PDA

View Full Version : پاکستانی قومیت اور اسکے اجزائے ترکیبی کا حال



افضال احمد قادری
04-29-2013, 08:56 PM
http://www.rawalpinditimes.com/media/k2/items/cache/919acbd93a09198eef55d141863c0dbb_M.jpg

پاکستانی قومیت اور اسکے اجزائے ترکیبی کا حال
پارٹ 1:
قوم سے مراد افراد کا ایسا گروہ ہے جن میں وحدت فکر اور ہم آہنگی ہوایسی وحدت جس کی اساس لسانی ، جغرافیائی یا نسلی بنیادوں پر نہ رکھی گئی ہو بلکہ اس کی بنیاد مذہب پر رکھی گئی ہو۔انسان چاہے جتنی بھی ترقی کر لے وہ مذہب کی ضرورت سے آزاد نہیں ہو سکتا اور نہ ہی سائنس یا کوئی دوسری چیز مذہب کی جگہ لے سکتی ہے۔ آج بھی انسانیت کی اس نام نہاد آزادی اور ظاہری ترقی کی چکا چوند کے باوجودمذہب کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اقوام کے رویوں اورمزاج میں آج بھی مذہبی عنصر نمایاں نظر آتاہے اور بین الاقوامی سطح پر سارے رجحانات اورفیصلوں کے پسِ پردہ مذہب ہی کار فرمانظر آتاہے۔مذہب انسان کی بنیادی اورفطری ضرورت ہے۔ اسی لیے مذہب کو بنیاد بنا کر قیام پاکستان کا جواز فراہم کیا گیا تھا اوربرصغیر کے مسلمانوں کومذہب کی بنیاد پر ایک الگ تشخص اور الگ قوم تسلیم کروا کے ان کو نعرہ دیا گیاتھاکہ "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ" اور بالآ خر اسی بنیاد پر پاکستان کا وجوداس خطہء ارضی پر نمودار ہوا تھا۔ علامہ اقبال نے اس کی وضاحت اپنے اس شعر میں کی ہے
قوم مذہب سے ہے ، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذب باہم جو نہیں ، محفلِ انجم بھی نہیں
پاکستان کے بارے میں اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ لوگوں کی ایک بھیڑ ہے جو ایک جغرافیائی حدود میں سمٹ کر رہ گئی ہے کیونکہ قیام پاکستان کے وقت اسلاف نے اس حد بندی کے اندر رہنے والوں کو ایک قوم بنانے کے لیے اور وحدتِ فکر کیلیے جو اجزاء ترکیبی فراہم کیے تھے ایک ایک کر کے وہ ہم نے کھو دیے ہیں۔
اب تو نہ قوم بچی ہے اور نہ کوئی قومی اثاثہ سلامت رہ گیا ہے۔قومیت کے اجزا میں سب سے پہلی چیز مذہب ہے۔ مذہب کا حال یہ ہے کہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ریاست کا سرکاری مذہب "اسلام" سر کاری سرپرستی سے محروم ہے۔عوام اپنی مدد آپ کے تحت اس فطری اثاثے کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ لیکن اس میں بھی تقسیم در تقسیم کا وہ عمل شروع ہوا جو کہیں رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا یہاں تک کہ اب اسلام ایک وحدت نہیں رہی اور نہ اس کے ماننے والے اب مسلمان ہی رہ گئے ہیں بلکہ اب وہ مسلمان ہونے سے زیادہ دیوبندی،شیعہ، بریلوی اور اہل حدیث وغیرہ بن کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے لیے اپنی واحد مذہبی کتاب "قرآن پاک" کا دیا ہوانام اختیار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس کو اپنی شناخت بنانا چھوڑ دیا ہے۔ قرآن پاک نے تو اپنے ماننے والوں کو جو نام دیا تھا وہ تو "مسلمان " تھاسورہء حج میں ہے" ہُوَ سَمٰکُمُ مُسلِمِین ۔اس (ا اللہ ) نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے" حکیم الامت نے اس قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر اْسی وقت اس کے اس مرض کی نشاندہی کر دی تھی۔

