PDA

View Full Version : فیس بُک پر ’سائبر حملہ‘، ڈیٹا محفوظ



این اے ناصر
02-19-2013, 10:23 AM
سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ اس کے کمپیوٹر سسٹمز پر سائبر حملہ ہوا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں صارفین کا ڈیٹا چوری ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

فیس بُک نے اس حملے کا انکشاف جمعے کو کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ جنوری میں اس کے کمپیوٹر سسٹمز کو ’منظم حملے کا نشانہ‘ بنایا گیا۔ فیس بُک نے یہ بات اپنے سکیورٹی بلاگ میں بتائی ہے، جو جمعے کو جاری کیا گیا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حملہ نامعلوم ہیکروں نے کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے: ’’گزشتہ ماہ فیس بُک سکیورٹی کو پتہ چلا کہ ہمارے سسٹم منظم حملے کا نشانہ بنے ہیں۔ یہ حملہ اُس وقت ہوا جب بعض ملازمین نے ایک موبائل ڈویلپر کی سائبر حملے کا نشانہ بننے والی ویب سائٹ وزٹ کی۔‘‘

گزشتہ کچھ عرصے میں ہیکرز کی جانب سے ہائی ٹیک ویب سائٹوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے ہیں اور اس معاملے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہیکروں کا ہدف ڈویلپرز اور ٹیکنالوجی کمپنیاں تھیں۔

فیس بُک کا مزید کہنا ہے کہ ایسے حملے کا نشانہ بننے والی یہ واحد کمپنی نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ حالیہ دِنوں میں دوسری کمپنیوں پر بھی ایسے حملے ہوئے یا پھر ان کی ویب سائٹس ہیک کی گئیں۔
ٹوئٹرنے بھی ایسے ہی حملے کا انکشاف کیا تھا

سماجی رابطے کی اس ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس حملے میں صارفین کا ڈیٹا چوری نہیں ہوا اور ملازمین کے لیپ ٹاپس سے وائرس صاف کر دیا گیا ہے۔

رواں ماہ قبل ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے بھی ایسے ہی حملے کا انکشاف کیا تھا۔ ٹوئٹر کا کہنا تھا کہ اس پر سائبر حملے کے نتیجے میں تقریباﹰ ڈھائی لاکھ صارفین کے پاس ورڈز چرُا لیے گئے تھے۔

ٹوئٹر کے انفارمیشن سکیورٹی ڈائریکٹر باب لارڈ نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا تھا کہ حملہ کسی اناڑی نے نہیں کیا اور انہیں یقین نہیں کہ یہ اس نوعیت کا واحد واقعہ ہے۔

لارڈ نے ’امریکی ٹیکنالوجی اور میڈیا کمپنیوں پر بڑے پیمانے پر ہونے والے حملوں میں اضافے‘ کا حوالہ دیا تھا۔ ٹوئٹر پر سائبر حملہ ایسے وقت ہوا، جب بڑی کمپنیوں کے سائبر سکیورٹی نظام کو توڑے جانے کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

اخبار نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل نے بھی بتایا تھا کہ ان کی ویب سائٹس ہیک کر لی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیکروں کا تعلق چین سے تھا۔

احتیاط کے طور پر ٹوئٹر نے متاثرہ اکاؤنٹس کے پاس ورڈز منسوخ کر دیے تھے اور انہیں استعمال کرنے والے صارفین کو ای میل پیغام کے ذریعے پاس ورڈ تبدیل کرنے کے لیے کہا تھا۔