PDA

View Full Version : کلونجی ہر مرض کی دوا ہے



محمداشرف يوسف
02-05-2013, 05:34 AM
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ"کوئی مرض ایسا نہیں ہے جس کی دوا کلونجی میں نہ ہو سوائے موت کے " نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : کہ"کوئی مرض ایسا نہیں ہے جس کی دوا کلونجی میں نہ ہو سوائے موت کے "

سائنسی حقیقت:

مشرق وسطیٰ اور مشرق اقصیٰ کے اکثر ممالک میں دو ہزار سال سے زیادہ عرصہ سے کلونجی کا استعمال ایک طبیعی علاج کے طور پر کیا گیا ہے۔ اور 1959ء میں دخاخنی اور اس کے رفقاء نے کلونجی کے تیل سے نیجیللوں کے مجموعہ کو نکالا ہے۔ اور کلونجی کے دانوں میں 40 ٪ فیصد ثابت تیل اور 1.4 ٪ فیصد اڑنے والا تیل ہوتا ہے۔ اور 15٪ فیصد حفاظتی ایسیڈ، بروٹین، کیلشیم، آئرن سوڈیم، پوٹاسیم پایا جاتا ہے۔ اور اس میں کام کرنے والے اھم اجزاء یہ ہیں ، ثیموکینون، دائیثیموکینون،ثیموہئیڈروک ینون، اور ثیمون۔ اور فطری مناعت (تحفظ) میں کلونجی کا اہم کردار ہے جس کا انکشاف 1967 ء میں امریکہ میں قاضی اور رفقاء کے ذریعہ کی گئی ریسرچز میں ہوا ہے۔ اس کے بعد مختلف ممالک میں اور مختلف میدانوں میں اس پودے کے متعلق تحقیقات اور ریسرچ کا کام ہوا، قاضی صاحب نے اپنی تحقیقات میں اس بات کو ثابت کیا ہے کہ قوت مدافعت میں کلونجی کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے ، اس طور پر کہ لمفاوی خلایا جو کنٹرول کرنے والی خلایا کی مدد کا کام کرتی ہیں۔ اس میں 73٪فیصد اس کا تناسب ہوتا ہے۔ قاضی صاحب کی ریسرچ کی تائید میں جدید تحقیقات کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔

میگزین " المناعة الدوائیة"کے اگست 1995ء کے شمارہ میں خارجی انسانی لمفاوی خلایا پر چند مراحل میں کلونجی کے اثرات کے متعلق اشاعت ہوئی ہے۔ جس میں خون کے مختلف سفید خلایا سے متعلق جو حلق کو تر و تازہ رکھتا ہے۔ اور اسی طرح اس میگزین کے ستمبر 2000ء کے شمارہ میں چوہوں میں cytomealovirus کے خلاف کلونجی کے تیل سے احتیاطی علاج کی تاثیر کے متعلق ایک تحقیق شائع ہوتی ہے۔ اور کلونجی کے تیل کا استعمال وائرس کو ختم کرنے کے لئے تجربہ کیا گیا۔ اور وائرس لگنے کے ابتدائی مرحلہ میں اس سے حاصل شدہ دفاعی قوت کا اندازہ لگایا گیا۔ اور اس میں حلق آپریشن اور بڑے بلغمی خلایا (آلے کے خلیے ) نیز فطری مہلک خلایا کی تحدید کی گئی۔ اور میگزین "السرطان الأوربیة "نامی (یوربین کینسر) کے اکتوبر1999ء کے شمارہ میں چوہوں میں معدہ کے کینسر پر ثیموکینون کے مجموعہ کی تاثیر کے متعلق ایک اشاعت سامنے آئی۔ اسی طرح میگزین "أبحاث مضادات السرطان" کے مئی 1998ء کے شمارہ میں کلونجی کے تیل سے کینسر کے ورم کو ختم کرنے کے متعلق ایک تحقیق شائع ہوئی ہے۔ اسی طرح میگزین " الاثنو الدوائیة" کے اپریل2000ء کے شمارہ میں کلونجی کے پیچ دانہ سے ایثانولی کے تیل سے دفاعی اور زہریلے اثرات سے متعلق تحقیق شائع ہوئی ہے۔ (النباتات الطبیة) نامی میگزین کے فروری 1995ء کے شمارہ مین کلونجی کے تیل کی تاثیر سے متعلق اور خون کے سفید گلوب پر ثیموکینون کے مجموعہ کے اثرات پر تجربہ شائع کیا گیا ، اسی طرح سے کلونجی کے متعلق مختلف تحقیقات سامنے آتی ہیں۔
سبب اعجاز:

