فیصل کی افسوس ناک وفات پر تحقیقات جاری ہے۔ اس حوالے سے نت نئے انکشافات تحقیقات کو کسی کروٹ بیٹھنے نہیں دے رہے۔ ہلاکت کی وجوہات جاننے کیلئے اعلان کردہ کمشن کا نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا، نہ ہی کمشن کے ارکان کا تقرر ہوا۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال لاپتہ افراد کیس کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ کامران فیصل کی یاد میں اسلام آباد میں شمعیں روشن کی گئیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق نیب افسران کی جانب سے فیڈرل لاجز میں کامران فیصل کی رہائش پر شمعیں روشن کی گئیں۔ نیب کے افسران اور اہلکاروں کا تعلق پنجاب، بلوچستان، خیبر پی کے اور اسلام آباد سے تھا۔ نیب افسروں کی جانب سے کامران فیصل کے لئے دعائیہ تقریب میں انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔

بےباک
01-24-2013, 08:41 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/24/images/story3.gif

بےباک
01-27-2013, 09:01 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/27/images/story1.gif

بےباک
01-28-2013, 08:10 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/28/images/story3.gif

بےباک
01-29-2013, 09:12 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/29/images/story1.gif

بےباک
01-30-2013, 09:20 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/30/images/news-10.gif

