PDA

View Full Version : ڈونرز کی عدم دستیابی: پاکستان میں ہزاروں مریض ٹرانسپلانٹ کے منتظر



سیما
02-26-2013, 06:27 AM
http://images.thenews.com.pk/updates_pics/2-23-2013_89384_l.jpg


اسلام آباد … پاکستان میں ڈھائی ہزار مریض دل، 40 ہزار گردے اور 30 ہزار جگر کے ٹرانسپلانٹ کے منتظر ہیں، لیکن انہیں ڈونرز کی کمی کا سامنا ہے۔ ڈاکٹر شہاب نقوی کے مطابق ڈونرز کی عدم دستیابی کے باعث آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ میں سہولیات کی موجودگی کے باوجود 2 سال سے دل کا ٹرانسپلانٹ شروع نہیں ہوسکا۔ اسلام آباد میں مردہ ڈونرز کے اعضا کی پیوندکاری پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے شعبہ ٹرانسپلانٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر سعید اختر نے بتایا کہ اعضاء کے ٹرانسپلانٹ کیلئے ضروری ہے کہ ڈونرز کے دماغ کے مردہ ہونے کے فوری بعد ہی اعضاء نکال کر مریض کی پیوندکاری کر دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ڈونر کے مختلف اعضاء کی وجہ سے 10 افراد کی زندگیاں بچ سکتی ہیں۔ اے ایف آئی سی کے کمانڈنٹ ڈاکٹر شہاب نقوی نے بتایا کہ اے ایف آئی نے 2 سال قبل دل کے ٹرانسپلانٹ کی تمام سہولیات حاصل کر لی تھیں، لیکن ان کے پاس موجود مریضوں میں 45 افراد اعضاء کے انتظار میں ہی انتقال کرگئے۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ علماء کے فتوی کے مطابق اعضا کا عطیہ کرنا غیر اسلامی نہیں، پاکستان میں علماء اعضاء کی پیوندکاری کے حوالے سے آگہی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ڈاکٹروں نے زور دیا کہ عوام رضاکارانہ طور پر وفات کے بعد اپنے اعضاء عطیہ کرنے کی وصیت کریں۔

انجم رشید
02-26-2013, 10:47 AM
میری بہن یہاں تو عوام کو خون دینے کی ضرورت سے ہی آہگاہ نہیں کر سکے حالنکہ خون کا عطیہ صرف ایک جان ہی نہیں بچاتا بلکہ خون دینے والے کے لیے بھی بہت مفید ہے لیکن کوئی آہگاہ تو کرے لوگوں کو اعظا کا عطیہ دینا چاہیے مرنے والا تو چلا جائے گا دنیا سے لیکن اگر مرنے کے بعد بھی اس کے کچھ اعظا کیسی کے کام آجایں تو کیا کہنے اتنا مشکل کام تو نہیں ہے کیسی جوان کے اعظا اگر ورثہ عطیہ کر دیں تو یہ ان کی بہت بڑی نیکی ہو گی پاکستان جیسے ملک میں یہاں ہر روز ہزاروں لوگ حادثات میں مارے جاتے ہیں ان کے اعظا ضرور عطیہ کیے جانے چاہیں ۔
کوئی تو اس عوام کی سہی رہنمائی کرے ۔

سقراط
03-01-2013, 01:50 PM
شکریہ سیما جی معلومات دینے کے
انجم بھاٰی آپ نے بجا فرمایا

محمدمعروف
04-04-2013, 10:42 AM
خون کی کمی بلکہ تمام امراض سے بچاو کا بہترین طریقہ متوازن غذا کا استعال اور اپنے معمولات کو ایک شیڈول کے مطابق ترتیب دینا ہے۔ افراط وتفریط کے باعث بہت سی عجیب امراض وقوع ہورہی ہیں ۔