PDA

View Full Version : لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات



بےباک
01-29-2013, 10:33 PM
سب سے پہلے آپ ان پرانی دو تحریروں کا مطالعہ کر لیں جو امت اخبار میں چھپی تھیں ،اور اس کے بعد ان کی تازہ ترین کتاب یہ خاموشی کہاں تک ؟؟ کے چند حوالے دیں گے ،۔


http://ummatpublication.com/2011/08/04/images/deen2.gif

http://ummatpublication.com/2011/08/05/images/deen2.gif
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بےباک
01-29-2013, 10:52 PM
اب آئیے ان کے تازہ ترین انکشافات ،
روز نامہ جنگ ،29 جنوری 2013

کارگل آپریشن کا علم صرف چار لوگوں کوتھا ، جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=640T
اسلام آباد…اب معلوم ہوا ہے کہ کارگِل آپریشن کا چار کو پتہ تھا، فوج کی باقی کمان لاعلم تھی، نہ مقاصد واضح تھے، نہ نتائج پر نظر رکھی گئی۔ اپنی ہی قوم سے نتائج چھپانا آپریشن کے ناکام ہونے کا ثبوت ہے۔ یہ سارے انکشافات سابق چیف آف جنرل اسٹاف ، لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شاہد عزیز نے کیے ہیں جو کارگل آپریشن کے وقت آئی ایس آئی کے اینالسز ونگ کے ڈائرکٹر جنرل تھے۔
انہوں نے انکشاف کیا ہے کہکارگل کا ایڈونچر صرف چار افراد کافیصلہ تھا ،باقی آرمی کو اس سے لاعلم رکھا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ کارگل آپریشن کا علم ابتدائی طور پر صرف آرمی چیف جنرل پرویز مشرف ، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد عزیز ، فورس کمانڈناردرن ایریا کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن اور دسویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد کو علم تھا ۔انہوں نے کہاکہ جنرل مشرف پور دور میں صرف اسے بتاتے تھے جس سے وہ کام لینا ہو، باقی سب سے راز رکھا جاتاتھا ۔کارگل کا آپریشن نے پاکستان نے انیس سو ننانوے میں شروع کیاتھا جب کارگل کے مقام پر لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج نے کمانڈنگ پوزیشن حاصل کرلی تھی اور اس ساری کارروائی سے لاعلم بھارتی فوج حیرت زدہ رہ گئی ، ابتدائی طور پر پاکستان کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ مجاہدین نے کارگل کے محاذ پر قبضہ کیا ہواہے ، لیکن عالمی برادری کی حمایت کے ساتھ بھارتی دباوٴ کے باعث پاکستان کو اپنے کنٹرول سے دستبردار ہونا پڑا ، جبکہ اسی آپریشن کے سبب جنرل مشرف کے اسوقت کے وزیرایعظم میآں نوازشریف سے بھی اختلافات بڑھے جن کا انجام اکتوبر انیس سونناوے میں نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر ہوا ۔لیفٹیننٹ جنرل شاہدعزیز نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان آرمی نے کارگل آپریشن کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی کیوں کہ جنرل مشرف نے کبھی بھی کارگل کو اہم آپریشن کے طور پر نہیں دیکھا ، اور صرف فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے کورکمانڈر اور شاید دسویں کور کا ایک سیکشن اس میں ملوث تھا ۔لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز نے کہاکہ کارگل کی کارروائی بھارتی انٹیلی جنس کے لیے ایک بہت بڑی ناکامی تھی ۔جنرل شاہد عزیز نے کارگل آپریشن کے بارے میں کہا کہ اس مہم کا تخمینہ غلط لگایا گیا تھا ، کیوں کہ اس کے مقاصد واضح نہیں تھے اور اس کے پھیلاوٴ کا صحیح طورپر جائزہ نہیں لیا گیا ۔جنرل شاہد عزیز نے کہاکہ کارگل آپریشن ناکام تھا کیوں کہ اس کے مقاصد جھپائے گئے ، اور نتائج سے اپنے ہی لوگوں اور قوم کو آگاہ نہیں کیا گیا ، اس کا نہ کوئی مقصد تھا نہ کوئی منصوبہ بندی تھی ، اور نہ ہی آج تک کوئی یہ جان سکا ہے کہ وہاں کتنے سپاہی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔
جنرل شاہد عزیز نے کہاکہ وہ ذاتی طورپر نہیں جانتے کہ اس وقت کے وزیراعظم میآں نو ازشریف کو اس آپریشن کی کس قدر معلومات دی گئی ، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے سامنے پوری صورتحال نہیں رکھی گئی ، البتہ وہ مکمل بے خبر بھی نہیں تھے، اور اس کا اندازہ انہیں تب ہوا جب ایک بریفنگ میں نوازشریف نے پوچھا کہ کشمیر کب حاصل کرکے دے رہیں ہیں ۔جنرل عزیز نے کہاکہ انہیں انڈین آرمی کی وائرلیس گفت گو پکڑنے سے اندازہ ہوا کہ بھارت کی طرف کچھ پریشانی ہے ، اوروہیں سے اندازہ ہوا کہ وہ خود بھی اس پیدا شدہ صورتحال سے پوری طرح آگاہ نہیں ۔جنرل شاہد عزیز نے کہاکہ چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد انہوں نے کارگل آپریشن پر ایک رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ مالی اور انسانی نقصان اور غلطیوں کا اندازہ لگایا جاسکے ، لیکن اس پرغصے سے بھرے جنرل مشرف نے یہ کہہ کر رپورٹ کی تیاری روک دی کہ ابھی ان چیزوں کاوقت نہیں ہے ۔

