PDA

View Full Version : قتل ہے یا خودکشی تعین ضروری ہے:سپریم کورٹ



تانیہ
01-23-2013, 04:07 PM
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2012/06/12/120612144259_supreme_court304.jpg

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے نیب کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی ہلاکت کی تحقیقات تک کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات روکنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ہلاکت کے معاملے کی سماعت کے لیے الگ بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

عدالت نے بدھ کو رینٹل پاور کیس کی سماعت کے دوران کامران فیصل کی ہلاکت کے بارے میں رجسٹرار آفس کی جانب سے جمع کروائے گئے نوٹ کو پٹیشن میں تبدیل کرتے ہوئے جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل الگ بینچ بنایا۔
یہ بینچ چوبیس جنوری سے اس معاملے کی سماعت کرے گا جبکہ عدالت نے نیب کی جانب سے کامران فیصل کی ہلاکت کی تحقیقات مکمل ہونے تک رینٹل پاور کیس کی تحقیقات روکنے کا فیصلہ بھی مسترد کر دیا ہے۔

کامران فیصل کے اہلخانہ نے بھی سپریم کورٹ سے ان کی ہلاکت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جبکہ نیب میں ان کے ساتھی افسران نے کہا تھا کہ واقعے کی تحقیقات ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی حاضر سروس جج سے کروائی جائیں۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے کامران فیصل کی موت سے متعلق حقائق جاننے کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے جو دو ہفتوں کے اندر اندر اپنی رپورٹ حکومت کو دے گا۔

اس کمیشن نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا جبکہ مقامی پولیس نے کامران فیصل کی موت سے متعلق فیڈرل لاجز میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کے بیانات پر مبنی ایک رپورٹ بھی تیار کر رکھی ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق بدھ کو سماعت کے دوران نیب کے حکام نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ تاحال کامران فیصل کی ہلاکت کے سلسلے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کروائی گئی ہے۔

کامران فیصل کی ہلاکت کے سلسلے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کروائی گئی

http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2013/01/18/130118120013_kamran-faisal.jpg

سماعت کے دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کامران فیصل کی ہلاکت پراسرار حالات میں ہوئی ہے اور ان کی موت ایک قتل تھا یا خودکشی اس کا تعین ہونا نہایت ضروری ہے۔

عدالت نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسر ایک ایسے مقدمے کی تفتیش کر رہے تھے جس میں ملک کی ’ایگزیکٹو اتھارٹی‘ ملوث ہے اور ایسے معاملات کی تحقیقات کے لیے آزادانہ ماحول فراہم کیا جانا ضروری ہے۔

اسی دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے کہا کہ جب تک کامران کیس کا فیصلہ سامنے نہیں آتا تب تک رینٹل پاور کیس کی تحقیقات پر کام نہیں ہو سکتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں اور اس کیس پر کام کرنا پڑے گا۔

چیف جسٹس نے نیب کو کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کے معاملات کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بنچ اس کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے تک ہی محدود رہے گا اور کامران فیصل کی ہلاکت متعلق کیس بنچ نمبر دو کے سپرد کیا جا رہا ہے۔

اس پر چیئرمین نیب ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری کی جانب سے پراسکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ احکامات کے مطابق نیب اس معاملے کی تفتیش جاری رکھے گا۔ عدالت نے رینٹل پاور عملدرآمد کیس کی سماعت انتیس جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

قومی احتساب بیورو کی ٹیم کے تفتیشی افسر کامران فیصل جمعہ کو اسلام آباد میں اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق کامران فیصل نے خودکشی کی تھی تاہم ان کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ کامران کی لاش پر تشدد کے نشانات تھے۔

bbc urdu (http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2013/01/130123_sc_nab_officer_zs.shtml)

انجم رشید
01-23-2013, 06:40 PM
بہت بہت شکریہ پیاری بہن معلومات کا

pervaz khan
01-25-2013, 03:22 PM
اچھی شئیرنگ کا شکریہ