PDA

View Full Version : خواتین کوہ پیماؤں کی نظر نئی بلندیوں پر



سیما
02-28-2013, 06:32 AM
http://wscdn.bbc.co.uk/worldservice/assets/images/2013/02/27/130227235432_women_expedition304.jpg


پاکستان میں پیشہ وارانہ کوہ پیمائی عموماً گنے چُنے مردوں کا خاصا سمجھی جاتی ہے لیکن اِس روایت کو توڑنے کا خواب لیے، شمالی خطے گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑوں کی چند نو عمر لڑکیاں میدانی علاقوں کی طرف نکلی ہیں۔
اسلام آباد میں بی بی سی کے سٹوڈیو آنے سے پہلے بالائی ہُنزہ کی اِن لڑکیوں نے کراچی کا سمندر دیکھا کیونکہ گروپ لیڈر کا تعلق کراچی سے ہے۔
جنوب کے سمندر یا شمال کی چوٹیوں کے قریب پرورش پانے والی اِن لڑکیوں کی ذاتی زندگیاں بالکل متضاد ہیں لیکن اب جب وہ ایک ساتھ ہیں تو اُنہوں دنیا کے بلند ترین مقام پر کمند ڈالنے کی ٹھان رکھی ہے۔
کراچی کی شہربانو سید کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے سیاحتی دوروں کے دوران پہاڑوں سے الفت ہوئی۔ جنوری دو ہزار بارہ میں اُنہوں نے بالائی ہُنزہ کے گاؤں شمشال کی لڑکیوں کے بارے میں سنا جنہوں نے موسمِ سرما میں چھ ہزار میٹر (تقریباً بیس ہزار فُٹ) اونچی مقامی چوٹی سر کی تھی۔
اِس کارنامے سے متاثر ہو کر شہربانو، کوہ پیما لڑکیوں کے بارے میں دستاویزی فلم بنانے شمشال گئیں جہاں اُن کی ملاقات کوہ پیمائی کی مقامی اکیڈمی میں زیرِ تربیت نجمہ سحر، تخت بیکا، شکیلا نما اور مہرا جبیں سمیت آٹھ مقامی لڑکیوں سے ہوئی۔
ذاتی وسائل سے نو لڑکیوں کے اِس گروہ نے ستمبر اور اکتوبر کے وسطی ہفتے میں چھ ہزار میٹر کی تین چوٹیاں سر کر ڈالیں۔
نجمہ کے بقول ’ہمارا ریکارڈ یہ تھا کہ جب ہم تیسری چوٹی پر گئیں تو ہمارے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا‘۔
نجمہ سحر قراقرم یونیورسٹی میں بی اے کی طالبہ ہیں جبکہ اُن کی ساتھیوں میں سے کسی نے پرائمری تو کسی نے مڈل تک تعلیم حاصل کی ہے۔ سب سے زیادہ مرتبہ چھ ہزار میٹر بلند پہاڑ سر کرنے والی مہرا جبیں ان پڑھ ہیں۔ کچھ حد تک اردو سمجھتی ہیں لیکن اپنے کارنامے سنانے کے لیے اُنہیں مادری زبان واخی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
ہمارا ریکارڈ یہ تھا کہ جب ہم تیسری چوٹی پر گئیں تو ہمارے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا:نجمہ
کوہ پیمائی کے تجربے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ’بھائی کو دیکھ کر کوہ پیمائی کا شوق پیدا ہوا۔ پہلی مرتبہ اُس کے ساتھ گئی تھی۔‘
گلگت بلتستان کے بالائی علاقوں کی معیشت کا دارومدار سیاحت پر ہے۔ مقامی مرد، دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کی رہنمائی کرکے یا کوہ پیماؤں کی معاونت کے ذریعے روزگار کماتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ خواتین کو یہ ہُنر سیکھنے کا موقع نہیں ملتا بلکہ بقول نجمہ کے ’ہمارے یہاں لڑکوں اور لڑکیوں کو برابر قرار دیا جاتا ہے البتہ روایتی امورِ خانہ داری اور محدود وسائل کے باعث خواتین پیشہ ورانہ مقام تک نہیں پہنچ پاتیں۔‘
