PDA

View Full Version : شوہر کے حقوق



ناز گُل
04-27-2013, 03:23 PM
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ومن اٰیٰتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ و رحمۃ
آیت کریمہ میں تین باتیں بیان فرمائی گئیں جو خانگی نظام زندگی کےلئے چنگ بنیاد اور بطور اصل کے بیان ہوئی ہیں اور جس کا لحاظ شوہر و بیوی دونوں کو یکساں رکھنا ضروری ہے۔
(1) مردوں کو بتایا گیا ہے کہ تمہاری بیویاں تمہاری ہی ہم جنس مخلوق ہیں ،تمہاری ہی طرح پیدا کی گئی ہیں، تمہاری جیسی خؤاہش، جذبات اور احساسات ان میں بھی موجود ہیں، بے روح مخلوق اور بے حس جسم نہیں۔
(2) ان کی پیدائش کا منشایہ یہ بھی ہے کہ وہ تمہارے لیے سرمایہ راحت و تسکین ہیں۔ تمہارے لیے سکون قلب کا باعث ہیں، تمہارے درد کا درماں اور تمہارے غم کا مداوا ہیں، تمہارے لیے پیدا کی گئی ہیں کہ تمہارا دل ان سے لگے، جی ان سے بہلے۔
(3) تمہارے اور ان کے تعلقات کی بنیاد ہی باہمی محبت، اخلاص اور ہمدردی پر ہونا چاہئیے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان کو اپنی رفاقت کےلیے اپنے ایک ہم جنس کی تلاش ہوتی ہے اور یہ خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت ہے۔ چنانچہ زن و شوہر کے باہمی اخلاص و محبت کو خدانے اپنی نشانیوں میں سے ایک نشانی قرار دیا ہے۔
قرآن پاک نے ایک لفظ سکون سے بیوی کی رفاقت کی جس حقیقت کو ظاہر کیا ہے وہ میاں بیوی کے تعلقات کے تمام فلسفے کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اس کا خلوت خانہ دنیا کی کشاکشوں اور مشکلوں میں امن و سکون کا گہوارہ ہونا چاہئیے اور میاں بیوی کے باہمی تعلقات میں اتنی خوشگواری ہونی چاہئیے کہ جس سے عورت کی پیدائش کا منشا پورا ہو یعنی باہمی اخلاص و پیار، مہرو محبت اور سکون و چین۔ اگر کسی سے یہ اغراض پورے نہیں ہوتے تو اس میں دونوں یا دونوں میں کسی ایک کا قصور ہے۔
یہ باہمی میل جول کس طرح قائم رہ سکتا ہے اس کی صورت صرف ایک ہے اور وہ یہ ہے کہ بیوی شوہر کی فرمانبرداری اور شوہر بیوی کی دلجوئی کرے۔
میاں بیوی باہم اپنے اپنے حقوق کے اعتبار سے گوبرابر ہیں لیکن جس طرح باپ اور بیٹے اپنے اپنے حقوق میں برابر کی حیثیت رکھتے ہیں اور شریعت کا حکم ہے کہ باپ افسر ہو کر رہے، بیٹا ماتحت ہوکر۔باپ حکم دے اور بیٹا مانے۔ اسی طرح معاشرے کی انتظامی مشین میں مرد کو عورت پربرتری حاصل ہے۔
قرآن کریم کا ارشاد گرامی ہے:
الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضھم علی بعض وبما انفقوا من اموالھم فالصٰلحٰت قٰنتٰت حٰفظٰت للغیب بما حفظ اللہ ۔
یعنی مرد عورتوں پر حاکم، ان کے سر دھرے، ان کے امور کا انتظام کرنے والے، ان کی کفایت کرنے والے اور ان پر احکام نافذ کرنے والے ہیں اور دنیا کے انتظامی معاملات اور خانگی نظام میں عورت مرد کے تحت اور اس کی تابع ہے اور یہ اس لیے کہ مرد کو اپنے قوائے جسمانی اور دل و دماغ کی برتری حاصل ہے اور دوسرے یہ کہ عورت خرچ میں مرد کے دست نگر رہتی ہے اور مرد عورت کے جائز مصارف کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اس لیے نیک بیبیوں کی علامت یہ ہے کہ وہ شوہر کی غیر حاضری میں اس کی عزت و ناموس اور اس کے مال و جائیداد کی نگہداشت کرنے والیاں ہوتی ہیں اور ہمہ اوقات اپنی اور اپنے شوہر کی عزت و آبرو مال کا خیال رکھتی ہیں۔ اللہ تعالٰی نے ان میں اپنی عصمت کا خیال اور شوہر کی وفاداری کا جذبہ پیدا کرکے انہیں محفوظ کردیا ہے۔ مختصر لفظوں میں عورت کے ذمہ یہ تین فرائض ہیں جو قرآن کریم نے اس پر عائد کیے۔
(1) اپنے شوہر کی اطاعت گزار اور وفادار ہو۔
(2) سلیقہ شعار ہو کہ شوہر کے مال و دولت کو برباد نہ کرے۔
(3) عفت مآب ہوکہ اپنی اور اپنے شوہر کی عزت و ناموس پر آنچ نہ آنے دے۔ سکول اور کالجوں میں پڑھی ہوئی لڑکیاں غور کریں اور اپنے دامن میں ذرا جھانک کر دیکھیں کہ وہ اس قرآنی معیار پر کہاں تک پوری اترتی ہیں۔ اب اس سلسلے کی چند احادیث کریمہ سنئے۔ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
(1) عورت پر سب لوگوں سے زیادہ حق اس کے شوہر کا ہے اور مرد پر اس کی ماں کا ہے۔ (حاکم)
(2) اگر میں کسی شخص کو کسی مخلوق کےلیے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کہ اللہ تعالٰی نے مردوں کا حق عورتوں کے ذمہ کردیا ہے۔ قسم ہے اس کی جس کے قبضئہ قدرت میں محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کی جان ہے، عورت اپنے پروردگار کا حق ادا نہ کرے گی جب تک شوہر کے حق ادا نہ کرے۔ (ابو داؤد، حاکم)
(3) عورت ایمان کا مزا نہ پائے گی جب تک حق شوہر ادا نہ کرے۔ (طبرانی)
(4) عورت پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اس کے بچھونے کو نہ چھوڑے اور اس کی قسم کو سچا کرے اور بغیر اس کی اجازت کے باہر نہ جائے اور ایسے شخص کو مکان میں نہ آنے دے جس کا آنا شوہر کو پسند نہ ہو۔ (طبرانی)
(5) عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے اور ماہ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ (ابو نعیم)
(6) جو عورت خدا کی اطاعت کرے اور شوہر کا حق ادا کرے اور اسے نیک کام کی یاد دلائے اور اپنی عصمت اور اس کے مال میں خیانت نہ کرے تو اس کے اور شہیدوں کے درمیان جنت میں ایک درجہ کا فرق ہوگا۔ پھر اس کا شوہر باایمان نیک خوہے تو جنت میں وہ اس کی بی بی ہے۔ ورنہ شہیدوں میں سے کوئی اس کا شوہر ہوگا۔ (طبرانی)
(7) وہ عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی اور کوئی نیکی بلند نہیں ہوتی۔ (بیہقی)
(8) شوہر نے عورت کو بلایا، اس نے انکار کردیا اور غصے میں اس نے رات گزاری تو صبح تک اس عورت پر فرشتے لعنت بھیجتے رہتے ہیں اور دوسری روایت میں ہے کہ جب تک شوہر اس سے راضی نہ ہو اللہ عزوجل اس سے ناراض رہتا ہے۔
(9) جب عورت اپنے شوہر کو دنیا میں ایذا دیتی ہے تو حوریں کہتی ہیں کہ خدا تجھے قتل کرے اسے ایذا نہ دے یہ تو تیرے پاس مہمان ہے، عنقریب تجھ سے جدا ہو کر ہمارے پاس آئے گا۔ (ترمذی)
(10) اے عورتو! خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا مندی کی تلاش میں رہو اس لیے کہ عورت کو اگر معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو جب تک یہ اس کے پاس کھاتا رہتا یہ کھڑی رہتی۔ (ابونعیم)
(11) تقوٰی کے بعد نیک بیوی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں کہ شوہر اس سے جو کہے وہ مانے۔ جب شوہر اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کو خوش کردے اور اگر شوہر قسم دے کر کچھ کہے تو وہ اس قسم کو پورا کردے۔ (ابن ماجہ)

