PDA

View Full Version : دماغی صحت



سقراط
04-25-2013, 04:17 AM
دماغی صحت

دماغ کو مناسب طور پر کام کرنے کے لیے ہر 100 ملی لیٹر خون میں سے 70 سے 100 ملی گرام گلوکوز درکار ہوتا ہے

ذہین اقبال


دماغی انسانی جسم کے کل وزن کا صرف دو فیصد ہوتا ہے لیکن جسم کی پوری قوت کا بیس فیصد حصہ اسی کے مصرف میں ہوتا ہے اور یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ دماغ غذا کو چکنائی کی صورت میں ذخیرہ نہیں کرتا- اس لئے اس کے مسلسل کام کرنے اور اس کی پرورش اور نشونما کے لئے مستقل غذا کی فراہمی کی ضرورت رہتی ہے-

اسی وجہ سے چند مخصوص غذائوں کی کمی دماغ پر اثر انداز ہوسکتی ہے جس کا نتیجہ ذہنی اور جسمانی مسائل ہوتے ہیں لہٰذا یہ جاننا کہ کس قسم کی غذا ہماری دماغی صحت کے لئے اچھی ہے‘ ہماری مکمل صحت مندی کا ضامن ہوسکتا ہے-

یہاں ہم کچھ غذائوں پر بات کریں گے جو ہماری صحت اور ذہنی کام کے لئے بے حد اہم ہیں-


گلو کوز (Glucose)

دماغ کو بہت اچھی طرح کام کرنے کے لئے ہر 100 ملی لیٹر خون میں 70 سے 100 ملی گرام گلوکوز درکار ہوتا ہے-

اگر کسی انسان کے گلوکوز کی سطح (Glucose Level) میں زبردست کمی ہوجائے تو نتیجہ ذہنی انتشار‘ بے ہوشی کے دوروں‘ دماغ کی شریان پھٹنا ہوسکتا ہے یہاں تک کہ موت بھی واقع ہوسکتی ہے- اس صورت حال کی سنجیدگی اس کی وجوہات پر خاص توجہ دینے پر مجبور کرتی ہے-


انسولین (Insulin) کی زیادتی

انسولین جسم کے خلیوں میں گلوکوز کو جذب کرلیتا ہے-اسی لئے انسولین کی زیادتی سے دماغ میں موجود ضروری گلوکوز کی کمی واقع ہوسکتی ہے- ذیابطیس کے مریضوں کو اس قسم کی شکایت کا شدید خطرہ رہتا ہے کیونکہ انہیں انسولین انجیکٹ کیا جاتا ہے-


شکر کی زیادتی

(Reactive Hypoglycemia)

اسی طرح غذا میں مٹھاس کی زیادتی سے گلوکوز کی کمی واقع ہوجاتی ہے- کیونکہ چینی Pancreas کو انسولین پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے جس سے لازما گلوکوز کی کمی ہوجاتی ہے-


طویل اور بے معنی ڈائٹنگ

طویل عرصے کے لئے مکمل بھوکا رہنے سے نہ صرف دماغ میں گلوکوز کی کمی ہوجائے گی بلکہ دوسرے ضروری غذائی اجزاءکی بھی قلت ہوجائے گی اور جسم صحیح طور پر کام نہیں کرے گا- ان ضروری اجزاءمیں ایک وٹامن بی کمپلیکس ہے جس کے بغیر ہمارا جسم چکنائی کو قابل استعمال قوت میں تبدیل نہیں کرسکتا جو کہ جسم اور دماغ دونوں کے لئے بہت ضروری ہے-


سوڈیم اور پوٹاشیم

گلوکوز کے علاوہ دماغ کو مستقل طور پر سوڈیم اور پوٹاشیم کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس سے پیغامات کا تبادلہ ممکن ہوتا ہے-اعصابی نظام کی کارکردگی کے لے ان دونوں کی ضرورت ناگزیر ہے۔

سوڈیم کی کمی سے الٹیاں آسکتی ہیں بھوک غائب اور حواس کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔

پوٹاشیم کی شدید کمی سے بے چینی‘ غنودگی‘ بے حسی‘ حتیٰ کے پاگل پن کی صورت حال بھی پیدا ہوسکتی ہے- پوٹاشیم کی کمی کی اصل وجوہات‘ کثرت پیشاب‘ یا اسپرین اور بعض دوائوں کا استعمال ہے۔


پروٹین

پروٹین Amino Acids اور Polypeptides کی شکل میں خون میں شامل ہوتی ہے اور پھر دماغ اسے خون سے حاصل کرتا ہے-دماغ Amino Acids کو خاص طور پر Neurotransmitters بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے دراصل یہ وہ کیمیکل ہیں جو جسم کے بہت سارے کاموں کو اعتدال میں رکھتے ہیں مثلاً یاداشت‘ بھوک‘ نیند‘ درد اور جذبات وغیرہ- اس کے علاوہ دماغ Amino Acids سے اپنے لئے قوت بھی حاصل کرتا ہے- Amino Acidsوہ Enzymes ہیں جو غذا کو جزو بدن بنانے کے عمل کے ذمہ دار ہوتے ہیں اور ہارمونز کی پیداوار میں بھی مدد دیتے ہیں‘ فراہم کرتے ہیں-اس لئے پروٹین کی کمی کے خاصے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں جس میں ذہنی توازن کا بگڑ جانا بھی شامل ہے-


چکنائی (Fats)

پروٹین کی طرح چکنائی بھی دو طرح کے اجزاءکی صورت میں جسم میں داخل ہوتی ہے-

Glycerol (2) Fatty Acids (1) ان اجزاءکو دماغ Myelin بنانے کے لئے استعمال کرتا ہے- Myelin ایک نہایت اہم مادہ ہے جو جسم کے تمام خلیوں‘ جس میں دماغ بھی شامل ہے‘ کو احاطہ کئے ہوئے ہے-Myelin کے بغیر پیغامات کا تبادلہ ممکن نہیں- یہ بات دلچپسی کا باعث ہے کہ ہمارا جسم ہر قسم کے Fatty Acids پیدا کرلیتا ہے سوائے Linoleic Acid کے جو کہ دماغ کے صحیح طور پر کام کرنے کے لئے بہت ضروری ہے Linoleic Acid کی کمی یا مکمل عدم دستیابی سے یادداشت کا کمزور ہوجانا‘ شدید الجھن‘ مالیخولیاتی رعشہ پیدا ہوسکتا ہے-خوش قسمتی سے Linoleic Acidبڑی آسانی سے دستیاب ہے- صرف ایک چائے کا چمچہ یا مکئی کا تیل اتنی مقدار میں Linoleic Acid فراہم کردیتا ہے جوکہ ایک بالغ انسان کی ضرورت کے لئے کافی ہے-


حیاتین اور معدنیات

دماغ کو صحیح طور پر کام کرنے اور اس کی نشونما کے لئے تمام حیاتین اور معدنیات کی ضرورت رہتی ہے لیکن ان میں سے کچھ زیادہ اہم ہوتے ہیں جن میں فولاد (آئرن) وٹامن بی اور سی شامل ہیں-

دماغ وٹامن بی 6 سے Neurotransmitters بنانے کے علاوہ Myclin کی مرمت اور پروٹین کی قوت میں تبدیلی کرنے کا کام بھی لیتا ہے- وٹامن بی 6 کی کمی سے دماغ میں غیر معمولی برقی عمل کا خدشہ ہوتا ہے جس کا نتیجہ پٹھوں میں شدید اینٹھن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے-

دوسری طرف وٹامن سی دماغ میں فولاد اور پروٹین کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتا ہے-

اس کی کمی کے باعث تھکن‘ شدید ذہنی دبائو‘ سر کا درد اور Hypersensitivity کی شکایات ہوجاتی ہیں-

وٹامن بی 6- اور سی کی طرح فولاد Neurotransmittersکی پیداوار اور غذائی اجزاءکو قوت میں تبدیل کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے- فولاد کی کمی سے جیسے کسی چیز پر توجہ نہ دے سکنے کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے اسی لئے ذہنی کارکردگی کو بہتر سے بہتر کرنے کے لئے جسم کے اندر اس کی سطح مناسب ہونا ضروری ہے- ایک دن میں ایک عوت کو Iron 18 mg. اور مرد کو صرف Iron 10 mg. کی ضرورت ہوتی ہے-