بےباک
01-30-2013, 11:11 AM
نیب کا جنازہ اور کامران فیصل کی شہادت


نیب کی ساکھ کا جنازہ......دیوار پہ دستک…منصور آفاق

فیصل کامران ایک دین دار اور دیانت دار افسر تھا۔جوڈو کراٹے میں بلیک بیلٹ تھا۔ایک ماہر نشانہ باز تھا۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی پر پوری دسترس رکھتا تھا۔اس کے پاس ایک سکھی اور خوشگوار فیملی تھی ۔وہ پختہ ارادوں اور حوصلوں والا نوجوان تھا۔پوری ایمانداری سے اپنی ملازمت کرتا تھا۔جھوٹ اور کرپشن کے خلاف ایک ایسی دیوار کی طرح تھا جسے گرانا ممکن نہیں تھا۔کرپشن کو روکنے کیلئے کئی دفعہ اپنے افسران کے ساتھ تلخ کلامی تک جا چکا تھا۔حتیٰ کہ ایک مرتبہ اس سے زبردستی رینٹل پاور کیس کی فائل تک چھین لی گئی تھی۔ ایسا نوجوان بغیر کچھ کہے ، بغیر کچھ بتائے بغیر ، کوئی خط ، کوئی ای میل، کوئی میسج کئے بغیر کس طرح خود کشی کر گیا ہے یہ بات حلق سے اترتی نہیں۔ بے شک رینٹل پاور کیس میں ملوث لوگ بہت طاقت ور تھے۔ اربوں روپے کا معاملہ تھامگر وہ تو اس کیس کی تفتیش کو انجام تک پہنچا تھااب اسے خود کشی کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ دباؤ سے نکلنا تو لمحہ بھرمیں ممکن تھا۔ ملازمت ہی چھوڑنی تھی نا اورملازمت چھوڑنے کا حق اس کے پاس تھااس حق کے ہوتے ہوئے زندگی چھوڑنے کا” تُک “ہی نہیں بنتا ۔کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ وہ دباؤ کا شکارتھا۔ایسا دباؤ جو کسی کو خود کشی پر مجبور کررہا ہو وہ دور سے دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے چچا کے بقول اس کی اسی رات نو بجے اس کے ساتھ گفتگو ہوئی تھی وہ بالکل نارمل تھا۔ اسی رات اس کی اپنی وائف سے بھی بات ہوئی جس سے وہ موبائل فون میں بیلنس ڈلوانے کی بات کر رہا تھاپھر جب صبح اسے لٹکا ہوا دیکھا گیا تو اس وقت کمرے میں لائٹ آف تھی۔ یعنی لٹکنے کے بعد اس کی روح نے پرواز کرنے سے پہلے بجلی کا بٹن بھی بند کیا تھا۔ چلیے ایک لمحے کو تصور کرلیتے ہیں کہ اس نے خود کشی کی۔ تو اسے اتنے تکلیف دہ عمل سے گزرنے کی کیا ضرورت تھی۔گن بھی اس کی دسترس میں تھی نیند آور گولیاں بھی اس کے پاس تھی اس کے باوجوداس نے ازار بند جوڑ کرپنکھے سے لٹک کر خود کشی کی ۔پھر اس میز کے متعلق کچھ پتہ نہیں ہے جس پر کھڑا ہو کر اس نے خود کوپنکھے کے ساتھ لٹکایااس میز کو کیسے پاؤں سے دور دھکیلا۔کیا کسی نے یہ چیک کیا ہے کہ اگر وہ میز پنکھے کے نیچے رکھی جائے تواس کے پاؤں میز تک پہنچتے بھی ہیں یا نہیں یا میز سے نیچے آرہے ہیں۔ پھر لٹک کر مرنے والے کی گردن لمبی ہوجاتی ہے آنکھیں باہر آجاتی ہیں۔کامران فیصل کی نہ آنکھیں باہر نکلی ہوئی تھیں نہ گردن لمبی ہوئی تھی۔
کامران فیصل نے ایک دن پہلے اپنی بہن کو فون پر کہا تھا کہ میں بہت خوش ہوں کہ چیف جسٹس نے مجھے وہ کیس واپس لے دیا ہے جو مجھ سے لے لیا گیا تھا۔ یقیناً سپریم کورٹ کے ساتھ کامران فیصل کے اچھے روابط تھے ۔اس بات کا ثبوت اس کی لکھی ہوئی وہ رپورٹس ہیں جن پر نیب کے چیئرمین نے دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا اور وہ چیئرمین کے دستخط کے بغیر سپریم کورٹ تک پہنچ گئی تھیں۔ جنہیں وہاں دیکھ کر چیئرمین نیب پریشان ہوگیا تھا۔ یعنی وہ چاہتاتو چیف جسٹس آف پاکستان کو بھی ای میل کر سکتا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے اس کے پاس جو مواد تھا یقیناً اس کے لیپ ٹاپ میں ہونا تھا یا کمپیوٹر میں، لیکن اس کا لیپ ٹاپ کمرے میں موجود نہیں تھا۔