PDA

View Full Version : کرب چہرے سے ماہ و سال کا دھویا جائے



سقراط
12-11-2010, 11:30 PM
کرب چہرے سے ماہ و سال کا دھویا جائے
آج فرصت سے کہیں بیٹھ کر رویا جائے
پھر کسی نظم کی تعمیر اٹھائی جائے
پھر کسی جسم کو لفظوں میں سمویا جائے
کچھ تو ہو رات کی سرحد میں اترنے کی سزا
گرم سورج کو سمندر میں ڈبویا جائے
اتنی جلدی تو بدلتے نہیں ہوں گے چہرے
گرد آلود ہیں،آئینوں کو دھویا جائے
موت سے خوف زدہ جینے سے بیزار ہیں لوگ
ایسے موقع پر ہنسا جائے یا رویا جائے


(ہم تم کے لیے)

بےباک
12-13-2010, 10:52 PM
زبردست ، سقراط جی ،
بہت ہی اچھے
شاباش
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

تانیہ
12-15-2010, 10:10 PM
ہاہا...واہ جی