بےباک
01-29-2013, 10:57 PM
اخبار جنگ کے مطابق اکتوبر 2001 سے دسمبر 2003ء تک چیف آف جنرل اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ادارے کی حیثیت سے افواجِ پاکستان کو اس بات سے مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کیا معاملات ہو رہے ہیں، اس کے علاوہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے پاکستانی شہریوں کو امریکا کے حوالے کرنے کی سخت مخالفت کی تھی لیکن پرویز مشرف نے یہ سب اپنی مرضی کے مطابق کیا۔ شاہد عزیز نے کہا کہ اگرچہ جی ایچ کیو اور سی جی ایس کو فوج کا مرکز سمجھا جا تا ہے لیکن جی ایچ کیو ایسے زیادہ تر اقدامات سے لاعلم رہا جو مشرف نے کئے، جس میں پاکستانیوں کو امریکا کے حوالے کیا جانا بھی شامل ہے۔ اس رپورٹ کے فائل کئے جانے تک پاک فوج کا موقف معلوم کرنے کیلئے مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل سے رابطے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ سنیچر کو ریٹائر جرنیل نے دی نیوز کیساتھ بات چیت میں بتایا کہ اگرچہ پاک فوج مطلوبہ غیر ملکیوں اور مقامی افراد کو پکڑ کر تفتیش کیلئے آئی ایس آئی کے حوالے کردیتی تھی لیکن بعد میں ایسے افراد کو پاک فوج کے علم میں لائے بغیر امریکا کے حوالے کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے یہ واضح کردیا تھا کہ کسی پاکستانی کو امریکی حکام کے حوالے نہیں کیا جائیگا جبکہ مسائل پیدا کرنے والے عرب باشندوں کو ان کے متعلقہ ملک ڈی پورٹ کردیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کافی عرصے تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آئی ایس آئی پاکستانی باشندوں کو امریکا کے حوالے کر رہی ہے اور جب پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف نے امریکی سی آئی اے کے ساتھ مل کر آئی ایس آئی کو اس معاملے میں شامل کردیا تھا اور اس کا پاک فوج کو علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف نے اپنے دور میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں (سی آئی اے اور ایف بی آئی) کو قبائلی علاقوں میں جاسوسی کیلئے مقامی باشندوں کو ایجنٹ بھرتی کرنے کے علاوہ معلومات کے تبادلے کیلئے امریکا کے بغیر پائلٹ کے طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھی اجازت دی۔ جنرل شاہد عزیز نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ جی ایچ کیو کی شدید مخالفت کے باوجود جنرل مشرف نے امریکا کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ہی بغیر پائلٹ کے طیاروں کے پاکستانی حدود کے اندر کئے جانیوالے حملوں میں سیکڑوں افراد جن میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنرل مشرف کے دور میں پاک فوج اور امریکا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا بلکہ مشرف براہِ راست امریکیوں کے ساتھ معاملات طے کر رہے تھے۔ پاک فوج میں غیر معمولی ساکھ کے حامل لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے انکشاف کیا کہ گیارہ ستمبر کے معاملے پر جب اعلیٰ فوجی کمانڈرز کے ساتھ مشاورت کی گئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ پاک فوج اس تنازع سے باہر رہے گی۔ تاہم بعد میں مشرف کی جانب سے کئے جانیوالے وعدوں کے باعث پاک فوج کو اس معاملے میں گھسیٹ لیا گیا اور بعد میں صورتحال یہ ہوگئی کہ فوج کے ایک ہاتھ کو اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا کہ دوسرا ہاتھ کیا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے پاک فوج کو نہ ملنے والی حد تک اس طرح تقسیم کیا کہ سی جی ایس کو بھی ان کاموں کا علم نہیں ہوا جو آرمی چیف پاک فوج کے دوسرے شعبوں کو دیتا رہا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں تاہم انہوں نے گزشتہ سال کے ابتدائی مہینوں میں اس وقت استعفیٰ دے دیا جب ان سے بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے خلاف تفتیش پر مامور نیب کا خصوصی سیل بند کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ سابق آرمی چیف حکومت کا حصہ بھی تھے لہٰذا پاک فوج سے ان تمام معاملات میں مشاورت نہیں کی جاتی تھی جن پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اتفاق ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر (9/11) کے بعد پاک فوج کو بتایا گیا تھا کہ امریکا پاکستان کے قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں (عرب، ازبک، تاجک باشندوں وغیرہ) کی موجودگی نہیں چاہتا، جب اس ایشو پر جی ایچ کیو میں بحث کی گئی تو فوج نے اس بات کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا تھا کہ مذکورہ غیر ملکیوں، جن کی اکثریت پاکستان میں سکونت اختیار کر چکی تھی، پر خاموش رہنے کیلئے دباؤ ڈالا جائے۔

