PDA

View Full Version : بہروپیا



ابوسفیان
02-27-2013, 12:27 AM
بہروپیا
⚜⚜
ایک بار اورنگ زیب عالمگیر کے دربار میں ایک بہروپیا آیا اور اسنے کہا۔۔۔ " باوجود اس کے کہ آپ رنگ ورامش، گانے بجانے کو برا سمجھتے ہیں، شہنشاہِ معظم! لیکن میں فن کار ہوں اور ایک فن کار کی حیثیت سے آپ کے خدمت میں حاضر ہوا ہوں اور میں بہروپیا ہوں۔ میرا نام کندن بہروپیا ہے اور میں ایسا بہروپ بدل سکتا ہوں کہ شہنشاہِ معظم، جن کو اپنے تبحرِ علمی پر بڑا ناز ہے، دھوکا دے سکتا ہوں، اور میں غچہ دے کر بڑی کامیابی کے ساتھ نکل جاتا ہوں۔۔۔۔
اورنگ زیب عالمگیر نے کہا۔۔۔ “ یہ بات توضیعِ اوقات ہے۔۔۔۔ میں تو شکار کو بھی بیکار سمجھتا ہوں۔۔۔ یہ تم جو چیز میرے پاس لائے ہو۔۔۔ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔۔۔“اس نے کہا۔۔۔ “ نہیں صاحب ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔۔۔ آپ اتنے شہنشاہ ہیں اور دانش میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔۔۔۔ میں بھیس بدلوں گا۔۔۔ آپ پہچان کر دکھایئے۔۔۔۔“
تو انہوں نے کہا۔۔۔۔ “ منظور ہے۔۔۔“

اس نے کہا۔۔۔۔ “ حضور آپ وقت کے شہنشاہ ہیں۔۔۔۔ اگر تو آپ نے مجھے پہچان لیا تو۔۔۔ میں آپ کا دینے دار ہوں۔۔۔۔ لیکن اگر آپ مجھے پہچان نہ سکے اور۔۔۔۔ میں نے ایسا بھیس بدلا تو میں آپ سے پانچ سو روپیہ لوں گا۔۔۔۔“ ظاہر ہے اس وقت پانچ سو بہت ہوں گے۔۔۔۔ شہنشاہ نے کہا۔۔۔۔ “ٹھیک ہے۔۔۔ پانچ سو میرے لیے کچھ نہیں ہے۔۔۔۔ منظور ہے۔۔۔۔ جاؤ۔۔۔۔۔۔“ تو وہ شرط طے کر کے چلا گیا اور پھر سوچنے لگا۔۔۔ گھر جا کر بھی پریشان ہوا کہ میں شیخی میں ایسی شرط باند کر آ گیا ہوں۔۔۔۔۔میں کون سا ایسا روپ بدلوں کہ بادشاہ کو پتا نہ چلے ۔۔۔۔ پھرتا پھراتا تحقیق و تفتیش کرتا رہا ۔۔۔۔ لوگوں سے پتہ چلا اورنگ زیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا میں مرہٹوں پر اور بہمنی سلطنتوں پر اکثر حملے کیا کرتا تھا۔۔۔۔ انہوں نے کہا۔۔۔۔ یہ سال چھوڑ کر اگلے سال پھر ان پر حملہ کرے گا۔۔۔۔۔ یہ خبر بہروپیے کو جو وقائع نگار تھے۔۔۔ انہوں نے بتائی۔۔۔۔ اس نے کہا۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ چنانچہ وہ یہاں سے پاپیادہ سفر کرتا ہوا اس مقام پر پہنچ گیا۔۔۔۔ جہاں بہمنی سلطنت تھی۔۔۔۔وہاں جاکر اس نے ایک بزرگ کا روپ دھارا۔۔۔۔ ڈاڑھی بڑھا لی۔۔۔۔ سبز کپڑے پہن لیے۔۔۔۔ بڑے بڑے منکے گلے میں ڈال لیے۔۔۔ اور اللہ کی یاد میں ایسا مستغرق ہوا کہ۔۔۔۔ بڑی دیر تک بہت دور تک لوگوں کو اپنے اس سحر میں مبتلا کرتا رہا۔۔۔۔ ارد گرد کے لوگ جو تھے۔۔۔۔۔ بابا پیر کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔۔۔۔۔ لوگ آنے لگے اور طرح طرح کے چڑھاوے چڑھانے لگے۔۔۔۔ جیسا کہ ہمارے یہاں کا رواج ہے۔۔۔۔ دور دور تک اس کا نام آنے لگا۔۔۔۔ لیکن استقامت کے ساتھ سال بھر اس کی ریاضت میں مصروف رہا جو بزرگ کیا کرتے ہیں۔۔۔۔۔

