PDA

View Full Version : طالبان دہشتگردوں کو پاک فوج کا پیغام



سید انور محمود
05-01-2013, 10:20 AM
تاریخ: یکم مئی 2013
از طرف: سید انور محمود

طالبان دہشتگردوں کو پاک فوج کا پیغام


پاکستان جمہوری طریقے سے حاصل کیا گیا اور یہ ایک جمہوری ملک ہے۔ اس ملک کو حاصل کرنے کی وجہ مسلمانوں کی اپنی ایک خود مختار ریاست تھا، جس میں انکومذہبی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی آزادی حاصل ہو۔ مگر آج بدقسمتی سے ہم کو نہ ہی مذہبی آزادی ہے اورنہ ہی سیاسی۔ معاشی اور معاشرتی آزادی جب ہوتی ہے جب مذہبی اور سیاسی آزادی ہو۔ آج مذہب کے نام پر انتہا پسندی اور دہشتگردی کا راج ہےاور سیاسی آزادی کے نام پر گذشتہ پانچ سال لیٹروں کا راج رہا۔ بڑی مشکل سے چھیاسٹھ سال بعد آج ہم جمہوریت کے تسلسل کو رواں رکھنے کے لیے 11 مئی کو انتخابات کے عمل سے گذرنے جارہے ہیں۔ عام انتخابات میں صرف چند روز باقی ہیں،مگر انتخابی گہما گہمی کے مناظر صرف پنجاب میں نظر آرہے ہیں باقی تین صوبے دہشتگردی کا شکار ہیں۔ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور سندھ خاصکرکراچی میں اے این پی ، متحدہ قومی مومنٹ اور پیپلز پارٹی کے الیکشن دفاتر یا اُنکی کارنرمیٹنگ پر ہونیوالے بم دھماکوں نے عام لوگوں کو خوف زدہ کیا ہوا ہے اور طالبان دہشت گردوں کا اصل مقصد بھی یہ ہی ہے۔ انتخابات کو سبوتاژ کرنے کیلئے دہشت گردکارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے،تاکہ لوگ اپنے ووٹ کا استمال کم سے کم کرپایں، اور ملک جمہوری طور پر مستحکم نہ ہونے پائے۔

پاکستان میں دہشتگردوں اور فسادیوں کو لانے کا سہراتو پاکستان کے سب سے وحشی آمر جنرل ضیاالحق کوجاتا ہے جس نے امریکہ کے ڈالروُں اور اپنی حکومت کو طویل کرنے کےلیےروس کے ساتھ افغانستان میں کرائے کی جنگ لڑئی۔اور جب امریکہ میں 9/11 کا واقعہ ہوا تو امریکہ کا سابق ایجینٹ اسامہ بن لادن افغانستان میں موجود تھا۔ اُس وقت افغانستان میں جاہل ملا عمر کی طالبانی حکومت تھی جسکو امریکہ کی رضا مندی سےصرف تین ممالک نے تسلیم کیا ہواتھا یعنی پاکستان، متحدہ عرب عمارات اور سعودی عرب۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ جس نےکہا تھا کہ 9/11 کے واقعہ میں 17 سعودی عرب اور 2 متحدہ عرب عمارت کے باشندئے شامل ہیں سیدھا دوڑا افغانستان کیوں چلا آیا۔ اسکی وجہ اسامہ بن لادن تھا جسکو ملاعمر نے پناہ دی ہوئی تھی اور بقول امریکہ اسامہ اور اسکے ساتھی اس دہشت گردی کے ماسٹر ماینڈ تھے اور امریکہ اپنے پالتو کو کبھی نہیں چھوڑتا ، جدید تاریخ میں صدام حسین اسکی ایک مثال ہے۔اور جب پاکستان کی افواج اور عوام اس جنگ میں اپنی سرزمین کو بچانے کےلیےحرکت میں آئے تو یہ پاکستان کی افواج اور پاکستانی عوام کے خلاف دہشت گردی پر اترآئے۔طالبانی حکومت بنوانے کا سہرا جماعت اسلامی، مولانہ فضل الرحمان اوربے نظیر کو جاتا ہے۔ یہ سانپ اِن کے ہی پالے ہوئے ہیں اور سانپ چونکہ کسی کے نہیں ہوتے اسلیے جب بے نظیر کو ہوش آیا اور انکی شدت سے مخالفت کی تو 2007 میں بے نظیر کو ڈس لیا۔ گذشتہ گیارہ سال سے یہ دہشتگردی اتنی بڑھ گی ہے کہ اب پاکستان کا کوئی باشندہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ اب جبکہ انتخابات میں صرف چند دن باقی رہ گئے ہیں،حال یہ ہے کہ ملک کے تین صوبوں میں کوئی بھی سیاسی جماعت ابھی تک جلسے جلوسوں کی سیاست شروع نہیں کرسکی ہے، صرف پنجاب میں ایسا لگتا ہے کہ الیکشن ہونے جارہے ہیں۔ اے این پی ، متحدہ قومی مومنٹ اور پیپلز پارٹی اپنی انتخابی مہم نہیں چلاپارہی ہیں۔ پیپلز پارٹی اور اسکے اتحادی اپنی گذشتہ پانچ سالہ کارکردگی کی وجہ سے سیاسی طور پر ختم ہونے جارہے ہیں اور بقول عمران خان کہ آصف زرداری تو پیپلز پارٹی پرخودکش حملہ کرچکا ہے۔ اس دہشت گردی میں جس میں صرف عام لوگ اپنی جان سے جارہے ہیں ، اگر دہشتگردی کا سلسلہ جاری رہا توان جماعتوں کو سیاسی موت کی جگہ سیاسی شہادت مل جائے گی۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کا صرف ایک ماہ باقی تھا کہ اچانک طالبان دہشتگردوں کی طرف سے حکومت سے مذاکرات کی مشروط پیش کش کی گئی تھی جس میں انہوں نے پاکستانی فوج پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے میاں نواز شریف، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور امیر جماعت اسلامی سیدمنور حسن کی مذاکرات سے متعلق ضمانت مانگی تھی۔ میاں نواز شریف نے تو چپ سادھ لی مگر مولانہ فضل الرحمان اورجماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن بہت پرجوش تھے۔جماعت اسلامی کے امیرسید منورحسن نے تو فوج کو نصیحت بھی فرمائی کہ وہ طالبان سے کوئی وعدہ خلافی نہ کریں اورحکومت کو حکم فرمایا کہ وہ فورا مذاکرات کرے اور طالبان کو ایک ٹی وی انٹرویو میں سلام بھی پیش کیا۔ اس مشروط مذکرات کی پیشکش کا مطلب حکومت سے مذکرات کرنا ہر گز نہیں تھا بلکہ اپنے امیدواروں کا بتانا تھا۔ نواز شریف کا نام تو رسما لیا گیا تھا، اصل مقصد جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی مدد کرنا تھا۔ لیکن چونکہ نہ حکومت نے اس کا کوئی جواب دیا اور نہ ہی عام لوگوں نےلہذا دہشتگردی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ آپ نوٹ کریں جب بھی سیدمنور حسن یا مولانہ فضل الرحمان سے طالبانی دہشتگردی کے حوالے سے کوئی سوال کیا جاتا ہے یہ دونوں کبھی طالبان کی مذمت نہیں کرتے اور نہ ہی دہشتگردی کا شکار ہونے والوں سے ہمدردی۔

