PDA

View Full Version : پروفیسر ڈاکٹرعبد السلام صاحب



ابراہیم سہیل
05-16-2013, 10:40 AM
پروفیسر ڈاکٹر عبد السلام دنیائے اسلام اور پاکستان کے واحد نوبیل انعام یافتہ مسلمان سائنسدان ہیں۔ بلاشبہ ان کی خدمات سائنس کے شعبہ میں قابل ستائش ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرنے میں بھی ان کا اہم کردار ہے ۔ وہ ایک محب وطن سائنسدان تھے جنہوں نے کئی مواقع پر پاکستان سے محبت کا ثبوت دیا۔ میری رائے میں ان کا نام پاکستان کے ہیروز میں ضرور آنا چاہیے۔

بےباک
05-21-2013, 07:56 AM
پیارے جناب ابراہیم سہیل صاحب ، کاش وہ مسلمان بھی ہوتے ، اور محب وطن بھی ، وہ قادیانی تھے اور اور اپنے قادیانی گروہ سے مخلص تھے ،
شیخ سعدیؒ نے کہا تھا کہ
وہ دشمن جو بظاہر دوست ہو، اس کے دانتوں کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے۔

یہ مقولہ نوبیل انعام یافتہ سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام پر پوری طرح صادق آتا ہے جنھوں نے دوستی کی آڑ میں پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔
انھیں 10 دسمبر 1979ء کو نوبل پرائز ملا۔ قادیانی جماعت کے آرگن روزنامہ ’’الفضل‘‘ نے لکھا تھا کہ جب انھیں نوبل انعام کی خبر ملی تو وہ فوراً اپنی عبادت گاہ میں گئے اور اپنے متعلق مرزا قادیانی کی پیشین گوئی پر اظہار تشکر کیا۔ اس موقع پر مرزا قادیانی کی بعض عبارتوں کو کھینچ تان کر ڈاکٹر عبدالسلام پر چسپاں کیا گیا اور فخریہ انداز میں کہا گیا کہ یہ دنیا کا واحد موحد سائنس دان ہے جسے نوبل پرائز ملا ہے حالانکہ اسلام کی رو سے رسالت مآبﷺ کا منکر بڑے سے بڑا موحد بھی کافر ہوتا ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام حضور نبی کریمﷺ کی ختم نبوت کے منکر تھے۔ وہ حضورﷺ کے بعد آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی (جن سے انگریز نے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کی خاطر نبوت کا اعلان کروایا تھا) کو اللہ کا آخری نبی مانتے تھے
اور اس طرح وہ اپنے عقائد کی رو سے دنیا کے تمام مسلمانوں کو کافر اور صرف اپنی جماعت کے لوگوں کو مسلمان سمجھتے تھے۔

چونکہ قادیانیت مخبروں اور غداروں کا سیاسی گروہ ہے، لہٰذا اس کی سرپرستی کرتے ہوئے سامراج نے ان کے ایک فرد کو نوبیل پرائز دیا۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک رشوت ہے جو یہودیوں نے قادیانیت کو اپنے مفادات کے حصول کے لیے دی۔
ڈاکٹر عبدالسلام کو اپنی جماعت کی خدمات پر ’’فرزند احمدیت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ وہ اپنی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر احمد کے حکم پر 1966ء سے وفات تک مجلس افتاء کے باقاعدہ ممبر رہے۔ ان کے ماموں حکیم فضل الرحمن 20 سال تک گھانا اور نائیجریا میں قادیانیت کے مبلغ رہے۔ ان کے والد چوہدری محمد حسین جنوری 1941ء میں انسپکٹر آف سکولز ملتان ڈویژن کے دفتر میں بطور ڈویژنل ہیڈ کلرک تعینات ہوئے۔ قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے انھیں قادیانی جماعت ضلع ملتان کا امیر مقرر کیا جس میں تحصیل ملتان، وہاڑی، کبیر والہ، خانیوال، میلسی، شجاع آباد اور لودھراں کی تحصیلیں شامل تھیں۔