فرقہ بندی ہے کہیں اور ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
آج بھی اگر قرآن پاک کی دی ہوئی اْس شناخت کے علاوہؓ ْٰٓ باقی تما م شناختیں ختم کر دی جائیں تو اس بظاہرایک چھوٹی سی بات پر عمل کر کے امت ایک وحدت بن سکتی ہے۔ ذات پات: ایک اور تقسیم ہے جس کا سرچشمہ ہندو وراثت سے پھوٹتا ہے اور وہ ہے ذات پات کی تقسیم ، جس نے پاکستانی معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے اور قومی وحدت کو پارہ پارہ کر رکھا ہے۔ بعض مذہبی حلقے تو اس کی توجیہہ سورہ حجرات کی اُس آیت سے کرتے ہیں اورذات پات کے حق میں دلائل لاتے ہیں جس میں شعوب و قبائل کو پہچان کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے حالانکہ آیت مذکورہ تو وحدت انسانی کا درس دیتی اور اس تفریق کی صریحاً نفی کرتی ہے۔اگر اسی ذات پات اور اونچ ہی کو پہچان کا ذریعہ قرار دیا جائے توبعض لوگوں کو جن کا تعلق تسلیم شدہ اعلیٰ ذات سے ہے ان کو تو یہ تاویل بھاتی ہے کیونکہ انہیں اس پہچان سے ہر جگہ عزت ملتی ہے ا ور وہ بر تر خیال کیے جاتے ہیں لیکن اُن لوگوں کے لیے یہ تاویل بہت ہی خطرناک ہے جن لوگوں کی پہچان نیچ اور ادنیٰ ذاتوں کے حوالے سے ہوتی ہے۔ وہ چاہے کتنے ہی تعلیم یافتہ اور اعلیٰ کردار کے حامل کیوں نہ ہوں جب ان کی پہچان ایک کمین ذات کے حوالے سے ہوتی ہے تو وہ معاشرے میں نیچ تصور کیے جاتے ہیں اوراس بنا پر ذلیل و رسوا ہوتے ہیں اور ایک ناکردہ جرم کی سزا پاتے ہیں۔قیام پاکستان کے بعد اس اسلامی ریاست میں بھی ہندوؤں کی طرح کچھ ذاتوں کو اعلیٰ اور کچھ کو ادنیٰ سمجھا جاتا ہے اور ہر بڑی ذات والا چھوٹی ذات والے کو کمی کمین، مزارع اور حقیر خیال کر کے اُسے صرف اپنی خدمت کرانے کے لائق سمجھتا ہے۔ان نیچ لوگوں کو پاکستان میں اعلٰی مناصب اور اقتدار کے لیے مناسب اور اہل نہیں سمجھا جاتا، صرف اونچی ذات والے ہی اقتدارکے اہل اور اعلیٰ مناصب کے قابل سمجھے جاتے ہیں۔ نچلی ذاتوں والے صرف ووٹر ہوتے ہیں وہ الیکشن میں بطور امیدوارسامنے آنے کا تصور تک نہیں کر سکتے۔ اسکے علاوہ انہیں محکمہ مال میں بھی زمین پر مالکانہ کے وہ حقوق حاصل نہیں جو بڑی ذات والوں کو حاصل ہیں۔رشتوں اور دیگر معاشرتی معاملات میں بھی ہر دو طبقات الگ الگ ہیں۔ اسطرح ہر بڑی ذات والا چھوٹی ذات والے کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر نفرت کرتا ہے اور انہیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ انہیں ساتھ بٹھایا جائے یا ان کے ساتھ بیٹھا جائے۔