بےباک
01-29-2013, 11:06 PM
کارگل کا ایڈونچر فورمین شو تھا: جنرل عزیز
بشکریہ ڈان اخبار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز جو پاکستانی فوج کے سابق چیف آف جنرل اسٹاف بھی ہیں، سن ننانوے کے موسم گرما کے دوران ہونے والے اپنے مشاہدات سامنے لارہے ہیں۔ وہ کارگل کی جنگ کو ایک المناک حادثہ قراردیتے ہیں۔ جس کی اصل حقیقت ملٹری کے کمانڈروں سے پوشیدہ رکھی گئی۔
یہ پہلا موقع ہے کہ ایک فوجی تنظیمی ڈھانچے میں ایک سینئر فوجی افسر نے کسی جھجک کے بغیر کارگل میں ہونے والی مضحکہ خیز شکست پر بات کی ہے۔
جنرل شاہد عزیز کے مطابق ابتداء میں کارگل آپریشن کے بارے میں صرف چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف،چیف آف آرمی اسٹاف لفٹیننٹ جنرل محمد عزیز ، فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن اور 10 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد کو ہی علم تھا۔
کور کمانڈروں کی اکثریت اور پرنسپل اسٹاف آفیسرز کو اس بابت اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔ جنرل عزیز کہتے ہیں کہ:‘‘یہاں تک کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاءکو بہت بعد میں جا کر معلوم ہوسکا۔ ’’ جو اس وقت ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے آئی ایس آئی کے تجزیاتی ونگ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ جنرل مشرف اس پالیسی کے تحت کام کرتے تھے کہ جتنی ضرورت ہو اتنی معلومات فراہم کی جائے اور وہ بہت سی ضروری باتوں کو بھی متعلقہ افراد تک نہیں پہنچنے دیتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں مشرف محض احکامات جاری کیا کرتے تھے، بجائے اس کے کہ وہ کور کمانڈروں اور دیگر اعلیٰ سطح کے فوجی افسروں سے مشورہ کریں۔
کارگل کا آپریشن 1999ء کی گرمیوں میں شروع ہوا، جبکہ پاکستانی سپاہیوں نے لائن آف کنٹرول کی انڈین سائڈ پر دراندازی کی۔
اس دراندازی کے ذریعے انڈیا کی سپلائی لائن کو منقطع کردیا گیا، یہ سب نئی دہلی کے لیےبہت اچانک ہوا تھا۔
ابتدائی دنوں میں اسلام آباد نے دعویٰ کیا کہ یہ دراندازی مجاہدین کی جانب سے ہوئی ہے، لیکن وہ اس بناوٹی دعوے پر زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکا۔ انڈیا کا ردّعمل اور عالمی دباؤ نے مشترکہ طور پر پاکستان پر زور ڈالا کہ وہ پاکستانی فوجیوں کو واپس بلوالے۔
اگرچہ اس آپریشن کے بعدا س کے مضمرات کی وجہ سے جنرل مشرف اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ گئی، اور اس کا نتیجہ اکتوبر کی بغاوت پر منتج ہوا، جبکہ فوج نے ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
جنرل عزیز نے کہا‘‘اس آپریشن کی ذرا سی بھی پلاننگ نہیں کی گئی تھی۔’’
انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘پاکستان آرمی نے یہ آپریشن پلان نہیں کیا تھا، کیوں کہ جنرل مشرف نے کبھی کارگل کو ایک بڑے آپریشن کے طور پر نہیں دیکھا تھا۔ ’’
ان کا کہنا تھا کہ یہ انڈین انٹیلی جنس کی بھی بہت بڑی ناکامی تھی۔ اس آپریشن کے حوالے سے مزید تفصیلات جنرل عزیز کی ایک کتاب میں موجود ہیں جو اگلے ہی ہفتے شایع ہوکر بک اسٹال پر آجائے گی۔
‘‘یہ نہایت غیر دانشمندانہ اقدام تھا۔’’ ان سے جب آپریشن کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘‘اس کے مقاصد واضح نہیں تھے اور اس کے نتائج و مضمرات کا درست طریقے سے اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔’’
دارالحکومت سے تیس کلومیٹر کے فاصلہ پر پنڈ بیگ وال میں اپنے فارم ہاؤس کے اندر مری کی پہاڑیوں کے خوبصورت پس منظر کے ساتھ جنرل عزیز آپریشن کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے ان کے مزاج میں تلخی نہیں تھی۔
‘‘یہ ناکام مہم تھی، کیوں کہ ہم نے اس کے مقاصد اور نتائج اپنے لوگوں اور قوم سے چھپائے۔ اس کا کوئی مقصد نہیں تھا، نہ ہی اس کی کوئی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور آج کوئی نہیں جانتا کہ ہمارے کتنے سپاہیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔’’
انہوں نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر نہیں جانتے کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو اس حوالے سے کس قدر آگاہی دی گئی، لیکن وہ محسوس کرتے ہیں کہ نواز شریف ‘‘اس منظر میں پوری طرح موجود نہیں تھے۔’’
تاہم ایک ڈسکشن کے دوران ایک جنرل کے جواب میں نوازشریف نے کہا تھا کہ ‘‘آپ ہمیں کب کشمیر دے رہے ہیں؟’’ جنرل عزیز نے کہا : ‘‘اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف مکمل طور پر اندھیرے میں نہیں تھے۔’’
‘‘ایک رکاوٹ نے مجھے پریشان کردیا تھا، میں نے سوچا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہندوستانیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے جو وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ میں نے دو افسروں کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ کھوج لگائیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ ’’
جنرل عزیز کو اگلے دن وائرلیس پیغام پکڑے جانے پر یقین آیا کہ انڈین کی تشویش کی وجہ یہ حقیقت تھی کہ پاکستان کی جانب سے کسی نے کارگل۔درس سیکٹر پر قبضہ کرلیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ یہ مجاہدین تھے یا باقاعدہ فوجی تھے۔
‘‘میں نے اس سارے معاملات کے لیے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین بٹ کو پکڑا اور پوچھا کہ آخر کیا ہورہا تھا؟ ’’
جنرل بٹ نے آخرکار بتایا کہ آرمی کارگل کے کچھ حصے پر قبضہ کرچکی ہے۔
جنرل عزیز نے کہا یہ درست نہیں تھا۔ ان کی اپنی رائے میں، وہ اسی صورت میں مجوزہ آپریشن کے بارے میں پہلے سے کچھ کہہ سکتے تھے، جبکہ انہیں پہلے سے اس کی جُزیات فراہم کی جاتیں۔
جنرل عزیز اور جنرل بٹ کے مابین ہونے والی اس گفتگو کے ایک دن بعد جنرل عزیز کو ایک لیٹر کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ انہیں جی ایچ کیو میں کارگل کے حوالے سے ایک بریفنگ میں مدعو کیا گیا ہے۔
بریفنگ
اُس بریفنگ میں جہاں پرنسپل اسٹاف آفیسرز بھی موجود تھے، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء نے واضح کیا کہ نادرن لائٹ انفنٹری اور ریگولر ٹروپس دراس کارگل سیکٹر پر قبضہ کرچکے ہیں۔

