PDA

View Full Version : بيمارياں ہمارے امتحان کا حصہ ہوتی ہيں



محمدمعروف
04-30-2013, 10:28 AM
بيماريوں کے پيچھے کيا وجہ ہوتی ہے؟

امراض ہماری زندگی میں ان چیزوں میں سے ایک ہیں جوہمیں یاد کراتے ہيں کہ ہم واقعی کسقدر کمزور ہیں۔ ہمارے بالکل محفوظ لگنے والے جسم ایک چھوٹے بیکٹیریا یا وائرس جو ننگی آنکھ سے پوشیدہ ہےکا بری طرح شکار ہو سکتے ہیں. ایک چھوٹی سی سوچ اصل میں ہمیں یہ سمجھنے میں مجبورکر ديگی کہ ہمارے جسم کے لئے تعجب کی بات ہے کہ فقط ایک بیکٹیریا اُن کواسقدر متاثر کرديتا ہے۔ یہ ايسا ہے، کیونکہ اللہ نے ہمارے جسم کو بے عیب تحفظاتی نظام کے ساتھ پیدا کیا ، خاص طور پر ہمارے مدافعتی نظام کو۔اس کو بآسانی ہمارے جسم کے دشمنوں کے خلاف لڑایٔ کرنے والی ایک مضبوط فوج کہا جا سکتا ہے۔ تاہم، انسان ان تمام حفاظتی نظام کے باوجود بے بس ہی نہیں بلکہ بہت کثرت سے بیمار بھی ہوتا رہتا ہے۔ اس سے ہمیں اس بات کو سمجھ جانا چاہئے کہ اللہ ہمیں اس طرح بھی پيدا کر سکتا تھا کہ ہم کبھی بیمار نہیں پڑتے۔ وائرس، بیکٹیریا ہم پر کوئی اثر نہیں کر پاتے، یا يہ چھوٹے 'دشمن' جو خاص طور پر تیار کیے گئے ہرگز موجود ہی نہ ہوتے۔ تاہم، کسی بھی وقت کسی بھی شخص کو بغیر کسی ظاہری وجہ سے صحت سے جدوجہد کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، جلد پر ایک چھوٹے سے کٹ کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والا وائرس قليل وقت میں پورے جسم میں پھیل سکتا ہے. ٹیکنالوجی خواہ کتنی ہی جديد کيوں نہ ہو جائے، عام سا وائرس بھی بہت آسانی سے ہميں زير کر سکتا ہے۔

يہ کویٔ دور دراز کے منظرنامے نہيں ہيں، وہ کسی کو بھی کسی بھی وقت ہو سکتی ہيں ، اس سے ہر کسی کو ان حقائق پر اچھی طرح غور کرنا چاہئے. دیگر تمام کمزوریوں کی طرح، امراض بھی خاص طور پر ہمارے لئے اللہ کی طرف سے پیدا کیے گئےہيں . انسان کا رحجان تکبر اور غرور کی طرف ہوتا ہے اور وہ اپنی کمزوريوں کو بھول جانے کی عادت رکھتاہے۔. یہ بیماریاں آدمی کو اُسکی کمزوریوں کو دیکھنے اور اُن کو سمجھنے ميں اس کی مدد کرتی ہيں اور اس زندگی کی سچایٔ و ناپسندیدہ نوعیت کو بھی۔.

بیماریاں مسلمانوں کے لئے ﷲ نےآزمأشوں کے طور پر پيدا کی ہيں تاکہ وہ جنّت کی خواہش رکھيں، اسکے ساتھ ﷲ نے جو صحت کا تحفہ عطا کيا ہے، اس جيسی نعمتوں پر غور کريں اور ﷲ کا شکر ادا کرتے رہيں اور جان ليں کہ وہ اتنے کمزورہيں، کہ اُنہيں صدقِ دل سےاللہ کے آگے ہتھیار ڈال دينے چاہئں۔.

انسان زندگی میں حاصل کی جا چکی بہت سی چیزیں معمولی سمجھ بيٹھتا ہے. تاہم، وہ تمام چیزيں جن کو ہم اتنا پیار کرتے ہيں صرف اللہ تعالی کی طرف سے پیداکردہ نعمتيں ہيں.

مثال کے طور پر، بہت سے لوگ یہ بھول جا تے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ ہم ہر صبح اُٹھتے ہيں اور کھڑے ہوکر اپنے پیروں پر آسانی سے چل سکتے ہیں. تاہم، اگر ایک پیر میں بھی کؤی چھوٹا سا مسئلہ ہو جأے توایک بڑا مسئلہ پيدا ہو جاتا ہے جسکی وجہ سے روزانہ کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہو جاتی ہے. چنانچہ ایک شخص جس کے پاؤں ميں درد ہے بہتر طریقے سےاُن ہزار قدموں کی تعریف کرنے کے قابل ہو جا ئگا جو وہ دن کے دوران بغير کسی تکليف کے اُٹھاتا ہے۔.

