PDA

View Full Version : درباری



تانیہ
12-13-2010, 09:28 PM
درباری۔۔۔۔


تقریر بڑے زور و شور سے جاری تھی سارا پنڈال کھچا کھچ لوگوں سے بھرا ہوا تھا لوگ دور دراز سے اپنے محبوب لیڈر کی نہ صرف تقریر سننے آئے تھے بلکہ اس کا دیداربھی کرنا چاہتے تھے۔لوگوں کا جوش و خروش حد سے بڑھتا جارہا تھا ۔کیونکہ اب انکے محبوب لیڈر کی باری تھی تقریر کرنے کی۔جس کا ایک ہی نعرہ تھا عوام عوام اور بس عوام ! عوام کے نعرے لگا کر شفاقت علی اس مقام تک پہنچا تھا۔ڈکٹیٹر شپ کے زمانے میں اس نے جمہوریت کا نعرہ لگایا تھا جسے عوام نے بہت پسند کیا اور سارے ملک کی عوام اس کے پیچھے پیچھے چلنے کو فخر سمجھنے لگی تھی۔اس کی پارٹی کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہونے کا دعویٰ تھا ۔چنانچہ آج کل اسکی گڈی بہت چڑھی ہوئی تھی ۔ ڈکٹیٹر شپ کے خاتمے کے لئے اس نے بہت تحریکیں چلائیں تھیں کئی بار جیل گیا تھا ماریں کھائیں اور نہ جانے کیسے کیسے حالات سے وہ گزرا تھا ۔اب الیکشن کی گہما گہمی تھی اور وہ بھی پیسہ پانی کی طرح بہا رہا تھا ۔ کئی علاقوں میں مخالف پارٹیوں کے ووٹروں کو پیسے اور نوکریوں کا لالچ دے کر اپنے ساتھ ملایا جارہا تھا ۔بیواوں میں سلائی مشینیں تقسیم کی جارہی تھی اور کہیں دھونس اور دھمکیوں سے کام لیا جارہا تھا۔اقتدار حاصل کرنے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا۔نعرہ تو روٹی کالگا رہا تھا اور انسانی حقوق کا سب سے بڑا علمبردار بن ر ہا تھا مگر اسکے ہاتھوں پر کئی بے گناہوں کا خون بھی تھا۔ الیکشن مہم میں اس نے امریکہ سے نفرت کا نعرہ لگایا تھا جو عوام کا محبوب ترین نعرہ تھا۔اپنی الیکشن مہم میں اس کا یہ نعرہ تیرِ بہدف کا کام کر رہا تھا۔
سٹیج پر آ کر اس نے تقریر شروع کی۔حسبِ معمول اللہ کے نام سے ایک لمبی چوڑی آیتیں پڑھ پڑھ کر وہ سب پر یہ ظاہر کر رہا تھا کہ وہ دین کا علم بھی رکھتا ہے۔خیر اللہ اللہ کرکے اس کا آیاتِ قرآنی کا سیکشن ختم ہوا ۔اس نے وہی تقریر شروع کردی جو اس سے پہلے وہ ہزاربار دہرا چکا تھا۔پہلے اپنی قربانیوں کا رونا روتا رہا اور چیخ چیخ کر سب کو بتا رہا تھا کہ اس نے جمہوریت کے لئے کیا کیا نہیں کیا کیسے کیسے عذاب جھیلے ہیں وغیرہ۔تقریر ختم ہوئی لوگوں نے اسے سر پر اٹھالیا اور ایک لمبے جلو س میں وہ واپس گھر کو ہولیا۔الیکشن ختم ہوئے دھاندلی دھونس سے اس نے کافی ساری سیٹیں حاصل کرلیں ۔اب وہ وزیرِ اعظم بن چکا تھا ۔وزیرِاعظم بننے کے لیئے بھی اس نے بہت سے لوٹوں کو خرید لیا تھا تب کہیں جاکر وہ بھاری اکثریت سے وزیراعظم بنا تھا۔ اپنی تقریروں میں امریکہ کاانتہائی مخالف شفاقت علی اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اچانک فون کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف سیکرٹری تھی جس نے لائن پر پریزیڈنٹ آف امرکہ کے ہونے کا انکشاف کیا۔