طالبان کے مذاکرات کی پیشکش کا جواب 30 اپریل کی شب یوم شہدا پر پاکستان کے فوجی سربراہ نے بھرپور انداز میں دیا۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہاہے کہ "الیکشن گیارہ مئی کوہوں گے، دہشتگردی کیخلاف جنگ کوصرف فوج کی جنگ سمجھناہمیں انتشارکی طرف لے جائے گا،پاکستان مزیدکسی انتشار کامتحمل نہیں ہوسکتا۔ اُن کا کہنا تھاکہ ایک اہم سوال دہشت گردی کیخلاف جنگ ہے،کبھی یہ سوال نہیں اٹھایاگیاکہ یہ ہماری جنگ ہے،ایک سپاہی کاذہن اورمشن اس قسم کے شکوک کا متحمل نہیں ہوسکتا، کئی حلقے اس بحث میں الجھناچاہتے ہیں کہ یہ جنگ کیوں شروع ہوئی،حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اورپاکستانی عوام آج اس جنگ کانشانہ ہیں،دہشت گردی کاناسوراب تک ہزاروں پاکستانیوں کی جان لے چکاہے،شہیدوں کے لواحقین اورزخمیوں کوشامل کرلیں توتعدادکئی گنابڑھ جاتی ہے،اگرکوئی ٹولہ ہم پراپنے نظریات مسلط کرناچاہے تواسے کس طرح برداشت کیا جاسکتا ہے،ملک اورآئین سے بغاوت کبھی برداشت نہیں کی گئی،پاکستان اس کاہرگزمتحمل نہیں ہوسکتا، ہتھیاربندقومی دھارے میں شامل ہوناچاہتے ہیں توآئین کوتسلیم کریں تو انہیں خوش آمدید کہیں گے"۔

یہ پیغام ویسے تو جنرل کیانی کا ہے مگر یہ پیغام پوری پاک فوج کا ہے اور پوری پاکستانی قوم کا ہے۔ اس پیغام میں صاف صاف کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ ہماری جنگ ہے پوری قوم کی جنگ ہے اسلیے طالبان دہشتگردوں کی دہشتگردی ، ملک اورآئین سے بغاوت کبھی برداشت نہیں کی جائے گی۔ طالبان دہشتگرد اور ان کے ہمدردوں کو پاکستانی قوم کی طرف سے یہ کھلا پیغام ہے کہ پہلے اپنی دہشتگردی بند کرو، ہتھیار ڈالو اور پاکستان کے آئین کو تسلیم کرو تو خوش آمدید ورنہ طالبان دہشتگردوں کو پاک فوج کا پیغام پوری پاکستانی قوم کا پیغام ہے۔

بےباک
05-03-2013, 09:30 AM
محترم المقام جناب سید انور محمود صاحب آپ کی کافی باتوں سے میں اختلاف رکھتا ھوں ، اور بحیثیت مسلمان ایک بات واضع کرنا ضروری سمجھتا ھوں کہ جس کام کو حکومت نے کرنا تھا ، یعنی اس ملک کو اسلامی قوانین اور اسلامی نظام پر چلانا تھا ،
انہوں نے ہر موقع پر دھوکہ فراڈ اور بے ایمانی سے دوسروں کا ایجنڈا نافذ کیا ، اس ملک جس کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اس پر مسلط رہے ،اور پاکستان کی اصل بنیاد کو بالکل بھول گئے اور اگر حکومت میں مذھبی لوگ دکھائے یا لائے بھی گئے تو وہ بھی صرف پاکستان کی عوام کو مطمئن کرنے کے لئے ،کاسہ لیس طرح کے کردار جیسے مرحوم مولانا کوثر نیازی ، اس نظام پرعوام کی بے زاری اور نفرین کا یہ عالم تھا کہ جو بھی اسلام کا نعرہ لگا کر سامنے آتا ۔عوام اس کو نجات دھندہ سمجھنے لگتے ،
تو یہ ان لوگوں سے محبت نہیں تھی ، بلکہ اسلام سے محبت کا ثبوت تھا ، شخصیت سے زیادہ اسلامی نظام کی تنفیذ کا ثبوت تھا ، جب ملا عمر ، اسامہ ،یا ضیاء الحق نے اسلام کے نام سے اسلامی نظام لانے کا وعدہ کیا تو لوگوں کی محبت ان شخصیات سے نہیں ، بلکہ اس مشن اسلام جو ہمارا نظام حیات ہے اس سے تھی ، آپ کو اندازہ ہونا چاھہیے جب صدام حسین (سابقہ ایجنٹ امریکا ) کا امریکا کے خلاف لڑنے کا نعرہ لگایا تھا تو پاکستان میں اور دنیا بھر میں کئی گھروں میں نومولود بچوں کے نام صدام حسین رکھے گئے ، وہ ان کو نجات دھندہ اور ہیرو سمجھنا شروع ہو گئے ،
دوسری طرف سیکولر طبقہ اسلام کے نام لینے والوں اور مذھب کے خلاف اپنا غصہ نکالنے کے لئے مذھبی شخصیات کی ذاتی خامیوں کے بجائے مذھب پر ہی تنقید کرکے اپنی اسلام دشمنی کا ثبوت
دے کر پختہ اور راسخ مسلمانوں کا ان شخصیات کی طرف رخ موڑ دیتے ہیں جن کو ان کی شکل میں نجات دھندے دکھائی دیتے ہیں جن کو اسلام کی احیاء کے لئے وہی کمزور مسلمان میدان میں ملتے ہیں ،
محترم جناب یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اور لوگوں نے اسلام کے نام کو مذاق بنا کر سیاست شروع کی ھے ، اور اسی میں بقلم خود لقب یافتہ علماء بھی اسی سادگی کا فائدہ اٹھا کر عالموں میں نام لکھوا رہے ہیں ، اس پر عمق سے عاری سیکولر دانش ور اسلام پر ہی ضرب کاری لگا اپنے آپ کو عقل کُل سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔ باقی آپ کی تحریر میں تنفر کافی دکھائی دیتا ہے ، اس کی ضرورت نہیں تھی ، ملا عمر کی شخصیت کا آپ احاطہ نہیں کر سکتے ،ملا محمد عمر وہ 1996 سے لے کر 2001 تک افغانستان کے حکمران رہے ،انہوں نے روس اور امریکا کا بکاؤ مال بننے سے انکار کر دیا ، اور افغانستان میں جو ان کا ملک ہے وھاں پر روسیوں کے کاسہ لیس اور امریکنوں اور کزرائی جیسے لٹیروں سے بہتر حکومت کی ،اور جس طرح ھمارے ملک میں ٹکے ٹکے کے بھاؤسے سیاست دان بک جاتے ہیں ان کا کردار ایسا نہین ہے ، آپ افغانستان کے سابقہ ادوار حکومت کا اگر مطالعہ کر سکیں تو گذشتہ چار دھائیوں میں ان سے بہتر کسی حکمران کا نام لے کر بتائیں ،
اب پاکستان کے فوجی سربراہ کی بات دیکھئے ،
پاکستان کے فوج کے سربراہ کو احساس ہے ذمہ داری کا ، اور انہوں نے وہی بات کی جس سےپاکستان کا استحکام کا جذبہ سامنے آتا ہے ، اور اس کے علاوہ آپ کی نظر میں جناب کیانی اور جنرل شمیم وائین کے بیانات کو سامنے رکھنا چاھئے ، جس میں انہوں نے اظہار کیا تھا ۔۔۔ 20اپریل 2013ءکو منعقدہ 127ویں پی ایم اے لانگ کورس کی پاسنگ آﺅٹ پریڈ اس لئے زیادہ اہمیت کی حامل تھی کہ اس سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے دوٹوک الفاظ میں اس امر کا اعادہ کیا کہ ”پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا تھا اور اسلام کو کبھی پاکستان سے خارج نہیں کیا جاسکتا۔ اسلام ہی پاکستان کو متحد رکھنے کی قوت ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مشکلات کے باوجود پاکستان کی بری فوج پاکستانی قوم کے اس مشترک خواب کو تعبیر دینے کے لئے اپنی بہترین کوششیں بروئے کار لائے گی کہ پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناحؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے وژن کے مطابق ایک صحیح اسلامی جمہوری مملکت بنایا جائے۔
آپ کی سوچ پاکستان سے مخلص ضرور ہے ، اس پر آپ کا اس ملک سے محبت کا اظہار ہوتا ہے ،
دنیا کے تمام ممالک میں کچھ بنیادی قومی مفادات کے خلاف لب کشائی یا خامہ فرسائی کی ممانعت ہوتی ہے مگر پاکستان ایک ایسا بدنصیب ملک ہے جہاں کوئی بھی شخص اس کے بنیادی نظریے کے خلاف ذرائع ابلاغ میں ہرزہ سرائی کرسکتا ہے۔ ہم اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ پاکستان کے اس بنیادی نظریہ جس کی طرف جنرل کیانی اور جنرل شمیم وائیں نے واضع پیغام دیا ہے ہم اس کا دفاع کر سکیں ، شکریہ

