PDA

View Full Version : نماز



نجم الحسن
03-09-2013, 07:01 PM
نماز کا حکم، معنی، قسمیں، فرضیت کے شرائط
نماز کا حکم
اللہ تعالی نے فرمایا:
حَافِظُواْ عَلَی الصَّلَوَاتِ والصَّلاَۃِ الْوُسْطَی وَقُومُواْ لِلّہِ قَانِتِیْنَ۔
(البقرة:۲۳۸)
ترجمہ: نماز کی پابندی کرو،اور درمیانی نماز کی اور اللہ کے سامنے خشوع خضوع سے کھڑے رہو۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا ارشاد ہے:
أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَنَّ نَھْرًا بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَغْتَسِلُ فِیْہِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسًا ھَلْ یَبْقَیٰ مِنْ دَرَنِہٖ شَیْیٌٔ، قَالُوْا لاَ یَبْقَیٰ مِنْ دَرَنِہٖ شَیْیٌٔ، قَالَ فَذَالِکَ مَثَلُ صَلَوَاتِ الْخَمْسِ یَمْحُوْااللہ بِھِنَّ الْخَطَایَا۔حوا *لہ
(بخاري بَاب الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ ۴۹۷)
ترجمہ: تمہاری کیا رائے ہے کہ تم میں سے کسی کے گھر کے سامنےنہر ہو جس میں ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کا میل کچیل کچھ باقی رہ جائے گا صحابہ نے عرض کیا کہ اس کے میل کچیل میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے گا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہی پانچوں نمازوں کی مثال ہے ، ان سے اللہ تعالی گناہوں کو مٹادیتے ہیں۔
نماز ایک بڑی اہم عبادت ہے ، جو بندے کو اپنے رب سے ملاتی ہے۔ نماز اللہ کیبے شمار نعمتوں کا شکرانہ ہے۔
نماز کے معنی:
نماز کے لغوی اور شرعی معنی
نماز کے لغوی معنی دعا کے آتے ہیں۔حوالہ
الصلاةفي اللغة:الدعاء، (التعريفات:۴۳/ *۱)
نماز کے شرعی معنی:چند مخصوص اقوال اور افعال کا نام ہے جو تکبیر تحریمہ سے شروع کئے جاتے ہیں اور سلام سے ختم کئے جاتے ہیں۔ صلوة کوصلوةاس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس کا اکثر حصہ دعا پر مشتمل ہوتا ہے۔حوالہ
وفي الشريعة:عبارة عن أركان مخصوصة، وأذكار معلومة، بشرائط محصورة في أوقات مقدرة،(التعريفا *ت:۴۳/۱)
نماز کی قسمیں:
(۱) رکوع اور سجدہ والی نماز۔(۲) بغیر رکوع وسجدہ کی نمازاور و ہ نماز جنازہ ہے۔
رکوع اور سجدہ والی نماز کی تین قسمیں ہیں:
(۱) فرض :وہ ہر دن اور رات میں پانچ نماز یں ہیں۔حوالہ
عَنْ طَلْحَةَ بْن عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلَا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنْ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ(ب *خاري بَاب الزَّكَاةُ مِنْ الْإِسْلَامِ ۴۴)
(۲) واجب:وہ وتر اور عیدین کی نماز ہے اور ان نوافل کی قضاء ہے جسے شروعکرنے کے بعد فاسد کردیا ہو اور طوافکے بعد کی دورکعتیں۔ حوالہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا الْوِتْرُ حَقٌّ فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا(ابوداود بَاب فِيمَنْ لَمْ يُوتِرْ ۱۲۰۹) عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى فَأَوَّلُ شَيْءٍ يَبْدَأُ بِهِ الصَّلَاةُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ (بخاري بَاب الْخُرُوجِ إِلَى الْمُصَلَّى بِغَيْرِ مِنْبَرٍ ۹۰۳) وَقَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُصَلِّي لِكُلِّ سُبُوعٍ رَكْعَتَيْنِ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ إِنَّ عَطَاءً يَقُولُ تُجْزِئُهُ الْمَكْتُوبَةُ مِنْ رَكْعَتَيْ الطَّوَافِ فَقَالَ السُّنَّةُ أَفْضَلُ لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبُوعًا قَطُّ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ… عَنْ عَمْرٍو سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَاأَيَقَ *عُ الرَّجُلُ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي الْعُمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ(بخ *اري بَاب صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُبُوعِهِرَكْعَتَيْنِ ۱۵۱۸)
نفل:وہ فرائض اور واجبات کے علاوہ ہیں۔
نماز کی فرضیت کے شرائط:
جب تک تین شرطیں بیک وقت جمع نہ ہو جائیں ، نماز فرض نہیں ہوتی۔
(۱)مسلمان ہونا، کافر پر نماز فرض نہیں ۔حوالہ
ولا تجب عند الحنفية على الكافر، بناء على مبدئهم في أن الكافر غير مطالب بفروع الشريعة، لا في حكم الدنيا ولا في حكم الآخرة (الفقه الاسلامي وادلته شروط وجوب الصلاة:۶۳۷/۱)
(۲) بالغ ہونا، بچے پر نماز فرض نہیں۔حوالہ
وَقَالَ عَلِيٌّ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الْقَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ وَعَنْ الصَّبِيِّ حَتَّى يُدْرِكَ وَعَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ (بخاري بَاب الطَّلَاقِ فِي الْإِغْلَاقِ وَالْكُرْهِ وَالسَّكْرَانِ وَالْمَجْنُونِ الخ۳۱۵/۱۶)
(۳) عقل مند ہونا، پاگل پر نماز فرض نہیں ۔حوالہ
وَقَالَ عَلِيٌّ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ الْقَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ وَعَنْ الصَّبِيِّ حَتَّى يُدْرِكَ وَعَنْ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ (بخاري بَاب الطَّلَاقِ فِي الْإِغْلَاقِ وَالْكُرْهِ وَالسَّكْرَانِ وَالْمَجْنُونِ الخ۳۱۵/۱۶)
جب بچے سات سال کے ہو جائیں تو ماں باپ کو چاہئے کہ وہ بچوں کو نمازکا حکم کریں جب دس سال کے ہوجائیں تو ان پر نماز کے واجب ہونے سے پہلے نماز کا عادی بنانے کے لئے(ضرورت پڑنے پر) ان کو ماریں۔حوالہ
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ (ابوداود بَاب مَتَى يُؤْمَرُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ۴۱۸ *)
http:// *islamicbookslibr *ary.wordpress.c *om/2012/03/07/ *masnoon-namaz-ki *-chalees-hadith *-by-dr-muhammad *-ilyas-faisal/
Masnoon Namaz Ki Chalees Hadith By Dr Muhammad Ilyas Faisal
islamicbookslib rary.wordpress.

نورالعین عینی
03-10-2013, 03:10 AM
جزاک اللہ خیراً کثیراً۔۔۔بہت بہترین انداز اور تفصیل سے نماز کے موضوع پر روشنی ڈالی گئی ہے
اللہ ہم سب کو نماز پابندی سے قائم کرنے کی توفیق دے ۔۔آمین
شکریہ

بےباک
03-10-2013, 11:30 AM
بہت خوب ، جناب نجم الحسن صاحب ،
جزاک اللہ

سرحدی
03-11-2013, 12:09 PM
بہت شکریہ جناب نجم الحسن صاحب!
نماز دین کا ستون اور رسول مقبول نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں کامل طریقے سے نماز ادا کرنے والا بنائے۔