PDA

View Full Version : بنیے کا بیٹا اورمولانا فضل الرحمان۔ ایک کہانی ایک حقیقت



سید انور محمود
04-10-2013, 12:05 PM
تاریخ: 9 اپریل 2013
از طرف: سید انور محمود

بنیے کا بیٹا اورمولانا فضل الرحمان۔ ایک کہانی ایک حقیقت



پتہ نہیں آپ میری اس بات سے متفق ہونگے یانہیں کہ اگلے وزیراعظم نواز شریف ہونگے۔ اس بات کا یقین مھجےمولانا فضل الرحمان کی وجہ سے ہے،کیوں؟ اسکا جواب آخر میں۔

پرانے زمانے میں ایک کہاوت بڑی مشہور تھی کہ"بنیے کا بیٹا ہے کچھ فاہدہ دیکھ کر ہی گرا ہوگا"۔ایک بنیے کا بیٹا پانچ پیسےکاتیل لینے گیا، واپسی میں ایک جگہ گر گیا، کسی نے آکربنیے کو بتایا کہ آپکا بیٹا تیل لاتے ہوئے گر گیا ہے اور تیل بھی گرگیا ، بنیے نے جواب دیا وہ بنیے کا بیٹا ہے کچھ فاہدہ دیکھ کرگراہوگا۔ جب بیٹا واپس آیا تو اُس نے بتایا، ابا جب میں واپس آرہا تھاتو راستے میں ایک روپیہ پڑا تھا، اگر میں اٹھاتا تو سب دیکھ لیتے اسلیے میں وہاں ایسے گرا جیسے ٹھوکر لگی ہو، پانچ پیسے کا تیل تو گرا مگر میں نے ایک روپیہ اٹھا لیا۔ بنیے نے کہا مجھے معلوم تھا کہ میرا بیٹا کچھ فاہدہ دیکھ کر ہی گرا ہوگا۔

جنرل ایوب خان کا 1964 میں صدارتی انتخاب کا مقابلہ محترمہ فاطمہ جناح سے تھا اور ملک بھر میں اتفاق رائے یہ تھا کہ اگر ایوب خان عہدے سے علیحدہ ہوکر صدارتی انتخاب میں حصہ لیں گے تو ہار جائیں گے۔ آئین کے تحت صدر مملکت کے عہدے پر رہتے ہوئے ایوب خان دوبارہ صدر مملکت بننے کے لئے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے تھے۔ البتہ دو تہائی اکثریت کی حمایت سے آئین میں ترمیم کرکے وہ اس آئینی پابندی کو ترمیم کے ذریعے ختم کر سکتے تھے ۔ ایوب خان کو ایوان میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لئے جن دو ووٹوں کی ضرورت تھی ان میں ایک ووٹ مولانامفتی محمود کا بھی تھا۔ مولانا مفتی محمود نے ایوب خان کو ووٹ دیا اور بعد میں اعتراض کرنے والوں کو بتایا کہ اگر ایوب خان صدارت چھوڑ کرانتخابات لڑتے تو محترمہ فاطمہ جناح جیت کر پاکستان کی صدر بن جاتی اور اسلامی نقطہ نگاہ سے عورت کا سربراہ مملکت بن جانا جائز نہیں ہے۔ انیس سو ستر کے انتخابات میں مولانا مفتی محمود کی جماعت جمعیت علمائے اسلام نے سرحد [موجودہ خیبر پختونخواہ] اسمبلی میں چار نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور ایک غیر جمہوری مطالبہ پیش کیا کہ وہ ایسی جماعتوں کی حمایت کریں گے جو انہیں سرحد کا وزیر اعلی بنائیں گی۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اس وقت صوبائی اسمبلی کے کل اراکین کی تعداد چالیس تھی اور چار اراکین کے ساتھ مفتی محمود وزیر اعلیٰ بنانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کا نام نیشنل عوامی پارٹی تھا، عبد الغفار خان بھی زندہ تھے اور ولی خان بھی مگرسیاسی حالات کی وجہ سے مفتی محمود کا مطالبہ ماننےپرمجبور تھے لہذا مفتی محمود وزیر اعلیٰ بن گئے۔ جنرل ضیاالحق نے 1977 میں حکومت پر قبضہ کیا تو اُس نے پاکستان قومی اتحاد کی جماعتوں کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دی تو جمعیت علمائے اسلام نے اسکو قبول کرلیا اور اسکےتین وزیر جنرل ضیاالحق کی حکومت میں شامل ہوگئے۔