ایک دفعہ انھوں نے خانیوال میں سیرت النبیﷺ کے نام پر قادیانی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حضور نبی کریمﷺ اور مرزا قادیانی کا (نعوذ باللہ) موازنہ شروع کیا تو اجتماع میں موجود مسلمانوں میں کہرام مچ گیا اور انھوں نے اشتعال میں آ کر پورا جلسہ الٹ دیا۔ چند نوجوانوں نے چوہدری محمد حسین کو پکڑ کر جوتے بھی مارے۔ پولیس نے چوہدری محمد حسین کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا۔ دو دن بعد ملتان میں ایک قادیانی اعلیٰ پولیس افسر کی مداخلت سے انھیں رہائی ملی۔
10 ستمبر 1974ء کو ڈاکٹر عبدالسلام نے وزیراعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اس کی وجہ انھوں نے اس طرح بیان کی:
’’آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیہ (قادیانی) فرقے کا ایک رکن ہوں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کے متعلق جو آئینی ترمیم منظور کی ہے، مجھے اس سے زبردست اختلاف ہے۔ کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ کوئی شخص خالق اور مخلوق کے تعلق میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا لیکن اب جبکہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے تو میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں اس حکومت سے قطع تعلق کر لوں جس نے ایسا قانون منظور کیا ہے۔ اب میرا ایسے ملک کے ساتھ تعلق واجبی سا ہوگا جہاں میرے فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو۔‘‘

فروری 1987ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے امریکی سینٹ کے ارکان کو ایک چٹھی لکھی کہ ’’آپ پاکستان پر دباؤ ڈالیں اور اقتصادی امداد مشروط طور پر دیں تاکہ ہمارے خلاف کیے گئے اقدامات حکومت پاکستان واپس لے لے۔‘‘
یہ تحریر محمد متین خالد صاحب کی ہے ،
مکمل تحریر یہاں پڑھ لیجئے گا۔
http://forum.mohaddis.com/threads/%DA%88%D8%A7%DA%A9%D9%B9%D8%B1-%D8%B9%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D 9%85-%E2%80%A6-%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1-%DA%A9%D8%A7-%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%B1%D8%A7-%D8%B1%D8%AE.3496/#post20266

سرحدی
05-21-2013, 09:29 AM
بے باک بھائی!
اللہ تعالی آپ کو بہت جزائے خیر عطا فرمائے، بہت ہی اچھے اور مختصر انداز میں سمجھایا۔
اللہ تعالی کا دین مکمل ہوچکا ہے اور اس کا اعلان اپنے حبیب سرکارِ دو عالم نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی لسانِ مبارک سے کرادیا گیا ہے۔ اب جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق زندگی گزارے وہ کامیاب کامیاب، اور جو (معاذ اللہ) نہ مانے وہ ناکام ناکام اور خسارے سے دوچار رہے گا۔
اللہ تعالی ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے، ہمیں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی کامل اتباع نصیب فرمائے اور ہمیں فتنوں سے حفظ و امان میں رکھے۔آمین