جنرل عزیز نے محسوس کیا کہ اگرچہ کہ آپریشن کے بارے میں تمام بریفنگ جنرل توقیر ضیاء نے دی ہے لیکن اس آپریشن کے ابتدائی معاملات کے حوالے سے وہ بھی کچھ نہیں جانتے تھے۔
توقیر ضیاء کی اس بریفنگ کے ایک دن گزرنے کے بعد کارگل آپریشن کی خبر پاکستانی میڈیا میں رپورٹ ہوگئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین میڈیا اس حوالے سے ایک دن پہلے سے اس کی خبریں دے چکا تھا۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی حکام کو اس اہم فوجی آپریشن کے بارے میں اس کے شروع ہونے کے بعد آگاہ کیا گیا، جبکہ اس وقت تک اس کی معلومات میڈیا تک پہنچ چکی تھیں۔
بریفنگ کے دوران جنرل ضیاء نے آپریشن کے مقاصد واضح کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ انڈیا کی سیاچن کو جانے والی سپلائی لائنز کو منقطع کرنے کے لیے کیا گیا تھا، کیونکہ یہ زوجیلا پاس، سری نگر، دراس کارگل لیہہ روڈ کے قریب تھا۔
جنرل ضیاء کا کہناتھا کہ اس آپریشن سے سیاچن کو انڈیا کی سپلائی رُک جائے گی اور بالآخر انڈیا کو سیاچن خالی کرنا پڑے گا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا اور اب یہ سب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
جنرل عزیز کا کہنا تھا کہ ایسا اس لیے ہوا ، کیونکہ منصوبہ بندی کرنے والے ‘‘انڈیا کے ردّعمل اور مجموعی نتائج کا درست اندازہ نہیں لگاسکے ۔’’
بریفنگ کے وقت جنرل توقیر ضیاء نے پشتو زبان میں ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام کونشر کیے جانے کے بارے میں بتایا تھا، انہیں امید تھی کہ اسے انڈین فورسز پکڑ سکتی ہیںؕ۔
ان کا مقصد یہ تھا کہ اس وائرلیس پیغام کو نشر کرنے سے وہ انڈیا کو بے وقوف بنا کر یہ سوچنے پر مجبور کردیں گے کہ افغان مجاہدین نے کارگل کے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔
جنرل عزیز نے کہا کہ انہوں نے اس منصوبے پر اعتراض کیا تھاکہ ‘‘یہ بہت جلد بے نقاب ہوجائے گا۔’’ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طویل بحث کے بعد آخرکار توقیر ضیاء نے یہ تسلیم کرلیا کہ سچ کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جاسکتا۔
ماضی کے دریچوں کو کھولتے ہوئے جنرل ضیاء نے کہا کہ ‘‘اگر نادرن لائٹ انفنٹری کے جوان وہاں موجود تھے، تو بھی یہ غلط ہوسکتا تھا، اس لیے کہ تب یہی خیال کیا جاتا کہ یہ آپریشن پیراملٹری فورس کے تحت کیا کیا ہے، کیونکہ نادرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) ملٹری کے ماتحت کام کرتی ہے، رینجرز کی طرح نہیں کہ جس کا سربراہ تو ملٹر ی آفیسر ہوتا ہے لیکن تیکنیکی بنیادوں پر وہ وزارت داخلہ کے ماتحت ہوتی ہے۔
جس پر کبھی غور نہیں کیا گیا
جنرل عزیز کے نزدیک آپریشن ختم ہوجانے سے مراد ہرگز یہ نہیں لی جائے گی کہ یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے۔
اس کے بعد انہیں چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر ترقی دے دی گئی، انہوں نے بتایا کہ سال 2004ء میں انہوں نے محدود سطح کی اسٹڈی کا حکم دیا تاکہ یہ دریافت کیا جاسکے کہ آخر کون سے اندازے تھے جو غلط ثابت ہوئے۔
جوانوں اور سرمائے کا بہت بڑا نقصان تھا، انہوں نے ایک ایک بٹالین سے اس حوالے سے تفصیلات حاصل کیں۔لیکن ردّعمل انہیں فی الفور موصول ہوا۔
تند مزاج جنرل مشرف نے انہیں طلب کیا اور پوچھا کہ اس اسٹڈی کے کیا مقاصد ہیں؟
‘‘میں نے انہیں بتایا کہ یہ ہماری غلطیوں اور نقصانات کی ایک پیشہ ورانہ تفصیل فراہم کرے گی۔ لیکن جنرل مشرف نے کہا فی الوقت اس طرح کی اسٹڈی کی کوئی ضرورت نہیں ہےاور انہوں نے اس کو روکنے کے احکامات جاری کردیے۔

بےباک
01-29-2013, 11:18 PM
خلاصہ مضمون دیکھیئے ۔ یہ خاموشی کہاں تک؟؟؟؟
لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز ریٹائرڈ کے اہم نکات
اہم ترین انکشاف ،کارگل آپریشن کا علم صرف چار لوگوں کوتھا ،جنرل شاہد عزیز کے مطابق ابتداء میں کارگل آپریشن کے بارے میں صرف چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف،چیف آف آرمی اسٹاف لفٹیننٹ جنرل محمد عزیز ، فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن اور 10 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد کو ہی علم تھا۔

تخلیص ندیم ملک ۔اسلام آباد ٹونائٹ

1: گوادر کے راستے امریکی میرینز پاکستان میں داخل ہوئے

2: کارگل آپریشن کے حوالے سے مجھے بے خبر رکھا گیا-۔

3: جو پاکستانی پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیے گے فوج کو اسکا علم نہیں تھا-

4:گوادر کے ساحل پر موجود امریکی ٹینکوں کے نشانات میں نے خود دیکھے تھے

5:پاکستان میں دہشت گردی امریکی ایجنٹس کروا رہے ہیں-

6: افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کی مخالفت پر پاکستان کے لوگوں کو مارا جا رہا ہے-

7: گوادر کی بہت سی زمینیں غبن کے ذریعے بیچ دی گئیں-

8: سیاستدان اپنے خلاف مقدمات کو طول دیتے رہتے ہیں تا کہ فیصلہ نہ ہو پائے-

9: دو ہزار دو میں مشرف نے جو ساسی حکومت بنائی فوج اس سے خوش نہیں تھی-

10: مشرف نے فیصل صالح حیات سمیت سیاستدانوں کے خلاف کیسز روک دینے کو کہا تھا-

11:سوئیس عدالت میں زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس ثابت ہو گیا تھا-

12: مشرف نے سپین میں بے نظیر کے خلاف کیس کے وکلاء تبدیل کروائے-

13: طارق عزیز نے کہا بے نظیر کے خلاف مقدمات ختم کردیے جائیں-

14: طارق عزیز نے کہا بے نظیر کیس میں بڑی طاقتیں شامل ہیں آپ کچھہ نہیں کر سکتے-

15: بے نظیر کے خلاف کیس میں ثبوت یو این او نے مہیا کیے تھے-

16:منی لانڈرنگ کیس میں زرداری کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں-