کہاں چلا گیااس پر کسی نے غور نہیں کیا۔ خود اڑ کر کہیں گیا یا کوئی اٹھا کر لے گیا۔ اٹھانے والا کون ہوسکتا ہے ایسے سوالات پر پولیس غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہی۔ پولیس اس کے پاس کسی لیپ ٹاپ کی موجودگی کو تسلیم ہی نہیں کر رہی،کیوں؟۔ پھرکامران فیصل کے کمپیوٹر سے بھی کچھ نہیں مل سکا یعنی سب کچھ ڈیلیٹ کردیا گیا تھامگر کیسے؟ کمپیوٹر سے تو کچھ بھی مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنا ممکن ہی نہیں۔ کمپیوٹر کو جاننے والوں کو علم ہے کہ اس کی ہارڈ ڈرائیو سے ڈیلیٹ شدہ تمام معلومات دوبارہ نکالا جا سکتا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ یا تو کمپیوٹر سے ڈیلیٹ شدہ مواد نکالنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی یا پھر کمپیوٹر کے اندر سے کامران فیصل کی ہارڈ ڈرائیو نکال کر کوئی دوسری ہارڈ ڈرائیو لگادی گئی ہے ۔اس کے علاوہ اس کی سرکاری ڈائری بھی کمرے میں موجود نہیں تھی۔ یہ سب چیزیں کہاں چلی گئیں
نیب کے کچھ لوگ پولیس کی آمد سے پہلے کمرے میں کھڑکی کی وساطت سے داخل ہوچکے تھے۔ نیب کے لوگ کس لئے وہاں پہنچے اور کھڑکی کے راستے اندر کیوں داخل ہوئے۔ وہ دوگھنٹے تک اس کمرے میں کیا کرتے رہے۔دو گھنٹوں بعد پولیس کو کیوں بلایا گیا۔ انہوں نے پولیس کے آنے سے پہلے لاش اتارکیوں لی ۔ پولیس جب وہاں پہنچی تھی تو لاش بستر پر اوندھی کیوں پڑی ہوئی تھی ۔ وقوعہ میں استعمال ہونے والی چیزیں پولیس نے اپنی تحویل میں کیوں نہیں لیں ،خاص طور پر وہ میز جس پرکھڑا ہو کر پھندا گلے میں ڈالنے کی کہانی بیان جارہی ہے ۔سب سوال ابھی تک جواب کے منتظر ہیں ۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ جس کے مطابق اس کے جسم پر کوئی خراش بھی نہیں تھی۔ اسے مسترد کرتے ہوئے اہل خانہ نے لاش میڈیا کے سامنے رکھ دی جس پر تشدد کے نشان موجود تھے اور کہاکہ یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ جھوٹ کا پلندا ہے۔ ٹیلی ویژن پر تشدد کے نشان تک دکھائے گئے مگر کسی عدالت یا کسی اتھارٹی نے یہ حوصلہ نہ کیا کہ لاش کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دے دے ۔ کامران فیصل کے والد نے کہا کہ میرابیٹاایک مسلمان تھااور الٰم سے والناس تک ہر آیت کا مفہوم جانتا تھا وہ خودکشی کر ہی نہیں سکتا تھا اور خودکشی کرنے و الے کی کلائیوں اور پنڈلیوں پر رسیاں باندھنے کے نشانات نہیں ہوتے، اپنے آپ کو باندھ کر کوئی خود کشی نہیں کرتااور اگر اس نے ہاتھ پاؤں باندھ کر خود کشی کی ہے تو انہیں کھولاکس نے اور وہ رسیاں کہاں گئیں ۔اس کے کمرے میں اس کے ساتھ ایک روم میٹ تھا جو وقوعہ کی رات اپنے گھر گیا ہوا تھا ابھی تک اس کا کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ کیوں ۔
مسلسل یہی کہا جارہاہے کہ اس نے دباؤ میں آکر خود کشی کرلی ہے۔ یعنی وہ ذہنی مریض تھا۔ بے شک ذہنی امراض میں ڈپریشن ایک ایسا مرض ہے جس کی انتہا پر مریض خود کشی بھی کر لیتے ہیں لیکن کامران فیصل کے متعلق کوئی شواہد نہیں ملے کہ انہیں اس درجہ ڈپریشن تھا اگر ایسا کچھ ہوتا تو دفتر میں اس کے ساتھ کام کرنے والے تمام ساتھیوں کو علم ہوتا یہ کوئی ایسا مرض نہیں کہ جسے چھپایا جاسکے اس کی بیوی اور اہل خانہ سے یہ مرض نہیں چھپ سکتا تھا۔