محمدمعروف
05-03-2013, 10:15 AM
سید انور محمود نے عجیب بے پروں کی اڑائیاں ہیں۔
آج تو بےشمار لوگ امریکی ڈالروں کے عوض اسلام اور اس کے نام لیواوں کے خلاف عجیب وغریب بکواس کر کے دام کھرے کرتے ہیں ۔ حقیقت میں ان کے دل میں پاکستان کیلئے کوئی ہمدردی نہیں ہوتی ۔پاکستان کو نقصان طالبان نے نہیں بلکہ پاکستان کے اپنے ہی بکاو اور کرپٹ حکمرانوں اور سیاستدانوں نے پہنچایا ہے۔
میں محترم بے باک صاحب کے خیالات سے سو فیصد متفق ہوں اللہ ان کے فکر و تدبر کو مزید جلا بخشے آمین۔

سید انور محمود
05-03-2013, 02:19 PM
جب ملا عمر ، اسامہ ،یا ضیاء الحق نے اسلام کے نام سے اسلامی نظام لانے کا وعدہ کیا تو لوگوں کی محبت ان شخصیات سے نہیں ، بلکہ اس مشن اسلام جو ہمارا نظام حیات ہے اس سے تھی ، آپ کو اندازہ ہونا چاھہیے جب صدام حسین (سابقہ ایجنٹ امریکا ) کا امریکا کے خلاف لڑنے کا نعرہ لگایا تھا تو پاکستان میں اور دنیا بھر میں کئی گھروں میں نومولود بچوں کے نام صدام حسین رکھے گئے ، وہ ان کو نجات دھندہ اور ہیرو سمجھنا شروع ہو گئے ،

محترم بے باک صاحب آپکو پورا حق ہے اختلاف کرنے کا مگر آج پتہ لگا کہ ملا عمر، اسامہ اور ضیاالحق آپکے ہیرو ہیں، ایسے ہیرو آپکو بہت بہت مبارک ہوں۔ صدام حسین کا کیا اسامہ نام کے بھی آپکو بہت بچے مل جاینگے اس میں تعجب کیا ہے یا تعریف کیا ہے۔ ہاں آپکو تومعلوم ہوگا کہ سعودی حکومت نے سرکاری طور پر اپنے باشندوں پر یہ پابندی لگائی ہوئی ہے کہ کسی نومولود کا نام اسامہ نہیں رکھا جاسکتا، ہاں یزید نام رکھا بھی جاسکتا ہےاور پہلے سے بھی ہیں۔ اگر آپکو پہلے سے نہیں معلوم تو کسی قریبی بلدیہ کے آفس سے معلوم کرلیں، ہوئی نہ سیکولر والی بات۔ جہاں تک ملا عمر کے متعلق آپکے خیالات ہیں وہ ناقص معلومات پرہیں۔ وہ ایک جاہل انسان ہے جس کی تعلیم بھی مکمل نہیں ہے مگر آپکا امیرالمومین۔