اسی طرح ہر چھوٹی ذات والا بڑی ذات والے کو مغرور اور متکبر سمجھ کر اس سے نفرت کرتا ہے اس طرح کی تفریق اور اونچ نیچ جس معاشرے میں بھی پائی جائے گی وہ کسی طور بھی اسلا می معاشرہ کہلانے کا حقدار نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اسلام کا طرہء ا متیاز ہی مساوات ہے ، امتیاز نہیں ہے۔الغرض یہاں ہر دو طبقات کے درمیان نفرت اور کشمکش کا ایک مستقل سلسلہ جاری ہے جس نے قومی وحدت کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ اردو ہماری قومی زبان ہے۔کہا جاتا ہے کہ زبان کی ترقی معاشرے اور قوم کی ترقی ہوتی ہے اور یہ ایک پیمانہ ہے جس سے قومی ترقی کی پیمائش کی جا سکتی ہے جتنی کسی قوم کی زبان ترقی یافتہ ہو گی اْتنی ہی وہ قوم بھی ترقی یافتہ ہو گی۔اس کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کے ماہرین تعلیم اس بات پر متفق ہیں کہ مؤثر تدریس صرف مادری زبان ہی میں ممکن ہے۔لیکن ان ارباب اختیار کا کیا کریں جو انگریزی کی زْلفوں کے اسیر ہیں اور انگریزی کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔انگریزوں کی تو یہ ضرورت تھی کیونکہ انہیں عوام اور حکمران کے درمیان ایک فاصلہ رکھنا تھا کیا اب بھی ہمارے حکمران طبقہ کی یہی ضرورت ہے؟ قیام پاکستان کے وقت اردو کو ہماری قومی زبان قرار دیا گیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے اب بھی اردو اپنے دیس میں پردیسن ہے، جس کے بارے میں قائد اعظم نیفرمایا تھا " اردو آپ کی قومی زبان ہے اور یاد رکھیں اگر اس سلسلے میں کوئی آپ کو گمراہ کرنا چاہے تو وہ آپ کا کھلا دشمن ہے" اردو کے بارے میں 1973ء کے آئین میں قوم سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ چند سالوں میں اسے قومی زبان کے طور پر دفتری زبان بنا دیا جائے گا لیکن اس کی بجائے بتدریج انگریزی کا نفاذ ہوتا چلا گیا ، پہلے تدریسی کتب میں اردواصطلاحات کے ساتھ ساتھ انگریزی اصطلاحات داخل کی گئیں لیکن پھراگلے مرحلے میں اردو اصطلاحات کو نکال باہر کیا گیا۔ پھر حال ہی میں سرکاری سکولوں میں انگریزی کے علاوہ ریاضی اور سائنس کو بھی مکمل طور پر انگریزی میں پڑھایا جانے لگا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پہلے پہل انگریزی کو چھٹی جماعت سے پڑھایا جاتا تھا تا کہ طلبہ کے بنیادی تصورات مادری زبان میں تشکیل پا جائیں اور پھر انہیں ثانوی زبان پڑھائی جائے اور پھر زبان کی جو اہمیت تہذیب و ثقافت کے نقطہ ء نظر سے ہے وہ بھی متاثر نہ ہو۔لیکن اب انگریزی زبان پہلی جماعت سے پڑھائی جانے لگی ہے۔ یہ اِسی قومی رویے کا ثمر ہے کہ آج کا پڑھا لکھا نوجوان خالصتاً کسی ایک یعنی انگریز ی یا اردو زبان میں اظہار خیال کے قابل نہیں۔ وہ پہلے اردو میں بات شروع کرتا ہے ، پھر بات کو مؤثر بنانے کے لیے انگریز ی کا سہارا لیتا ہے لیکن جب وہ انگریزی سے بھی اپنا دامن تنگ پاتا ہے تو پھر اردو میں پناہ لیتا ہے الغرض اس میں مافی الضمیر کو بیان کرنے کی وہ صلاحیت ہی نہیں جو حیوان ناطق ہونے کے ناطے سے اس میں ہونی چاہیے۔