PDA

View Full Version : قوم کی بیٹیاں کب محفوظ ہونگی



سقراط
04-21-2013, 10:22 PM
تحریر :انبساط ملک
زمانے کے نشیب وفراز انسان کی زندگی اور حالات کے مختلف رخ دکھاتا ہے ایک وہ لمحہ تھا جب ہم اپنا مقابلہ دنیا کی مہذب اقوام سے کر تے تھے تب ہمیں اپنے کر دار، افکار اوراعمال پر فخر تھا جس کو تمام دینامانتی تھی ۔پاکستانی نہ صرف عرب ممالک میں بلکہ تما م مہذب اور ترقی یافتہ اقوام میں قدر ومنذلت کی نگاہ سے دیکھے جا تے تھے۔ ایک وہ زمانہ بھی گز را ہے جب ہم اپنے ہمسایہ ممالک سے اپنے کر دار کے باعث اعلیٰ اور ارفاء گردانے جاتے تھے مگر اب یہ نشیب آگیا ہے کہ ہم پاکستانی کہنے پر شرم سار ہوجاتے ہیں ۔آج ہمارے معاشرے کے قصے نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی اداروں میں نشر واشاعت ہوتے ہیں۔ یہ کتنے شرم کا مقام ہے کہ آج غیر ملکی میڈیا ہمارے شہر وں میں ہونے والے غیر مہذب اور شرمناک واقعات کا نہ صرف تذکر ہ کر رہا ہے بلکہ ان واقعات کی اشاعت روزمررہ کی خبر وں کی حصہ بن چکی ہیں ۔کراچی میں امرا ء کے علا قے جن میں ڈیفنس سوسائٹی اور کلفٹن بالخصوص شامل ہیں حالات کی پستیوں کو چھو رہے ہیں یہاں امیر گھرانے کی بیٹوں اور بہوؤں کے اغوا اور عصمت دری کے اندوھناک واقعات کا ایک سلسلہ شر وع ہوگیا ہے ۔حالات کی ستم ظرفی دیکھیں کہ آج ہمارے باشعور میڈیا کے انتہائی ذمہ دار اینکر پر سن ان واقعات پر چشم پوشی اختیا ر کئے ہوئے ہیں کسی بھی معاشرے میں استحکام اس وقت پید ا ہوتا ہے جب وہاں پرا فراد کی عزت و آبرو اور مال ودولت محفوظ ہوں، لو گ برائی کو بر اکہتے ہوں او ر اس کے خلاف کم از کم آواز بلند کرتے ہوں، مگر ہمار ا معاشرہ ’’ یا شیخ اپنی پنی دیکھ ‘‘ مہاورے پر عمل کر رہا ہے کر اچی شہر کو دہشت گرد اور غنڈہ عناصر کے سپر د کر دیا گیا ہے جنہوں نے نہ صرف اغوا ،بھتہ ،قتل وغار تگری کا بازار گرم کیا ہوا ہے بلکہ کچھ عرصہ قبل اس گرونے شریف گھرانے کی بیٹوں اور بہوؤں کو دن دھاڑے بازار اور مصروف شاہروں سے بلا دھڑک کرتے ہیں اور اس کے بعد جوان خواتین کے ساتھ سلو ک کیا جاتا ہے وہ نہ صرف ایک اسلامی ملک کے باشعور اور جمہوریت پسند عوام کے منہ پر طمانچہ ہے بلکہ یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کو سونچ کرہی ایک سچے مسلمان اور پاکستانی کی ریڑھ کی ہڈی تک سنساجاتی ہے ۔یہ پوری دنیا کا اصول ہے کہ ترقی شہروں میں ہوتی ہے اور وہ آگے چل کر گاؤں دیہاتوں اور پس ماندہ علاقوں تک پہنچتی ہے مگر اس ملک کی ستم ظرفی دیکھئے کہ آج ہمارے معاشرے میں جو اطوار گاؤں دیہاتوں میں بری نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ان کو اب شہروں میں نافذ عمل کیا جارہا ہے ۔کل تک بیٹیوں اوربہوؤں کے اغوا اور عصمت دریا ں اور ان سے نازیباں سلوک ہمارے گاؤ ں دیہات کے ناعقابت اندیش وڈیروں او رجاگیرداروں کا وطیر ہ تھا مگر آج معاشرے کی ان ناسوروں نے اپنا یہ طر ز عمل شہروں میں بھی رائج کر دیا ہے جس کی کوئی گرفت نہیں ہے یہ امر بھی انتہائی افسوسناک ہے کہ کل تک گاؤں دیہاتوں میں ہونے والے اندلخراش واقعات پر لوگوں کی چشم پوشی اور خاموشی کوہم دڈیروں کا ظالمانہ او رسفا کانہ طر ز عمل قرا ر دیتے تھے مگر آج شہروں میں ہونے والے ان داقعات پر خاموشی اور چشم پوشی کا ذمہ دار کسے ٹہرایا جائے ۔آج ہماری زبانیں مغربی معاشرے سے مقابلے میں قصیدے پڑھتے تھکتی نہیں ۔آج ہمارے ملک میں سوشل میڈیا سول سوسائٹی او رانسانی حقوق کی جتنی تنظیمیں کام کررہی ہیں اتنی بہتات کبھی نہ تھی مگر اس کے باوجود تمام حلقہ فکر کی جانب سے یہ پر اسرار مصلحت پسندانہ خاموشی مجرمانہ ہے ۔ہمارے اینکر پرسن آج کسی دباؤ کا شکار ہیں کہ کراچی میں کھیلے جانے والے اس مکروہ عمل پر ان کی زبان پر ایک لفظ نہیں آتاہے ۔ کراچی کے عوام میں اس گھناؤنے عمل سے ایک خوف اور اضطراب کے ساتھ سخت بے چینی اور غم و غصہ پیدا ہورا ہے ۔ کراچی کے عوام آج پوچھتے ہیں کہ ان کو ان ظالم بھڑیوں سے بچانے کیلئے اور ان وحشی صفت افراد کے رخ سے پردہ اٹھانے کیلئے ہماری میڈیا اور اینکر پرسن کب سرگرم ہونگے ۔کیا اینکر پرسن اور میڈیا کے حضرات اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے گھرکی بیٹیاں اور بہوئیں بھی اس سفاکیت کی شکار ہوں تب یہ جاگیں گے ۔اللہ ہرایک گھر کو اپنے حفظ وامان میں رکھے مگر اس شیطانی کھیل پر سے پردہ اٹھانے اور ظالموں کی گرفت کیلئے ہمارے اینکر پرسن کب لب کشائی کریں گے ؟