ایک بات تو میں سمجھ چکا ہوں کہ اگر میں کسی مضمون میں جماعت اسلامی کے خلاف کچھ لکھوں تو آپ بیتاب ہوجاتےمجھے سیکولر بنانے پر۔ یہ اچھی بات ہے کہ آپ سیدھی سیدھی بات کرتے تو امید ہے سیدھی سیدھی بات سننے کا حوصلہ بھی ہوگا۔ جماعت اسلامی اور آپ جیسے اُن کے ہمدردوں کےپاس جب کسی چیز کا جواب نہیں ہوتا تو اپنے مخالف کو سوشلسٹ، کمونسٹ یا پھرسیکولرکا خطاب دے دیتے ہیں کیونکہ جماعت اسلامی اور آپ جیسے لوگ تو مذھب کے ٹھیکیدارہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپکو شاید نہ تو سیکولر کے معنی معلوم ہیں اور نہ ہی یہ معلوم کہ پوری دنیا میں ایک بھی سیکولر اسٹیٹ نہیں، ہاں نام نہاد سیکولر اسٹیٹ بہت ہیں، مثال کے طور اگر آپ ہندوستان کو دیکھیں تو وہ ایک مکمل ہندو اسٹیٹ ، اس سیکولر اسٹیٹ میں جوسلوک مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے وہ ہم سب کو معلوم ہے، بی جےپی یا انتہا پسند جماعتوں کو چھوڑیِں ، چھ دسمبر 1992 کو جب بابری مسجد کو شہیدکیا گیا تو کانگریس کی حکومت تھی۔ دوسری مثال ترکی کی ہے جسکو کمال اتاترک جددیت کی انتہا پر لے گیامقصدیورپی برادری میں شامل ہونا تھا، مگر آج تک ایسا نہ ہوسکا،وجہ سیدھی ہےکہ مسلم ملک ہے۔1970کے الیکشن میں جب آپ کے پیرومرشد مودودی صاحب بھی موجود تھے تو ہم جیسے لوگوں کو سوشلسٹ اور کمیونسٹ کہا جاتا تھا، آجکل آپ لوگوں نےفیشن بدل لیا ہے اور اپنے مخالف کو سیکولر کہنے لگے ہیں، شاید آپکے پاس ایسا کوئی فتویٰ ہو کیونکہ پاکستان میں فتویٰ فروشوں کی کمی نہیں، ویسے تو آپ لوگ خود بھی فتویٰ دے لیتے ہیں جیسے آپ نے میرئے لیے فرمادیا تھاکہ میں سیکولر ہوں، خیر میری صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اگر آپ جیسوں کے فتوں کو مان لیا جائے تو 98 فیصد لوگ پاکستان میں داراہ اسلام سے خارج ہوجاینگے۔ جس ضیاالحق کی آپ مثال دے رہے وہ پاکستان کا بدترین دور تھا۔ بھٹو کا قتل کرنے کے بعد جس میں آپکی جماعت اسلامی بھی شامل ہے پوری دنیا میں ضیا اکیلے پن کا شکار تھا، روسی اپنے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے مہرےبدلتا رہا اور پھر وہ خود افغانستان میں آگیا اور یہ ہی وہ وقت جس کا امریکہ کوانتظار تھا ، پاکستان میں ضیا کو اس بات کی ضرورت تھی کہ اسکی حکومت چلتی رہے، اس موقعہ کا پورا پورا فائدہ ضیا اور جماعت اسلامی نے اٹھایا، پھر امریکی ڈالر تھےاور جماعت تھی۔ جب تک روسی رہے امریکہ ضیا کو بھی پالتا رہا اور جماعت کو بھی ۔بعد میں جب ضیا کو لگا کہ اب امریکہ حمایت نہیں کررہا، تو موصوف نے اپنے آقا کوبرا بھلا کہنا شروع کردیا تو پھر اُنکے جہاز میں صرف دس پیٹی آم رکھوا کر آپکےجہادی کو اوپر روانہ کردیا، ایسا پہلی بار نہیں ہوا، امریکہ اپنے ہر ایجنٹ کا یہہی انجام کرتا، صدام حسین حالیہ مثال ہے۔ جہاد کا مطلب ہوتا ہے کفار کے خلاف جنگ کرنا مگرہم جہاد نہیں کرائے کی جنگ لڑرہے تھے۔ یہ سوال کہ پاکستانی طالبان تو جناب وہ افغانی ہوں، یا پاکستانی یا پھر پنجابی طالبان یہ سب ایک ہیں، مان لیتے ہیں، یہ امریکہ، اسرائیل، انڈیا کے آلہ کار ہیں تو مرحوم قاضی حسین احمد سے منور حسین تک جماعت کا کوئی بھی بندہ ان کی دہشت گردی کی مذمت کیوں نہیں کرتا، میرے نزدیک طالبان پاکستان کے دشمن ہیں اور یہ سانپ جماعت اسلامی کے پالے ہوئے ہیں۔ ایک آخری عرض ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 96 فیصد مسلمان پر مشتمل ہے ، مختلف لوگوں کےخیالات مختلف ہوسکتے مگر ان پر فورا فتوہ جاری نہ فرمایا کریں۔ آپ امت اور جسارت پڑ ہیں آپکو قلبی سکون ملے گا، ہم جیسوں کی تحریریں مت پڑھا کریں ورنہ سچ پڑھناپڑئے گا اور سچ کڑوا ہوتاہے۔

aliimran
05-03-2013, 02:45 PM
انتہائی ادب و احترام کے ساتھ عرض ہے کہ نہ تو ملا عمر ہمارے ہیرو ہیں اور نہ اسامہ اور نہ ہی ضیاء ملک و قوم کو بیچ کر یا بے سرو سامانی کے عالم میں جہاد کا نعرہ لگا کر ایک بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں کو مروا کر یا کئی سال تک چھپ کر جہاد جہاد پکارنے والوں کو نہ تو میں اپنا ہیرو سمجھتا ہوں اور نہ کوئی غیرت مند اور تعلیم سے آشنا مسلمان ایسا سمجھتا ہے۔۔ (یہاں تعلیم سے میرا مقصد شعور و آگہی ہے کتابیں رٹ کر صرف نوکری کے لئے ڈگریاں لینے کو میں تعلیم نہیں سمجھتا)