17: اسمبلی میں موجود شوگر ملز مالکان چینی کے بحران میں ملوث تھے-

18:عزیز آئیل سکینڈل کی انکوائیری جنرل حامد نے جہاں تھی وہیں رکوا دی

19:انکوائیری کے مطابق آئیل کمپنیوں نے بہت زیادہ ناجائز منافع کمایا -

20: ڈیزل کی امپورٹ میں سالانہ نوے ارب روپے کا گھپلا ہوتا ہے-

21: نئے انٹی کرپشن بل کے تحت لوگوں کو کرپشن کی کھلی چھٹی ہو گی-

22: موجودہ پارلیمنٹ سے کسی بہتری کی توقع نہیں ہے-

23: جن لوگوں پر کرپشن کے کیسز ہیں انہیں اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہییں-

24: نیب پر حکومت کا کنٹرول ختم ہونا چاہیے-

25: پاکستان میں دہشت گردی بھی کرپشن کی وجہ سے ہو رہی ہے-

26:پاکستان کے ائیر پورٹس امریکہ کو دینے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا

27:مشرف بارہ اکتوبر پہلے ہی حکومت پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے

28:مشرف نے سی آئی اے اور ایف بی آئی کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی-

29:ہم نے خواتین اور بچوں تک کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ہے

30:میں سابقہ فوجی کی حیثیت سے شرمندہ ہوں کہ فوج نے ایسے کام کیےہیں-

31:جیکب آباد، شمسی اور پسنی ائیر پورٹس سے امریکی ائیر فورس کی باقائدہ پروازیں ہوتی رہیں-

32:مشرف کے سی آئی اے کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دینے پر کچھ فوجی ناخوش تھے-

33:اس وقت پاکستان میں بلیک واٹر کے علاوہ بہت سی اور ایجنسیاں بھی کام کر رہی ہیں-

34:آئی ایس آئی کو کارگل کے واقع سے پہلے اس کا علم تھا-

35:نواز شریف کو کارگل کے واقع سے پہلے اس کے بارے میں بتا دیا گیا تھا-

36:ہم نے کارگل کے واقع میں بہت زیادہ نقصان اٹھایا

37:نواز شریف نے کارگل بریفنگ کے بعد کہا کہ آپ ہمیں کشمیر کب دلا رہے ہیں-

38:آج بھی بہت سے لوگ امریکہ کا ساتھ دینے کو بہترین پالیسی سمجھتے ہیں-

39:مشرف نے کہا پاکستان پر حملے کی صورت میں کوئی اسلامی ملک ہمارا ساتھ نہیں دے گا-

40:امریکہ نے ایک اسلامی ملک افغانستان پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے-

41:پاکستان کی فوج امریکیوں کے ساتھ افغانیون کو مارنے میں برابر کی شریک ہے

42:ہر مزہب پر عمل کرنے والے کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے-

43:دہشت گردی کی جنگ کو امریکہ بھارت اور اسرائیل نے پاکستان کی جنگ بنا دیا ہے-

44:جن لوگوں کو ڈرون حملے کر کے مارا جاتا ہے وہ بھی بے قصورہوتے ہیں

45:فوج کے بڑے عہدیداروں میں جہاد کے جزبہ میں کمی آ چکی ہے-

46:امریکی پیسے اور حکومت کے لالچ نے پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں جھونک دیا ہے-

47:جی ایچ کیو اور مون مارکیٹ جیسے حملے کرنے والے جرائم پیشہ لوگ تھے-

48:ہم نے اللہ اور اسلام کو جائے نماز کی طرح لپیٹ کر رکھ دیا ہوا ہے-

49:اگر امریکہ کے پیسے سے معیشت درست ہونی ہوتی تو اب تک ہو چکی ہوتی۔

50:اگر ہماری فوج نارتھ وزیرستان گئی تو بڑی تباہی ہو گی-

51:ہم نے امریکہ کو خدا سمجھ رکھا ہے-

52:آج ہم اللہ اور اسلام کی بات کرنے والے کو انتہا پسند کہتے ہیں-

53:امریکہ اپنے مفاد کے لیے میڈیا پر کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے-

54:جنرل پرویز مشرف غدار نہیں تھے ان کی سوچ بہت مختلف تھی-

55:مشرف کی سوچ سے ملک کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے-

بےباک
01-30-2013, 09:26 AM
شاہد عزیز ’ناقابلِ اعتبار‘ شخص ہیں: پرویز مشرف
وائس آف امریکا سے انٹرویو
جنرل مشرف نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی نیب کے کام میں دخل نہیں دیا۔ بلکہ ہمیشہ بڑے لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے نیب کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
واشنگٹن — پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں ایک ’’کیریکٹر لیس ” اور ناقابل اعتبار شخص قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات وائس آف امریکہ کی عائشہ تنظیم سے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہی۔

سابق چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز نے الزام لگایا کہ جب وہ نیب کے سربراہ تھے تو صدر مشرف نے انہیں فیصل صالح حیات کے خلاف مقدمات نہ بنانے، بے نظیر کے خلاف مقدمات ختم کرنے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یا اوگرا میں اربوں کی کرپشن کے الزامات کو دبا دینے کا حکم دیا تھا۔

جنرل عزیز نے، جو کارگل کے دور میں فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے تجزیہ کرنے کے ونگ کے انچارج تھے، یہ الزام بھی لگایا ہےکہ کارگل کے دوران جنرل مشرف نے کور کمانڈرز کو بتائے بغیر ایک ایسا آپریشن کیا جس کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اور جس کے بارے میں تمام کور کمانڈروں کو علم بھی نہیں تھا۔

ان تمام الزامات کی مزید تفصیلات جنرل عزیز نے اپنی نئی کتاب میں درج کی ہیں جو اگلے ہفتے آ رہی ہے۔

جنرل مشرف نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی نیب کے کام میں دخل نہیں دیا۔ بلکہ ہمیشہ بڑے لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے نیب کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ کارگل کا آپریشن ابتدا میں مقامی سطح کی کاروائی تھی جس کے بارے میں تمام کور کمانڈرز کو آگاہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جب بات بڑھی تو تمام لوگوں کو آگاہ کر دیا گیا۔