مجھے بحیثیت زبان انگریزی پڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن یہ ذہن میں رہے کہ کوئی زبان سیکھنا محض زبان سیکھنے تک محدود نہیں رہ سکتا کیونکہ زبان اپنے بولنے والوں کی تہذیب و ثقافت سے سیر شدہ ہوتی ہے اور سیکھنے کے دوران یہ عناصر قدرتی طور پر سیکھنے والوں میں سرایت کرتے چلے جاتے ہیں تو کیا ہم بطور مسلمان اس تہذیب و ثقافت کے متحمل ہو سکتے ہیں جو انگریزی زبان سے وابستہ ہے۔ ہمارے طلبہ پیدا ہونے پر مادری زبان سیکھتے ہیں ، پھر وہ مذہبی شناخت اور عبادت کے لیے عربی سیکھتے ہیں ، پھر انہیں اردو بطور قومی زبان سیکھنا پڑتی ہے ، پھر انہیں بین الاقوامی زبان انگریزی سیکھنا پڑتی ہے ، تو زبانوں کی ان بھوْل بھلیوں میں ان کی تمام صلاحتیں اور توانائیاں صرف ہو کررہ جاتی ہیں اور وہ زبان دانی ہی کو علم سمجھ کر ساری زندگی اسی کی زلفیں سیدھی کرتے رہتے ہیں اور علم کی سرحد میں داخل بھی نہیں ہو پاتے کیونکہ زبان علم حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔بذات خود مقصد نہیں۔ فیصل مسجد جسے قومی مسجد قرار دیا جاتا ہیاب ایک سیر گاہ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے، اگر مسجد اسلامی فلسفہ کے مطابق تمام سماجی سرگرمیوں کا مرکز نہ ہو بلکہ صرف ایک عبادت گاہ بن کر رہ جائے تو اسلام معاشرے میں نفوذکرنے کی بجائے ایک چاردیواری میں بند ہو کر رہ جاتا ہے۔مسجد بھی ایک عمارت ہی ہوتی ہے اس کو یہ تقدس اور مقام اس لیے حاصل ہو تا ہے کہ وہ اسلامی معاشرے میں عبادت کے ساتھ ساتھ دیگر امور کا مرکز بھی ہوتی ہے۔اگر مسجد محض عبادت گاہ ہوتو دین وہ دنیا کی دوئی کا تصور پیدا ہوتا ہے اور مسجد کے قیام کا جو مقصد ہے وہ کما حقہ ٗ پورا نہین ہو سکتا۔اس کو حاصل کرنے کے لیے کسی خاص مسجد کوصرف قومی مسجد قرار دینا کافی نہین ہو سکتا جب تک کہ مسجد کا وہ کردار اسے لوٹایا نہ جائے جو اسے دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اسلام نے اسے دیا تھا۔اس کے علاوہ یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اسلام میں مسجد ضرار کی کوئی گنجائش نہین یعنی ایسی مسجد جو مسلمانوں کو جوڑنے کی بجائے ان میں تفریق پیدا کرے۔ لہذا مسجد صرف مسجد ہوتی ہے اسے کسی فرقے سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔اگر مسجد کو کسی مخصوص فرقے یا مسلک سے مخصوص کیا جائے گا تو اس کی حیثیت مسجد ضرار سے مختلف نہیں ہو گی۔ شلوار قمیض :زبان کے بعد لباس کسی قوم کی پہچان ہوا کرتا ہے ہمارا قومی لباس شلوار قمیض قرار دیا گیا ہے لیکن اب ہمیں شلوار قمیض پہنتے ہوئے شرم آتی ہے کہ کہیں لوگ ہمیں پتھر کے زمانے کا نہ سمجھنا شروع کر دیں۔ ہم لوگ قومی سطح پر احساس کم تری کا شکار ہیں ، ہمیں یہ سکھایا ہی نہیں گیا کہ جو چیز اپنی ہوصرف اْسی پر فخر کیا جا سکتا ہے۔