ایک سال کے بعد جب اپنا لاؤ لشکر لے کر۔۔۔۔ اورنگ زیب عالمگیر ساؤتھ انڈیا پہنچاتھا اور پڑاؤ ڈالا تو۔۔۔۔ تھوڑا سا وہ خوف زدہ تھا۔۔۔۔۔ اور جب اس نے مرہٹوں کے پیشوا پر حملہ کیا تو۔۔۔۔ وہ اتنی مضبوطی کے ساتھ قلعہ بند تھے۔۔۔۔ اس کی فوجیں توڑ نہ سکیں۔۔۔۔۔ پریشانی کا عالم ہو گیا اور یقین ہو گیا کہ۔۔۔ شاید اس کو نا کام لوٹنا پڑے اور اس کی حکومت پر برا اثر پڑے۔۔۔۔ چنانچہ لوگوں نے کہا۔۔۔ یہاں ایک درویش ولی اللہ رہتے ہیں۔۔۔۔۔ درخت کے نیچے۔۔۔۔ آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان سے جا کر مشورہ کریں۔۔۔۔۔ پھر دعا کریں اور پھر ٹوٹ پڑیں۔۔۔۔ شہنشاہ پریشان تھا۔۔۔۔ بے چارہ بھاگا بھاگا گیا ان کے پاس۔۔۔۔ سلام کیا اور کہا۔۔۔۔۔ " حضور میں آپ کی خدمت میں ذرا۔۔۔ ۔“ انہوں نے کہا۔۔۔۔ “ ہم فقیر آدمی ہیں۔۔۔۔ ہمیں ایسی چیزوں سے کیا لینا دینا۔۔۔۔“ شہنشاہ نے کہا۔۔۔۔۔ “ نہیں عالم اسلام پر بڑا مشکل وقت ہے(جیسے انسان بہانے کیا کرتا ہے) آپ ہماری مدد کریں۔۔۔ میں کل اس قلعے پر حملہ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ تو فقیر نے فرمایا۔۔۔۔ “ نہیں کل مت کریں۔۔۔ پرسوں کریں۔۔۔ اور پرسوں بعد نمازِ ظہر۔۔۔“اور نگ زیب نے کہا جی بہت اچھا۔۔۔ چنانچہ اس نے نمازِ ظہر جو حملہ کیا ۔۔۔۔۔اور ایسے زور کا کیا۔۔۔ اور جذبے سے کیا اور پیچھے فقیر کی دعا تھی۔۔۔ اور ایسی دعا کہ وہ قلعہ ٹوٹ گیا اور فتح ہو گئی۔۔۔ مفتوح جو تھے وہ پاؤں پڑ گئے۔۔۔۔ بادشاہ مرہٹوں کے پیشوا پر فتح مند کامران ہونے کے بعد۔۔۔۔ سیدھا درویش کی خدمت میں حاضر ہوا۔۔۔۔ باوجود کہ وہ ٹوپیاں سی کے اور۔۔۔ قرآن لکھ کر گزارا کرتا تھا۔۔۔۔ لیکن سبز رنگ کا بڑا سا عمامہ پہنتا تھا۔۔۔ بڑے زمرد اور جواہر لگے ہوتے تھے۔۔۔۔ اس نے جا کر عمامہ اتارا۔۔۔ اور کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ دست بستہ کہ حضور یہ سب کچھ آپ ہی کی بدولت ہوا ہے۔۔۔۔۔

