PDA

View Full Version : پاکستان ميں ٹی ٹی پی کے جاری حملے – سیاسی عمل ميں خلل ڈالنے کی ایک کوشش



tashfin28
04-29-2013, 09:38 PM
پاکستان ميں ٹی ٹی پی کے جاری حملے – سیاسی عمل ميں خلل ڈالنے کی ایک کوشش

یہ دیکھ کر بہت ہی دکھ ہوتا ہے کہ دہشتگرد گروہ پاکستان بھر ميں سيساسی کارکنوں کو نشانہ بنارہے ہيں، ایک عام کارکن سے ليکر مقامی اور قومی سیاسی شخصیات سميت کوئی بھی ان کے تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں سے محفوظ نہيں ہے۔

ملک کی مختلف سیاسی شخصیات سمیت ان عام سياسی کارکنان کے خلاف ٹی ٹی پی کے جاری حملے ان کی اپنی مذموم سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے ان کے پاکستان میں جاری ظالمانہ کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ يہ پاکستان کے نام نہاد محافظ موجودہ سياسی عمل ميں خلل ڈالنے کی کوشش کررہے ہيں جس کے ذريعے گيارہ مئ 2013 کو ایک نئی سویلین حکومت کو اقتدار کی پرامن منتقلی کا عمل يقينی بنايا جاسکتا ہے۔

ہم اس امر پر بھرپور يقين رکھتے ہيں کہ دہشتگردوں کو ان پرتشددکارروائیوں سے پاکستانی سیاست کی قیادت کو منتخب کرنے اور پاکستانی عوام پر اپنی سیاسی فیصلےمسلط کرنے کاکوئی حق نہیں ہے۔ ميں دوہرانا چاہتا ہوں کہ امریکہ ان شیطانی انتہا پسندوں کے خلاف عوام کی حمایت کرنے کيلۓ پر عزم ہے جو ایک جمہوری پاکستان کے خلاف ہيں اور پاکستان ميں جاری سیاسی عمل میں خلل ڈالنے کيلۓ سیاسی کارکنوں کو قتل کر رہے ہيں تاکہ اپنی شيطانی سياسی مقاصد کو حاصل کرسکيں۔

امریکہ پاکستان میں جمہوریت کے مضبوط ترین حامیوں میں سے ایک ہے اورہماری کوششيں ہمیشہ ملک میں جمہوری اداروں کومضبوط بنانےکيلۓ ہی رہی ہے۔ ہم اس امر پر يقين رکھتے ہيں کہ پاکستان کی قسمت کا حتمی فیصلہ لوگوں کے ہاتھ ميں ہے، جو واضح طور پر ایک جمہوری طور پر مضبوط اور قابل عمل پاکستان کی جانب ہماری حقيقی اور ظاہری عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

جہاں تک آئندہ انتخابات کا تعلق ہے، ہم اقتدار کی پرامن منتقلی کيلۓ بروقت، آزاد اور منصفانہ انتخابات کے خواہاں ہيں۔ يہ قابل ذکر ہے کہ يہ تاریخی انتخابات پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ايک سویلین حکومت کو اپنی مدت مکمل کرنے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے، اور اسطرح ایک نئی سویلین حکومت انتخابات کے ذريعے اقتدار ميں آئيگی ۔

ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov (http://usinfo.state.gov/)
http://www.facebook.com/USDOTUrdu (http://www.facebook.com/USDOTUrdu)
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu (https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu)