مفتی محمود کی 1980 میں وفات کے بعد جمعیت علمائے اسلام کی قیادت کے معاملے پر جھگڑا ہوگیا اور جمعیت کے دو گروپ بن گئے جس میں سے ایک کے سربراہ مولانافضل الرحمان بنے اور دوسرئے گروپ کے سربراہ مولانا سمیع الحق بنے۔ جنرل ضیاالحق کے 1985 کےغیر جماعتی انتخابات میں بھی جمعیت علمائے اسلام ف نے حصہ لیا جبکہ اُس وقت کی بڑی سیاسی جماعتوں نے اس میں حصہ نہیں لیا تھا ۔مولانا فضل الرحمان نے اپنے والد مولانا مفتی محمود کی سنت کی خلاف ورزی کرتے ہوے 1994 میں بینظیربھٹو کی پیپلز پارٹی سے اتحادکرلیااور ایک عورت کی حکومت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اُس کے اتحادی بھی بنے۔ بینظیربھٹونے مولانا کو خارجہ امور کی کمیٹی کا چیرمین بنادیا تھا۔ امور خارجہ کی الف ب سے ناواقف مولانا نے جسطرح اس کا استمال کیا اسکی کوئی مثال نہیں ملتی، مولانا نے 1994 میں صرف ایک ماہ کے عرصے میں بے انتہا دورئے کیے جس پر حکومت کے 6 لاکھ 35 ہزار روپے سے زیادہ خرچ ہوئے۔ مولانا فضل الرحمان کو مولانا ڈیزل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ بینظیربھٹو کی حکومت کے دوران مولانا بینظیربھٹو سے ڈیزل افغاستان بھیجنے کے لیے پرمٹ لیاکرتے تھے یہ ہی وجہ ہے بینظیربھٹو اور پیپلز پارٹی کے لوگ اپنی نجی محفلوں میں انکو مولانا ڈیزل کہا کرتے تھے۔

پرویزمشرف کی سیاسی غلطیوں کے دوران ہی 2008 کے انتخابات ہوئے۔اس انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کاشیرازہ بکھر چکا تھا لہذا علاوہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت کے متحدہ مجلس عمل کی کسی جماعت نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا، چونکہ 2008 میں مولانا کی جماعت جمعیت علمائے اسلام ف کو فوجی قیادت کی مدد بھی حاصل نہیں تھی اسلیےمولانا فضل الرحمن کو قومی اسمبلی کی 7 اور صوبائی میں خیبر پختونخواہ میں 14، بلوچستان میں 10 اورپنجاب میں صرف دو نشستیں ملیں۔ شاید بہت کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہو کہ 2008 میں مولانا کو ڈیرہ اسمائیل خان سے شکست ہوئی تھی جو ان کی آبائی سیٹ ہے، مولانا بنوں سےکامیاب ہوئے تھے۔ اگرچہ مولانا کی جماعت 2008 کےانتخابات میں کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کرپائی تھی مگر مسلم لیگ ن کی حمایت ختم ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کو حکومت قائم رکھنے کے لیےآصف زرداری اور مولانا کی دوستی بہت کام آئی۔ مولانا نہ صرف 2008 میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کے اتحادی بن گے بلکہ کشمیر سے متعلق خصوصی کمیٹی کی چیئرمین شِپ حاصل کی، مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تو وہ کچھ نہ کرسکے لیکن اس چیئرمین کے زریعے اپنے معاشی معاملات بہتر کرتے رہے۔ وہ، اُن کے بھائی اور اُن کی پارٹی کے ممبران حکومت کے اتحادی ہونے کے ناطے تمام مراعات بلکہ کچھ زیادہ ہی حاصل کرتے رہے، بلوچستان کا ہر ممبر تو وزیر تھا لہذا جو حاصل نہ ہوا ہو وہ کم۔ مولانا فضل الرحمان کی سیاسی چالوں کا تو ہر کوئی معترف ہے،2010 میں اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ کے حصول کیلئے مولانا نے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا ڈرامہ رچا کر کامیابی سے مولانا شیرانی کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ حاصل کرلی۔ اس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی سے گلگت بلتستان کی گورنر شپ کا مطالبہ کیا تھا لیکن ان کے دوست آصف زرداری نے ان کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ گلگت بلتستان میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت تھی۔ مولانا فضل الرحمان کا گلگت بلتستان کی گورنر شپ کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو وہ کچھ عرصے بعد حکومت سے علیدہ ہوگے، شروع شروع میں تو حکومت نے مولانہ کومنانے کی کوشش کی مگرجب وہ اپنے مطالبات پر اڑے رہے تو آصف زرداری نے بھی اُنکی پرواہ نہیں کی، اور اسطرح پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کا اتحاد ختم ہوا۔