جنرل مشرف نے جنرل عزیز کے اس الزام کی بھی تردید کی ہے کہ انہوں نے کارگل کے بارے میں ایک رپورٹ کو سختی سے دبا دیا تھا۔

اس سوال پر کہ مستقبل میں اگر فوج نے اقتدار میں آنے کی کوشش کی تو سابق صدر اس کی حمایت کریں گے یا مخالفت، جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ وہ حالات دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

حال ہی میں اسلام آباد میں ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے اور مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ لوگ اس بحث میں پھنس جاتے ہیں کہ بات جمہوری ہو رہی ہے یا غیر جمہوری، جبکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ جو بھی مطالبہ ہے وہ عوام کی بہتری میں ہے یا نہیں ۔

بےباک
01-30-2013, 10:07 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/30/images/story2.gif

سرحدی
01-30-2013, 11:08 AM
بس بھائی سوائے اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ:
اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔

بےباک
01-31-2013, 06:18 AM
http://express.com.pk/images/NP_LHE/20130131/Sub_Images/1101741759-1.gif

http://express.com.pk/images/NP_LHE/20130131/Sub_Images/1101741758-1.gif

ایکسپریس نیوز 30 جنوری 2013

بےباک
01-31-2013, 09:12 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/31/images/news-22.gif

بےباک
01-31-2013, 09:14 AM
http://ummatpublication.com/2013/01/31/images/news-20.gif