ابراہیم سہیل
11-04-2013, 01:32 PM
محترم، گذارش یہ ہے کہ مکرم ڈاکٹر مسلمان تھے یا نہیں ، یہ تو الگ بحث ہے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ اگر انکی صرف پاکستان کے لئے خدمات ہی کا جائزہ لے لیا جائے تو یہ اعتراض ختم ہو جاتا ہے کہ خدانخواستہ وہ پاکستان کے غدار تھے وغیرہ وغیرہ۔
خاکسار کچھ مثالیں آپ کے سامنےپیش کرے گا جو حقائق پر مبنی ہیں۔
1۔ سائنسی مشیر اعلیٰ برائے صدر پاکستان ۔اس حیثیت میں سلام صاحب نے بہت سے اقدام کئے جن سے پاکستان نے سائنس میں ترقی کی۔
۔ انہوں نے میزائل ریسرچ اور اس سے ملحقہ میدانوں میں ترقی کے لئے خلاء اور بالائی فضا کی تحقیقی کمیٹی ’’suparco‘‘کی بنیاد رکھی اور کچھ عرصہ اس کے چئیر مین بھی رہے ۔
۔ سلام صاحب نے صدر ایوب خان کومجبور کیا کہ وہ ’’pinstech‘‘ُپاکستان انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلئیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، کی منظوری اور ہدایت دے دیں۔ جو ایک تخلیقی سائنسی یادگار ہو گی جس کی بدولت پاکستان میں سائنسی تعلیمات کا احیاء ہو گا ۔ چنانچہ جلد ہی اسلام آباد میں نیلور کے مقام پر اس کا قیام عمل میں آگیا۔
۔ 1972ء میں جب پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی گئی اس میں سلام صاحب کا بطورمشیر سائنس صدر پاکستان کے اہم کردار تھا۔
۔ سلام صاحب نے 1974ء میں لاہور میں منعقدہ پہلی اسلامی کانفرنس کے موقع پر ’’اسلامک سائنس فاؤنڈیشن‘‘کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اس فاؤنڈیشن کا قیام اعلیٰ سطح پر ٹیکنالوجی اور سائنس کی ترقی کو اپنا ہدف بناتے ہوئے اسلامی ملکوں کی مدد سے عمل میں لایا جائے۔ فاؤنڈیشن کی سرپرستی اسلامی ممالک کریں۔
2۔ سلام صاحب کی قائم کردہ اعلیٰ بین الاقوامی ادارے۔
۔ سلام صاحب نے تیسری دنیا کے قابل سائنسدانوں کے لئے مزید اعلیٰ سائنسی استعدادوں کے حصول کی خاطر 1964ء میں ٹریسٹے (اٹلی)میں ایک بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی سائنس قائم کیا جس نے بے شمار سائنسدانوں کو اعلیٰ علم اور میعار حاصل کرنے کے قابل بنایا ۔ اس سے قبل 1962ء میں سلام نے صدر ایوب سے درخواست کی کہ حکومت پاکستان اس سنٹر کے قیام کی منظوری دے دے۔ لیکن ایوب خان کے مشیروں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا اور سلام کو اسے اٹلی میں قائم کرنے پر مجبور کر دیا۔ وہ یہ مرکز پاکستان میں قائم کرنا چاہتے تھے۔ آج ictpٍمیں پچاس سے زائد ترقی پذیر ممالک کے سائنسدان تحقیقی کام کے لئے باقاعدگی سے حاضر ہوتے ہیں۔ پاکستانی سائنسدان ایک ہزار سے زائد مرتبہ قیام کر چکے ہیں۔
۔ ictpکے بعد ڈاکٹر عبد السلام صاحب کا ایک اور زبردست کارنامہ سائنس اکیڈمی برائے تیسری دنیا ہے ، جسکا انکی کوششوں سے 1983ء کو قیام عمل میں آیا۔
یہ تو چند جھلکیاں ہیں ۔ انٹر نیٹ پر بآسانی یہ حوالے جو خاکسار نے پیش کئے ہیں، سرچ کئے جا سکتے ہیں۔ عبد السلام صاحب کی سوانح حیات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پاکستان اور تیسری دنیا کے لوگوں کی سائنسی ترقی کے کس قدر خواہشمند تھے اور صرف خواہش ہی نہیں بلکہ اس کے لئے انہوں نے عملی اقدامات بھی اٹھائے۔ پس میری حقیر رائے میں یہ ایک قرض ہے جو پاکستانی قوم پر سلام صاحب کا ہے ، اور اس کو اتارنے کے لئے کم سے کم انکی کوششوں کا تو اعتراف کیا جانا چاہیے نہ کہ ان پر بے بنیاد الزامات لگانے چاہئیں۔
اگرچہ وہ ایک سچے مسلمان تھے، قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے ہدایت حاصل کرتے تھے ، تاہم اگر کسی کو اس پر یقین نہ بھی آئے تو بھی ان کی سائنس کے میدان میں خدمات ، پاکستان کے لئے خصوصاً اور مسلمانوں اور تیسری دنیا کے لئے عموماً ، ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔

بےباک
11-04-2013, 06:25 PM
بھائی ابراہیم سہیل صاحب ، شکریہ آپ نے بڑی ہی محنت کی ، اور ان کے نوبل انعام پر تو تفصیل لکھ دی ، مگر پیارے بھائی ابراہیم سہیل جی جو بندہ امت مسلمہ کو کافر سمجھتا ہو ، اور مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی سمجھتا ہو ، تو یہ اسلام میں نقب لگانے کےمترادف ہے ،
جو رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے غداری کر سکتا ہے ، اس کی وطن سے محبت بھی مشکوک رہے گی ،
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک متعصب اور جنونی قادیانی تھے جو سائنس کی آڑ میں قادیانیت پھیلاتے رہے۔ انہوں نے پوری زندگی میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسلام اور پاکستان دشمن ممالک کے مقاصد سے متصادم ہو۔ پاکستان کے دفاع کے متعلق بھارت، اسرائیل یا امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی کہنا، ان کی ایمان دوستی کے منافی تھا۔ درحقیقت قادیانیت نقل بمطابق اصل کا ایسا پیکنگ ہے، جس کی ہر زہریلی گولی کو ورق نقرہ میں ملفوف کر دیا گیا ہے۔ انگریز نے اس مذہب کو الہامات و روایات اور کشف و کرامات کے سانچوں میں ڈھال کر پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے دل و دماغ بلکہ جسم و جان تک انگریزی کی قید میں ہوتے ہیں۔ جسے اس نے ہمیشہ اپنے مفاد کی خاطر استعمال کیا۔
معروف صحافی جناب زاہد ملک اپنی شہرۂ آفاق کتاب ’’ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم‘‘ کے صفحہ 23 پر ڈاکٹر عبدالسلام کی پاکستان دشمنی کے بارے میں حیرت انگیز انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’معزز قارئین کو اس انتہائی افسوس ناک بلکہ شرمناک حقیقت سے باخبر کرنے کے لیے کہ اعلیٰ عہدوں پر متمکن بعض پاکستانی کس طرح غیر ممالک کے اشارے پر کہوٹہ بلکہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کر رہے ہیں، میں صرف ایک اور واقعہ کا ذکر کروں گا اور اس واقعہ کے علاوہ مزید ایسے واقعات کا ذکر نہیں کروں گا۔ اس لیے کہ ایسا کرنے میں کئی ایک قباحتیں ہیں لیکن میں نے ان سنسنی خیز واقعات کو تاریخ وار درج کر کے اس انتہائی اہم قومی دستاویز کی دو نقلیں پاکستان کے باہر دو مختلف شخصیات کے پاس بطور امانت درج کرا دی ہیں اور اس کی اشاعت کب اور کیسے ہو، کے متعلق بھی ضروری ہدایات دے دی ہیں۔ ‘‘

