PDA

View Full Version : پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم کامک مکا



سید انور محمود
03-02-2013, 03:52 AM
تاریخ : 2 مارچ 2013
از طرف: سید انور محمود
پیپلز پارٹی اورایم کیو ایم کامک مکا
قائد اعظم محمد علی جناع نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ جو ملک بنارہے ہیں کل اسکی سیاست میں اصول نام کی کوئی شے نہیں ہوگی۔ جمہوریت اور سیاست کے بارے میں پاکستان کے رہنماوں کی سوچ میں مکمل تضاد ہوگا ، یہ اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کے حربے استمال کریں گے، دھوکہ اور فریب کاری ہی کے زریعے یہ مک مکا کی سیاست کو اپنی دانائی سے تعبیرکرینگے۔ نواز شریف کی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی تو پہلے ہی نگراں حکومت کے لیے مک مکا کرچکے ہیں مگر سندھ میں دو بڑے اتحادیوں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان جو مک مکا ہوا ہے وہ جمہوریت اور سندھ کے عوام کے ساتھ کھلا دھوکا ہے۔ چار سال11ماہ تک حکومت سے تعاون کرنے کے بعدآج متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین فرمارہے ہیں کہ پیپلز پارٹی سے پہلے سال الگ ہو جاتے تو وہ وہ ہمارے بغیر چار سال تو کیا چار مہینے بھی نہیں گزار سکتی تھی- ایک ایسی حکومت جو ہر شعبے میں ناکام رہی ہے جس نے ملک کے ہر ادارے کو تباہ کرکے رکھ دیا۔ آج ملک میں ہر طرف کرپشن کا راج ہے۔ آج خاص طور پر کراچی، بلوچستان اور صوبہ خیبرپختون خواہ جرائم پیشہ افراد، دہشت گردوں، بھتہ خوروں، لٹیروں اور سفاک قاتلوں کے مکمل قبضہ میں ہیں۔ معاشی طور پر ملک کا برا حال ہے۔ ڈالر آج سو روپے کا ہوچکا ہے اور پاکستان 65 ارب ڈالر کا مقروض۔ ان تمام حالات کے باوجود ایم کیو ایم پیپلزپارٹی کی اتحادی رہی۔ اسکو عام لوگوں سے زیادہ اس بات کا پتہ ہوگا کہ ملک میں کیا تباہی ہورہی ہے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ حکومت کے ختم ہونے سے صرف ایک ماہ قبل ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی میں کیڑئے نظر آنے لگے۔

اب تک جو اعتراضات یا الزامات ایم کیو ایم کی جانب سے سامنے آئے ہیں ان میں سے پہلا یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے پیپلز امن کمیٹی تشکیل دیکر کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کو ایم کیوایم کے کارکنوں اور ہمدردوں، تاجروں، دکانداروں اور دیگر شہریوں کے قتل اور دہشت گردی کی کھلی چھوٹ دی۔ لیاری گینگ وار کے ان دہشت گردوں نے شہربھرمیں تاجروں، صنعتکاروں اوردکانداروں سے کھلے عام جبری بھتوں اور اغوابرائے تاوان کی وارداتوں کاسلسلہ شروع کیا ، ان جرائم پیشہ عناصر نے بھتہ دینے سے انکار پر شہر کی مختلف مارکیٹوں میں دکانوں پرفائرنگ اوردستی بموں سے حملے شروع کئے ، کئی تاجروں کوبیدردی سے شہید کردیا گیا۔ جبکہ دوسرا اعتراض ان کو یہ ہے سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 واپس اور سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979 بحال کیا گیا ہے۔ بقول الطاف حسین لوکل باڈیزکاسسٹم عوامی نمایندوں کے پاس نہ ہوناجعلی جمہوریت کی پہچان ہے،برطانیہ،فرانس،جرمنی،ام ریکاسمیت ہرجگہ لوکل کونسل موجود ہیں۔

ایم کیو ایم کو ہم سے زیادہ معلوم ہے پیپلز امن کمیٹی ابھی نہیں بنی بلکہ ایک عرصہ سے موجود ہے اور اس کا بانی ذوالفقار مرزا جو آصف زرداری کا لنگوٹیا یار ہے، اُس نے لیاری کے عوام اور قائدین کو بطور صوبائی وزیر داخلہ ایم کیو ایم کے خلاف اکسایا اور لیاری میں جرائم پیشہ عناصر کی تربیت اور ان کو جدید ترین اسلحہ کے انبار کی فراہمی کیلئے ذرائع اور وسائل فراہم کئے۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ شہر بھر میں جرائم، قتل و غارت، بھتہ خوری اور لوٹ مار کا ایسا بازار گرم کروایا جس کی مثال اس شہر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ شہر کے ہر علاقے میں پیپلز امن کمیٹی کے نام پر غنڈے مجرمانہ سرگرمیوں میں مصروف نظر آتے اور انتظامیہ کی جانب سے مکمل طور پر خاموشی پیپلز پارٹی کی مکمل سرپرستی اور جرائم کے فروغ کا ثبوت بنی رہی۔ ذوالفقار مرزا نےبانگ دہل نہ صرف الطاف حسین پر مختلف الزامات لگائے اور ہر اردو بولنے والے کو بھکاری کا خطاب دیامگر پیپلز امن کمیٹی کی دہشت گردی اور ذوالفقار مرزا کے الزامات کے باوجود ایم کیو ایم حکومت کا حصہ بنی رہی۔ پیپلز پارٹی جب حکومت میں آئی اسوقت ایم کیو ایم کےمصطفی کمال ناظم کراچی تھے اور اُن کے زمانے میں ہی پیپلز پارٹی مختلف طریقے سے ان کو تنگ کرتی رہی۔ رہی بات سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979 بحال کرنے کی تو عرض ہے کہ پاکستان میں آجتک جتنے بھی بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں وہ فوجی حکومت کے دور میں ہی ہوئے ہیں۔ کسی بھی جمہوری حکومت کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ بلدیاتی انتخابات کراتی۔ ساستدان ہمیشہ بلدیاتی انتخابات سے بھاگتے ہیں جبکہ فوجی حکومت اپنے لیے بلدیاتی انتخابات کو آب حیات سمجھتی ہیں۔ اب جب بلدیاتی انتخابات ہی نہیں ہونے تو پھر لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979 یا 2012 سب برابر ہیں۔اسلیے یہ بات بھی نہ قابل قبول ہے کہ ایم کیو ایم اس وجہ سے علیدہ ہوئی ہے۔

پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے، سندھ کے عام لوگ بھی پریشان ہیں ، اس مرتبہ سندھ میں قوم پرست جماعتوں نے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2012 کے بعد پیپلز پارٹی کو اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ وہ سندھ کارڈ استمال کرسکے۔ کراچی میں لیاری کے عوام کے ساتھ وہ برا سلوک ہوا کہ آج پیپلز پارٹی کا لیاری میں کوئی نام سننے کو تیار نہیں ۔ دوسری طرف جبکہ ایم کیو ایم حکومت کی اتحادی تھی ااور اپنے آپ کو کراچی کی نمائند ہونے کی دعوے دار بھی ہے صرف اس حکومت کے دور میں پانچ ہزار سے زیادہ لوگ کراچی میں مارے گے ہیں، اس حکومت کے دور میں ہی سب سے زیادہ بدامنی ہوئی ہیں، آج کراچی میں لوٹ مار عام ہے۔ شہر میں فرقہ وارانہ، لسانی اور سیاسی گروہوں کے ساتھ ساتھ قبضہ اور بھتہ مافیا سرگرم ہیں جبکہ طالبان گروپس کی جانب سے بھی شہر کے بعض حصوں میں جرائم کی وارداتیں کی جا رہی ہیں۔ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں کے پاس الیکشن میں عوام کا سامنا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کےپاس کوئی تازہ تازہ شہید بھی نہیں، کارکردگی کے نام پر صرف لوٹ مار ہے جبکہ ایم کیو ایم جو کبھی مہاجر کارڈ کا استمال کرتی تھی اب اس کا استمال ذرا مشکل نظر آتا ہے ۔ دونوں پارٹیوں کو اقتدار میں بھی رہنا ہے اور اس کے لیے لازمی اپنی مرضی کا نگراں سیٹ اپ لانا ہے۔ اس لیے ایک مک مکا کیا گیا ہے اور ایم کیو ایم کو اپوزیشن میں لایا گیا ہے۔ اس ڈرامے میں رنگ بھرنے کے لیے لیاری کے غنڈوں کو رہا کیا گیا ہے اور سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 واپس لیکر سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979 بحال کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے عوام کے جذبات اور مطالبات کی روشنی میں سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012 واپس اور سندھ لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 1979 بحال کیا گیا ہے۔ دوسری طرف سندھ کے گورنر دوسری مرتبہ روٹھ کر اپنے گاوُں دبئی چلے گے تھے مگر چونکہ گورنر بھی مک مکا کا ہی حصہ ہیں لہذا وہ واپس آگے ہیں۔

ایک سیاسی ورکر کسی بھی پارٹی کے پر ہوتے ہیں ، جسطرح ایک پرندہ بغیر پروں کے نہیں اُڑ سکتا اس طرح ہی کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے ورکروں کے بغیر عوام میں نہیں پہچانی جاتی، پارٹی کے ہمدرد وہ ہوتے ہیں جو اس جماعت کے منشور کو قبول کرتے ہیں اور نہ صرف الیکشن میں اس جماعت کو ووٹ دیتے ہیں بلکہ دوسرں کو بھی قائل کرتے ہیں۔ آج میری ایک گذارش پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ورکروں اور ہمدردوں سے ہے کہ بیشک آپ اپنی پارٹی کی حمایت کریں ووٹ بھی اُس کو ہی دیں مگر اپنے لیے ، اپنے ملک کے لیےاپنے ضمیر سے یہ سوال ضرور کریں کہ واقعی ہماری پارٹی نے گذشتہ پانچ سال میں جو کچھ کیا ہے وہ درست ہے ، اگر آپ کو جواب ہاں میں ملے تو ٹھیک اور اگر جواب نہ ہو تو پھر سمجھ لیں کہ یہ موجودہ اختلافات پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا مک مکا ہے۔اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر رہے اور ہمارےپیارئے وطن پاکستان پر اپنا رحم فرمائے۔ آمین

بےباک
03-05-2013, 02:30 AM
جزاک اللہ ،تلخ سچ پیش کیا ،
ایسا ہی ہے ،:photosmile:

ٹیکسٹ ماسٹر
03-06-2013, 02:28 AM
کاش کہ مک مکا کی جگہ مکی مکا ہوجاتا تو بہتر تھا یعنی دست و گریباں

انجم رشید
03-06-2013, 01:36 PM
آپ نے حقیقت بیان کی بہت بہت شکریہ آپ کا