سرحدی
05-01-2013, 08:23 AM
انکل جی! برا نہ منائیں ایک بات عرض کروں؟؟
کہتا ہوں سچ۔۔۔۔۔۔ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے!
جناب! جب روس ، آپ کا دشمن ملک تھا تو پاکستان کے سرحدی علاقے کے نہتے لوگ تھے جن کو آپ نے ہتھیار فراہم کرکے روس کے خلاف لڑنے کی ترغیب اور اپنا مقصد حاصل کیا، اس وقت آپ ان کو مجاہد کہہ کر پکارتے تھے، خود آپ کے اس وقت کے وزیر کا بیان اب بھی موجود ہے جو انہوں نے پاکستان کے سرحدی علاقے میں عوام سے افغانستان میں جہاد کرنے کے لیے اپیل کی تھی، مجھے کبھی کبھی حیرت ہوتی ہے، کہ جب کوئی تحریک آپ کے خیال سے مطابقت رکھے تو اس تحریک کو جہاد کا لقب عطا کرتے ہیں اور جب آپ کے خلاف ہوں تو دہشت گرد، کیا یہ دوغلی پالیسی نہیں؟ ہم مانتے ہیں کہ دنیا کا کوئی بھی پرامن شہری ایسی حرکات کو کبھی قبول نہیں کرتا جس سے ظلم اور بربریت اور معصوم لوگوں کا نقصان ہو، لیکن کیا برما کی صورتحال آپ کے سامنے نہیں جہاں کئی مسلمانوں کا دن دہاڑے خون بہادیا جاتا ہے، اس وقت آپ ، اقوام متحدہ کہاں ہوتی ہے کیوں نہیں پوچھا جاتا، ہم مانتے ہیں کہ پاکستان کے حالات اچھے نہیں ، لیکن اگر غور کریں تو یہ بھی آپ کی اس خارجہ پالیسی کے ثمرات ہیں جو آپ اپنے لیے کچھ اور اور دوسروں کے لیے کچھ اور رکھتے ہیں، ہر شخص کو اپنے ملک کے اندر سیاسی قیادت منتخب کرنے کا اختیار ہے، اور اپنے ملک کے قوانین کے مطابق اپنی رائے دینے کی آزادی بھی ہے، سر جی! اس سے پہلے جو حکومت پانچ سال تک بھگت چکے ہیں اور دعا کرتے کرتے اس سے جان چھوٹی، لیکن وہ بھی بڑی سخت جان حکومت تھی، الگ ہونے کے لیے تیار نہ تھی، چمٹی رہی، یہ ظالم اور مفاد پرست حکمران جو اپنے ملک سے زیادہ کسی اور کے لیے مخلصانہ کوششیں کرتے ہیں پاکستان کو اور پاکستانی عوام کو کیا فائدہ دیں گے؟؟ ہمارا حق ہے کہ پاکستان ایک ایسا اسلامی معاشرہ پروان چڑھے جس میں سب کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہو، اور ملک میں امن و امان ، خوشحالی اور بیرون دنیا کو تحفظ حاصل ہو، نہ کوئی ہمارے معاملات میں مداخلت کرتا ہو اور نہ ہم کسی کے کام میں کام رکھیں، اس لیے جناب عالی! ہر بُرے کام کی مذمت کی جاتی ہے اور کرنی چاہیے کہ ہمارا دین ہمیں اس کا حکم دیتا ہے کہ برائی کو برا جانو، لیکن ایک بات یہاں یہ بھی قابل غور ہے کہ اپنے گھر میں کسی کی انگلی بھی برداشت نہیں ہوتی اور دوسرے کے گھر میں دن رات انگلیاں مارتے رہنا عقل مندی نہیں۔ اس لیے آپ سے بھی گزارش ہے کہ اچھائی کے کاموں میں کوشش کریں ، برائی چھوڑدیں خود بخود ختم ہوجائے گی۔ان شاء اللہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

tashfin28
05-14-2013, 08:06 PM
1980 کے دہائی ميں روس کے خلاف افغان جہاد اور امريکی کردار

محترم سرحدی صاحب
السلام عليکم

محترم دوست،

آپ ايک ايسا نقطہ نظر پيش کررہے ہيں جس کی بنياد کچھ مخصوص سازشی نظریات رکھنے والے عناصرکی طرف سے جان بوجھ کر پاکستانی معاشرے میں پھلائے ہوئے غلط پروپیگنڈے کے خیالات پر مبنی ہے جو زمينی حقائق کے بالکل منافی ہے۔ ان من گھڑت کہانيوں کی پرچار سے آپ صرف پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہيں اور جس سے ان بے بنیاد سازشی نظريات کو تقويت ملتی ہے

ميں کچھ تاریخی حقائق پیش کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ جو 1980 کے دہائی میں سوویت یونین کے خلاف افغان جنگ کے دوران امریکی کردار کو بالکل واضح کرديگا۔
اس ميں کوئی شک نہيں کہ امريکی حکومت نے ديگر مسلم ممالک کی طرح افغانی عوام روس کے خلاف جنگ ميں مدد اور مالی اعانت مہيا کی تھی۔ تاہم آپ کو يہ ياد رکھنے کی ضروت ہے کہ تمام تر مالی اعانت پاکستانی افسران اور آئی ايس آئی کے ذريعے منتقل کی گئ تھی اور وہی اس فيصلے کے حوالے سے ذمہ دار تھے کہ کن گروہوں اور افراد کو افغانستان ميں فنڈز اور سپورٹ فراہم کی جاۓ۔