یہی وہ لباس ہے جو ہماری موسمیاتی ضرورتوں سے ہم آہنگ اور ہماری مذہبی اقدار کے عین مطابق ہے۔نوجوانوں میں ایک Culture Trouser فروغ پا رہا ہے۔شلوار قمیض کی بناوٹ میں شرم و حیا کا جو پہلو مدنظر رکھا گیا ہے وہ پینٹ شرٹ میں نہیں ہے۔اعضاء کی بناوٹ اور خدو خال نمایاں نہیں ہوتے نتیجتاً ذہن برائی کی طرف مائل نہیں ہوتا کیونکہ نفس کو جو چیز پیش ہی نہ کی جائے نفس اس طرف راغب نہیں ہوتا۔ پینٹ شرٹ نہ صرف ہماری فطری ضرورتوں کو پورا کرنے میں رکاوٹ کا باعث بنتا ہے بلکہ مذہبی رسومات ادا کرنے میں بھی رکاوٹ بنتا ہے۔ چنبیلی ہمارا قومی پھول ہے۔لیکن چنبیلی کے لیے قومی پھول ہونا ایک طعنہ بن کر رہ گیا ہے کیونکہ چنبیلی کوبطور قومی پھول ہونے کے کوئی نہیں جانتا اور نہ اسے وہ اہمیت حاصل ہے جو بطور قومی پھول کے اسے حاصل ہونی چاہیے تھی۔ سارا زور گلاب اور ساری توجہ گلاب کو حاصل ہے۔اب چنبیلی بزبان حال یہ کہہ رہی ہے کہ پتا پتا بْوٹا بْوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گْل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے اسی طرح قومی جھنڈا دیکھ کر کبھی خون گرم ہو جایا کرتا تھا، طبیعت جوش سے بھر جاتی تھی اور بطور پاکستانی ہمارا سر فخر سے بلند ہو جایا کرتا تھا۔اب وہ بھی شرمندہ شرمندہ سا نظر آتاہے اور ہم بھی اس سے آنکھیں چراتے ہیں کیونکہ دنیا کے سامنے بطور قوم ہم نے جس طرح اپنا آپ پیش کیا ہے وہ کسی طور قابل فخر نہیں۔ بطور پاکستانی کوئی ہم پر اعتبار کرنے لیے تیار نہیں، ہم شدت پسند اور جاہل قوم تصور کیے جاتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود کہیں سے دبی دبی آواز میں اب بھی یہ صدا آ رہی ہے ہمارا پرچم ، پیار ا پرچم
یہ پرچموں میں عظیم پرچم
عطائے ربِ کریم پرچم آم پاکستان کا قومی پھل ہے اور واقعتاً آم کبھی عام بھی ہوا کرتے تھے لیکن اب تو آم بھی اتنے عام نہیں رہے بلکہ کافی حد تک خاص ہو گئے ہیں کیونکہ جب سے یہ زرِمبادلہ زرِ مبادلہ کا شور اٹھا ہے آم عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہو کر صرف خاص لوگوں کی پہنچ میں رہ گئے ہیں آم سارے باہر والے چْوپ جاتے ہیں اور یہاں کا عام آدمی صرف آموں کو دیکھتاہے اور قومی پھل ہونے کے ناطے ان کا احترام ہی کر سکتا ہے انہیں کھا نہیں سکتا۔وہ جو غالب نے کہا تھا کہ آموں میں دو خوبیاں ہوں تو کھانے کو دل چاہتا ہے کہ ایک تو میٹھے ہوں اور دوسرا زیادہ ہوں۔


کس زمانے کی بات کرتے ہو
دل جلانے کی بات کرتے ہو

افضال احمد قادری
04-29-2013, 08:57 PM
پارٹ 2
ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے لیکن ہاکی کو کرکٹ نے اتنا دبا یا ہوا ہے کہ اس کا دم گھْٹ کر رہ گیا ہے، اور اب یہ نام نہاد قومی کھیل اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ارباب اختیار بھی اس انتظار میں ہیں کہ یہ کھیل مسلسل نظر انداز کیے جانے کی پاداش میں اپنی موت آپ مر جائے تو وہ کرکٹ ہی کو قومی کھیل قرار دیں یا پھر نئی نسل خود بخود ہی ہاکی کو نظر انداز کیے جانے اور مسلسل کرکٹ دکھانے کی وجہ سے کرکٹ ہی کو اپنا قومی کھیل سمجھنا شروع کر دے گی۔