پیپلز پارٹی کی گذشتہ پانچ سال میں جو کاکردگی رہی اُس سے ہر ایک واقف ہے ۔ گذشتہ پانچ سال پیپلز پارٹی کےدور حکومت میں دہشت گردی ، ٹارگیٹ کلنگ، بدترین کرپشن ، بری گورننس، طویل لوڈشیڈنگ، غربت کیساتھ اندرونی وغیرملکی قرضوں میں اضافہ ہوا۔ خود کش دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ کی یلغار نےکوئٹہ اور پشاور جیسے بڑے شہروں کو درہم برہم کرکے رکھ دیا ہے۔ ان تمام حالات کی وجہ سے پیپلز پارٹی اور اُس کے رہنما اپنی حکومت کا وقت ختم ہونے سے پہلے ہی سیاسی طور پر ختم ہوچکے تھے۔ مولانا فضل الرحمان انتہائی چالاک اورمعاملہ فہم سیاستدان ہیں، اپنی سیاسی پوزیشن کے بارئے میں بھی وہ اچھی طرح جانتے ہیں، آنے والے انتخابات میں اپنی کامیابی کے لیے پہلے تو انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے مردہ گھوڑئے میں جان ڈالنے کی کوشش کی مگر انکے پرانے اتحادی ان کی چال میں نہ آئے۔ مولانا فضل الرحمان بھی بنیے کے بیٹے کی طرح تیل لینے جارہے تھے یعنی سیاسی ہاتھ پیر ماررہے تھے کہ اچانک دسمبر 2012 میں علامہ طاہر القادری پاکستان آئے اورپاکستانی سیاست پر چھاگئے اورجب جنوری 2013 میں علامہ نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو پاکستان کی سیاست میں ایک بھونچال آگیا۔ نوازشریف کو اپنی آتی ہوئی باری دور جاتی نظر آئی تو انہوں نے ایک کانفرنس میں ان جماعتوں کو بلالیاجو یا تو حکومت مخالف تھیں یا پھر وہ علامہ طاہر القادری کے دھرنے کے خلاف تھیں ۔ مولانا فضل الرحمان بھی اس کانفرس میں شامل تھے۔چار دن بعد علامہ طاہر القادری کا دھرنا ختم ہوگیا اوراسکے ساتھ ساتھ علامہ کی سیاست بھی ختم ہوگی۔

شروع میں میں نے لکھا کہ "پتہ نہیں آپ میری اس بات سے متفق ہونگے یانہیں کہ اگلے وزیراعظم نواز شریف ہونگے۔ اس بات کا یقین مھجےمولانا فضل الرحمان کی وجہ سے ہے،کیوں؟" اسکا جواب یہ ہے کہ شاید مولانا کی تیز آنکھوں نے بنیے کے بیٹے کی طرح وہ روپیہ نواز شریف کی شکل میں دیکھ لیا ہے۔ ایسی وجہ سے نہ وہ اب زرداری کے دوست ہیں اور نہ ہی اپنے پرانے اتحادیوں کے اتحادی۔ بنیے کے بیٹے کی طرح وہ سیاسی ٹھوکر کھاکر مسلم لیگ ن سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ بنیے نے کہا تھا مجھےمعلوم ہے کہ میرا بیٹا کچھ فاہدہ دیکھ کرہی گرا ہوگا، مولانا مفتی محمود کے بیٹے مولانا فضل الرحمان کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی کوشش اس امید پر ہی ہوگی کہ اگلے وزیراعظم نواز شریف ہونگے۔ بنیے کے بیٹے کی داستان صرف ایک کہانی ہے، مگرمولانا فضل الرحمان کی داستان ایک حقیقت ہے۔

