PDA

View Full Version : غزل



ٹیا
12-11-2010, 10:54 PM
رات کٹتی رہی چاند ڈھلتا رہا
آتش ہجر میں کوئی جلتا رہا

گھر کی تنہائیاں دل کو ڈستی رہی
کوئی بے چین کروٹ بدلتا رہا

آس اُمید کی شمع روشن رہی
گھر کی دہلیز کو کوئی تکتا رہا

رات بھر چاندنی گنگناتی رہی
رات بھر کوئی تنہا سسکتا رہا

اشک پلکوں پہ آ کر بکھرتے رہے
نام لب پہ تمہارا لرزتا رہا

آج پھر رات بس ہو گئی بسر
آج پھر کوئی خود سے اُلجھتا رہا

بےباک
12-13-2010, 10:50 PM
بہت ہی خوب ، زبردست
واقعی ایک اچھی غزل ہے ،

تانیہ
12-15-2010, 10:12 PM
بہت خوب...

نگار
04-01-2012, 06:52 PM
آس اُمید کی شمع روشن رہی
گھر کی دہلیز کو کوئی تکتا رہ

بہت خوب ٹیا بھائی ہو یا بہن پتا ہی نہیں چلتا

اوکے ٹیا سسٹر چلے گا