يہ قابل ذکر ہےکہ امريکی حکومت نے افغانستان ميں سويت حملے کے بعد مجاہدين کی جدوجہد ميں ان کی بھرپور حمايت کی تھی۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہيں کر سکتا۔ حالات کے تناظر ميں وہ اس وقت کا ايک درست اور منصفانہ فيصلہ تھا۔ کيا آپ کے خيال ميں افغانستان کے لوگوں کی مدد نہ کرنا ايک درست متبادل ہوتا؟
میں يہ چاہتا ہوں کہ آپ اس ضمن ميں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کی ایک انٹرویو کو ملاحظہ کريں ۔

http://pakistankakhudahafiz.wordpress.com/2009/06/14/loud-clear-episode-3-hamid-gul/ (http://pakistankakhudahafiz.wordpress.com/2009/06/14/loud-clear-episode-3-hamid-gul/)

انھوں نے اپنے انٹرويو ميں يہ واضح کيا کہ يہ پاکستانی افسران ہی تھے جنھوں نے يہ فيصلہ کيا تھا کن گروہوں کو اسلحہ اور ديگر سہوليات سپلائی کرنا ہيں۔ انٹرويو کے دوران انھوں نے يہ تک کہا کہ "ہم نے امريکہ کو استعمال کيا"۔ يہ کسی امريکی اہلکار کا بيان نہيں بلکہ شايد پاکستان ميں امريکہ کے سب سے بڑے تنقيد کرنے والے فرد کا ہے۔ اور يہ واحد شخص نہيں ہے جنھوں نے اس ناقابل ترديد حقيقت کو تسليم کيا ہے۔

ميں مزيد واضح کرنا چاہونگا کہ سال 1994 تک طالبان منظر عام پر نہيں آئے تھے البتہ اس سے کئی سال پہلے خطے ميں امريکی فعال کردار اختتام پذير ہوچکا تھا۔
مذکورہ بالا حقائق کے پیش نظر، میں کہہ سکتا ہوں، کہ افغان جنگ میں امریکی کردار اور طالبان کے وجود ميں آنے کے متعلق آپ کی رائے سياق و سباق سے بالکل منافی ہے۔ آپ ايک منفرد انداز ميں بحث شروع کرنے کی کوشش کررہے ہيں تاکہ آپ کے بے بنیاد سازشی نظریات کو کسی طرح کی حمایت اور تقويت مل سکے ۔

آخر میں، ميں دوہرانا چاہتا ہوں کہ 1980 کے دہائی ميں افغانستان کو دی گئی امريکی فوجی اور مالی امداد ان کی سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ میں مدد کرنے کے لئے تھی۔ امريکی حکومت کے کوئی اور دوسرے قسم کے عزائم نہيں تھے جس کی طرف آپ غلط اشارہ کررہے ہيں۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov (digitaloutreach@state.gov)
www.state.gov (http://usinfo.state.gov/)
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu (https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu)
http://www.facebook.com/USDOTUrdu (http://www.facebook.com/USDOTUrdu)

بےباک
05-27-2013, 08:41 AM
تاشفین برادر کے لئے ،
تاشفین صاحب نے جو غلط بیانی کی اس بارے وہ امریکیوں کا اپنا چہرہ دیکھیں ، کتنا غلیظ چہرہ ہے ، ہیلری کلنٹن کے انکشافات کے بعد ،
اتنا ہی آپ کے لئے کافی ہے ، اس میں ہیلری نے تسلیم کیا کہ بیس سال پہلے انہوں نے ہی طالبان کو بنایا تحا ،

http://www.youtube.com/watch?feature=endscreen&NR=1&v=-MkPcDaSLbM
پاکستان میں یو ٹیوب بند ہے ان کے لئے متبادل لنک نیچے درج ہے ،

http://www.dailymotion.com/en/relevance/search/confession+of+hillary+clinton/1#video=xva35r

شاہنواز
03-08-2014, 06:10 PM
میں یہاں سرحدی بھائی کے خیالات سے پوری طرح متفق ہوں کہ پہلے ان ہی مغربی شمالی سرحدی علاقوں کے محافظوں کو پہلے آپ نے ہی استعمال کیا اور روس کے خلاف بھرپور مالی اعانت کی ۔ جب روس کے بخیرے ہوئے تو اور امریکہ بہادر نے جب افغانستان پر حملہ کیا اور انہی مجاہدین نے امریکہ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو یہی دہشت گرد کہلانے لے گے سو فیصد درست ہے ۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے امریکہ بہادر کتنے ہی حیلے بہانے کردے لیکن ٹھوس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