تخت بیکا کی بڑی بہن کو شادی کے بعد کوہ پیمائی کا شوق ترک کرنا پڑا۔ اُنہوں نے بتایا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے یا برف توڑ کر پینے کے لیے پانی جمع کرنے جیسے معمولاتِ زندگی ہی مقامی خواتین کی صلاحیتوں کو نچوڑ لیتے ہیں۔
دو ہزار تین میں سڑک بننے کے بعد، شمشال گاؤں کے نزدیک ترین شہر ہُنزہ تک، تین دنوں کا پیدل سفر، چھ گھنٹوں کی مسافت میں سِمٹ گیا لیکن اُس کے لیے بھی کار کی بجائے طاقتور جیپ کی ضرورت پڑتی ہے۔
دور دراز کی کٹھن زندگی کی بنیادی کوہ پیمائی میں عبور حاصل کرنے کے بعد اِن لڑکیوں کی خواہش ہے کہ وہ بھی سیاحتی رہنماء (ٹؤر گائیڈ) اور بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی معاونت جیسے مقامی پیشوں کے ذریعے اپنے پیروں پر کھڑی ہوں۔
شمشال ماؤنٹینئرنگ اکیڈمی کی رکن شکیلہ نماء کے مطابق ’پاکستان کی کوئی بھی خاتون، ہم سے تربیت حاصل کرکے کوہ پیما بن سکتی ہے‘۔
چھ ہزار میٹر بلند چوٹیوں پر چڑھنا اترنا شمشال گاؤں کی لڑکیوں کا معمول بن گیا ہے مگر جب اُنہوں نے ایک ہزار میٹر مزید اوپر جانے کا ارادہ کیا تو وسائل آڑے آ گئے۔
سات ہزار میٹر تک جانے کے لیے ہمارے پاس نیا اور جدید سامان ہونا چاہیے جو وہاں محفوظ رہنے کے لیے بہتر ہو: شہربانو سید
شہربانو کہتی ہیں ’اُس بلندی پر ایک ہزار میٹر کی مزید اونچائی بہت معنی رکھتی ہے۔ چھ ہزار میٹر تک کے لیے جو سامان ہم استعمال کر رہے تھے، وہ ایک اطالوی کوہ پیما سیمونی مورو نے شمشال اکیڈمی کو عطیے میں دیا تھا۔ میرے خیال میں سات ہزار میٹر تک جانے کے لیے ہمارے پاس نیا اور جدید سامان ہونا چاہیے جو وہاں محفوظ رہنے کے لیے بہتر ہو۔‘
مہرا جبیں نے بتایا کہ اُن کے خیمے اِس قدر بوسیدہ ہو چکے ہیں کہ برف اندر آنے لگتی ہے۔
تقریباً ایک سال پہلے، موسمِ سرما میں چھ ہزار میٹر سر کرنے کے کارنامے کے نتیجے میں بننے والا پاکستانی لڑکیوں کا کو پیما گروہ سات ہزار میٹر کی بلندی تک جانے کی خواہش لیے، میدانوں میں اتر کر خوشحال شہروں کے دورے کر رہا ہے تاکہ سپانسر شپ (سرمایہ کاری) ڈھونڈ کر پیشہ ورانہ کوہ پیمائی کے خواب کا اگلا پہاڑ سر کیا جا سکے۔
کراچی اور اسلام آباد کے بعد اِن لڑکیوں کی اگلی منزل لاہور ہے مگر صرف دنیا کو پاکستانی خواتین کی صلاحیتوں کی مثال پیش کرکے، سپانسر ڈھونڈنے کے لیے کوشاں شمشال کی کوہ پیما لڑکیاں پہلی مرتبہ پاکستان کے یہ حصے دیکھ رہی ہیں۔ شکیلہ نماء کے مطابق ’یہاں پر بہت ٹریفک ہے اور کچرا بہت زیادہ ہے۔‘

اِس گروہ کی ہر لڑکی کی اصل منزل آٹھ ہزار میٹر بلند چوٹی ہے۔ دنیا کی اتنی بلند چودہ چوٹیوں میں سے کے ٹو سمیت پانچ چوٹیاں اِنہی لڑکیوں کے وطن میں ہیں اور نجمہ کے بقول ’اگر سپانسرشپ نہ ملی تو میں ٹریکنگ وغیرہ کر کے، پیسے کما کر خود جاؤں گی۔‘

نگار
02-28-2013, 11:53 PM
اضافی معلومات پہنچانے پہ آپ کا شکریہ

تانیہ
04-05-2013, 10:24 PM
شیئرنگ کے لیے شکریہ