بےباک
02-04-2013, 11:16 AM
یہ خاموشی کہاں تک؟“ اور جنرل (ر) شاہد عزیز
کالم نگار | پروفیسر نعیم مسعود
04 فروری 2013
http://urdulook.info/imagehost/image.php?di=HKZL
کچھ دنوں سے ایک چرچا تھا کہ جنرل (ر) شاہد عزیز نے اپنی کتاب میں یہ انکشاف کر دئیے وہ انکشاف کر دئیے۔ نہ جانے میرا دھیان اس طرف کیوں نہیں گیا۔ شاید یہ وجہ تھی کہ ایک طرف مَیں صوبوں کے قیام پر سوچ رہا تھا اور دوسری طرف 5 فروری کی آمد پر کشمیر اور یوم کشمیر کی طرف خیال تھا۔ اس ہفتہ کا کالم گو 5 فروری سے ایک دن قبل شائع ہونا ہے اس لئے طے تھا کہ مسئلہ کشمیر ہی کو سپرد قلم کروں گا لیکن ہفتہ (2 فروری) کی دوپہر بذریعہ ڈاک ”یہ خاموشی کہاں تک؟“ مل گئی۔ متذکرہ کتاب کے نام کے نیچے ایک اور جملہ بھی نام ہی کا حصہ بنا ہوا تھا ”ایک سپاہی کی داستانِ عشق و جنون“ یہ کتاب ہمیں ایک پیارے دوست نے راولپنڈی سے بھجوائی۔ وہ دوست جو جرنیلوں کی ہمسائیگی میں اپنے تعلیمی ادارے کے ذریعے علم کی شمع روشن کئے ہوئے ہے۔جنرل (ر) شاہد عزیز کی کتاب اور حوالوں کی طرف سے قبل ایک چھوٹا سا سوال جو دل و دماغ میں ابھرا ہے وہ کہیں گم نہ ہو جائے لہٰذا اسے پہلے قلم و قرطاس کے حوالے کر لینا غلط نہ ہو گا۔ آخر سب جرنیلوں اور بیورو کریٹس کو یہ عشق حقیقی ریٹائرمنٹ کے قریب ہی کیوں ہوتا ہے؟ عہد شباب میں حقیقت پردہ نشین کیوں رہتی ہے اور عشق کی گرمی دنیا داری اور مصلحتوں میں برف کیوں بنی رہتی ہے؟ پھر جرنیلی تو سو فیصد اُستروں کی مالا کا نام ہے کسی رومانوی ہار کا نہیں! سپاہی ہو کہ جرنیل اس کا قدم قدم جہادی اور لمحہ لمحہ قربانی ہوا کرتا ہے، پھر اسکی ہر سانس کے ساتھ کلمہ حق کا اعلان بھی ہوتا ہے --- وہ جرنیل اور سپاہی جس کا تعلق ہی بین الاقوامی فکری چوک کی سرزمین سے ہو اور اس کی دھرتی نظریاتی مٹی سے متشکل ہو۔ بس! اس سے زیادہ سوال نہیں۔ اس سے آگے فقط یہی کہیں گے کہ تیرگی میں دیکھنے کو چشمِ بینا چاہئے! یہ کتاب 463 صفحات پر مشتمل ہے اور آخر میں چند صفحات تقریباً 7 ضمیمے بھی اپنے سینے پر کندہ کئے ہوئے ہیں جو حیرانی و پریشانی کے دریچے کھولتے ہیں۔ تلخ حقائق پر مشتمل اس آپ بیتی میں جہاں کڑواہٹ ہے وہاں کچھ رہنمائی بھی ہے۔ اس کے اوراق آمریت کے خلاف نفرت کو ہَوا دیتے ہیں اور سیاستدانوں کیلئے آنکھیں کھول کر چلنے کا سبق بھی۔ راقم نے ”را“ اور موساد کے حوالے سے چند ایک کتابیں زمانہ طالب علمی میں بھی پڑھیں اور آج بھی شکنجہ یہود کو سمجھنے کی بحیثیت طالب علم کوشش جاری ہے پھر جنرل (ر) حمید گل سے بھی امریکی چالاکیوں اور بدمعاشیوں کو سمجھنے کی بہت کوشش کی۔5 فروری پر قارئین کرام! مذکورہ کتاب میں سے پہلا اقتباس کشمیر کے حوالے سے آپ کی نذر کیا جاتا ہے جس سے نتیجے اخذ کرنا آپ کیلئے بہت آسان ہو جائے گا اور ساتھ ہی معلوم ہو جائے کشمیر کی آزادی اور اس کیلئے جہاد کتنا ضروری ہے۔ یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ آزادی کشمیر میں رکاوٹ کون سی سوچ ہے۔ پھر باطل کی سوچ کو بدلنے کیلئے نئی پود کو 5 فروری کے عہد اور فکر کے متعلق سیاق و سباق سے روشناس کرنا کتنا ضروری ہے : ”افغانستان میں فوجی کارروائی اس نوعیت پر کیں کہ مجاہدین کو پاکستان میں دھکیلا جا سکے۔ پھر ویسے ہی کیا جیسے مقبوضہ کشمیر میں اسرائیل کی ایجنسی موساد کے مشورے پر ہندوستان نے کیا تھا۔ یہاں کشمیری مجاہدین جیسی تنظیمیں تشکیل دی تھیں، پھر ان سے بازاروں میں بم پھٹوائے، شہریوں کو نشانہ بنایا، لڑکیوں پر تیزاب پھینک کر کہا کہ پردہ کیوں نہیں کرتیں۔ گھروں سے لڑکیاں اغوا کیں اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔ یہ سب اسلام کے نام پر کیا تاکہ مجاہدین کو بدنام کریں اور عوام کو ان کی طرف سے متنفر کر دیں۔ آج یہی کھیل پاکستان میں کھیلا جا رہا ہے۔ ”را“ اور موساد کا یہ گھناﺅنا کھیل ہمارے ”دوست“ اور سٹریٹجک ساتھی امریکہ کی سرپرستی میں ہو رہا ہے اور ہمارے حکمرانوں کو تمام تفصیلات معلوم ہیں مگر انہوں نے اپنے ذاتی مفاد میں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔“ سن 1948ءمیں لاہور میں پیدا ہونے والے جنرل (ر) شاہد عزیز نے اپریل 1971ءمیں فوج میں کمشن لیا تھا، جنرل بننے کے بعد آئی ایس آئی میں تجزیاتی شعبہ کے سربراہ رہے۔ ڈائریکٹر ملٹری آپریشن بھی خدمات سرانجام دیں۔ سن 1999ءمیں سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے میں ان کا دفتر پیش پیش تھا۔ نائن الیون کے بعد چیف آف جنرل سٹاف کا منصب بھی ان کے پاس رہا۔ سروس کے آخری دو سال لاہور کے کور کمانڈر رہے۔ بعد از ریٹائرمنٹ تقریباً ڈیڑھ سال نیب کے سربراہ بھی رہے۔ عوام انہیں جنرل مشرف کے قریبی افسران میں سمجھتے رہے، تھے بھی، لیکن اس وقت بھی کبھی کبھی کہیں کہیں اپنی مختلف رائے رکھتے تھےایک جگہ تعلیم کے حوالے سے یوں رقم طراز ہوتے ہیں کہ ”ہمارے سکولوں کے تعلیمی نظام میں دینی تعلیم کا ایسا نصاب بنایا گیا ہے کہ 15 سال میں بھی لازمی مضمون کے طور پر پڑھ کر ہمیں دین کا کچھ پتہ نہیں چلتا اگر غریبوں کے بچے مدارس میں نہ پڑھتے تو پاکستان سے دین مٹ چکا ہوتا۔ ہمیں قرآن پڑھنا نہ آتا اور نہ کسی کا نکاح پڑھا جاتا اور نہ جنازہ، یقیناً دین کا یہ رنگ درست نہیں مگر کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہم دین ہی چھوڑ دیں؟ کیا اس امن کے پیکر کو خیرباد کہیں اور مغربیت کی راہ اختیار کریں؟“ کسی جرنیل کا مُلا عمر کو خراج تحسین پیش کرنا اور کھل کر خراج تحسین پیش کرنا، پھر اپنے دور کے آرمی چیف اور آمر حکمران پرویز مشرف پر بے لاگ تبصرہ کرنا، پرویز مشرف کی کتاب پر تنقید کرنا، اس کا مطلب واقعی یہی بنتا ہے کہ قوم کو گمراہ کرنے والوں کی خبر لی جائے اور آئندہ کیلئے محتاط رہنے کی تلقین کرنا ہے اس کے معنی یہ بھی نکلتے ہیں کہ آخرکار جنرل شاہد عزیز امریکہ سے ”ہاتھی مویا سوا لاکھ کا“ بن کر قبر کی دیواروں تک مراعات اور ”آشیرباد‘ نہیں چاہتے ورنہ سیلوٹ کی عادت تو مرتے دم تک طاقتور اور بالا کو سر سر کہنے کے مرض میں مبتلا کر دیتی ہے۔ میرا شروع میں خیال تھا کہ یہ کتاب کہیں خود ستائشی کا نمونہ ہو اور پاک فوج کیلئے جگ ہنسائی کا موقع فراہم نہ کرے لیکن مطالعہ کے بعد کھلا یہ راز کہ نوجوان افسران، بیورو کریسی، محب وطن پاکستانیوں اور سیاستدانوں کے علاوہ طالب علموں کیلئے اس میں ”راز“ کم اور اسباق زیادہ ہیں۔ ایک جرنیل نے ہر موضوع کی سرخی ایک مصرع سے جما کر کتابی حُسن اور تحریری رعنائی کو ملحوظ خاطر رکھا ہے مشرف ازم کے نعرے ”سب سے پہلے پاکستان“ کو دوغلا نعرہ قرا دیا تو مجھے پرویزی دور کے طارق عظیم، محمد علی درانی، شیخ رشید، طارق عزیز، چودھری پرویز الٰہی و شجاعت حسین، مشاہد حسین سید کے علاوہ ق لیگ کے ن لیگ و تحریک انصاف کی جانب مُڑے لوٹے بھی یاد آ گئے۔ اللہ اللہ کتنے گیت گاتے تھے یہ سب پرویز مشرف کے! واشنگٹن کو قبلہ ثابت کر کے دین اکبری سے بڑھ کر دینِ پرویزی کی کوشش کو مصنف نے آڑے ہاتھوں لیا پھر میڈیا کی ”میڈیا گری“ کے مخصوص طریقوں کو سامنے لایا گیا اور مشرف دور میں آزاد میڈیا کو ”آزاد خیالی“ پر ابھارنے کی کاوشوں کا پردہ چاک کیا گیا۔ یہ سب ضروری تھا اور جنرل (ر) شاہد عزیز نے درست کیا ورنہ ابہام جانے کب تک رہتا اور کئی آزاد خیالوں اور ”ہم خیالوں“ کے لہو اور ان کی نسلوں میں سرایت کر جاتا۔ قارئین محترم! میں کارگل محاذ کی باریکیوں کو کالم کے سینے پر کندہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اختصار سے کام لوں گا، تو ابہام جنم لیں گے۔ جنرل محمد عزیز، جنرل محمود، جنرل ضیاالدین، جنرل طارق مجید، جنرل یوسف اور جنرل توقیر ضیاءکی باتوں اور خیالات کا تذکرہ پھر کبھی سہی۔ میرا خیال ہے کہ حساس باتوں کو ادھورا کرنے یا بے احتیاطی سے فہم کے سب دریچے نہیںکھلتے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاک فوج پر عوامی اعتماد برقرار رہنا چاہئے یہ کسی طرح بھی صفِ اول کی نمبر ون فوج سے کم نہیں۔ ایوب خان، یحیٰی خان، ضیاالحق اور پرویز مشرف آتے جاتے رہے لیکن پاک فوج کا اعتماد، جذبہ، حب الوطنی اور اسلام پسندی کا گراف ہمیشہ بڑھتا رہا۔ بھٹو سے نواز شریف تک نے بھی فوج سے فائدہ اٹھایا اور بدنام بھی کیا۔ کارگل محاذ سے اس وقت کا وزیراعظم اتنا بھی بے خبر نہیں تھا اور وہ وزیراعظم ہی کیا جو بے خبر ہو؟ امید واثق ہے جنرل کیانی جمہوریت اور فوجی فراست کیلئے متوازن ہی رہیں گے اور پاک فوج ہمیشہ سلام کے قابل ہے۔ پاک فوج کو سلام! اہل دل یاد رکھیں کہ بہرحال کشمیر پاکستان کی شہ رگ!

