PDA

View Full Version : عباس ٹاون ۔ وزیراعلی بانسری بجاتےرہے



سید انور محمود
03-07-2013, 01:38 PM
تاریخ : 7 مارچ 2013
از طرف: سید انور محمود
عباس ٹاون ۔ وزیراعلی بانسری بجاتےرہے
دہشت گرد عناصر پاکستان میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرکے ملک میں انتشار پیدا کررہے ہیں۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کےلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان اور اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ یہ جو درندئے روز معصوم انسانوں کا لہو بہارہے ہیں ان کے نزدیک انگور کی شراب کا پینا توحرام ہے مگر انسان کا لہو پینا حلال ہے۔ بدنصیب کراچی اور کراچی کے رہنے والوں کا لہو کبھی فرقہ پرستی ، کبھی تعصب اور کبھی سیاست کی بنیاد پر بہایا جارہا ہے۔ کوئٹہ کا علمدار روڈ اور کراچی کا ابوالحسن اصفہانی روڈ وہ جگہ ہیں جہاں مسلسل انسانوں کا لہو بہایا جارہا ہے۔ ابوالحسن اصفہانی روڈ سے ملحق عباس ٹاوُن میں دوسری مرتبہ خون بہایا گیا ہے مگر اس مرتبہ خون ریزی بڑئے پیمانے پر کی گی ہے۔150 کلو گرام بارودی مواد کے زریعے عباس ٹاوُن دوخوفناک دھماکوں سے لرز اٹھا ،دھماکے کے نتیجے میں پچاس کے قریب افراد جاں بحق اور 150 کے قریب زخمی ہوگئے۔

دنیا میں کہیں بھی اور کبھی بھی جب اس قسم کے حادثات ہوتے ہیں توحکومت کے تمام ذمیدارادارئے حرکت میں آجاتے ہیں، پاکستان جو گذشتہ ایک دھائی سے زیادہ عرصےسے دہشت گردی کا شکار ہے کسی بھی حادثے کی صورت میں حکومتی ادارئے فورا پہنچ جاتے تھے ۔ عباس ٹاوُن دھماکے کے بعد آمنے سامنے موجود چار منزلہ بلڈنگوں کے تیسرے اور چوتھے فلوروں سے آگ کے شعلے باہر کی جانب لپک رہے تھے اور عورتیں، بچے، بوڑھے فلیٹوں سے نکل کر باہر آ رہے تھے۔ بازار میں سیکڑوں دکانیں مٹی کا ڈھیر بن چکی تھیں، عمارتوں کی بالکونیاں نیچے گر رہی تھیں اور ملبے تلے دبے ہوئے زخمی مدد کے لیے چیخ رہے تھے، علاقہ مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو نکال کر اسپتال پہنچانا شروع کیا۔ ملبے کو ہٹا کر زخمی نکالے، جلتے فلیٹوں سے لوگوں کو نکالا، یہ سب کام علاقہ مکین ہی کرتے رہے، پولیس، رینجرز کا دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ البتہ آگ بجھانے والی گاڑیاں اور مختلف سماجی تنظیموں کی ایمبولینسیں، کچھ دیر بعد ہی جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھیں۔پورئے پاکستان کا میڈیا اس خبر کو دکھا رہا تھا اور اس بات پر باربار حیرانگی کا اظہار کررہا تھاکہ حکومتی مشنری کا دور دور پتہ نہیں۔ عین اس وقت جب عباس ٹاؤن میں قیامت برپا تھی، حکمران حلقے میں جشن برپا تھا، سندھ کے وزیراعلی کی مشیر شرمیلا فاروقی کی منگنی پر ایک بہت بڑا جشن مہٹہ پیلس میں منایا جا رہا تھا، جس میں اسلام آباد سے وزیر اعظم بھی آئے ہوئے تھے۔سندھ کے وزیر اعلی قائم علی شاہ اپنی اس مشیر کی منگنی کو یادگار بنانے کے لیے مہٹہ پیلس میں اپنی ساری حکومتی مشنری کے ساتھ موجود تھے۔ منگنی کے جشن میں پورے ملک سے معزز مہمان آ رہے تھے، ایئر پورٹ سے مہٹہ پیلس تک، پولیس رینجرز، خفیہ والے ڈیوٹیاں دے رہے تھے، وزیر اعظم راجہ صاحب کے آگے پیچھے، سیکیورٹی والے کانوائے کی شان دبدبہ اور پھر دوسرے وزرا کی آمد۔ شہر کی تمام فورسز جشن والوں کے ساتھ مصروف تھیں، عباس ٹاؤن کی سیکیورٹی پر مامور پولیس کو بھی حکمرانوں نے اپنے جشن میں ڈیوٹی دینے کے لیے بلا لیا تھا اور یوں میدان بالکل خالی تھا اور قیامت برپا کرنے والے بلا روک ٹوک بارود سے بھری گاڑی لے کر آ گئے۔ روم جل رہا تھا اور نیرو بیٹھا بانسری بجارہا تھا ٹھیک اسی طرح عباس ٹاوُن دھماکے کے بعد لوگ مررہے تھے، بلڈنگیں جل رہی تھیں اور سندھ کے وزیر اعلی شرمیلا کی منگنی میں بیٹھے بانسری بجا رہے تھے۔ فلیٹوں میں لگی آگ اس قدر شدید تھی کہ قابو میں نہیں آ رہی تھی۔ سارئے ملک اور دنیا بھرمیں اس حکومتی بےحسی کو ساری رات دھڑکتے دلوں، اداس آنکھوں، ویران چہروں کے ساتھ جلتے گھر، تباہ حال بازار، سراسیمہ عورتیں بچے، اور نوجوان لڑکوں کو امدادی کاموں میں مصروف دیکھتے رہے۔کوئی پرسان حال نہ تھا، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت کے تمام ادارئے حرکت میں آتے۔