نگار
04-22-2013, 12:21 AM
میڈیا والے کیا خاک آواز اٹھائینگے بلکہ وہ تو اپنی دوکان سجا رہے ہیں،،،اگر کوئی کسی کو انصاف نہیں دے سکتا تو پھر اس کی نمائش
کر کے اس کی بے عزتی بھی نہ کریں،،،یہ جاگیردار اور وڈیرے ہماری ہی پیداوار ہے ورنہ کسی کی کیا مجال کے کسی کی عزت کو آنکھ
اٹھا کر بھی دیکھ سکے،،،آجکل کے دور میں اپنا حق چیھننا پڑتا ہے،،،اور جو چیز مانگی جاتی ہے اس کو خیرات کہتے ہیں،،،جو کسی کی
عزت اتارنے کی بات بھی کرے تو اسی جگہ کمینے کو موت کی نیند سلانا بہتر ہے ورنہ یہ جراثیم بڑھتے رہینگے ہم سب کی بزدلی دیکھ کر،،
حکومت کو تو صرف پیسے لوٹنے سے کام ہے،،،ایسی ہزار حکومتیں آئینگی اور جائینگی لیکن کوئی بھی مرد کا بچہ اس میں نہیں آئے گا،،ہم کو خود
اپنا انصاف منوانا ہوگا دوسروں سے تبھی ہم سر اٹھا کر جی سکینگے ورنہ ایسا ہی ہوتا رہے گا ہم سب کے ساتھ

باغی
04-22-2013, 12:42 AM
یہ واقعات افسوس ناک ہیں اور کوئی بھی انسان ان کی حمائت نہیں کر سکتا لیکن سوچنا یہ ہوگا کہ یہ کون لوگ ہیں جو دن دیہاڑے لوگوں کی جان و مال اور عزت کو برباد کر کے غائب ہو جاتے ہیں اور ان کے خلاف نہ تو کوئی گواہی دینے والا ہوتا ہے اور نا ہی ان کو روکنے یا ان کا مقابلہ کرنےوالا۔ اگر کوئی ایک غیرت مند انسان ان سے ٹکرانے یا ان کے خلاف گواہ بننے کی کوشش کرتا ہے تو یا تو اسے جان سے مار دیا جاتا ہے یا ہماری پولیس اور عدالت اس کو اتنا گھسیٹتے ہیں کہ وہ دوسروں کے لئے مثال بننے کے بجائے عبرت کا نشان بن کر رہ جاتا ہے اور سرعام غنڈہ گردی کرنے والوں کے ظلم کی خبر "نامعلوم" افراد کے کھاتےمیں ڈال کر میڈیا بھی اپنا "فرض" ادا کر دیتا ہے۔ یہ سب تو پیسے کے لئے بکتے ہیں لیکن حیرت ان سوشل میڈیا والوں پر ہوتی ہے جو عوام ہیں کیا ان میں بھی اتنی جرت نہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر شاہزیب قتل کیس کی طرح ان مظالم پر بھی آواز بلند کریں۔
خیر سب کی طرح ہم نے بھی انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوا لیا ہے اور باقی قوم کے ساتھ منتظر ہیں بارش کے پہلے قطرے کے۔ تو آؤ سب مل کر آسمان کی طرف دیکھتے رہیں کہ اللہ کی طرف سے ہی کوئی بارش کا قطرہ اترے اور ہم سب کو ان ظالم حکمرانوں اور لٹیروں سے نجات دلائے !!!