سرحدی
04-11-2013, 10:07 AM
سید انور محمود صاحب!
ایک مرتبہ پہلے بھی اسی طرح کا ایک مضمون آپ نے پوسٹ کیا تھا اور میں نے ایک سوال پوچھا تھا کہ محترمی! آپ ہی بتادیں کہ اس وقت پاکستان میں کون سی سیاسی جماعت، شخصیت ایسی ہے جو ملک کے ساتھ مخلص ہو آپ نے جواب نہیں دیا۔
محترم! اعتراض کرنا تو سمجھ میں بھی آیا اور پڑھ بھی لیا، لیکن اندھیروں، غیر یقینی کی صورتحال میں گری ہوئی اس قوم کو کوئی راہ بھی تو دکھادیں کہ وہ کون سا راستہ اختیار کریں؟!!
یہ تو ہم سب سمجھ رہے ہیں، دیکھ رہے اور علم بھی رکھتے ہیں کہ گزشتہ 65 سالوں کے درمیان پاکستان کی قسمت کو چمکانے والی حکومت قائم نہ ہوسکے، یہ رونا جو آپ نے رویا ہے ہم پاکستان بننے کے بعد سے اب تک رورہے ہیں۔ یہ وقت ایسا ہے کہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو کوئی راستہ دکھایا جائے نا کہ ان کو مزید مایوسیوں میں دھکیلا جائے۔ مولانا فضل الرحمن، نواز شریف، زرداری اور اسی طرح کے دوسرے نام لیتے چلے جائیں، آپ کو اطمینان قلب کسی پر بھی نہیں تو محترم پھر ہم کس کے پیچھے چلیں؟ جماعت اسلامی سے آپ خائف ہیں، عمران خان کیپوزیشن اتنی مستحکم نہیں کہ وہ حکومت بناسکیں، زرداری کی جماعت کو آپ نے پچھلے پانچ سال میں آزمالیا، نواز کو بھگوڑا کہہ کر رد کرچکے ہیں، جماعت اسلامی کو امریکی جماعت ڈکلئیر کرچکے ہیں، تو بھائی یہاں رہ کون جاتا ہے؟ کیا اآپ بھی طاہر القادری کے ایجندے پر چلتے ہوئے الیکن کے التوا کا حصہ تو نہیں ہیں؟؟ اللہ تعالیٰ ہمیں مخلص ایماندار سیاست دان، قائدین اور اسلام و پاکستان کے خیر خواہ نصیب فرمائے۔
آخر میں ایک بات عرض کرتا چلوں۔۔ محترم! ایک کلمہ گو مسلمان کی عزت و شرف اللہ تعالیٰ کے یہاں بہت محبوب ہے، اگر سارے دنیا کے کافر کو اُن کی اچھائیوں میں اکھٹا کرلیا جائے اور ایک مسلمان کو ان کے مقابلے میں کھڑا کردیا جائے تو بھی ایمان، اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر وحدانیت پر یقین رکھنے والے مسلمان کی عزت، شرف اور تکریم ان سب کافروں کے مقابلے میں پھر بھی تسلیم کی جائے گی۔
مثال کسی اور چیز کی بھی دی جاسکتی ہے، بنیے کا بیٹا بنیا ہوگا اور مسلمان کا بیٹا مسلمان، جہاں پر اخلاقی گراوٹ اس حد تک ہوجائے کہ اسلام اور مسلمان ہونے سے اتنی گھن آنے لگے تو پھر بیٹھ کر کرتے رہیں انتظار یقین جانیں ایسے ہی مسلط ہوں گے جن کے میں اور آپ پچھلے 65 سالوں سے ڈسے ہوئے ہیں۔۔

سید انور محمود
04-11-2013, 11:32 PM
محترم سرحدی صاحب
اسلام علیکم
میرئے دونوں مضمونوں پر تبصرے کا شکریہ - آپ کے نکات بہت اہم ہیں لہذا میں ان دونوں کا جواب اپنے ایک مضمون کے ذریعے دونگا۔تھوڑا سا انتظار کرلیں۔
ایک مرتبہ پھر آپکا بہت بہت شکریہ۔

سید انور محمود
04-13-2013, 09:01 PM
محترم سرحدی صاحب
اسلام علیکم
پہلے میرا ارادہ تھا اور میں نے آپکو لکھا بھی تھا کہ میں ایک مضمون کے زریعے آپکو جواب دونگا۔ لیکن لگتا ہے کہ ابھی اُس میں ٹائم لگے گا، کیونکہ جناب میں جو کچھ بھی لکھتا ہوں، ہر طریقے سے اسکو کنفرم کرتا ہوں۔
میرئے ایک مضمون " طالبان دہشتگردوں کے پیٹی بند بھائی" پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے مجھ سے سوال کیا:

