PDA

View Full Version : گیارہ مئی چھٹی کا نہیں وُوٹ کا دن ہے



سید انور محمود
05-09-2013, 11:09 AM
تاریخ: 9 مئی 2013
از طرف: سید انور محمود

گیارہ مئی چھٹی کا نہیں وُوٹ کا دن ہے


اس ملک کی تاریخ میں یہ دن پہلی مرتبہ آرہا ہےکہ گیارہ مئی 2013 کو پوری پاکستانی قوم جمہوریت کے تسلسل کے لیے اپنے وُوٹ کا استمال کرے گی۔یعنی ایک جمہوری حکومت کی مدت کے بعد دوسری جمہوری حکومت کا قیام۔ بدنصیبی سے ہمارئے ملک کے سیاسی حالات ایسے رہے ہیں کہ جو ملک جمہوری طور سے حاصل کیا گیا اس میں ایک جمہوری حکومت آتی مگر اسکے بعد ایک جنرل کی حکومت آجاتی اور وہ چونکہ غیر جمہوری ہوتی اسلیے ایسی حکومت ہمیشہ لمبی مدت رہی ہے اور آمر کی خواہش کے برعکس ختم ہوئی ہے۔ 1988 سے 1999 تک دو دوسال کا کھیل جمہوریت کےنام پر کھیلا گیا مگر اس میں بھی اس میں بھی فوج کے جنرلوں کا عمل دخل رہا جس کی ایک مثال iji کا قیام تھا۔ برحال اب 11 مئی کوپاکستان کے عوام نے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگلی حکومت کس کی ہوگی۔ ویسے تو الیکشن کمیشن کے پاس 100سے زیادہ سیاسی پارٹیاں رجسٹرڈ ہیں مگر صرف دس کے قریب ایسی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کے بارئے عام لوگ جانتے ہیں ۔ ان کی ترتیب کچھ یوں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن ، پاکستان مسلم لیگ ق ، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل، متحدہ قومی مومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جمیت علمائے پاکستان ف، جماعت اسلامی، جمہوری وطن پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں بظاہر اسوقت سیاسی دنگل میاں نواز شریف کی مسلم لیگ ن اور عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف میں ہو رہا ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سےپیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم اپنی سیاسی سرگرمیاں بھرپور طریقے سے نہیں چلا پارہے ہیں اور اب اس دہشت گردی میں جمیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی بھی شامل ہوگے ہیں۔ ایک دوسری صورتحال یہ ہے کہ بھرپور سیاسی سرگرمیاں صرف پنجاب میں ہیں باقی تین صوبے دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ایک سیاسی الیمہ ہمارئے ملک کا یہ ہے کہ مندرجہ بالا سیاسی پارٹیوں میں سے ایک بھی قومی سطع کی پارٹی نہیں ہے۔ 1997 میں میاں نواز شریف کو یہ اعزاز حاصل ہوا تھا مگر وہ اس کو برقرار نہ رکھ سکے۔ عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف نے دیکھتے ہی دیکھتے جو مقبولیت حاصل کی ہے وہ نوجوان نسل کے لیے یقینا حیران کن ہے مگر ان لوگوں کےلیے بلکل نہیں جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو مقبول ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر یہ کہنا بلکل بجا ہوگا کہ عمران خان اس وقت ملک میں مقبول لیڈر ہیں۔ بظاہر جوسیاسی صورتحال ہے اس میں کسی بھی جماعت کا سادہ اکثریت بھی حاصل کرنا مشکل نظر آتا ہے۔ عمران خان اور نواز شریف دونوں کی دلی خواہش یہ ہے کہ وہ صرف اپنی پارٹی کی اکثریت کی بنیاد پر حکومت بنایں۔ ویسے تو قومی اسمبلی کی 342 نشستیں ہیں مگر ان میں 60 خواتین اور 10 اقلیت کے لیے مخصوص ہیں جو پارٹی کی حاصل کردہ نشستوں کے تناسب سے ملتی ہیں۔اسطرح 242 نشستوں پر برائے راست مقابلہ ہونا ہے۔جس میں پنجاب اور اسلام آباد کی 150 ، سندھ کی 61 ، خیبر پختوخواہ کی 35، بلوچستان کی 14 اورفاٹا کی 12 نشستیں ہیں۔ اقتدار کا ہما اُسکے سر پر بیٹھے گا جو پنجاب میں اکثریت حاصل کرئے گا، سادہ اکثریت کے لیے کسی بھی جماعت کو اکیلے یا دوسری جماعتوں کو شامل کرکے 136 ارکان لازمی چاہیے۔ سیاسی پارٹیوں میں پہلے اور دوسرئے نمبر پر پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں سے کوئی پہلے اور دوسرئے نمبر پر ہونگے۔ جبکہ تیسرئے نمبر پر پیپلز پارٹی اور چوتھے نمبر پر ایم کیو ایم نظر آرہی ہیں۔ مسلم لیگ ق، عوامی نیشنل پارٹی ، جمیت علمائے پاکستان ف، پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور جمہوری وطن پارٹی بعد میں آتی ہیں، جو اپنے مخصوص حلقوں میں نشستیں حاصل کرلینگی ، جہاں تک جماعت اسلامی کا تعلق ہے اسکے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا یہ ایک منظم جماعت ہے، اسکے ہمدردپورئے پاکستان میں ہیں مگر اسکا کوئی ایسا حلقہ نہیں جہاں اسکی کامیابی یقینی ہو، امیدوار تو اس نے کافی کھڑئے کیے ہیں مگر زیادہ زور کراچی پر ہے مگر اسکے ہمدردوں سے معذرت کے ساتھ کراچی میں بھی اس کا ایک نشست حاصل کرنا نا ممکن نہیں تو بے انتہا مشکل ضرور ہوگا۔ جہاں تک صوبوں کی حکومت کا سوال ہے صوبہ پنجاب اور خیبر پختوخواہ میں مسلم لیگ ن یا پاکستان تحریک انصاف میں سے کسی ایک کی حکومت بنے گی۔ صوبہ سندھ میں دو پرانے اتحادی یعنی پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کی حکومت کے زیادہ امکان ہے۔ جبکہ بلوچستان میں ایک مخلوط حکومت بنے گی مگر اس مرتبہ امکان ہے کہ اس کی رہبری جمہوری وطن پارٹی کے حصے میں آئے۔ بظاہرجو سمجھ میں آرہا ہے اسکا ایک تجزیہ آپکے سامنے پیش کردیا ہے لیکن انہونیوں کو کون ٹال سکتا ہے اور غیب کے بارئے میں صرف اورصرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہی جانتی ہے۔