راجہ فھیم انور خان جنجوعہ
04-27-2013, 08:43 PM
نہایت ہی خوبصورت بات لکھی آپ نے تقسیم کرنے کا شکریہ

سقراط
04-27-2013, 09:15 PM
واہ واہ ناز گل جی ساری اہم باتیں ایک ہی موضوع میں جمع کردی ہیں زبردست معلوماتی اور اصلاحی مضمون ہے شکریہ

سرحدی
04-29-2013, 09:03 AM
ماشاء اللہ، بہت اچھا مضمون شیئر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ جزائے خیر عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ نے معاشرہ کی تقسیم ایسے خوبصورت انداز میں فرمائی ہے کہ عورت اگر وہ ماں کے روپ میں ہے تو پاوں تلے جنت رکھ دی، اگر بیوی کے روپ میں ہے تو اس کے لیے حکم فرمایا کہ اس کے ساتھ اچھا برتاو کرو، اگر بیٹی کی روپ میں ہے تو اس کے لیے رحمت اور محبت پیدا فرمادی، اسی طرح اگر مرد باپ کے روپ میں ہے تو اس کی ناراضگی میں اللہ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی کا اعلان فرمادیا، اگر شوہر کے روپ میں ہے تو اس کی تعظیم و ادب اور اس کی حیثیت کے مطابق برتاو کا معاملہ فرمانے کا حکم فرمایا، اگر بیٹے کے روپ میں ہے تو ایک بہترین اور مضبوط مسلمان بننے کے مواقع فراہم کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے معاشرتی اور سماجی برائیوں کو ختم کرنے کے لیے انسان کو ایسے ذریں اُصول بیان فرمادیے ہیں کہ اگر انسان سوچے تو اس کو یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے انسانی ضروریات اور اس کی آسانیوں کے لیے ہر قدم پر ایسے حالات پیدا فرمادیے ہیں کہ اگر انسان اس کو مان کر چلنے کی کوشش کرے تو کبھی نہ ڈگمگائے۔
اللہ تعالیٰ نازگل صاحب /صاحبہ کو جزائے خیر عطا فرمائے، اور تمام مسلمان خواتین کو اپنے شوہروں کے حقوق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ مَردوں کو بھی اپنی بیویوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ گھریلو اور معاشرتی برائیوں سے بچا جاسکے۔

بےباک
04-30-2013, 01:48 AM
جزاک اللہ بہن ناز گل صاحبہ ،
بہت اچھا لکھا، ابھی ایک جزؤ باقی ہے وہ ہے بیوی کے حقوق ، بیویوں کے کون کون سے حقوق کے بارے فرمایا ہے ،
۔ اسلام انصاف اور بردباری اور احساسِ ذمہ داری سکھاتا ہے ، تاکہ معتدل کنبہ اسلامی معاشرے کے لئے مفید ثابت ہو ،

نجم الحسن
05-01-2013, 06:36 PM
جزاك الله