میرے ہیرو ہمیشہ سے نبی پاک (ص) رہے ہیں ان کی کامل سیرت کے علاوہ ہیرو گیری کسی کو زیب نہیں دیتی۔۔۔ لوگوں کو ان کی سُنت کے معیار پر پرکھو اگر کسی میں ان کی سُنت پر آدھا عمل کرنے کی بھی جھلک دیکھو تو اس کے ساتھ چلو مگر لیڈر وہ پھر بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ لیڈر ہونا کوئی گلی کوچوں میں کھیلنے والی بات نہیں۔۔ کوئی جنگجو ہے تو اسے دیکھو کہ کیا اس کی جنگ اسلامی اصولوں کے مطابق ہے نبی پاک (ص) نے ہر طرح کی جنگیں لڑیں دفاعی بھی اور اٹیکنگ بھی موازنا خود کر لو۔۔۔ کوئی امن پسند ہے تو بھی اسلامی اصول دیکھو۔۔۔ نبی پاک (ص) کے صلح کے معاہدوں پر غور کرو کہ کس کس مقام پر کس کس وجوہ کی بنیاد پر معاہدے کئے گئے۔۔۔۔ اسلام نے اپنی طاقت کو کبھی بے کار کی جنگوں میں نہیں الجھایا یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں اسلام کا بول بالا رہا۔۔۔ اسلام نے ہر زمانے میں تعلیم پر زور دیا اور تعلیم بھی وہ جو شعور و آگہی پیدا کرے جو کردار بنائے نہ کہ پڑھ لکھ کر نوکریوں کے پیچھے بھاگنے والا بنائے اور پیسوں کی پکڑ دھکڑ میں الجھائے۔۔۔ مگر ہمارے لیڈروں میں سے کتنے پڑھے لکھے ہیں؟ جبکہ عوام میں انتہائی اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں اور شعور و آگہی کے لحاظ سے بھی ان نامنہاد لیڈروں سے کہیں آگے ہیں۔۔۔ مگر ہم ان کو کبھی نہیں آزماتے کیونکہ لیڈر صاحب ہی کبھی ایسا نہیں چاہتے کہ ان کے اثر و رسوخ پر کوئی*آنچ آئے۔۔۔
خدا کے لئے جھگڑوں سے نکل کر فقط اصولِ اسلامی کو سامنے رکھ کر ایسے لوگوں کا ساتھ دو جو اسلامی اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔۔۔ جس نے چار بول شریعت کے حوالے سے بول دئیے وہ ہیرو بن گیا بعد میں چاہے شراب پیتے پیتے اس کی موت آ جائے۔ اور جن ہیرو لوگوں کا نام لیا جا رہا ہے ان کی کرتوتوں سے شاید ہی یہاں مجھ سے زیادہ کوئی واقف ہو مگر مجھے کسی کی عیب جوئی نہیں کرنی ہاں اصلاح کے لئے بات کرنا میرا حق ہے۔۔۔ ظاہر پرستی ہمیشہ نقصان دیتی ہے اور قول و فعل کا تضاد ظاہری دکھاوے کا ہمیشہ پول کھول دیتا ہے۔۔۔ لوگوں کے قول و فعل کو پرکھو نہ کہ ظاہری دکھاوے کو۔۔۔

اللہ تعالٰی سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین

سقراط
05-03-2013, 03:22 PM
انتہائی ادب و احترام کے ساتھ عرض ہے کہ نہ تو ملا عمر ہمارے ہیرو ہیں اور نہ اسامہ اور نہ ہی ضیاء ملک و قوم کو بیچ کر یا بے سرو سامانی کے عالم میں جہاد کا نعرہ لگا کر ایک بہت بڑی تعداد میں مسلمانوں کو مروا کر یا کئی سال تک چھپ کر جہاد جہاد پکارنے والوں کو نہ تو میں اپنا ہیرو سمجھتا ہوں اور نہ کوئی غیرت مند اور تعلیم سے آشنا مسلمان ایسا سمجھتا ہے۔۔ (یہاں تعلیم سے میرا مقصد شعور و آگہی ہے کتابیں رٹ کر صرف نوکری کے لئے ڈگریاں لینے کو میں تعلیم نہیں سمجھتا)

میرے ہیرو ہمیشہ سے نبی پاک (ص) رہے ہیں ان کی کامل سیرت کے علاوہ ہیرو گیری کسی کو زیب نہیں دیتی۔۔۔ لوگوں کو ان کی سُنت کے معیار پر پرکھو اگر کسی میں ان کی سُنت پر آدھا عمل کرنے کی بھی جھلک دیکھو تو اس کے ساتھ چلو مگر لیڈر وہ پھر بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ لیڈر ہونا کوئی گلی کوچوں میں کھیلنے والی بات نہیں۔۔ کوئی جنگجو ہے تو اسے دیکھو کہ کیا اس کی جنگ اسلامی اصولوں کے مطابق ہے نبی پاک (ص) نے ہر طرح کی جنگیں لڑیں دفاعی بھی اور اٹیکنگ بھی موازنا خود کر لو۔۔۔ کوئی امن پسند ہے تو بھی اسلامی اصول دیکھو۔۔۔ نبی پاک (ص) کے صلح کے معاہدوں پر غور کرو کہ کس کس مقام پر کس کس وجوہ کی بنیاد پر معاہدے کئے گئے۔۔۔۔ اسلام نے اپنی طاقت کو کبھی بے کار کی جنگوں میں نہیں الجھایا یہی وجہ ہے کہ اس زمانے میں اسلام کا بول بالا رہا۔۔۔ اسلام نے ہر زمانے میں تعلیم پر زور دیا اور تعلیم بھی وہ جو شعور و آگہی پیدا کرے جو کردار بنائے نہ کہ پڑھ لکھ کر نوکریوں کے پیچھے بھاگنے والا بنائے اور پیسوں کی پکڑ دھکڑ میں الجھائے۔۔۔ مگر ہمارے لیڈروں میں سے کتنے پڑھے لکھے ہیں؟ جبکہ عوام میں انتہائی اعلٰی تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں اور شعور و آگہی کے لحاظ سے بھی ان نامنہاد لیڈروں سے کہیں آگے ہیں۔۔۔ مگر ہم ان کو کبھی نہیں آزماتے کیونکہ لیڈر صاحب ہی کبھی ایسا نہیں چاہتے کہ ان کے اثر و رسوخ پر کوئی*آنچ آئے۔۔۔
خدا کے لئے جھگڑوں سے نکل کر فقط اصولِ اسلامی کو سامنے رکھ کر ایسے لوگوں کا ساتھ دو جو اسلامی اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔۔۔ جس نے چار بول شریعت کے حوالے سے بول دئیے وہ ہیرو بن گیا بعد میں چاہے شراب پیتے پیتے اس کی موت آ جائے۔ اور جن ہیرو لوگوں کا نام لیا جا رہا ہے ان کی کرتوتوں سے شاید ہی یہاں مجھ سے زیادہ کوئی واقف ہو مگر مجھے کسی کی عیب جوئی نہیں کرنی ہاں اصلاح کے لئے بات کرنا میرا حق ہے۔۔۔ ظاہر پرستی ہمیشہ نقصان دیتی ہے اور قول و فعل کا تضاد ظاہری دکھاوے کا ہمیشہ پول کھول دیتا ہے۔۔۔ لوگوں کے قول و فعل کو پرکھو نہ کہ ظاہری دکھاوے کو۔۔۔

اللہ تعالٰی سب کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔ آمین

علی عمران کا تبصرہ بامعنی اور اصلاحی ہے میں ان سب باتوں میں علی عمران سے متفق ہوں