یہ واقعہ نیاز اے نائیک سیکرٹری وزارت خارجہ نے مجھے ڈاکٹر عبدالقدیر کا ذاتی دوست سمجھتے ہوئے سنایا تھا۔ انہوں نے بتلایا کہ وزیر خارجہ صاحبزادہ یعقوب علی خاں نے انہیں یہ واقعہ ان الفاظ میں سنایا:
’’اپنے ایک امریکی دورے کے دوران سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں، میں بعض اعلیٰ امریکی افسران سے باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کر رہا تھا کہ دوران گفتگو امریکیوں نے حسب معمول پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر شروع کر دیا اور دھمکی دی کہ اگر پاکستان نے اس حوالے سے اپنی پیش رفت فوراً بند نہ کی تو امریکی انتظامیہ کے لیے پاکستان کی امداد جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ ایک سینئر یہودی افسر نے کہا ’’نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کو اس کے سنگین تنائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ جب ان کی گرم سرد باتیں اور دھمکیاں سننے کے بعد میں نے کہا کہ آپ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستانی ایٹمی توانائی کے حصول کے علاوہ کسی اور قسم کے ایٹمی پروگرام میں دلچسپی رکھتا ہے تو سی آئی اے کے ایک افسر نے جو اسی اجلاس میں موجود تھا، کہا کہ آپ ہمارے دعویٰ کو نہیں جھٹلا سکتے۔ ہمارے پاس آپ کے ایٹمی پروگرام کی تمام تر تفصیلات موجود ہیں بلکہ آپ کے اسلامی بم کا ماڈل بھی موجود ہے۔ یہ کہہ کر سی آئی اے کے افسر نے قدرے غصے بلکہ ناقابل برداشت بدتمیزی کے انداز میں کہا کہ آئیے میرے ساتھ بازو والے کمرے میں۔ میں آپ کو بتائوں آپ کا اسلامی بم کیا ہے؟ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ دوسرے امریکی افسر بھی اٹھ بیٹھے۔ میں بھی اٹھ بیٹھا۔ ہم سب اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ سی آئی اے کا یہ افسر، ہمیں دوسرے کمرے میں کیوں لے کر جا رہا ہے اور وہاں جا کر یہ کیا کرنے والا ہے۔ اتنے میں ہم سب ایک ملحقہ کمرے میں داخل ہو گئے۔ سی آئی اے کا افسر تیزی سے قدم اٹھا رہا تھا۔ ہم اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ کمرے کے آخر میں جا کر اس نے بڑے غصے کے عالم میں اپنے ہاتھ سے ایک پردہ کو سرکایا تو سامنے میز پر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کا ماڈل رکھا ہوا تھا اور اس کے ساتھ ہی دوسری طرف ایک سٹینڈ پر فٹ بال نما کوئی گول سی چیز رکھی ہوئی تھی۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا ’’یہ ہے آپ کا اسلامی بم۔ اب بولو تم کیا کہتے ہو۔ کیا تم اب بھی اسلامی بم کی موجودگی سے انکار کرتے ہو؟‘‘ میں نے کہا میں فنی اور تکینکی امور سے نابلد ہوں۔ میں یہ بتانے یا پہچان کرنے سے قاصر ہوں کہ یہ فٹ بال قسم کا گولہ کیا چیز ہے اور یہ کس چیز کا ماڈل ہے۔ لیکن اگر آپ لوگ بضد ہیں کہ یہ اسلامی بم ہے تو ہو گا، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ سی آئی اے کے افسر نے کہا کہ آپ لوگ تردید نہیں کر سکتے۔ ہمارے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں۔ آج کی میٹنگ ختم کی جاتی ہے۔ یہ کہہ کر وہ کمرے سے باہر کی طرف نکل گیا اور ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ میرا سر چکرا رہا تھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ جب ہم کا ریڈور سے ہوتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے تو میں نے غیر ارادی طور پر پیچھے مڑ کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہے تھے، جس میں بقول سی آئی اے کے، اس کے اسلامی بم کا ماڈل پڑا ہوا تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا، اچھا! تو یہ بات ہے‘‘۔ پھربھی پاکستان نے اس ڈاکٹر عبدالسلام کی مندرجہ بالا غداریوں او رسازشوں سے مجرمانہ چشم پوشی کی اور ان ’’خدمات‘‘ کے عوض انہیں 1959ء میں ستارہ امتیاز اور تمغہ و ایوارڈ حسن کارکردگی اور 1979ء میں پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز دیا گیا ۔