فولاد کی کمی سے ہمارا جسم دوسری دھاتوں کو زیادہ سے زیادہ جذب کرنے لگتا ہے جن میں (Lead) بھی شامل ہے ۔ اسی لئے کھانے پینے کی اشیاءکو ڈبوں (Cans) کے کھلنے کے بعد ان میں نہیں چھوڑنا چاہئے- بصورت دیگر سیسے کی بھاری مقدار کھانے میں شامل ہوجاتی ہے-

تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ Cadmium (ایک نیلگوں سفید دھات) ہماری سیکھنے کی صلاحیتوں پر برے طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے- یہ مضر دھات قلعی کئے ہوئے پائپ‘ چھنے ہوئے آٹے‘ وہ سبزیاں جو High Cadmium زمین پر اگائی گئی ہوں اور کھانے پینے کی وہ اشیاءجو مختلف مراحل سے گزاری جاتی ہیں کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہے-

اچھی غذا اور ذہنی صحت

کثرت سے کھانا یا کھانے میں ناغے کرنے سے ذہنی کارکردگی پر خاصا گہرا اثر پڑتا ہے- اسکول کے بچوں پر یہ بات صادق آتی ہے- دیکھا گیا ہے کہ جو بچے صبح کا ناشتہ کرتے ہیں ان کی کارکردگی ان بچوں سے جو ناشتہ نہیں کرتے یا نامناسب خوارک کا استعمال کرتے ہیں‘ سے بہت بہتر ہوتی ہے- وجہ؟ ان کے گلوکوز کی سطح میں کمی-

اس بات کی بھی بڑی اہمیت ہے کہ غذا میں کیا اجزاءشامل ہیں- مثلاً جس غذا میں نشاستہ کی مقدار زیادہ ا ور پروٹین بہت کم ہو‘ وہ غذا عدم توجہی اوریاداشت میں خلل ڈالنے کا سبب بن جاتی ہے- تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ کھانے پینے میں غیر معمولی تبدیلی سے ذہنی کارکردگی پر بہت منفی اثر پڑتا ہے-


اچھی غذا بہتر یادداشت کے لئے

یادداشت کی دو قسمیں ہوتی ہیں- طویل مدتی یاداشت (Long Term) اور مختصر مدتی یاداشت (Short Term) یا جو کہ سیکھنے کے عمل کی ذمہ دار ہوتی ہے Choline Chlorideسے متاثر ہوتی ہے-

ذہنی صحت کے قومی ادارے میں کئے گئے دو تجربوں‘ جن میں 20 سے 30 سال کی عمر کے لوگوں Choline Chloride کے صرف دس گرام کی خوراک دی گئی ہے سے یہ ثابت ہوا کہ Choline Chloride سے ان کی ذہنیءکارکردگی بہت بہتر ہوگئی اور ان میں جن لوگوں کی کارکردگی سب سے زیادہ بہتر ہوئی‘ بہت کمزور یادداشت کے مالک تھے-

Choline کے کچھ نقصانات بھی ہیں چونکہ Cholineجسم میں پوری طرح جذب نہیں ہوپاتا- آنتوں میں موجود Bacteria اسے Trimethylamine میں بدل دیتے ہیں جس سے فضلے میں سخت ناخوشگوار بو پیدا ہوجاتی ہے-


Lecithin ایک بہتر انتخاب ہے

Lecithin جن غذائوں سے حاصل کیا جاسکتا ہے ان میں بڑے کا گوشت‘ بچھڑے کا جگر‘ انڈہ‘ جو کا آٹا‘ مونگ پھلی‘ (Red Snapper)ایک قسم کی مچھلی (Trout)، سفید چاول اور گندم کا بھوسا شامل ہے-

مگر Lecithinکے استعمال میں جو مسئلہ ہے وہ وزن بڑھنے کا ہے- Lecithin ایک قسم کا ٰات ہے جس کا ایک گرام‘ 9 کیلوریز کے برابر ہے-

ایک اچھی متوازن غذا کے علاوہ دوسری اہم باتیں جیسے کہ اچھی نیند‘ نشہ آور ادویات اور شراب نوشی سے پرہیز اور ذہنی ورزش بھی اچھی یادداشت قائم رکھنے کے طریقے ہیں-