"محترم پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ کی نظر میں اس وقت پاکستان کے ساتھ مخلص کون ہیں؟ عوام سے لے کر فوج تک اور پھر فوج سے لے کر سیاستدانوں، مذہبی رہنماوں تک کو تو آپ نے داغ دار کردیا! اب آپ بتائیں کہ اس ملک کے ساتھ کون مخلص ہے؟ پہلے اگر اس بات کی وضاحت ہوجائے کہ آپ کا کیا ذہن ہے، کیا چاہتے ہیں، کیسا اسلام اور کیسا پاکستان دیکھنے کے خواہاں ہیں تو بات کرنے میں آسانی بھی ہوگی اور سمجھنے سمجھانے کی بات بھی ہوسکے گی"۔
میرئے اس مضمون "بنیے کا بیٹا اورمولانہ فضل الرحمان ۔ ایک کہانی ایک حقیقت" پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا "یہ تو ہم سب سمجھ رہے ہیں، دیکھ رہے اور علم بھی رکھتے ہیں کہ گزشتہ 65 سالوں کے درمیان پاکستان کی قسمت کو چمکانے والی حکومت قائم نہ ہوسکے، یہ رونا جو آپ نے رویا ہے ہم پاکستان بننے کے بعد سے اب تک رورہے ہیں۔ یہ وقت ایسا ہے کہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو کوئی راستہ دکھایا جائے نا کہ ان کو مزید مایوسیوں میں دھکیلا جائے۔ مولانا فضل الرحمن، نواز شریف، زرداری اور اسی طرح کے دوسرے نام لیتے چلے جائیں، آپ کو اطمینان قلب کسی پر بھی نہیں تو محترم پھر ہم کس کے پیچھے چلیں؟ جماعت اسلامی سے آپ خائف ہیں، عمران خان کی پوزیشن اتنی مستحکم نہیں کہ وہ حکومت بناسکیں، زرداری کی جماعت کو آپ نے پچھلے پانچ سال میں آزمالیا، نواز کو بھگوڑا کہہ کر رد کرچکے ہیں، جماعت اسلامی کو امریکی جماعت ڈکلئیر کرچکے ہیں، تو بھائی یہاں رہ کون جاتا ہے؟ کیا اآپ بھی طاہر القادری کے ایجنڈئے پر چلتے ہوئے الیکشن کے التوا کا حصہ تو نہیں ہیں؟؟ اللہ تعالیٰ ہمیں مخلص ایماندار سیاست دان، قائدین اور اسلام و پاکستان کے خیر خواہ نصیب فرمائے۔"
آپ نے بلکل بجا فرمایا کہ مجھے "اطمینان قلب کسی پر بھی نہیں" مگر آپ کے ان سوالوں کے جواب کیا ہیں تو میری گذارش ہوگی کہ آپ میرا مضمون "پاکستان کا مستقبل اورآنے والے انتخابات" (http://urdulook.info/forum/showthread.php?7031)۔ اس مضمون کے آخر میں لکھا ہوا ہے " بی بی سی پر لکھے وسعت اللہ خان کےایک مضمون "جمہوریت کا جانگیہ" کے آخری حصہ کو پڑھ لیں : "آپ تو جانتے ہیں کہ کہیں بھی زمین میں بورنگ کرکے پانی کا نلکا لگایا جائے تو اس میں سے بہت دیر تک کیچڑ نکلتا رہتا ہے ۔پھر گدلا پانی آنے لگتا ہے اور اگر آپ نلکہ مسلسل ہلاتے رہیں تو آدھے پونے گھنٹے بعد صاف پانی گرنا شروع ہوجاتا ہے۔ جمہوریت کا نلکا بھی ایسے ہی کام کرتا ہے۔کیچڑ سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اگلے الیکشن میں یہی کیچڑ گدلا پانی بن جائے گا اور اس سے اگلے الیکشن کے بعد یہی پانی پینے کے قابل ہوجائے گا۔ جہاں پینسٹھ برس سہی وہاں دس برس اور سہی۔۔۔"
تو جناب میں جو لکھ رہا ہوں اس پاکستانی سیاست کی کیچڑ کے بارئے میں ہے جو پینسٹھ برس سے پاکستان کو گندہ کیے ہوے ہے۔ اب اس میں جماعت اسلامی زد میں آئے یا نواز شریف، مولانہ فضل الرحمان ہوں یا الطاف حسین، پیپلز پارٹی ہو یا اے این پی۔ عمران خان کا ابھی پاکستان کی سیاست میں کوئی تاریخی کردار نہیں اور جہاں تک علامہ طاہرالقادری کا تعلق ہے انکے بارئے صرف اتنا کہا جاسکتا ہے "دیکھا کر تماشہ مداری گیا"
مگر ان تمام باتوں کے باوجود آپکے سوال کا جواب میرے پاس یہ ہی ہے کہ یہ جو پہلی مرتبہ ہمیں موقعہ ملا ہے اسکا بھرپور فائدہ اٹھایں اور ہم میں سے ہر ایک کو اپنا ووت ضرور استمال کریں، فیصلہ میں یا آپ نہیں کرسکتے ، فیصلہ پوری قوم کو کرنا ہے ۔ آخر میں آپکی دعا کی بھرپور تایئد " اللہ تعالیٰ ہمیں مخلص ایماندار سیاست دان، قائدین اور اسلام و پاکستان کے خیر خواہ نصیب فرمائے۔" آمین