سید انور محمود
05-03-2013, 04:24 PM
محترم علی عمران صاحب
بہت ہی اعلی سوچ کا تبصرہ ہے آپکا۔ میں آپکی ایک ایک بات کی بھرپور تائید کرتا ہوں۔
شکریہ

بےباک
05-04-2013, 08:21 AM
جناب سید انور محمود صاحب ،
محترم ، میں نے تو آپ کے سوال کی وضاحت کی ہے ،کہ ہم ہر ایک کو نجات دھندہ سمجھ لیتے ہیں جو اسلام کا نام لیتا ہے ، کیونکہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا ، اور اس کا نام بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ، آپ سے پچھلے ایک مضمون میں سرحدی بھائی نے ایک سوال کیا تھا ، کہ اس ملک میں کون سی شخصیت ایسی ہے جو ملک کے اساس کا دفاع کرے اور مسلمانوں کے
جذبات سمجھتے ہوئے اسلامی قانون نافذ کرے ، اس کا کوئی جواب آپ کے پاس نہیں ہے ، میں نے کسی کو اپنا ہیرو قرار نہیں دیا ، بلکہ یہ لکھا تھا کہ جو بھی اسلام کا نام لیتا ہے مسلمان اس کو اپنا رھبر و رھنما تصور کر لیتے ہیں تو اس سے مراد عوم کی ان شخصیات سے دلچسپی نہیں بلکہ اس نظام اسلامی کا نام لینے کی وجہ سے دلچسپی ہوتی ہے ، آپ کا اخذ کردہ نتیجہ نا مناسب اور ناقص ہے۔،
کہیں بھی میں نے ان کو اپنا لیڈر ہرگز نہیں کہا ، شاید آپ جذبات میں ایسی باتیں لکھ گئے جو حقیقت سے دور ہیں ،
آپ جس کو جاھل اور لاعلم ملا عمر کہتے ہیں اس نے پانچ سال افغانستان پر حکومت کی ، آج بھی دنیا بھر میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس کے دور میں افیون اور ہیروئن کی پیداوار رک گئی تھی ، اور گذشتہ چالیس سال میں افغانستان میں اس سے بہتر کوئی رھنما نہیں تھا ، جو اس لعنت سے افغانستان کو پاک کر سکتا ، انصاف ہوتا تھا ، دنیا بھر اس کو تسلیم کرتا ہے کہ اسوقت کے حالات آج کے حالات سے بہتر تھے ، آپ نہ تسلیم کریں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
اس کے علاوہ جنرل پرویز کیانی کا خطاب جو اس نے ملک کی اساس اسلام بتایا جو کہ پاسنگ اوٹ پریڈ میں کیا تھا ، اور جنرل شمیم وائیں کا بیان کا حوالہ دیا تھا جو اس نے سوات میں دیا تھا
کہ یہ ملک اسلامی ھے اور اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا ، اور ہمارے سپاہی اسلام کے سپاہی ہیں اور شہادت ہمارا مقصود ہے ،
محترم المقام اس ملک میں جب سے پاکستان وجود میں آیا ، ایک بھی قابل حکمران نہیں آیا جس کی مثال دی جا سکے ، ہر ایک مختلف معروضی حالات یا حادثاتی رد عمل کے تحت آیا ،
ان حالات میں پاکستانی عوام جو آپ کی تحریر کے مطابق 96 فیصد مسلمان ہے ان کو کہیں سے بھی اور جہاں سے بھی اسلام کی آواز آتی ہے اس کو ہیرو سمجھنے لگتی ہے اور بعض اوقات وہی ھیرو جس کو ملک کا رھبر سمجھتے ہیں رہزن نکل آتا ہے ، اس میں عوام کے شعور کی کمی تو ہو سکتی ہے مگر اسلام اور اس کے نفاذ کے لئے تڑپ کا اظہار بھی ہوتا ہے ،جس کو ہر حکمران نے نظر انداز کیا ،
ان حالات میں بجائے رھنمائی کرنے کے اسلام اور اسلامی تعلیمات کی آواز بلند کرنے والوں کو ہی کوسنا میرے نزدیک نامناسب ھے ،
آپ بتائیے موجودہ حالات میں کس طرف عوام جائیں جو ملک میں اسلامی نظام چاھتے ہوں ،کس کو ووٹ دیں ، کون رھبر ہے ۔ آپ کے کسی مضمون میں بھی اس طرف رھنمائی نہیں ملتی ،
سیکولر سوچ والے بہت مل جاتے ہیں ، مگر ان حالات میں عوام ان کو بہتر سمجھنے لگتے ہیں جو اسلام کا نام لیتے ہیں ، بہت ساری پارٹیاں ووٹ اسلام کے نام پر لیتی ہیں اور بعد میں وہی رھبران قوم رھزن قوم بن جاتے ہیں ،
96 فیصد مسلمانوں کی آواز یا ووٹ کس کو جانا چاہیے؟؟؟؟؟ ، قوم کیوں منقسم ہوتی ہے ؟؟؟؟؟ ہم کیوں مختلف سوچ رکھتے ہیں ، ؟؟؟؟؟ یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے ۔۔۔۔
کیوں دانش وران قوم یا لیڈران قوم اسلامی نظام نہیں لانا چاھتے ؟؟؟؟؟ جو کہ 96 فیصد کا مطالبہ ہے ۔۔۔ اسلام ایک عادلانہ نظام حیات ہے ، آپ اس کو نافذ کیجئے ، طالبان ، دھشت گردی کو ختم کرنے کی جستجو کریں ، وہ عوامل دور کریں جن کی وجوھات سے یہ سارے فتنے پنپ رہے ہیں ، یا دوسرے لفظوں میں طالبان یا دھشت گرد اسلام کے نام پر لوگوں کو بےوقوف بنا کر قوم کو منقسم کر رہے ہیں
تو اس کے سد باب کے لئے ہم کیا کر رہے ہیں ؟؟؟؟؟،اس قوم کو مزید بےوقوف بنایا جائے ۔ یا اسلامی نظام نافذ کیا جائے ، اور پھر بھرپور طریقے سے ان فسادیوں کو جہنم رسید کر دیا جائے ،
یاد رکھئے اسلام کے مد مقابل کوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا ، جب سب اس بات کو جانتے ہیں تو اس کو نافذ کیوں نہیں کرتے ؟؟؟؟/ اس لئے کہ کوئی بھی سیاست دان اس کو نافذ نہیں کرنا چاہتا ، پھر جب لادین قوتین ابھریں گی تو لامحالہ دین کی حمیت والےمسلمان ، اسلام کے نام لینے والوں یا نام نہاد نجات دھندہ کی طرف دیکھیں گے ؟