چکور جو ہمار قومی پرندہ ہے اسکے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ چاند کا عاشق ہے اور چاند جب اپنے حسن و جمال کے جلوے بکھیرتا ہے تو یہ بے خود ہو کر چاند کی طرف محوِ پرواز ہو جاتاہے اور پھر اڑتے اڑتے چاند تک پہنچنے کی لگن میں بالآخر بے ہوش کر گر جاتا ہے لیکن ارضِ وطن پاکستان میں ہم نے جب سمجھا کہ چکور بھی ان پرندوں میں شامل ہے جن کی بقا پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے تو ہم نے قومی احساس فرض کی وجہ سے کئی اسلحہ بردار محافظوں کو اس کی حفاظت کا ذمہ سونپ دیا لیکن چکور اپنی فطری معصومیت کی وجہ سے فوراً یہ جان گئی کہ جو قوم اپنی حفاظت نہیں کر سکتی وہ کسی اور کی حفاظت کیا کرے گی۔ یہ قوم ایک ایسی باڑ کی مانند ہے جو اپنی فصل کو خود ہی کھا جاتی ہے لہذا جب چکورنے اندر کے راز کو سمجھ لیا تو پھرسے محوِ پرواز ہو گئی۔ اب سنا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح چاند پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہے اور وہاں سے ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ مار خور ہمار ا قومی جانور ہے۔اس قوم نے جو حال اپنے آپ سے ا ورقومی اداروں سے کیا ہے اس کو دیکھ کر یہ معصوم جانور ڈرا ہوا اور سہما ہوادم دبا کر ایسا بھاگا کہ کسی جنگل میں جا کر چھپ گیا ہے اور اگر جنگل میں بھی اچانک کسی انسان کو دیکھ لے تو بڑی رحم طلب نظروں سے اْس کی طرف دیکھنے لگتاہے اور اگر اپ اسے یہ کہیں میاں مارخور آپ تو ہمارا قومی اثاثہ ہو ہم آپ کو خراج عقیدت پیش کرنے آئے ہیں تو وہ بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور جاتے جاتے کہہ جاتا ہے کہ جو قوم اپنے ریلوے کو، پی آئی اے کو ، سٹیل مل اورواپڈا جیسے اداروں کو کھا گئی ہے مجھے تو وہ ہڈیوں سمیت کھا جائے گی۔
دریائے سندھ جو ہمارا قومی دریا ہے وہ ہماری بے حسی اور بے بسی کا ماتم کرتا نظر آتاہے اس کی سطح پر اٹھتی ہوئی لہریں پکار پکار اس الزام سے اپنی براٗت کااظہارکر تی سنائی دیتی ہیں کہ آج اگر ملک لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے ،آج اگر تمہاری دھرتی پیاسی ہے اور فصلیں پانی کی بوند بوند کو ترستی ہیں، تو اِس میں اْن کا تو کوئی قصور نہیں۔ خون تمہارا سفید ہوگیا ہے، تم اختلاف و افتراق کا شکار ہو کر ڈیم نہیں بنا سکے ، تم سیاسی مفادات کا شکا ر ہو کر اور غیروں کا آلہ کار بن کر آبی ذخائر تعمیر نہیں کر سکے ، میں نے تو اپنی موج کی طغیانیوں میں کوئی کمی نہیں کی۔ سب کچھ ہوتے ہوئے کالا باغ ڈیم نہیں بنا سکے اور اپنی دھرتی کو لوڈ شیڈنگ سے کالا کررکھا ہے، فطرت نے پچھلے سال تمہارے اْس سوال کا بھی جواب دے دیا تھا جو کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں اٹھا یا جاتا ہے کہ کالا باغ ڈیم بننے کی صورت میں نوشہرہ ڈوب جائے گا ، وہ تو پھر بھی ڈوب گیا حالانکہ تم نے کالا باغ ڈیم نہیں بنایا تھا اسکے باوجودبھی اگر تم فطرت کی زبان نہیں سمجھو گے تو پھر
