PDA

View Full Version : الیکشن 2013 ہزاروں خواتین مخصوس نشستوں پر میدان میں آگئیں



بےباک
03-29-2013, 07:21 AM
الیکشن2013ءکیلئے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہزاروں خواتین انتہائی جوش وخروش سے مخصوص نشستوں پر اسمبلی رکنیت حاصل کرنے کیلئے میدان عمل میں آگئیں۔ دوسری جانب تمام پارٹیاں ترجیحی فہرستوں کی تیاری میں اعلیٰ تعلیم یافتہ، پروفیشنلز، ورکرز اور پارلیمانی تجربہ رکھنے والی خواتین کے علاوہ امیدواروں کے خاندانی بیک گراو¿نڈ کو ترجیح دے رہی ہیں جبکہ براہ راست الیکشن لڑکر اسمبلیوں تک پہنچنے کے خواب کو عملی شکل دینے کی آرزومند خواتین بھی بڑی تعداد میں میدان میں موجود ہیں۔ آجکل عام انتخابات یا مخصوص نشستوں کے ذریعے اسمبلیوں میں پہنچنے کی امیدواران الیکشن کمشن سے کاغذات نامزدگی وصول کرنے کے بعد انتہائی جوش وخروش سے دستاویزات کی تیاری میں مصروف ہونے کے ساتھ ساتھ بے تابی سے ترجیحی فہرستوں کے منظر عام پر آنے کی منتظر ہیں۔ ادھر بڑی سیاسی جماعتیں قومی اسمبلی کی نشستوں کیلئے پنجاب سے 35سے زائد جبکہ پنجاب اسمبلی کیلئے 66سے زائد خواتین کے نام الیکشن کمشن کو بھجوا رہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق خواتین کی مخصوص نشستوں پر ملک بھر سے مسلم لیگ (ن)، پیپلزپارٹی، ق لیگ، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی سمیت متعدد پارٹیوں سے وابستہ خواتین اسمبلی رکنیت کیلئے درخواستیں جمع کروانے کے بعد انٹرویوکمیٹیوں کے روبرو اپنی کارکردگی کے مظاہرے کیلئے فائلیں بھی پیش کر رہی ہیں۔ ان میں سابق خواتین ارکان اسمبلی، عہدیداران، پارٹی ورکرز اور پروفیشنلزکے علاوہ پارٹی رہنماو¿ں، سابق ارکان اسمبلی اور عہدیداروں کی بیگمات، بہنیں، بھتیجیاں ، بھانجیاں بھی شامل ہیںجبکہ معلوم ہوا ہے کہ بعض پارٹیوں میں امیدواران کے انٹرویوز اور ناموں کی سکروٹنی کے عمل میں ان خواتین کا بھی مرکزی کردار رہا ہے جو خود بھی کسی نشست کیلئے امیدوار ہیں۔ سیاسی جماعتوںکی انٹرویو کمیٹیوں نے امیدواروں کے نام شارٹ لسٹ کرنے کے بعد پارلیمانی بورڈز کو بھجوا دئےے ہیں جہاں سے ترجیحی فہرست 29مارچ تک الیکشن کمشن کو بھجوا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے پروسیجر کو مختصر کرکے ترجیحی فہرست الیکشن کمشن کو بھجوادی ہے ۔ فہرست میں پنجاب سے صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے 51 اور قومی اسمبلی کی نشست کیلئے 21خواتین کے نام شامل ہیں۔ پی پی پی کی طرف سے قومی اسمبلی کیلئے بھیجے گئے ناموں میںبیلم حسنین، رخسانہ بنگش، بشریٰ اعتزاز، عریشہ اکرم، نرگس فیض ملک، مہرین انور راجہ، فوزیہ حبیب، فرزانہ راجہ، یاسمین رحمن، ثمینہ گھرکی، شہناز وزیر علی اور پنجاب اسمبلی کیلئے فائزہ ملک، عائشہ مشتاق، راحیلہ بلوچ، شاہدہ جبین، فرخندہ ملک، ناصرہ شوکت، نورالنسائ، سکینہ چودھری، بشریٰ نقوی، نیلم اعوان، رخسانہ بشیر ودیگر شامل ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی انٹرویو کمیٹی نے پنجاب سے قومی وصوبائی نشستوں کیلئے خواتین کی مخصوص نشستوں کیلئے900سے زائد امیدواروں کے انٹرویوز کے بعد نام شارٹ لسٹ کرکے پارلیمانی بورڈ بھجوا دئےے ہیں۔انٹرویو کمیٹی نے مرکزی صدر شعبہ خواتین سینیٹر نزہت عامر صادق کی سربراہی میں انٹرویوز مکمل کئے۔ انٹرویو کمیٹی کی دیگر ممبران وزیراعلیٰ کی سابق مشیر ذکیہ شاہنواز، سینیٹر نجمہ حمید اور انوشہ رحمن ہیں جبکہ مریم نواز شریف بھی انٹرویوزکے موقع پر موجود رہیں۔ ق لیگ کی انٹرویو کمیٹی نے پنجاب اسمبلی کی نشستوںکیلئے 40 خواتین کے نام بھجوائے ہیں ان میں سابق ارکان ثمینہ خاور حیات، ماجدہ زیدی، آمنہ الفت،کنول نسیم، سیمل کامران، خدیجہ فاروقی، ڈاکٹر سامعہ امجد، رابعہ رحمن ودیگر نام شامل ہیں۔ تحریک انصاف سے قومی اسمبلی کیلئے 60 خواتین اور پنجاب اسمبلی کی نشستوں کیلئے 80 خواتین کے نام پارلیمانی بورڈ کو بھیجے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کیلئے فوزیہ قصوری، سلونی بخاری، یاسمین راشد، عندلیب عباس ، عائلہ ملک، مہناز رفیع، شاہینہ اسد، نیلم شاہ، نفیسہ خٹک، نسیم حیات ودیگر کے نام شامل ہیںجبکہ پنجاب اسمبلی کیلئے شعوانہ بشیر، سعدیہ سہیل، طلعت نقوی، نوشین معراج، نیلم اشرف، درشہوار نیلم، نزہت مشہدی ودیگرشامل ہیں۔ جماعت اسلامی حلقہ خواتین نے نام پارلیمانی بورڈ کو دے دئےے۔ قومی کیلئے 8 اور صوبائی کیلئے 15 نام ہیں ان میں ڈاکٹر رخسانہ جبین، کوثر فردوس، سابق امیر قاضی حسین احمدکی صاحبزادی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، امیر جماعت اسلامی کی اہلیہ عائشہ منور، سکینہ شاہد، نزہت بھٹی، ثمینہ بشیر جبکہ صوبائی نشستوں کیلئے راحت بشیر، فوزیہ محبوب، اساءضیا، ثمینہ روحی، عائشہ عثمان، شازیہ شیرافگن، عظمیٰ نوید، راشدہ خانم ودیگر شامل ہیں۔ دریں اثنا معلوم ہوا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کی امیدواران انٹرویوز کو”خانہ پری“ قرار دے کراپنی اپنی پارٹی کی انٹرویوکمیٹی پر اقربا پروری کا الزام عائد کرکے شدید احتجاج کرتی رہیں۔
رفیعہ ناہید اکرام- نوائےوقت (http://www.nawaiwaqt.com.pk/lahore/28-Mar-2013/189605)