ڈاکٹر عبدالسلام مسلمانوں کو کیا سمجھتے تھے؟ اس سلسلہ میں معروف صحافی و کالم نویس جناب تنویر قیصر شاہد نے ایک دلچسپ مگر فکر انگیز واقعہ اپنی ذاتی ملاقات میں راقم کو بتایا۔ یہ واقعہ انہی کی زبانی سنئے اور قادیانی اخلاق پر غور کیجیے:
’’ایک دفعہ لندن میں قیام کے دوران بی بی سی لندن کی طرف سے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بطور معاون، ڈاکٹر عبدالسلام کے گھر ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے گیا۔ میرے دوست نے ڈاکٹر سام کا خاصا طویل انٹرویو کیا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بڑی تفصیل کے ساتھ جوابات دیئے۔ انٹرویو کے دوران میں بالکل خاموش، پوری دلچسپی کے ساتھ سوال و جواب سنتا رہا۔ دوران انٹرویو انہوں نے ملازم کو کھانا دسترخوان پر لگانے کا حکم دیا۔ انٹرویو کے تقریباً آخر میں عبدالسلام مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہاں کہ آپ معاون کے طور پر تشریف لائے ہیں مگر آپ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی کوئی سوال کریں۔ ان کے اصرار پر میں نے بڑی عاجزی سے کہا کہ چونکہ میرا دوست آپ سے بڑاجامع انٹرویو کر رہا ہے اور میں اس میں کوئی تشنگی محسوس نہیں کر رہا، ویسے بھی میں، آپ کی شخصیت اور آپ کے کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں نے آپ کے متعلق خاصا پڑھا بھی ہے۔ جھنگ سے لے کر اٹلی تک آپ کی تمام سرگرمیاں میری نظرں سے گزرتی رہی ہیں لیکن پھر بھی ایک خاص مصلحت کے تحت میں اس سلسلہ میں کوئی سوال کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام فخریہ انداز میں مسکرائے اور ایک مرتبہ اپنے علمی گھمنڈ اور غرور سے مجھے ’’مفتوح‘‘ سمجھتے ہوئے ’’فاتح‘‘ کے انداز میں ’’حملہ آور‘‘ ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نہیں… آپ ضرور سوال کریں، مجھے بہت خوشی ہو گی۔‘‘ بالآخر ڈاکٹر صاحب کے پرزور اصرار پر میں نے انہیں کہا کہ آپ وعدہ فرمائیں کہ آپ کسی تفصیل میں گئے بغیر میرے سوال کا دوٹوک الفاظ ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں جواب دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے وعدہ فرمایا کہ ’’ٹھیک! بالکل ایسا ہی ہو گا؟‘‘ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ چونکہ آپ کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے، جو نہ صرف حضور نبی کریمe کی بحیثیت آخری نبی منکر ہے، بلکہ حضور نبی کریمe کے بعد آپ لوگ (قادیان، بھارت کے ایک مخبوط الحواس شخض) مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ جبکہ مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ آپ بتائیں کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے پر آپ مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام بغیر کسی توقف کے بولے کہ ’’میں ہر اس شخص کو کافر سمجھتا ہوں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔‘‘ ڈاکٹر عبدالسلام کے اس جواب میں، میں نے انہیں کہا کہ مجھے مزید کوئی سوال نہیں کرنا۔ اس موقع پر انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی ایک عجیب حرکت کی کہ اپنے ملازم کو بلا کر دستر خوان سے کھانا اٹھوا دیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو غصے میں دیکھ کر ہم دونوں دوست ان سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔‘‘
اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ ڈاکٹر عبدالسلام ایک متعصب اور جنونی قادیانی تھے جو سائنس کی آڑ میں قادیانیت پھیلاتے رہے۔ انہوں نے پوری زندگی میں کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جو اسلام اور پاکستان دشمن ممالک کے مقاصد سے متصادم ہو۔ پاکستان کے دفاع کے متعلق بھارت، اسرائیل یا امریکہ کے خلاف ایک لفظ بھی کہنا، ان کی ایمان دوستی کے منافی تھا۔ درحقیقت قادیانیت نقل بمطابق اصل کا ایسا پیکنگ ہے، جس کی ہر زہریلی گولی کو ورق نقرہ میں ملفوف کر دیا گیا ہے۔ انگریز نے اس مذہب کو الہامات و روایات اور کشف و کرامات کے سانچوں میں ڈھال کر پروان چڑھایا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانیوں کے دل و دماغ بلکہ جسم و جان تک انگریزی کی قید میں ہوتے ہیں۔ جسے اس نے ہمیشہ اپنے مفاد کی خاطر استعمال کیا۔

یہ ایک المیہ ہے۔ کہ قادنیوں کے مکرو فریب اور سازشوں کی بھٹیوں میں اسلام مدتوں سے جل رہا ہے اور ہمارے نام نہاد دانشوروں کا ایک خاص گروہ جن کی جبینوں اور عقلوں پر جہالت اور اغراض کے دھندلکوں اور جالوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔، قادیانیت کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ یہ لوگ چند ٹکوں کی خاطر وطن کی سالمیت اور ناموس سے کھیل جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا سانچہ ہے جسے ایک بے رحم مورخ ہی بے نقاب کر سکتا ہے۔

بےباک
11-04-2013, 06:37 PM
سہیل بھائی آپ سے ایک سوال ہے کیا آپ نے مرزا بشیر احمد کی کتاب کلمۃ الفصل اور آئینہ صداقت کا مطالعہ کیا ہے؟؟؟؟؟؟؟ْآپ نے کبھی یہ تحریریں مطالعہ فرمائیں ۔ مجھے تو ہمدردی ہے قادیانیوں سے ان کی نظر سے یہ تحریریں گزرتی بھی ہیں تو ان کو یا تو جھٹلا دیتے ہیں یا پھر کہتے ہیں کہ ہم نے ان کو پڑھا بھی نہیں ، یا صرف پروپیگنڈا ہے ،

’’کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود ( مرزا غلام احمد قادیانی)کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے ، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا ہو ، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں ‘‘۔
آئینہ صداقت مصنف مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان ص۳۵۔

’’ مسیح موعود خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ۔ اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ۔ ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔ ‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ ۱۵۸)

’’ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتاہو مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہومگر محمد کو نہیں مانتا یا محمد کو مانتا ہو مگر مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی)کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر ہے بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے‘‘۔
کلمۃ الفصل ،مصنف صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ ریویوآف ریلیجنزص۱۱۰۔

’’ہمارا فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (مرزا غلام احمد قادیانی)کے منکر ہیں‘‘۔
انوار خلافت ص ۹۰۔

’’حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ صرف وہی سلوک جائز رکھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسائیوں کے ساتھ کیا ۔غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں ،ان کولڑکیا ں دینا حرام قرار دیا گیا ،ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا ۔اب باقی کیا رہ گیا جو ہم ان کے ساتھ مل کر کرسکتے ہیں؟‘‘
کلمۃ الفصل ،مصنف صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی مندرجہ ریویوآف ریلیجنزص۱۶۹۔
نوٹ :
اور ہاں اگر آپ کو مطلوبہ عبارات نہ ملیں تو ادھر پیغام چھوڑ دیجئے گا ، میں ادھر لگا دوں گا ، آپ ریویو آف ریلجئز ضرور پڑھئے ، کیونکہ نئے اور پرانے ایڈیشنوں میں صفحات کی ترتیب تبدیل ہو گئی ہے ، اصلی کتب میرے پاس موجود ہیں ، آپ بھی پڑھئے ۔ تاکہ سچ کی طرف آپ کی توجہ ہو ، شکریہ

ابراہیم سہیل
11-07-2013, 10:41 AM
نہایت محترم جناب۔ خاکسار نے پہلے بھی عرض کی تھی کہ ان کے مذہب کو ، جو بھی وہ ہو، اگر نہ بھی دیکھیں ، صرف ان کی خدمات دیکھیں تو پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ محب وطن تھے اور پاکستان کے لئے اور اسکی شہریوں کے لئے درد رکھتے تھے۔ مَیں نے اسی لئے صرف انکی خدمات کا تذکرہ کیا تھا ، انکے مذہب کے بارے میں تفصیل بیان نہیں کی۔ کیا اگر ایک شخص جسے آپ غیر مسلم سمجھتے ہوں، اگر وہ پاکستان کے لئے کچھ اچھا کرتا ہے تو آپ اسے ستائش کی نظروں سے نہیں دیکھیں گے؟ کیا صرف مسلمان ہونا ہی اسکی وطن سے محبت ثابت کرے گا؟ اگر کوئی مسلمان کسی یورپی ملک یا امریکہ میں جا کر کسی علم میں مہارت حاصل کرتا ہے اور اس میں قابل قدر کام انجام دیتا ہے تو کیا وہاں کے عیسائی وغیرہ یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ یہ تو عیسائیت کو نہیں مانتا، اس لئے اس کے کئے گئے کام کی کوئی وقعت نہیں اور اسکی وطن سے محبت مشکوک ہے ؟
مَیں نہایت احترام سے صرف آپ کی توجہ اس طرف دلانا چاہتا ہوں کہ ایک شخص کا مذہب اور اس کی کی گئی خدمات دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ خُدا را اگر آپ کو یقین نہیں آتا کہ ایک شخص مسلمان ہے ،تو آپ نہ کیجیئے ۔ آپ کو کون روکتا ہے ، مگر انکی خدمات سے آپ صرف ِ نظر نہیں کر سکتے اور الٹا ان پر اعتراضات اٹھانا تو اور بھی زیادتی ہے ۔
صرف اتنی عرض ہے کہ دونوں موضوعات کو الگ الگ رکھیں۔ مَیں نے جب ڈاکٹر صاحب موصوف کی خدمات کاذکر کیا تو آپ یہ ثابت کر دیجیئے کہ ان خدمات سے پاکستان کو کیا نقصان پہنچا یا امت مسلمہ کس خطرے سے دوچار ہو گئی انکی ان خدمات سے ۔
آپ کا یہ فورم بہت اچھا ہے جس میں پاکستانی ہیروز کا تذکرہ ہوتا ہے ۔ لہٰذا گذارش ہے کہ صرف وہ وجوہات جس وجہ سے وہ کسی کے نزدیک ہیرو ہیں، انہیں ہی ڈسکس کرنا چاہیے ، مذہب کے لئے دوسرے فورم میں بات ہونی چاہیے۔ شکریہ۔