اس نے کہا۔۔۔۔ " نہیں جو کچھ کیا اللہ نے کیا ہے۔۔۔۔ “ انہوں نے کہا کہ۔۔۔ آپ کی خدمت میں کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں حضور۔۔۔ درویش نے کہا۔۔۔ “ نہیں ہم فقیر لوگ ہیں۔۔۔“ اس نے کہا کہ دو پر گنے کی معافی دو بڑے قصبے۔۔۔ اتنے بڑے جتنے آپ کے اوکاڑہ اور پتوکی ہیں۔۔۔۔ وہ ان کو دیتا ہوں اور زمین اور آئندہ پانچ سات پشتوں کے لیے ہر طرح کی معافی ہے۔۔۔۔
اس نے کہا۔۔۔۔ " بابا یہ ہمارے کس کام کی ہیں ساری چیزیں۔۔۔ ہم تو فقیر لوگ ہیں۔۔۔ تیری بڑی مہربانی۔۔۔۔“
اورنگزیب نے بڑا زور لگایا۔۔۔ لیکن وہ نہیں مانا اور۔۔۔ بادشاہ مایوس ہو کر واپس آ گیا۔۔۔ اس نے اپنے تخت کے اوپر متمکن ہو کر ایک نیا فرمان جاری کیا۔۔۔ جب شہنشاہ فرمان جاری کر رہا تھا۔۔۔ عین اس وقت کندن بہروپیا اسی طرح منکے پہنے آیا۔۔۔۔ شہنشاہ نے کہا۔۔۔۔۔
"حضور آپ یہاں کیوں تشریف لائے۔۔۔۔ آپ مجھے حکم دیتے۔۔۔۔ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔۔۔“ کندن نے کہا۔۔۔۔۔ نہیں شہنشاہِ معظم۔۔۔۔! اب یہ ہمارا فرض تھا۔۔۔۔ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔۔۔۔ تو جنابِ عالی میں کندن بہروپیا ہوں۔۔۔ میرے پانچ سو روپے مجھے عنایت فرمائیں۔۔۔۔“
اس نے کہا۔۔۔۔ تم وہ ہو۔۔۔ ؟ اس نے کہا۔۔۔ ہاں وہی ہوں۔۔۔ جو آج سے ڈیڑھ برس پہلے آپ سے وعدہ کر کے گیا تھا۔۔۔
اورنگزیب نے کہا۔۔۔۔ “ مجھے پانچ سو روپیہ دینے میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں۔۔۔۔ جب میں نے آپ کو دو پر گنے اور۔۔۔۔۔ دو قصبے کی معافی دی۔۔۔۔۔۔ جب آپ کے نام اتنی زمین کر دی۔۔۔ جب میں نے آپ کی سات پشتوں کو یہ رعایت دی کہ۔۔۔ اس میری مملکت میں جہاں چاہیں۔۔۔۔ جس طرح چاہیں رہیں۔۔۔۔ آپ نے اس وقت کیوں انکار کر دیا۔۔۔ یہ پانچ سو روپیہ تو کچھ بھی نہیں۔۔۔“

اس نے کہا۔۔۔ "حضور بات یہ ہے جن کا روپ دھارا تھا۔۔۔۔۔ ان کی عزت مقصود تھی۔۔۔ وہ سچے لوگ ہیں۔۔۔۔ہم جھوٹے لوگ ہیں۔۔۔ یہ میں نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ کہ روپ سچوں کا دھاروں۔۔۔ اور پھر بے ایمانی کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“

{。^◕‿◕^。} {。^◕‿◕^。} {。^◕‿◕^。}

بےباک
02-27-2013, 12:58 AM
بہت خوب بہت خوب ، زبردست لکھا ھے

ابوسفیان
02-27-2013, 01:18 AM
http://urdulook.info/imagehost/?di=BPNX

عبادت
02-27-2013, 01:50 AM
بہت خوب

ابوسفیان
02-27-2013, 02:45 AM
شکریہ جناب شکریہ