PDA

View Full Version : نگران حکومت سے الیکشن کمیشن مایوس



بےباک
04-05-2013, 10:16 AM
نگراں حکومت ہدایات نظر انداز کررہی ہے، الیکشن کمیشن مایوس



http://beta.jang.com.pk/images/headlinebullet.gif



http://beta.jang.com.pk/shim.gif


http://beta.jang.com.pk/images/dot.jpg


http://beta.jang.com.pk/shim.gif


http://images.thenews.com.pk/jang/80540_l.jpg




اسلام آباد (انصار عباسی) معلوم ہوا ہے کہ نگراں حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی اس لئے آئندہ انتخابات میں دھاندلی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ کمیشن کے مصدقہ ذرائع نے دی نیوز کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور ممبران مایوس ہیں کیونکہ نگراں حکومت الیکشن کمیشن کے احکامات پر دھیان نہیں دے رہی اور کمیشن کی رائے ہے کہ جس شخص کو کمیشن نے نگراں وزیراعظم نامزد کیا تھا اب وہ کسی اور کے اشاروں پر ناچ رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن شدید مایوس ہے کیونکہ نگراں حکومت الیکشن کمیشن کے احکامات پر عمل کی بجائے ان کی پروا تک نہیں کر رہی۔ کمیشن ممبران نے اپنی بات چیت میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نگراں وزیراعظم نے وہ انتظامی تبدیلیاں نہیں کیں جن کے احکامات الیکشن کمیشن نے جاری کیے تھے۔ پنجاب کے چیف سیکریٹری ناصر کھوسہ کو سندھ کا چیف سیکریٹری لگانے کی بجائے فنانس سیکریٹری لگانے پر الیکشن کمیشن مایوس ہے کہ اچھی ساکھ کے حامل افسر کو سندھ کا انتظامی سربراہ نہیں بنایا گیا حالانکہ یہ افسر اپنے میرٹ، غیر جانبداریت اور ساکھ کی وجہ سے مشہور ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیشن نے ناصر کھوسہ کا بطور سیکریٹری خزانہ تقرر مسترد کردیا ہے اور اب نگراں حکومت سے کہا ہے کہ انہیں خیبرپختونخوا کا چیف سیکریٹری لگایا جائے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والے کمیشن کے ممبر نے اپنے ساتھی ممبران کو بتایا کہ ناصر کھوسہ کی سندھ کے چیف سیکریٹری کے طور پر نامزدگی سے کئی لوگ پریشان ہوگئے تھے جبکہ صوبے کی بیوروکریسی اس حد تک سیاست زدہ ہے کہ وہ دو سرکردہ جماعتوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کیلئے موزوں ہے۔ الیکشن کمیشن نے اب نگراں وزیراعظم سے خیبرپختونخوا کے چیف سیکریٹری غلام دستگیر خان کو سندھ کا چیف سیکریٹری لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نہیں چاہتا کہ سندھ کے موجودہ چیف سیکریٹری راجہ محمد عباس اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں کیونکہ اس بات کا خطرہ ہے کہ ان کی موجودگی میں آئندہ الیکشن کے شفاف انعقاد کی خاطر انتظامیہ کی غیر جانبداریت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعظم کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے شکوک و شبہات کی ایک وجہ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک اشرف وتھرا کا اپنے عہدے پر بدستور کام کرنا بھی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق کمیشن کے ارکان کو اب اپنی بے بسی کا احساس ہو رہا ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق ہمارے پاس اپنی پسند سے تبادلے کرنے کا اختیار نہیں ہے، ہم نے اپنے مجوزہ قانون میں اس طرح کے تبادلے کرنے کا اختیار مانگا تھا۔ لیکن اس قانون کو سابقہ اور موجودہ حکومت نے نظرانداز کردیا۔




جنگ 5 اپریل 2013