سید انور محمود
05-04-2013, 10:55 AM
محترم بےباک صاحب
سرحدی صاحب نے لکھا تھا



"محترم پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ کی نظر میں اس وقت پاکستان کے ساتھ مخلص کون ہیں؟ عوام سے لے کر فوج تک اور پھر فوج سے لے کر سیاستدانوں، مذہبی رہنماوں تک کو تو آپ نے داغ دار کردیا! اب آپ بتائیں کہ اس ملک کے ساتھ کون مخلص ہے؟ پہلے اگر اس بات کی وضاحت ہوجائے کہ آپ کا کیا ذہن ہے، کیا چاہتے ہیں، کیسا اسلام اور کیسا پاکستان دیکھنے کے خواہاں ہیں تو بات کرنے میں آسانی بھی ہوگی اور سمجھنے سمجھانے کی بات بھی ہوسکے گی"۔
میرئے اس مضمون "بنیے کا بیٹا اورمولانہ فضل الرحمان ۔ ایک کہانی ایک حقیقت" پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا "یہ تو ہم سب سمجھ رہے ہیں، دیکھ رہے اور علم بھی رکھتے ہیں کہ گزشتہ 65 سالوں کے درمیان پاکستان کی قسمت کو چمکانے والی حکومت قائم نہ ہوسکے، یہ رونا جو آپ نے رویا ہے ہم پاکستان بننے کے بعد سے اب تک رورہے ہیں۔ یہ وقت ایسا ہے کہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو کوئی راستہ دکھایا جائے نا کہ ان کو مزید مایوسیوں میں دھکیلا جائے۔ مولانا فضل الرحمن، نواز شریف، زرداری اور اسی طرح کے دوسرے نام لیتے چلے جائیں، آپ کو اطمینان قلب کسی پر بھی نہیں تو محترم پھر ہم کس کے پیچھے چلیں؟ جماعت اسلامی سے آپ خائف ہیں، عمران خان کی پوزیشن اتنی مستحکم نہیں کہ وہ حکومت بناسکیں، زرداری کی جماعت کو آپ نے پچھلے پانچ سال میں آزمالیا، نواز کو بھگوڑا کہہ کر رد کرچکے ہیں، جماعت اسلامی کو امریکی جماعت ڈکلئیر کرچکے ہیں، تو بھائی یہاں رہ کون جاتا ہے؟ کیا اآپ بھی طاہر القادری کے ایجنڈئے پر چلتے ہوئے الیکشن کے التوا کا حصہ تو نہیں ہیں؟؟ اللہ تعالیٰ ہمیں مخلص ایماندار سیاست دان، قائدین اور اسلام و پاکستان کے خیر خواہ نصیب فرمائے۔"
جواب میں میں نے لکھا تھا
آپ نے بلکل بجا فرمایا کہ مجھے "اطمینان قلب کسی پر بھی نہیں" مگر آپ کے ان سوالوں کے جواب کیا ہیں تو میری گذارش ہوگی کہ آپ میرا مضمون "پاکستان کا مستقبل اورآنے والے انتخابات"۔ اس مضمون کے آخر میں لکھا ہوا ہے " بی بی سی پر لکھے وسعت اللہ خان کےایک مضمون "جمہوریت کا جانگیہ" کے آخری حصہ کو پڑھ لیں : "آپ تو جانتے ہیں کہ کہیں بھی زمین میں بورنگ کرکے پانی کا نلکا لگایا جائے تو اس میں سے بہت دیر تک کیچڑ نکلتا رہتا ہے ۔پھر گدلا پانی آنے لگتا ہے اور اگر آپ نلکہ مسلسل ہلاتے رہیں تو آدھے پونے گھنٹے بعد صاف پانی گرنا شروع ہوجاتا ہے۔ جمہوریت کا نلکا بھی ایسے ہی کام کرتا ہے۔کیچڑ سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ اگلے الیکشن میں یہی کیچڑ گدلا پانی بن جائے گا اور اس سے اگلے الیکشن کے بعد یہی پانی پینے کے قابل ہوجائے گا۔ جہاں پینسٹھ برس سہی وہاں دس برس اور سہی۔۔۔"
تو جناب میں جو لکھ رہا ہوں اس پاکستانی سیاست کی کیچڑ کے بارئے میں ہے جو پینسٹھ برس سے پاکستان کو گندہ کیے ہوے ہے۔ اب اس میں جماعت اسلامی زد میں آئے یا نواز شریف، مولانہ فضل الرحمان ہوں یا الطاف حسین، پیپلز پارٹی ہو یا اے این پی۔ عمران خان کا ابھی پاکستان کی سیاست میں کوئی تاریخی کردار نہیں اور جہاں تک علامہ طاہرالقادری کا تعلق ہے انکے بارئے صرف اتنا کہا جاسکتا ہے "دیکھا کر تماشہ مداری گیا"
مگر ان تمام باتوں کے باوجود آپکے سوال کا جواب میرے پاس یہ ہی ہے کہ یہ جو پہلی مرتبہ ہمیں موقعہ ملا ہے اسکا بھرپور فائدہ اٹھایں اور ہم میں سے ہر ایک کو اپنا ووت ضرور استمال کریں، فیصلہ میں یا آپ نہیں کرسکتے ، فیصلہ پوری قوم کو کرنا ہے ۔ آخر میں آپکی دعا کی بھرپور تایئد " اللہ تعالیٰ ہمیں مخلص ایماندار سیاست دان، قائدین اور اسلام و پاکستان کے خیر خواہ نصیب فرمائے۔" آمین

اوپر دیا جواب آپکے لیے بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عرض ہے کہ پاکستان کی موجودہ قیادت میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کی سیاسی قیادت یا نظریات اس بکھری ہوئی قوم کو متحد کرسکے اس لیے ہمیں دعا کرنی چاہیے اور اسوقت جو دوا انتخابات کی شکل میں ہمیں میسر ہے اسکا ہی استمال کرلیں، شاید اللہ تعالی اس قوم پر اپنا کرم فرمادئے۔