ارشاد نبوی ہے ، کہ کلونجی ہر مرض کی دوا ہے ، اور کلمۂ شفاء تمام احادیث میں نکرہ استعمال ہوا ہے ، سیاق وسباق کے اعتبار سے مثبت اور نکرہ عامہ ہے۔

نتیجہ اس لئے یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ کلونجی میں ہر مرض سے شفا یابی کا کچھ نہ کچھ تناسب موجود ہے اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے ، کہ دفاعی نظام ہی ہر مرض کو ختم کرنے کا واحد نظام اور ہتھیار ہے ، چونکہ دفاعی قوت خواہ وہ فطری ہو یا حاصل شدہ ہو اس کے اندر اس کی طاقت و صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ ایسے جراثیم کو جسم کے اندر پیدا کرے جو امراض کے جراثیم کو بآسانی ختم کر دیں۔اور ان کے لئے مہلک ہتھیار ثابت ہوں۔

اور تطبیقی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ کلونجی دفاعی قوت کو ہمہ وقت چست رکھتی ہے۔ اور مددگار خلیے ، کنٹرول کرنے والے خلیے اور فطری مہلک خلیے یہ سب بالخصوص لمفاوی خلیے ہیں ان سب کا تناسب قاضی صاحب کی تحقیقات میں 75٪ فیصد ہے۔ اور سائنسی میگزین میں شائع شدہ تحقیقات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ جس میں مددگار لمفاوی خلیے اور حلق کے خلیوں کے حالات میں بہتری آئی۔ اور انتروائرون اور انترلوکین 3.1 کے مجموعہ میں اضافہ ہوا، اور دفاعی خلیوں میں بھی بہتری آتی، دفاعی نظام کی یہ بہتری بعض وائرس اور کینسر کے خلیوں پر کلونجی کے تیل سے ختم کر دینے والی تاثیر پر اثر انداز ہوئی۔ اسی طرح بلہارسیا کے کیڑے لگ جانے کی بیماری میں بھی مؤثر ہے ، اور کافی کمی آئی ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ کلونجی میں ہر مرض کی دوا ہے کیونکہ یہ دفاعی نظام کو درست رکھتی ہے ،اور تقویت دیتی ہے۔ اور اسی نظام میں ہر مرض کا علاج اور شفاء ہے۔ چونکہ یہ نظام ھر مرض کے اسباب کا ازالہ کرتا ہے۔ اور تمام امراض کا کلیاً جزئیاً علاج کرتا ہے۔

اس طرح سے ان احادیث کریمہ سے ایک سائنسی حقیقت کا انکشاف ہوا ہے ، جو آج سے چودہ سو سال قبل جس کا کوئی انسان تصور نہیں کر سکتا تھا ، چہ جائی کہ اس کے متعلق گفتگو کرے سوائے اس نبی کے جو رب ذو الجلال کی جانب سے مبعوث ہے۔ ارشاد ربانی ہے ،
"وماینطق عن الھوی ان ہو الا وحی یوحی"
(سورة نجم آیت 3-4)

اور وہ (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی جانب سے کوئی بات نہیں کہتے بلکہ وہی کہتے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی جاتی ہے۔
٭٭٭

سیما
02-05-2013, 05:57 AM
جزاک اللہ

pervaz khan
02-05-2013, 02:14 PM
جزاک اللہ