بےباک
02-05-2013, 10:12 AM
http://ummatpublication.com/2013/02/05/images/story2.gif

سید انور محمود
11-01-2014, 11:38 PM
محترم بے باک صاحب۔ بھائی آپ تو حامد میر ، انصار عباسی اور اوریا مقبول سے بھی آگے نکل گے، حامد میر کی فوج اور پرویز مشرف سے دشمنی چھپی ہوئی نہیں ہے،جبکہ اوریا مقبول اور انصار عباسی نہ صرف مشرف اور افواج پاکستان کے دشمن ہیں اور طالبان دہشتگردوں کے کھلے ہمدرد ہیں، طالبان مذاکرات میں ان دو میں سے ایک کو لینا بھی چاہتے تھے، برحال اپنے اپنے خیالات اور نظریات ہوتے ہیں۔ایک مضمون "جنرل شاہد عزیز کا ضمیر بہت دیر سے جاگا" ہم بھی لکھا تھا۔ آپکے تمام سوالوں کے جواب اُس میں موجود ہے۔
http://urdulook.info/forum/showthread.php?t=6799
آپسے درخواست ہے کہ میرا ایک اور مضمون "نواز شریف صاحب اصل کہانی سیاچن سے شروع ہوتی ہے"جو آپنے پڑھا بھی تھا دوبارہ پڑھ لیں اور پھر اپنے خیالات سے آگاہ کریں، لنک ہے http://urdulook.info/forum/showthread.php?t=6756 شکریہ۔

بےباک
11-04-2014, 11:09 AM
ضرور پڑھا ھے اور پھر سے پڑھوں گا ، آج ہی ،
شکریہ اس یاد دھانی کا

Shanzeh
05-05-2015, 07:26 PM
[size=xx-large][align=center]

امریکی پیسے اور حکومت کے لالچ نے پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں جھونک دیا ہے-





شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

تمام تر واضح شواہد کے باوجود اب بھی ايسے راۓ دہندگان موجود ہيں جو اس دليل کو بنياد بنا کر جذباتی بحث ميں الجھتے ہيں کہ دہشت گردی کا وہ عفريت جس نے گزشتہ ايک دہائ ميں پاکستان ميں بربريت کی نئ مثاليں قائم کی ہے، وہ يکايک منظر سے غائب ہو جاۓ گا اگر موت کے ان سوداگروں کو کھلی چھٹی دے دی جاۓ اور ان کے خلاف کوئ فوجی کاروائ نا کی جاۓ۔

يہ بات تاريخ سے ثابت ہے کہ اگر معاشرہ جرائم پيشہ عناصر کی مناسب سرکوبی نہ کرے تو اس سے جرم کے پھيلنے کے عمل کو مزيد تقويت ملتی ہے۔

اس بارے ميں بحث کی کيا گنجائش رہ جاتی ہے کہ يہ جنگ کس کی ہے – يہ جانتے ہوۓ کہ اس عفريت کی زد ميں تو ہر وہ ذی روح آيا ہے جس نے ان ظالموں کی محضوص بے رحم سوچ سے اختلاف کيا ہے۔ يہی وجہ ہے کہ عالمی برادری بشمول اہم اسلامی ممالک نے مشترکہ طور پر اسے "ہماری جنگ" قرار ديا ہے۔ ہر وہ معاشرہ جو رواداری اور برداشت کا پرچار چاہتا ہے اور اپنے شہريوں کی دائمی حفاظت کو مقدم سمجھتا ہے وہ اس مشترکہ عالمی کوشش ميں باقاعدہ فريق ہے جسے کچھ مبصرين
غلط انداز ميں "امريکی جنگ" قرار ديتے ہيں۔

حکومت پاکستان اور افواج پاکستان امريکی پاليسيوں کی وجہ سے ان قوتوں کے خلاف نبرد آزما نہيں ہیں۔ ان دہشت گرد قوتوں کے خلاف جنگ کی وجہ يہ ہے کہ يہ مجرم پاکستانی شہريوں، اعلی حکومتی عہديداروں، فوجی جوانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو روزانہ قتل کر رہے ہیں۔


شانزے خان – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

http://s24.postimg.org/sulh4j7f9/USDOTURDU_banner.jpg