ساری رات گذرنے کے بعد وزیراعلی سندھ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کیلئے 15,15 لاکھ روپے فی کس اور زخمیوں کے لیے 10، 10 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ اب سب جاگ گے ہیں ۔ صدر اور وزیراعظم کے علاوہ سیاسی جماعتیں بھی جاگ گی ہیں۔ سپریم کورٹ نے سانحہ عباس ٹاوٴن ازخود نوٹس لے لیا، آرمی چیف بھی کراچی میں دوسرئے دن موجود تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 15,15 لاکھ روپے کی امداد سے یا آئی جی اور ڈی آئی جی کو ہٹانے سے کسی کے پیارئے کو واپس لایا جاسکتا ہے ۔ فوج کا کام ہےملک کی بیرونی اور اندرونی سلامتی کو لازمی بنانا، مگر اس حکومت کے دور میں کراچی کی سلامتی کسی کو بھی پیاری نہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چوہدری محمدافتخار فرماتے ہیں کہ سندھ حکومت ناکام ہوچکی ہے، اگراکتوبرکے فیصلے میں حکومت تحلیل کردیتے تو سب ٹھیک ہوجاتا۔

حضرت علی کا قول ہے کہ ”دولت‘ رُتبہ اور اختیار“ ملنے سے انسان بدلتا نہیں، اس کا اصل چہرہ سامنے آ جاتا ہے“ ، اور جب اصل چہرہ بے نقاب ہو جاتا ہے تو ہنستے بستے گھرختم ہو جاتے ہیں۔ اعتماد کی دھجیاں بکھر جاتی ہیں۔ کراچی کی آئےدن کی مصیبتوں نے کم از کم کراچی کے ہر باشندے کو ایک سبق ضرور دیا ہے کہ انکی کسی بھی مصیبت کے وقت کوئی ان کا نہیں ہے۔ انہیں خود اپنی مدد کرنی ہوگی اسلیے اگر کراچی میں امن اور سکون چاہتے ہو تو پھر متحد ہوجاو، ایک وعدہ اپنے آپ سے کرلو کہ فرقہ پرستی اور تعصب سے ہم دور رہینگے۔ یہ حکومت تو اب ختم ہی سمجھو مگر ایک سوال فوج کے سربراہ سے کرنا ہے کہ کیا کراچی کا امن آپ کی ذمیداری نہیں ہے؟ ایک سوال چیف جسٹس چوہدری محمدافتخارصاب سے بھی پوچھنا ہے کہ کراچی کے سلسے میں آپ نے اب تک جو سوموٹو ایکشن لیے ہیں اس سے کراچی کے لوگوں کو کیا فاہدہ ہوا؟ آخر میں ایم کیو ایم کی قیادت سے یہ سوال کرنا ہے کہ چھ مارچ کی دوپہر کو آپنے تڑ تڑ کی جھنکار میں کراچی کو بند کروایا تھااسکی کیا وجہ تھی؟ اور ہاں آپکا شکریہ کہ آپنے کراچی پر جو معاشی پابندی لگائی تھی اسکو چند گھنٹے بعد واپس لے لیا۔ اللہ تعالی ہم سب پر اور پاکستان پر اپنا کرم فرمائے۔ آمین