PDA

View Full Version : اس گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے



بےباک
01-30-2013, 10:43 AM
82 ارب کی کرپشن میں ملوچ توقیرصادق کو نیب نے پہلے فرار پھر گرفتار کرادیا

اسلام آباد (انصار عباسی) معلوم ہوا ہے کہ 82/ ارب روپے کی کرپشن کے مرکزی کھلاڑی اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کو کسی اور نے نہیں بلکہ قومی احتساب بیورو نے فرار ہونے میں مدد فراہم کی تھی۔ معاملے کے حوالے سے پولیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نیب چیئرمین نے اپریل 2012ءء میں توقیر صادق کی گرفتاری کیلئے وارنٹ جاری کیے تھے جس کے بعد انہیں گرفتار کرنے کیلئے کوششیں کی جاتی رہیں حالانکہ وہ بیورو کے ہیڈکوارٹرز میں موجود تھے۔ لیکن پورے نظام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نیب کے ڈی جی آپریشنز شہزاد بھٹی نے مبینہ طور پر اپنے سینئر عہدیداروں کے دباؤ میں آکر مداخلت کرتے ہوئے وارنٹ کے کاغذات پھاڑ دیئے اور متعلقہ افسر سے کہا کہ وہ توقیر صادق کو جانے دے۔ نیب کے ایماندار افسر وقاص احمد خان، جو اوگرا کے کرپشن کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں، نے نہ صرف اپنے ادارے کے مشکوک کردار کے متعلق بیان دیا ہے بلکہ سپریم کورٹ کو بھی مطلع کیا ہے۔ انہوں نے اپنا بیان پولیس سپرنٹنڈنٹ رانا شاہد کو ریکارڈ کرایا ہے۔ رانا شاہد نے نہ صرف توقیر صادق کو تلاش کیا بلکہ اسے گرفتار بھی کیا۔ توقیر صادق کو ابو ظبی سے گرفتار کرنے کیلئے جانیوالی ٹیم میں رانا شاہد اور وقاص احمد خان موجود تھے۔ رابطہ کرنے پر ڈی جی نیب شہزاد بھٹی نے دی نیوز کو بتایا کہ جو وارنٹ انہوں نے پھاڑے تھے وہ چیئرمین کی جانب سے غلطی سے جاری ہوگئے تھے اور اس میں ان کے یا میرے جونیئرز کی سفارشات شامل نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2012ءء میں نیب نے دوبارہ وارنٹ جاری کیے لیکن اس کے بعد نیب انہیں گرفتار نہ کرسکا۔ لیکن بھٹی کا دعویٰ ان کے ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص خان کے بیان سے متصادم ہے جو انہوں نے سپریم کورٹ میں تحریری طور پر دیا ہے۔ خان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ تفتیشی افسر کی جانب سے بھجوائی جانے والی فائل کے بعد ہی اپریل 2012ءء کے وارنٹ چیئرمین نے جاری کیے۔ توقیر صادق نیب کے ہیڈکوارٹرز میں تھے اور اس کی سیکورٹی کے انتظامات وقاص خان اور شہزاد بھٹی کے ذمہ تھے اور انہیں توقیر صادق کو جانے نہیں دینا چاہئے تھا کیونکہ تفتیشی افسر انہیں گرفتار کرانا چاہتا تھا۔ شہزاد بھٹی بھی انہیں گرفتار کرانا چاہتے تھے لیکن اپنے سینئر عہدیداروں کے ساتھ آدھے گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد ان کا ذہن تبدیل ہوگیا اور انہوں نے ملزم کو گرفتار کرانے کی بجائے وارنٹ پھاڑ دیئے اور وقاص سے کہا کہ وہ توقیر صادق کو جانے دے۔ ذرائع کے مطابق، شہزاد بھٹی اپنے سینئر عہدیداروں کے دباؤ کو برداشت نہ کرسکے اور اپنے سینئر عہدیداروں کے زبانی احکامات پر توقیر صادق کو جانے دیا۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین نیب نے فروری 2012ءء میں اس کیس کے حوالے سے تحقیقات کی اجازت دی تھی جس کے بعد گرفتاری کیلئے بنیاد بنائی گئی۔ ابتدائی طور پر تمام 16/ ملزمان کو طلب کیا گیا؛ ان سے تفتیش کی گئی لیکن بعد میں انہیں گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن توقیر کے پہلے جاری کیے گئے وارنٹ کو پھاڑ دیا گیا۔ پولیس ایس پی رانا شاہد کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں یہ کام سوپناگیا کہ وہ یہ معلوم کریں کہ کس نے ملزم کو فرار ہونے میں مدد دی۔ انہوں نے اس سلسلے میں وقاص کا انٹرویو بھی کیا۔ اپنی رپورٹ میں رانا شاہد نے وقاص کا بیان پیش کیا ہے جو یہ ہے: ”جب چیئرمین نے توقیر صادق کے وارنٹ پر دستخط کئے تو ڈی جی آپریشن نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد (شہزاد بھٹی) نے وارنٹ ضایع کردیئے اور مجھے (وقاص خان) توقیر صادق کو گرفتار کرنے سے روکا حالانکہ وہ اس وقت نیب کے ہیڈکوارٹرز میں ہی موجود تھے کیونکہ اس وقت تفتیشی عمل جاری تھا اور اس طرح توقیر صادق کو محفوظ راستہ دیا گیا۔ میں نے پہلے ہی سپریم کورٹ کو 7.8.2012 کو ہونے والی سماعت کے دوران مطلع کیا ہے۔ “