پھروہ روم میٹ جوہر رات اس کے ساتھ ہوتا ہے اس سے زیادہ اس مرض کا کسے علم ہوسکتا ہے ۔ ایک اطلاع کے مطابق نہ اس کے گلے سے انگلیوں کے نشان اٹھائے گئے اور نہ اس کمرے سے ۔کیوں ۔پولیس کویہ کام کرنے سے کس نے روکا۔پولیس نے اس طرف توجہ کیوں نہیں دی کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ لٹکانے سے پہلے کسی نے اسکی گردن دبا کر اسے نیم مردہ کردیا ہو۔ایک سوال یہ بھی ہے کہ پوسٹ مارٹم کرنے والے پہلے تین ڈاکٹر کیوں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔ کیا ان پر بھی کوئی دباؤ تھا ۔بعد میں بلائے جانے والے تین ڈاکٹرزجنہوں نے اس قتل کو خود کشی قرار دیا ۔سنا ہے کہ وہ پہلی بار کسی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے آئے تھے کیونکہ بحیثیت میڈیکل ڈاکٹر یہ ان کی فیلڈہی نہیں تھی ۔
کامران فیصل نے ایک دوست کوجو میسج کیا تھا کہ ڈی جی ایچ آر پرانی تاریخوں میں بیان حلفی چاہتے ہیں اور اس دوست نے اسے جواباً میسج دیا تھا کہ فون بند کردو اور کمرے کا دورازہ بھی بند کردو ۔یعنی اسے اور اس کے دوست اس سلسلے میں کوئی خطرہ بھی تھا ۔حیرت ہے ابھی تک پولیس نے اس سلسلے میں ڈی جی ایچ آرسے پوچھ گوچھ نہیں کی۔کامران فیصل نے ایک دوست کوجو میسج کیا تھا کہ ڈی جی ایچ آر پرانی تاریخوں میں بیان حلفی چاہتے ہیں اور اس دوست نے اسے جواباً میسج دیا تھا کہ فون بند کردو اور کمرے کا دورازہ بھی بند کردو ۔یعنی اسے اور اس کے دوست اس سلسلے میں کوئی خطرہ بھی تھا ۔حیرت ہے ابھی تک پولیس نے اس سلسلے میں ڈی جی ایچ آرسے پوچھ گوچھ نہیں کی۔
میرے خیال میں لاش کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کی ضرورت ہے ایسے ڈاکٹر وں سے جن کے کردار بے داغ ہوں مگر ان سب باتوں سے پہلے چیئرمین نیب کو استعفی دینا چاہئے تاکہ غیر جابندارنہ تفتیش ہو سکے ۔اب جونیب کے ملاز مین کو سیکورٹی فراہم کرنے کاوعدہ کیا جارہا ہے اس کا مفہوم بھی یہی ہے کہ وعدہ کرنے والوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ یہ خود کشی نہیں قتل ہے ۔جس شخص نے مرنے سے ایک دن پہلے اپنی بہن کو فون کرکے کہا ہوکہ قدرت مجھ سے کوئی بڑا کام لینا چاہ رہی ہے ۔وہاں یہ کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ اگلے دن اس نے اپنے آفسران کے دباؤ میں آکر خودکشی کر لی۔ ۔جسٹس عظمت سعید کا یہ جملہ کتنا بامعنی ہے کہ ”پتہ نہیں جنازہ کامران فیصل کا اٹھا ہے یا نیب کی ساکھ کا“یقینا فیصل کامران کا جنازہ نیب کی ساکھ کا جنازہ تھا۔اب نیب کی کسی تفتیش پر کسی نے اعتبار نہیں کرنا۔مگرسب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اگر یہ طے بھی پاگیا کہ کامران فیصل نے خود کشی نہیں کی اسے قتل کیا گیا ہے ۔تو پھر کیا ہوگا۔پھر اس کے قاتلوں کو کون تلاش کرے گا۔۔۔۔وزیر اعظم پاکستان؟

بےباک
01-31-2013, 09:47 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/31/images/story2.gif

بےباک
02-02-2013, 08:00 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20130202/Sub_Images/1101743466-1.gif

بےباک
11-23-2013, 06:59 AM
کامران فیصل کا قتل ہوا ، تازہ رپورٹ
ایکسپریس نیوز ۲۳ نومبر ۲۰۱۳

http://express.com.pk/images/NP_LHE/20131123/Sub_Images/1102023461-1.gif

بےباک
11-24-2013, 07:59 AM
http://ummatpublication.com/2013/11/24/images/news-29.gif