PDA

View Full Version : جنرل شاہد عزیز کا ضمیر بہت دیر سے جاگا



سید انور محمود
02-08-2013, 01:30 PM
تاریخ: 8 فروری 2013
از طرف: سید انور محمود
جنرل شاہد عزیز کا ضمیر بہت دیر سے جاگاجب کارگل کا واقعہ ہوا تو لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز اپنے ضمیر کوتھپک تھپک کر سلارہے تھے کیونکہ ابھی بہت کچھ حاصل کرنا تھا، مثلا ترقی پاکر لیفٹیننٹ جنرل بنای تھا، پھر کور کمانڈر اور پھر سارئے فائدے اٹھانے تھے ، مشرف کے رشتہ دار تھے وہ علیدہ ایک بونس پوائنٹ تھا۔ پاک فوج نے بھی اُن کا حق نہیں مارا اور انہیں اعلیٰ عہدے تک ترقی دی۔ لیفٹیننٹ جنرل بنے، کور کمانڈر رہے لیکن کیا مجال جو ضمیرکو جاگنے دیا ہو۔ حتیٰ کہ وہ ریٹائر ہوگئے وہ بھی مکمل مراعات کے ساتھ۔ سرکاری گھر، پلاٹ، پینشن اور سینئر افسران کو دی جانے والی تمام سہولیات وصول کیں۔ بونس میں چیئرمین نیب رہے مگر ضمیر سویا ہوا تھا۔ نوسال پہلےحج بھی کیااور باشرع مسلمان بنکر زندگی گزارنی شروع کر دی لیکن ان کا ضمیرسوتا رہا۔شاید اس ملک میں جمہوریت کو رواں دواں دیکھ کر چودہ سال بعد مری کے قریب فوجی کمائی سے بنائے گئے پر تعیش فارم ہاؤس میں بیٹھ کر اچانک انکا ضمیر جاگ اٹھا ۔ وہ مشرف کو اور کارگل کو رونے بیٹھ گے۔ اب اسلام اور مسلمانوں کا درد بھی جاگ اُٹھا ہے ، مشرف کی بداعمالیاں بھی یاد آرہی تھیں، کارگل میں بیچارئے ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ پاکستانی فوج نے جو ظلم کیئے، امریکہ نے ہم پر جو مہربانیاں کی ہیں یہ سب کچھ ا نہیں چین سے نہیں بیٹھنے دے رہا تھا، اس لیے ایک متنازعہ کتاب لکھ ڈالی اور وہ بھی اس وقت جب پاکستان اپنے داخلی اور خارجی مسائل میں گھرا ہوا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کا ضمیر بہت دیر سے جاگا مگر پھر بھی پورا نہیں، موصوف شاید پاکستان کے ہی نہیں بلکہ دنیا کے پہلے فوجی ہونگے جس نے اپنی ہی فوج کے خلاف ایک کتاب لکھی اور اس کتاب میں اپنے عشق کی داستان بھی بیان کردی ، بقول ایک کالم نگار کہ"لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کی یادداشتوں پر مبنی ضخیم کتاب ”یہ خاموشی کہاں تک؟“ ایک مستعد فوجی کے بجائے اکبر بادشاہ کے ”شیخو“ جیسے انارکلی کے دیوانے کی ”داستانِ پروانگی“ نظر آتی ہے"۔ ساتویں جماعت سے ہی موصوف عشق میں مبتلا تھے مگر شرم کے مارے کبھی اپنی محبوبہ کو کچھ نہ کہا۔ بس اپنے عشق کی وجہ سے ہی موصوف نے پڑھنے کی طرف دھیان دیا۔ دوران جنگ جب عمر بایئس سال تھی اپنی محبوبہ کی تصویر جیب میں رکھی ہوئی تھی کہ اگر گولی آئی تو یہ تصویر روک لے گی، عشق کی داستان سے تو یہ ہی ظاہر ہوتا ہے کہ موصوف کا فوج میں کام بلکل نہیں تھا بلکہ کسی ویرانے میں جاکر صرف اپنی محبوبہ کو ہی یاد کرنا چاہیئے تھا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے انکشاف کیا ہے کہ کارگل آپریشن صرف 4افراد کا فیصلہ تھا جن میں جنرل پرویز مشرف چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد عزیز فورس کمانڈ ناردرن ایریا کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن اور دسویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد شامل تھے۔ ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنرل (ر) شاہد عزیز نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف اپنے دور میں صرف اسے کام بتاتے تھے جس سے وہ کام لینا ہو ۔ باقی سب سے راز رکھا جاتا تھا، کارگل کا آپریشن پاکستان نے 1999 ء میں شروع کیا تھا جب کارگل کے مقام پر لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج نے کمانڈنگ پوزیشن حاصل کرلی تھی اور اس ساری کارروائی سے لاعلم بھارتی فوج حیرت زدہ رہ گئی تھی۔شاہد عزیز نے کہا کہ کارگل کی کارروائی بھارتی انٹیلی جنس کے لیے ایک بہت بڑی ناکامی تھی۔ جنرل شاہد عزیز نے کہا کہ کارگل آپریشن ایک ناکام آپریشن تھا کیونکہ اس کے مقاصد چھپائے گئے اور نتائج سے اپنے ہی لوگوں اور قوم کو آگاہ نہیں کیا گیا ۔ جبکہ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ کارگل آپریشن ایک علاقائی ایکشن تھا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کے بیان پر حیرت ہوئی، آرمی کے ضابطے کے مطابق جن لوگوں کو آگاہ کرنا ہوتا ہے، انہیں ضرور بتایا گیا۔ پرویز مشرف نے کہا کہ کارگل میں تین ساڑھے تین سو نوجوان شہید ہوئے، شاہد عزیز کا کہنا ہے کہ ہزاروں شہید ہوئے غلط ہے جبکہ بھارتی فوجی 1700 کے قریب ہلاک ہوئے، اس آپریشن میں بھارت کا زیادہ نقصان ہوا تھا۔ مشرف نے کہا کہ کارگل کمیشن بنا تو تمام ثبوت پیش کر وں گا تاہم کارگل کمیشن کا مطالبہ غیر مناسب ہے، کمیشن کی تشکیل سے پاکستان کی دفاعی پالیسیاں منظر عام پر آ جائیں گی۔ ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر حکمت عملی کے لئے اجازت نہیں لی جاتی، جنرل (ر) شاہد عزیز پاکستان کے راز افشا کر رہا ہے۔