دریا کو اپنی موج کی طغیانیوں سے کام
کشتی کی پار ہو یا درمیاں رہے

دیودار جو کہ ہمارا قومی درخت ہے اس نے بھی قومی اثاثون کی طرف قوم کایہ رویہ او ر سلوک دیکھا تو سمٹ کر کہیں دوراز کے کسی جنگل میں گوشہ نشیں ہو گیا ہے۔ یہی حال ہمارے قومی ہیروز کا ہے وہ بھی مسلسل نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے ماضی کے اندھیروں میں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب سلطان صلاح الدین ایوبی، شہاب الدین غوری اور ٹیپو سلطان کو فراموش کر دیا گیا ہے کہ شاید دنیا اس وجہ سے ہمیں دہشت گرد نہ سمجھنے لگے۔ اب ان کی جگہ فلمی ہیروز اور کرکٹ ہیروز کودے دی گئی ہے اور نئی نسل کو بتا دیا گیا ہے کہ اب یہی تمہارے ہیروز ہیں اب یہی قوم کے نوجوانوں کے آئیڈیل ہیں۔انہیں اب انہی ہیروزکے قالب میں اپنے آپ کو ڈھالنا ہے۔اس کا ثمر نئی نسل میں نظر بھی آنے لگا ہے کہ مردوں میں نسوانیت اور عورتوں میں مردانہ پن نظر آنے لگا ہے۔ یہی حال ثقافتی سطح پر بھی ہے۔ اب بسنت ، ویلنٹائن ڈے جیسی سرگرمیوں کو زیادہ پروجیکشن ملتی ہے۔ نوجوانوں کو بھی ان میں زیادہ جوش و خروش اور ہلہ گلہ نظرآتاہے اور وہ بھی لا شعوری طور پر اسی رنگ میں ڈھلتے چلے جا رہے ہیں۔
"
پاک سر زمین شاد باد" ہمارا قومی ترانہ ہے۔ قومی ترانہ بھی قوم کے اتحاد و اتفاق کی علامت ہوا کرتا ہے، اس کا آہنگ و ترنم قومی جذبات اور امنگوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ قومی ترانہ الوداعی کلمات بن کر ہمیں کہتا ہے کہ جاؤ اب تمہارا اللہ ہی حافظ ہے ، چاند اور تارا ہماری حالت پہ حیران و پریشان ہے کہ میں تو ان کی آزادی کی علامت تھا یہ کیوں غیروں کے غلام بن کراور ان کے دست نگر بن کر رہ گئے ہیں ، ان کی خود داری و آزادی کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ یہ تو وہ قوم تھی جسے دنیا کی قوموں کی امامت کرنا تھی اب یہ کیوں مقتدی بن کر ہاتھ باندھے غیروں کے در پر کھڑے ہیں۔ نیشنل موٹو تو اب لطیفہ بن گیا ہے جب کوئی دقیانوسی دور کا شخص ایمان، اتحاد اور تنظیم کی بات کر تا ہے تو بے ساختہ ہماری ہنسی نکل جاتی ہے۔ ان للہ و انا الیہ راجعون ط اب جبکہ قومیت کے یہ سارے عناصر بکھر کر رہ گئے ہیں تو قوم کو کہاں تلاش کریں۔

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزاء کا بکھر جانا

بےباک
04-30-2013, 08:45 AM
بہت خوب جناب افضال احمد قادری صاحب ،
اچھا تبصرہ کیا آپ نے ۔ الفاظ کا چناؤ اور تجزیہ کافی دلچسپ اور حقائق سے بھرپور تھا ،

تانیہ
04-30-2013, 10:41 AM
بہت دلچسپ۔۔۔۔۔:tumb: