PDA

View Full Version : ”دی مین ود دی گولڈن آرم“



تانیہ
11-24-2010, 03:53 PM
ایک 74 سالہ آسٹریلوی اپنا نایاب خون گزشتہ 56 سال سے انسانی زندگی کو بچانے کیلئے عطیہ کر رہا ہے۔ جیمز ہیریسن 984 مرتبہ خون کا عطیہ دیکر 22 لاکھ سے زائد بچوں کو نئی زندگی دے چکا ہے۔ جیمز کے خون میں شامل ایک بے رنگ سیال مادہ (پلازمہ) میں ایک ایسا ترپا قچہ (انٹی باڈی) موجود ہے جو بچوں میں ایک خاص قسم کی بیماری کیلئے تریاق ہے اور بچوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچاتا ہے اس بیمار ی میں خون کے سرخ ذرات خطرناک حد تک کم ہو جاتے ہیں انہوں نے بے شمار ماﺅں کو صحت مند بچے جنم دینے کے قابل بنایا ہے اور ان خوش نصیب ماﺅں میں خود ان کی بیٹی ٹریسی بھی شامل ہے۔ جو اپنے والد کے خون کی بدولت ایک صحت مند بچے کو جنم دے سکی۔جیمز 18 سال کی عمر سے ہر چند ہفتے بعد اپنا خون عطیہ کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے خون کا عطیہ دینے کا سلسلہ شروع کیا توان کی زندگی کو اتنا قیمتی سمجھا گیا کہ 10 لاکھ آسٹریلوی ڈالر کے عوض ان کی زندگی کا بیمہ کر لیا گیا اس کے ساتھ ہی انہیں ”دی مین ود دی گولڈن آرم“ کا خطاب بھی ملا۔ ان کے خون سے ایک ایسی ویکسین تیار کی گئی جسے انٹی ڈی کہتے ہیں جیمز نے کہا کہ میں نے کبھی خون کا عطیہ دینا بند کرنے کا نہیں سوچا اور یہ خیال کبھی میرے ذہن میں آ نہیں سکتا۔ اس کیلئے 14 سال کی عمر میں جب میں ہسپتال میں داخل تھا اور میرے سینے کی ایک بڑی سرجری کی جا رہی تھی۔ تو مجھے 13 لٹر خون کی ضرورت پڑی۔ میں تین ماہ ہسپتالوں میں رہا۔ اور کچھ لوگوں کی طرف سے خون کے عطیہ کی وجہ سے میری جان بچ گئی۔