آجکل آپ جس بھارتی ٹی وی چینل پر خبریں دیکھیں سب کی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف ہی ہے، ان کے اینکر خونخوار لہجے میں اپنے ناظرین کو پاکستان کے بارئے میں من گھڑت کہانیاں سنانے میں مصروف ہیں ۔ کارگل کے بارئے میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز کے ایک ٹی وی انٹرویو کے حوالے دے دے کر جنرل مشرف کو کارگل معرکے میں شکست کے طعنے دئیے جا رہے ہیں اور کارگل محاذ میں اپنی ہار کوپاکستان کی ہار بتایا جارہا ہے۔ایک خاتون اینکر پاکستان کے خلاف زمانے بھر کی نفرتوں کے اظہار کے لئے ایسی ایسی گھٹیا باتیں کررہی تھی کہ اُس کے اخلاقی دیوالیہ پن کا صاف اظہار ہورہا تھا اور پھر عملاً ننگی گالیاں دیتے ہوئے پاکستان کے خلاف بکواس شروع کردی۔ خاتون اینکر چلا نے بلکہ بھوکنےکے انداز میں ایک مبصر سے پوچھہ رہی تھی کہ ہم پھر بھی بار بار پاکستان سے مذاکرات سے کیوں کرتے ہیں۔ بھارتی ٹی وی چینل دہشت گردی کے حوالے سے بھی پاکستان پر گند اچھالتے رہتے ہیں۔ جنرل (ر) شاہد عزیز کے انٹرویو پر مبنی ہمارے جس ٹی وی چینل کے حالیہ پروگرام کو بطور خاص ”زی نیوز“ کے زہر میں ڈوبے پروگرام میں بار بار دکھایا جا رہا تھا، بھارتی میڈیا کو زہر افشانی کا موقع فراہم کرنے کے لئے یہ انٹرویو کافی تھا، خاص طور پر اس وقت جب بھارت نے سرحد پر کچھ زیادہ ہی کشیدگی کی ہوئی ہے۔

ہندوستان کی یہ تاریخ ہے کہ وہ ایک جارحیت پسند ملک ہے اور جنوبی ایشیا کی تھانیداری کا خواہشمند بھی ہے۔اُس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ کبھی سیاچن خالی کر دے گا ایک خام خیالی کے سوا کچھ نہیں لہذا کارگل کا آپریشن اسی تناظر میں ہوا تھا۔ سال دو ہزار میں جب پاکستان میں عام طور پر لوگ کارگل کے واقعے کو بھول چکے تھے ہندوستانی حکومت اور عوام کارگل پر گلا پھاڑ پھاڑ کر رو رہے تھے اس لیے کہ کارگل میں انہیں بہت زیادہ نقصان ہوا تھا۔ جنرل (ر) شاہد عزیز کی کتاب کا ایک ایک لفظ گواہی دے رہا ہے کہ وہ فوج کے لیے قطعی نامناسب تھے، یہ ہی وجہ ہے کہ بہت ہی غیرذمد اری کے ساتھ وہ اپنے ہی ملک کےانتہائی حساس ادارے کے بارئے میں رازوں کو افشاءکرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ موصوف کو اس بات کا قطعی خیال نہیں کہ ہمارا ازلی دشمن ہندوستان اس کا کس طرح فائدہ اٹھا رہاہے اور اٹھائے گا۔ عام طور پر کہا جارہا ہے کہ جنرل (ر) شاہد عزیز کی حالیہ کتاب”یہ خاموشی کہاں تک؟“ کارگل کے حوالے سے ایک انتہائی متنازعہ کتاب ہے اور اس سلسلے میں جنرل شاہد عزیز، نواز شریف اور جنرل ضیاالدین بٹ کا موقف جنرل مشرف پرویز سے ذاتی عداوت کا آئینہ دار ہے۔