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ سارا تجزیہ دھرا رہ جایگا جب اس سے مختلف نتایج آیں گے اور وہ صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ ہم 11 مئی کو لازمی پولنگ اسٹیشن جایں اور اپنے ووٹ کا استمال کریں اور جس پارٹی کے ہم حامی ہیں اسکو لازمی ووٹ ڈالیں۔ یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ کے ووٹ ڈالنے کے باوجود آپکی پارٹی جیت نہیں پائے گی پھر بھی ووٹ ضرور ڈالیں اسکے دو فاہدئے ہیں کہ جب یہ ریکارڈ بنایا جایگا کہ کس پارٹی نے کتنے ووٹ لیئے تو آپکا ووٹ بھی شامل ہوگا اور دوسری طرف پوری دنیا کو بھی یہ پیغام جائے گا کہ کتنے فیصد پاکستانیوں نے ووٹ کا استمال کیا تب بھی آپکا ووٹ اس میں شامل ہوگا۔ جس قدر زیادہ ووٹ ہونگے اس قدر ہی ہم ایک جمہوری ملک کہلاینگے۔ انشااللہ روشنی ضرور ہوگی، خدا کرے کہ الیکشن ایک مثبت تبدیلی لائے، لٹیروں اور نااہلوں سےچھٹکارا ملے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذرا سی سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا شخص اس بات کا فیصلہ کرسکتا ہے کہ وہ کس کو ووٹ دئے جو ملک و قوم کے لیے بہتر ہو۔ یقینا اب آپ بھی اس بات سے متفق ہونگے کہ گیارہ مئی چھٹی کا نہیں وُوٹ کا دن ہے۔ کاش اس الیکشن کے بعد ہم کرپشن اور دہشت گردی سے پاک معاشرہ دیکھیں، آمین۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: آپکو پورا پورا حق ہے کہ آپ اس مضمون سے مکمل طور پر یا اسکے کسی حصے سے اختلاف کریں لیکن برائے مہربانی تبصرہ کرتے وقت تمیز کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ شکریہ