PDA

View Full Version : تین سوالوں کا ایک جواب



عبادت
12-13-2010, 01:29 AM
سنو اک روایت میرے دوستو
ہے سچی حکایت میرے دوستو

ملا کافر اک عالم دین سے
عزائم لیے اپنے سنگین سے

کہا: مجھ کو مذہب سے انکار ہے
تجھے اس پہ کیوں اتنا اصرار ہے

سوالات کچھ تم سے پوچھوں گا میں
جواب آئے، پھر رب کو پوجوں گا میں

کہاں بس رہا ہے تمہارا خدا
نہ اس کی جھلک ہے نہ اس کا پتا؟

شیاطین جن آگ سے گر بنے
جلیں گے وہ دوزخ میں کس چیز سے؟

اگر فرد عاجز ہے، لاچار ہے
تو کیوں قتل انساں پہ مختار ہے؟

سنے عالم دین نے جب سوال
تو پیدا ہوا اس کے دل میں ملال

جو رنجیدہ ہو کر پکارا اسے
تو مٹی کے ڈھیلے سے مارا اسے

جو تکلیف کا دور جاری ہوا
تو ملحد پہ غصہ بھی طاری ہوا

کہا: میں عدالت میں اب جاؤں گا
سزا دیکھنا تجھ کو دلواؤں گا

وہ قاضی کے دربار میں آ گیا
سنایا عدالت میں سب ماجرا

کہا: عدل کا میں طلب گار ہوں
اور اسلام سے سخت بے زار ہوں

یہ سچا نہیں اس کے دل میں ہے کھوٹ
لگائی ہے اس نے میرے سر پہ چوٹ

یہ الزام سن کر معلم اٹھا
بڑے شوق و جذبے سے اس نے کہا:

کہاں زخم سر پہ ہے تیرے لگا
اگر ہے کہیں سب کو دکھلا ذرا!

نظر تیری تکلیف آتی نہیں
اگرچہ ہے تجھ کو مکمل یقیں

ہواؤں کو محسوس کرتا ہے تو
اگرچہ نہیں دیکھتا ان کو تو

اگر دل کی آنکھوں کو روشن کرے
خدا کی خدائی کا تو دم بھرے

تو مٹی تھا مٹی سے گھائل ہوا
خود اپنے سوالوں سے قائل ہوا

اگر خاک سے زخم آئے تجھے
تو جنات کیوں نہ جلیں آگ سے

اگر قادر انساں ہے انسان پر
تو روکے ذرا نظم شمس و قمر

خدا کی رضا سے یہ مختار ہے
خدا کی یہ قدرت کا شاہکار ہے

دلائل جب اس نے مکمل کیے
تو ملحد کا سر جھک گیا شرم سے

بےباک
12-13-2010, 01:41 AM
بہت ہی شاندار اور مدلل جوابات دئیے ، دل خوش ہوا ، ھاھاھاھاھا اور صرف ایک ڈھیلے میں

این اے ناصر
03-31-2012, 12:46 PM
واہ بہت خوب۔ شکریہ