PDA

View Full Version : پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دورحکومت



سید انور محمود
03-18-2013, 04:39 PM
تاریخ: 15 مارچ 2013
از طرف: سید انور محمود
پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دورحکومت
پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹوکو تو شاید اپنی زندگی میں یہ پتہ ہی نہ تھاکہ کل انکے داماد آصف زرداری ہونگے۔ آصف زرداری کی سیاست میں آنے کہ وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ مرحوم بینظیر بھٹو کے شوہر ہیں۔ بینظیر بھٹو کی دونوں حکومتوں کو کرپشن کے الزامات لگاکر ختم کیا گیا تھااور اس میں سے زیادہ الزامات آصف زرداری کی وجہ سے ہی لگے اور اسی وجہ سے اپنے آخری وقت میں بینظیر بھٹو نے انکوگھر میں بٹھایا ہوا تھا۔ مگرآصف زرداری کی خوقسمتی کہ جب بینظیر بھٹو دو ہزار سات میں اپنی خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس آئیں تو دہشت گردی کا شکار ہوگیں۔اس موقعہ پرآصف زرداری نے بینظیر بھٹو کی ایک ان دیکھی وصیت کا اعلان کیا اور اُس وصیت کے مطابق انکے صابزادے بلاول کو پیپلزپارٹی کا چیرمین بنایا گیا اور خودآصف زرداری نے بلاول کی تعلیم کی تکمیل تک اپنے آپ کومعاون چیرپرسن مقرر کر لیا اور اس طرح پیپلز پارٹی جو کبھی بھٹو خاندان کی ملکیت ہوا کرتی تھی اب وہ زرداری خاندان کی ملکیت بن گی۔ فروری 2008کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کی قیادت میں ایک بار پھر "روٹی، کپڑا اور مکان" کا نعرہ لگایا اور بینظیر بھٹو کی شہادت کی وجہ سے عام لوگوں کی ہمدردی کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کو اسقدر اکثریت حاصل نہ تھی مگر اسوقت نواز شریف جو تازے تازے جدہ سے وارد ہوئے تھے اور مشرف فوبیا کا شکار تھے اس خوش فہمی کا شکار ہوئے کہ اگلی باری میری ہوگی آصف زرداری کا اسقدر ساتھ دیا کہ اپنے وزیروں کو صدر جنرل مشرف سے حلف لینے پر بھی اعتراض نہ کیا۔ اور جب تک نواز شریف کی سمجھ میں کچھ آتا آصف زرداری صدربن چکے تھے اور نواز شریف آجتک فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ سن رہے ہیں۔

آج جب پانچ سال کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی مدت پوری ہوگی ہے تو صدر آصف زرداری، وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور انکی کابینہ کے اراکین ، پیپلز پارٹی کے لیڈران اس بات پر خوشی سے پھولے ہوئے ہیں کہ ان کی حکومت نے پانچ سال تک ایک جمہوری حکومت کو چلایا جبکہ دوسری طرف پاکستان کے عوام بھی بہت خوش ہیں کہ ایک انتہای بدعنوان حکومت سے ان کی جان چھوٹی۔ موجودہ پیپلزپارٹی جو اب دراصل زرداری صاحب کی ملکیت میں آچکی ہے اسکا یہ ریکارڈ بنا ہے اس سے قبل کسی سیاسی حکومت نے 1973کے آئین کے تحت پانچ سال کی مدت پوری نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کا پانچ سالہ دور حکومت کا یہ ریکارڈ بھی ہے کہ اس میں پاکستان کی زیادہ تر سیاسی پارٹیاں کسی نہ کسی طریقے سے اقتدار میں شامل رہی ہیں۔اس حکومت کا یہ بھی ریکارڈہے کہ قومی اسمبلی سے متفقہ طور پر منتخب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو چند سیکنڈ کی سزا کے بعد نہ صرف وزارت عظمیٰ بلکہ پانچ سال کے لئے الیکشن لڑنے سے بھی نا اہل قرار دے دیا گیا ۔ دنیا کی سیاسی تاریخ میں میں اس سے پہلے ایسی کوئی مثال موجود نہیں تھی ۔ ایک اور ریکارڈ بھی اسی زرداری حکومت کو جاتا ہے کہ اس سے زیادہ بدعنوان حکومت پاکستان میں اس سے پہلے کوئی نہ تھی۔ گذشتہ پانچ سال کے دوران زرداری حکومت کے دور میں دہشت گردی ، ٹارگیٹ کلنگ، بدترین کرپشن ، بری گورننس، طویل لوڈشیڈنگ ، غربت کیساتھ اندرونی و غیر ملکی قرضوں میں اضافہ ہوا ، مشرف دور کے 34 بلین ڈالر کے قرضے پانچ سال میں ڈبل ہوگے، 62 روپے کا ڈالر اب 100 روپے کا ہے، ملک کے تمام ادارئے تباہ ہوچکے ہیں۔ خود کش دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی یلغار نےکوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے، کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے اسکا وہ برا حال ہے کہ یہ شہر جو کبھی امن کا گہواراہ تھا آج لاقانونیت اور لاشوں کا شہر بن چکا ہے، زرداری حکومت کے پانچ سالہ دور میں کراچی میں دہشت گردی اور ٹارگیٹ کلنگ سے پانچ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان اس شہر میں عام بات ہے۔ سرکاری اور فوجی املاک پر حملے ، فرقہ وارانہ نفرت ، بے روز گاری اور مہنگائی اس حکومت کے تحفے ہیں ۔کہنے کو تو عدلیہ آزاد ہے مگر زرداری حکومت نے عدلیہ کے کسی بھی فیصلے پر کبھی بھی عمل نہیں کیا۔ آصف زرداری، دو وزیراعظم ، وفاقی اور صوبائی وزرا نے ملکر کرپشن اور بری گورننس کے حوالے سے ماضی کے کرپشن کےتمام ریکارڈ توڑڈالے ۔ اربوں روپے کی کرپشن کر کے قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اورملکی معیشت کو مفلوج بناڈالا۔

پیپلز پارٹی پر جب اس کی پانچ سالہ حکومت کی بدترین کارکردگی پر تنقیدکی جاتی ہے جس میں خاص کر مہنگائی، بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ ، ٹارگٹ کلنگ ، دہشت گردی، اغوا برائے تاون اور بھتہ کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ملکی معاشی اور سیاسی تباہی کا تو وہ اپنی آیئنی اصلاحات کا ڈنکہ پیٹتے ہیں اور بڑی ہی ڈھٹائی سے یہ سوال کرتے ہیں کہ حکومت پر تنقید کرنے والے بتائیں کہ دنیا میں کہاں پانچ سال میں سب کچھ ٹھیک ہوسکتا ہے۔ اصل میں انکے کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم جس قدر اس ملک کو نقصان پہنچاسکتے تھے وہ پہنچا دیا لیکن اگر آپ اسقدر بربادی پر بھی ہم سے ناخوش ہیں تو ہمیں پھر آئندہ مزید پانچ سال کے لیے حکومت کرنے کا موقع دیں باقی کسر بھی پوری کر دیں گے۔ راجہ پرویز اشرف تو دعوی کر رہے ہیں کہ ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر جیتیں گے اور ان کی کارکردگی سے ہم سب واقف ہیں۔ مغلوں کے رشتہ دار اور پاکستان کے سب سےزیادہ کرپٹ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی تو فرماتے ہیں کہ ہم نے سب وعدے پورے کر دیے ہیں۔ملک کے عوام نے گذشتہ پانچ سال بڑی اذیت میں گذارئے ہیں یوں سمجھ لیں ایک عام آدمی جو پانچ سال پہلے دس ہزارروپے میں گذارہ کرلیتا تھا آج اسکا گذاراہ پچیس ہزارروپے میں بھی مشکل سے ہورہا ہے۔ اس سال انتخابات ہونگے لٹیرئے اپنا وہ ہی پرانا کھیل دوہراینگے ، کہیں تعصب کو ابھارینگے، کہیں فرقہ پرستی کو اور کہیں برادری کا واسطہ ہوگا، کہیں اپنے آقا ہونے کا اظہار بھی ہوگا، کہیں اپنے آپ کو مظلوم کہا جائے گا اور کہیں اپنے آپ کو لبرل کہتے نظر آینگے۔ مذہب سے بیزار سیکولر بھی ہونگے اور مذہب کے ٹھیکدار بھی۔ فیصلہ اب ہم نے کرنا ہے اور اگر واقعی غیرجانبدارانہ انتخابات ہوئے تو پھروقت آ گیا ہے کہ ہم ان کو اپنا رہنما چنیں جو واقعی عوام کے لیے اور پاکستان کے لیے کچھ کرنا چاہتےہیں۔ آج ملک کا مستقبل ہمارئے ہاتھوں میں ہے یہ موقعہ پانچ سال بعد دوبارہ ملے گا، لہذاہمیں ووٹ دیتے وقت یہ ضرور سوچنا ہے کہ ہمارایہ ایک ووٹ قوم کا مستقبل ہے۔ سوچیں کیا ہم گذشتہ پانچ سال کو دہرانا چاہتے ہیں یا پھرہم اپنے ملک کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں فیصلہ ہمارئے ہاتھ میں ہے۔