ایک متقی مسلمان اس پر اور اسطرح کی بہت سی بظاہر غیر اہم چیزوں کو اللہ کا شکرادا کرنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کے مواقع کے طور پر ليتا ہے. وہ یاد رکھتا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے ایک صحت مند شخص بناکےا سے ایک بہت ہی عظیم نعمت سے نوازا ہے. وہ ایکبار اور بھی ديکھتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جو بیماری دیتا ہے اور صرف اللہ تعالی ہی شفا دے سکتا ہے اور لہذاوہ اللہ کے حضور ہی صحت پانے کيلٔے رجوع کرتا ہے. ہر لمحے جب درد کا احساس ہوتا ہے، وہ اللہ ہی کو یاد کرتا ہے اوراپنے دل کو ہر وقت اللہ ہی پر مرکوز رکھتا ہے۔.

وہ جس نے مجھے پیدا کیا اور مجھے ہدایت دیتا ہے؛.

جس نے مجھے کھاناديا ہے اور پينا ديا ہے؛

اور جب میں بیمارہوتا ہوں، وہ مجھے شفا ديتاہے؛.

وہ جو میری موت کا سبب بنائے گا، پھر مجھے زندگی عطا کريگا؛

مجھے پوری امید ہے کہ حساب کے دن میری غلطیوں کو معاف کر دے گا؛

مجھے صحيح انصاف سے نوازے گا اور مجھے صالحين کيساتھ شامل کريگا؛

اورمجھے اعلٰی لوگوں کے درميان اونچی عظمت عطا کريگا؛

اور مجھے نعمتوں کے باغ کا وارث بنأے گا

الشعرا)78-85)

امراض ہمیں یہ سمجھانے ہيں کہ اس دنیا سے منسلک ہونا انتہأی بیکار ہے. وہ ہمیں یہ بھی ظاہر کرتے ہيں کہ سب کچھ جو ہمارے پاس ہے ہمارے امتحان کا ہی ایک حصہ ہے. ہم اس طرح سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہيں کہ ہم صرف اللہ کے غریب غلام ہیں اور ہميں آسانی سے شکست دی جا سکتی ہے اورحتٰی کہ جراثیم بھی ہميں ہلاک کر سکتے ہیں. اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے اور وہی ہمیں ارد گرد کے تمام اقسام کے خطرات سے بچاتا ہے. کوئی چاہے کتنا کيوں نہ کوشش کر کے سوچ لے اور اپنے آپ کو قائل کر لے کہ وہ طاقتور ہے ، وہ کبھی بھی اپنی مدد يا حفاظت خود نہيں کر سکتا اگر اللہ ايسا نہ کرنا چاہے۔ اگر اللہ چاہے وہ کسی کو بیماریوں ميں جکڑ لے گا اور اس کے جسم میں دیگر کمزوریاں اسطرح سے پيدا فرما ديگاکہ وہ اپنی بے بسی کو مکمل طور پر سمجھ جائگا۔

يہ زندگی اللہ کی طرف سے پیدا کی جانيوالی جانچ کی جگہ ہے. ہر شخص اللہ کو راضی کرنے کے واسطے اپنی زندگی کو اُسی طرح گزارنے کا ذمہ دارہے اور اس مقصد کے لئے مسلسل امتحان میں سے گزرتا ہے. وہ لوگ جو اللہ کے احکامات کی پیروی کر رہے ہیں اور اچھے اخلاق کا مظاھرہ کرتے ہيں، جنت میں ہمیشہ ہميشہ رہنے کے قابل ہونگےا. تاہم، وہ لوگ جو تکبر ميں رہیں اور ابدیی جنت کی زندگی پر اِن چند دہائیوں کی زندگی کو ترجیح ديں ، خود کو دونوں جہاں يعنی يہ دنیا اور آخرت میں کمزوریوں، مشکلات اور مسائل سے چھٹکارا لينے کے قابل نہيں ہو پائنگے۔.

بشکریہ:http://ur.harunyahya.com/ur/%D9%85%D8%B6%D8%A7%D9%85%DB%8C%D9%86/153257/%D8%A8%D9%8A%D9%85%D8%A7%D8%B1%D9%8A%D8%A7%DA%BA-%DB%81%D9%85%D8%A7%D8%B1%DB%92-%D8%A7%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%AD%D8%B5%DB%81-%DB%81%D9%88%D8%AA%DB%8C-%DB%81%D9%8A%DA%BA

تانیہ
04-30-2013, 10:48 AM
آزمائش ایسا شرف حق ہے جسے صرف بندگان حق ہی نوازے جاتے ہیں
"اور تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔۔۔۔"
زبردست شیئرنگ۔۔۔۔۔جزاک اللہ