بےباک
11-27-2013, 09:24 PM
شکریہ جناب سہیل صاحب ،
ہمیں پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی عزیز نہیں ، ان پر ہمارے ماں باپ اور آل اولاد قربان ،
قادیانی صرف غیر مسلم ہی نہیں بلکہ انہوں نے ہمارے مذھب اسلام میں نئے جھوٹے قادیانی پیغمبر کا اضافہ کیا ہے ہے اور انبیاء کی توہین کی ہے ، قادیانی کافروں سے بڑھ کر ہیں ،
محترم ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ عزیز نہیں ہو سکتی ،
ایک بہت سادہ سا سوال ہے ، آپ کے گھر ایک بڑا لیڈر یا نوبل انعام یافتہ سائینسدان آ جائے اور آپ کے والد محترم کی شان میں گستاخی کرےاور آپ کے آباوٴ اجداد کو گالیاں دے تو کیا آپ اس کو سر آنکھوں پر بٹھائیں گے ،
میرا خیال ہے اسوقت آپ سب کچھ بھول جائیں گے ،کہ یہ حضرت کون ہے ،
قرآن مجید جلانے والا لعنتی ٹیری جونز یا سلمان رشدی لعنتی نوبل انعام یافتہ اگر آپ کے مہمان ہوں تو کیا آپ ان کی علمی قابلیت دیکھیں گے ، اور ان کی مدح سرائی کریں گے ،میرا خیال ہے آپ کا جواب نفی میں ہوگا
مرزا قادیانی لعنتی نے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں نقب لگائی اور اپنے آپ کو رسول محمد صلی اللہ کے ہم پلہ قرار دیا ﴿ نعوذ باللہ﴾ اور مرزا کی مدح سرائی کرنے والا ہمارے لئے لعنتی ہے ،
ہمارے پیارے رسول ہمیں ماں باپ سے زیادہ پیارے اور عزیز ہیں ، ان کے سامنے ماں باپ ، اولاد اور کائینات سب ہیچ ہیں ،
کاش آپ ٹھنڈے دل سے مرزا کی کتب کا مطالعہ کریں ۔ کاش ۔کاش
اور ہماری تنقید کو چھوڑ کر سچائی کا سفر شروع کریں تو آپ کا بھلا ہو گا ۔ آپ کی بات ہم مان لیتے ہیں ڈاکٹر عبدالسلام ایک اچھا سائینسدان اور نوبل انعام یافتہ ہے ۔اب آپ بھی ہماری بات مان لیں اور مرزا قادیانی کی کتب کا گہرا مطالعہ کیجئے ، دماغ کو آزاد چھوڑ کر اورپھر رات کو دو رکعت نماز پڑھ کر اللہ تعالی سے دعا کریں کہ یا اللہ آپ ہی راہ ھدائت دکھا دیں ،، انشاٴاللہ اللہ سبحان تعالی آپ پر اپنا کرم فرمائے گا ، آمین
شکریہ

انجم رشید
11-30-2013, 08:59 AM
ڈاکٹر صآحب ( جن کو عبدالسلام لکھنا میں اچھا نہیں سمجھتا ) سے بھی زیادہ قابل پاکستانی ساینسدان موجود ہیں لیکن ان کو نوبل انعام نہیں دیا جائے گا کیوں کہ وہ مسلم ہیں