وہ فوراً سنبھل کربیٹھ گیا اور دوسری طرف سے آوازآئی ہیلو مسٹر علی ہاؤ آر یو۔یس سر آئی ایم اوکے اینڈہاؤ آر یو وہ انکساری سے بولا او آئی ایم فائن۔امریکی صدرکی آواز آئی۔آئی جسٹ وانٹ ٹو گانگریٹ یو آن یور سکسیس مسٹر علی۔امریکی صدر نے سپاٹلہجے میں کہا ۔اوہ تھیک یو ویری مچ سر شفاقت علی نے انکساری سے کہا۔ مسٹر علی ڈویو نیڈ سم ایڈ فرام می ۔امرکی صدر نے متکبرانہ لہجے میں کہا۔اوہ یس سر وائے ناٹ شفاقت علی کے چہرے پر خوشی کیایک لہردوڑ گئی ۔اوکے آئی نیڈ سم ٹیررسٹس اٹس اپ ٹویو ہاؤ یو وِل گیو اس ۔امرکی صدرنے اپنا مدعا بیان کیا ۔اوکے سر ڈونٹ وری آئی ول گیٹ دیم ہاؤمینی یو نیڈ ؟ اس نے سوالیہ اندازمیں پوچھا۔اوہ اٹس اپ ٹویو وی ول پے یو ہنڈرڈ تھاوزنڈ ڈالر فار ایچ ٹیررسٹ۔امرکی صدرنے اسے بھاؤ بتایا اسکی باچھیں کھلی جارہی تھیں اور وہ ڈالروں کی بہار ہی بہار دیکھ رہا تھا۔ اوکے سر آئی ول میک یو ہیپی اینڈ ہوپ یو ول لک آفٹر می۔انتہائی انکساری سے اس نے جواب دیا۔ اوکے مسٹرعلی بائے۔سی یو دین۔یہ کہہ کر امریکی صدرنے فون رکھ دیا۔ اور شفاقت علی سپنوں کی دنیا میں کھو گیا اور دل ہی دل میں پروگرام بنانے لگا کہ کس طرح کتنے لوگ جلد سے جلد حاصل کرکے سرکار تک پہنچائے جائیں۔
تین دن کے اندر اس نے کم از کم اٹھائیس سو بندے دہشت گردی کے چکر میں پکڑ لئے تھے اور اسپیشل قیدخانوں میں بند کروادیا ۔پندرہ دنوں میں اس نے کم ازکم پانچ ہزار دہشت گرد پکڑواکر امریکی سرکارکے حوالے کردیے ۔دہشت گرد بھی کیا کیا قسم کے تھے جو اسکے کاغذات میں انتہائی خطرناک اورشدید نقصان دہ تھے ۔جو ملک و ملت کے لئے ایک بدنما داغ تھے ۔مگر اصل حقیقت صرف وہی جانتا تھا یا اس کا دستِ راست شہباز ملک جانتا تھا کہ دہشت گردوں کے نام پر ان دونوں نے ملک خداداد کے وہ معصوم شہری پکڑ پکڑ کر درندوں کے حوالے کر دیے تھے جو اپنی دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے کما پاتے تھے ۔اس نے شہباز ملک کو اپنے آفس میں بلایا اور بولا شہباز کیا رپورٹ ہے سر جی سارا پیسہ آپ کے سوئس اکاونٹ میں جمع کروادیا ہے ۔صدر صاحب امریکہ بڑے خوش ہیں ۔ اور اب وہ چاہتے ہیں کہ آپ انہیں یہاں پر تھوڑی سی جگہ عنایت فرمادیں ۔جو آپ کے منہ سے نکلے گا وہ ادا کرنے کو تیار ہیں۔اوہ اچھا شفاقت علی کی باچھیں کھل گئیں۔ٹھیک ہے ٹھیک ہے عوام تو ہے ہی بے وقوف کوئی بہانہ بنا دیں گے۔انہیں اجازت دے دو۔جب تک مرغی انڈہ دیتی ہے اسے کھلانا تو پڑتاہی ہے نا۔۔۔۔۔اور دونوں ایک دم قہقہ لگا کر ہنس پڑے۔۔۔۔۔۔

anwar_hussain
11-14-2011, 03:19 AM
نائسسسسسسسسسسسسسس

این اے ناصر
05-05-2012, 12:54 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