PDA

View Full Version : جمہوری نظام



نجم الحسن
05-16-2013, 12:41 PM
اسلام و علیکم جمہوریت ایک کفریہ نظام ہے -اس کا ثبوت یہ ہے کہ جمہوریت کی بنیاد پارلیمنٹ کی اکثریت ہے -کوئی بھی قانون چاہے دینی ہو یا شہری ہو اس وقت تک نا فذ العمل نہیں ہو سکتا -جب تک کہ پارلیمنٹ اس کو اکثریتی ووٹوں سے پاس نہیں کرتی -اس کا مطلب ہے کہ پارلیمنٹ چاہے تو اللہ کے کسی بھی حکم کو اکثریت نہ ہونے کی بنا پر رد کر سکتی ہے - اور یہ جرّات صرف جمہوری نظام میں ممکن ہے -کیوں کہ پارلیمنٹ کے نمائندے عوام کی اکثریت سے منتخب ہوتے ہیں لہذا اس کفر میں عوام بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں - جب کے ایک اسلامی ملک جس کی بنیاد کلمہ حق پر رکھی گئی ہو وہاں الله کا قانون ہر صورت میں نافذ العمل کرنا ہر مملکت کے حکمرانوں پر واجب ہے -الله نے اسلام کو" دین حق " قرار دیا ہے - قرآن میں الله کا ارشاد ہے - وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا سوره بنی اسرئیل ٨١ اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا- بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا یعنی ١٤٠٠ سال پہلے الله نے جو دین اپنے نبی کریم صل الله علیہ وسلم پر نازل کیا تھا -اس کا ہر حکم قیامت تک کے لئے نافذ ہو چکا -اب انسانوں کو اس بات کا اختیار نہیں کہ وہ الله کے احکامات کو اکثریتی بنیادوں پر قبول یا رد کر سکیں- اب ہر صورت میں اس کے آگے سر تسلیم خم کر نا واجب ہے -قرآن میں الله کا واضح فرمان ہے - وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سوره المائدہ ٤٤ جو کوئی اس کے موافق فیصلہ نہ کرلے جو الله نے اتارا تو وہی لوگ کافر ہیں - لیکن جمہوریت ہی ایسا طرز حکومت ہے -جس میں عام عوام سے لے کر حکمران طبقے تک فیصلے کا اختیار اکثریتی بنیاد ہے چاہے وہ الیکشن کے بعد ہو یا بعد میں پارلیمنٹ کا اندر ہو -اور یہ اکثریتی بنیاد سرا سر الله کے احکمات سے بغاوت پور مبنی ہے - آج ہم دیکھ لیں کہ وہ ملک جو کلمہ حق کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا -٦٥ سال گزارنے کے بعد بھی یہاں پر ایک بھی اسلامی قانون نافذ نہیں ہو سکا اور نہ ہو سکے گا - کیوں کہ جمہوریت یہود و نصاری کا دین ہے - جس کا ثبوت یہ ہے کہ یہ لوگہر وقت ہر لمحہ اس کی ترویج اور اشاعت میں لگے رہتے ہیں تا کہ کسینا کسی طر ح مسلم مملک میں اس کا نفاذ کر کے لوگوں کو الله کی بغاوت پر امادہ کریں - جب کہ قرآن میں الله کا واضح فرمان ہے - وَلَنْ تَرْضَىٰ عَنْكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُمْ بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ سوره البقرہ ١٢٠ اورتم سے یہود اور نصاریٰ ہرگز راضینہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے دین کی پیروی نہیں کرو گے کہہ دو بے شک ہدایت الله ہی کی طرف سے ہے اوراگر تم نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی اس کے بعد جو تمہارے پاس علم آ چکا تو تمہارے لیے الله کےہاں کوئی دوست اور مددگار نہیں ہوگا -(یعنی الله کے عذاب سے بچانےوالا کوئی نہ ہو گا) الله ہم مسلمانوں کو حق و باطل میں تمیز کرنے کی توفیق عطا فرماے (آ مين

سقراط
05-16-2013, 03:40 PM
بے شک ٹھیک کہا
نظام ایک ہی ہونا چاہئے جو اللہ کا نظام ہے سب اس جھنڈے تلے ایک ہیں

محمد سلمان
06-07-2013, 10:02 AM
بالکل درست کہا ۔۔۔ نجم بھائی ! جمہوریت صرف کافرانہ ہی نہیں بلکہ نہایت احمقانہ نظام بھی ہے ،،، اس کو نظام کہنا بھی کسی سسٹم یا نظام کی توہین ہے ،،، اس سے زیادہ اور کیا ہو کہ برطانیہ جیسے ملک میں (جسے جمہوریت کا چمپئن سمجھا جاتا ہے) آج تک جمہوریت نافذ نہیں ہوئی ،،، بلکہ شخصی حکومتی نظام ہے ، آمریت ہے ، لیکن دوسروں کو دھوکا دے کر جمہوریت پر ہی مجبور کیا جاتا ہے ۔ جمہوریت کے بارے میں بہترین معلومات حاصل کرنے اور اس کی حقیقی شکل سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید کا مضمون جمہوریت دور جدید کا صنم اکبر پڑھنا بہت مفید ثابت ہوگا۔ الگ رسالے کی شکل میں شائع ہوچکا ہے ، بآسانی دستیاب ہے ۔

بےباک
06-07-2013, 08:52 PM
اس بارے مرحوم علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ فرما چکے ہیں ،
جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

محمد سلمان
06-08-2013, 10:57 AM
علامہ نے تو ایک اور بات بھی کہی ہے ، فرماتے ہیں:
کیا تو نے دیکھا نہیں انگریزی کا جمہوری نظام
چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر