PDA

View Full Version : صلہ اس دوستی کا کیا چکائیں



نورالعین عینی
04-07-2013, 02:19 AM
غزل

حسیں اک کیفیت طاری بہت ہے
تیری یادوں میں سرشاری بہت ہے

دلِ مضطر مگن رہنے لگا اب
کہ خود سے گفتگو جاری بہت ہے

یہ اندازِ سخن کیا خوب صاحب!۔
تیری باتوں میں پرکاری بہت ہے

صلہ اس دوستی کا کیا چکائیں
کہ ہم پہ قرض یہ بھاری بہت ہے

تم اپنی زندگی میں لوٹ جاؤ
ہمیں غم کی وفاداری بھت ہے

کبھی اس دل کی وسعت جھانک دیکھو
وہ جس کے گھر میں ناداری بہت ہے

اسے اپنی وفائیں نذر کر دوں
وہ جس میں نازِ خود داری بہت ہے

نہ عینی قدر اسکی کر سکے ہم
اگرچہ زندگی پیاری بہت ہے

بےباک
04-07-2013, 02:56 PM
اسے اپنی وفائیں نذر کر دوں
وہ جس میں نازِ خود داری بہت ہے

نہ عینی قدر اسکی کر سکے ہم
اگرچہ زندگی پیاری بہت ہے.

بہت ہی خوب زبردست ، ایسی غزلیں ضرور ادھر لکھا کریں ،
جزاک اللہ

نورالعین عینی
04-07-2013, 04:49 PM
اسے اپنی وفائیں نذر کر دوں
وہ جس میں نازِ خود داری بہت ہے

نہ عینی قدر اسکی کر سکے ہم
اگرچہ زندگی پیاری بہت ہے.

بہت ہی خوب زبردست ، ایسی غزلیں ضرور ادھر لکھا کریں ،
جزاک اللہ



بہت بہت شکریہ بےباک بھائی ۔کلام پسند کرنے کے لیے
خوش رہیں

نگار
04-08-2013, 12:10 AM
غزل



صلہ اس دوستی کا کیا چکائیں
کہ ہم پہ قرض یہ بھاری بہت ہے

تم اپنی زندگی میں لوٹ جاؤ
ہمیں غم کی وفاداری بھت ہے





بہترین شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا بہت بہت شکریہ

نورالعین عینی
04-08-2013, 03:45 AM
بہت ممنون ہیں جناب کے، سراہنے کے لیے۔۔۔خوش رہیں