بےباک
05-04-2013, 11:26 AM
بس کہانی وہیں پہنچی ،جہاں سے چلے تھے ، ان حالات میں آپ رھنمائی نہیں کرنا چاھتے تو کیا کہا جائے ،؟؟؟؟؟
عوام پر چھوڑ دیا جائے یا جھرلو پر چھوڑ دیا جائے ،یا دولت سے نتائج خریدے جائیں ،
""""اس کے ساتھ ساتھ عرض ہے کہ پاکستان کی موجودہ قیادت میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس کی سیاسی قیادت یا نظریات اس بکھری ہوئی قوم کو متحد کرسکے اس لیے ہمیں دعا کرنی چاہیے اور اسوقت جو دوا انتخابات کی شکل میں ہمیں میسر ہے اسکا ہی استمال کرلیں، شاید اللہ تعالی اس قوم پر اپنا کرم فرمادئے۔""""
آپ کا جواب تو مزید مایوسی پھیلا رہا ہے ، کچھ تو ارشاد فرمائیں ۔۔ یہ قوم کیا کرے ؟؟؟؟؟، بس بیٹھ کر دعا کرے ، یا مزید تقسیم در تقسیم کے لئے تیار ہو جائے ،جیسا کے ماحول بتا رہا ہے ،
یا پھر جو ہو گا دیکھا جائے گا اور شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن دبا لیتے ہیں ۔۔۔۔
میرے خیال میں شدید اوقات میں جو کم نقصان دہ ہو اس کو اختیار کیا جاتا ہے ، جیسے موت پر بخار کو ترجیع دی جاتی ہے ،
دین سے سیاست جدا ہونے کے بارے محترم المقام جناب علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ۔۔۔

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لادیں ہو تو ہے زہر ہلاہل سے بھی بڑھ کر
ہودیں کی حفاظت میں تو ہر زہر کا تریاق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندرون چنگیز سے تاریک تر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہودیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔

علامہ اقبال کے سیاسی نظریہ کے مطابق اُمیدوار کا اہل اور دیانتدار ہونا لازمی ہونا چاہیئے جبکہ رائے دہندگان کو بھی باشعور اور نیک نام ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے عوام کو باشعور بنانے کے لیے جبری تعلیم کا نظریہ پیش کیا۔علامہ اقبال اسلام کی تشریح اسلام کے سنہری اصولوں کی روشنی میں کرتے۔ وہ ملائیت کے سخت خلاف تھے انہوں نے اپنے چھٹے خطبے میں کہا۔ ”اُن حالات میں ہمارے لیے ایک ہی راستہ کھلا ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کے آئینہ پر غیر اسلامی رنگ کی جو سخت تہیں جم چکی ہیں انہیں کھرچ کھرچ کر صاف کیا جائے۔ حریت سا لمیت اورمساوات کی حقیقی اقدار کو از سرِ نو زندہ کیا جائے اور اُن کی روشنی میں اپنے اخلاقی ، معاشی اور سیاسی نظام کی نئی تشکیل کی جائے جو حقیقی اسلام کی سادگی اور آفادیت کی آئینہ دار ہو“۔ علامہ اقبال ایسی جمہوریت کے قائل تھے جو مساوات اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہو۔انہوں نے تحریر کیا”دوسرا سیاسی اُصول جمہوریت ہے جو انسانوں کی غیر مشروط اور کامل مساوات پر مبنی ہو۔ مسلم ملت کے تمام افراد معاشرتی اور معاشی تفاوت کے باوجود قانون کی نظر میں مساوی حقوق کے مالک ہیں۔ اس مساوات کے اُصول کی بنیاد پر ترکی کے بزرگوں میں سے ایک خلیفہ کے خلاف ایک معمار نے مقدمہ درج کیا اور قاضی نے خلیفہ وقت پر جرمانہ عائد کردیا تھا لہذا مساوات پر مبنی جمہوریت ہی اسلامی سیاسی فکر کی اہم ترین قدر ہے“۔
مختصر یہ کہ علامہ اقبال کا نظریہ سیاست اسلام کے سنہری اصولوں اور اخلاقیات پر مبنی تھا۔ ان کے نزدیک سیاست عبادت تھی نہ کہ لوٹ مار کا ذریعہ جس کا تماشا آج پاکستانی قوم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اور اس کے نتائج بھگت بھی رہی ہے۔آئیے اس الیکشن کے موقع پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی سیاست اور جمہوریت کو اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق بنانے کے لیے جدوجہد کریں گے
آخر میں ہماری ، آپ کی اور مشترکہ دعا کہ " اللہ تعالیٰ ہمیں مخلص ایماندار سیاست دان، قائدین اور اسلام و پاکستان کے خیر خواہ نصیب فرمائے۔" آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی دعاوں کا طالب
بےباک

محمدمعروف
05-04-2013, 10:20 PM
بحث طویل سے کافی باتیں سامنے آئیں تمام حضرات نے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کیا تاہم میں محترم بے باک صاحب کے خیالات سے متفق ہوں ان کی تمام باتیں دل کو لگی ہیں ۔

سرحدی
05-06-2013, 12:10 PM
السلام علیکم
بہت اچھی گفتگو ہوئی ہے
سب نے اچھا لکھا
لیکن اندھیرے ہی اندھیرے ہیں سید صاحب کی تحریر میں
جناب عالی! پنسٹھ سال سے کیچڑ ہی کیچڑ ہے، اطمینان قلب کسی پر نہیں اور موقع سے فائدہ اٹھانے والی بات!!!!
کیسے سمجھوں؟؟ سید صاحب کی تحریر پڑھ کر تو دماغ چکرا گیا :Count_Sheep:، محترم! کوئی راستہ تو بتائیں؟ کیا عمران خان ہی کیچڑ سے نکلنے والا وہ صاف پانی ہے؟ باقی سب کو تو آپ نے پنسٹھ سال کا کیچڑ لکھ دیا۔ بہت معذرت خوا ہوں، لیکن کیا کروں کہ آپ کی تحریر خود آپ کو مطمئن نہ کرسکی تو ہمیں کیا کرے گی! خدارا! میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا، کہ ہم ویسے ہی پریشانیوں اور مایوسیوں میں گھرے ہوئے ہیں، اس موقع پر آپ جیسے صاحب تحریر لوگ کوئی راستہ بتایا کریں کہ جس پر چل کر لوگ ملک و ملت کو مضبوط بناسکیں۔
محترم! اسلام وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے، اب اگر کوئی اپنے عمل میں اسلام سے قریب تر ہوگا حمایت اسی کی کی جائے گی۔
کہتے ہیں کہ اندھو میں کانا راجا ہوتا ہے، سو اس وقت کے انتخابات میں بھی دیکھ لیں۔۔۔۔ بڑی برائی سے بچنے کے لیے اگر چھوٹی برائی کو اختیار کرلیا جائے تو برا ہی کیا ہے؟؟
آپ پہلے خود مطمئن ہوجائیں، پھر ایک اچھی سی پوسٹ الیکشن سے دو دن قبل لگادیں تاکہ ہمیں سہولت ہو کہ اس وقت کون سی شخصیت اس قابل ہے کہ جو پاکستان کہ اس کی بنیاد ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کی روشنی میں ایک مضبوط اسلامی جمہوریہ بناسکے۔۔ یقین جانیں، ہماری بڑی مشکل حل ہوجائے گی۔
جزاک اللہ