PDA

View Full Version : ایم کیو ایم اپنی تباہی کی طرف گامزن



سید انور محمود
05-23-2013, 02:20 AM
تاریخ : 23مئی 2013
از طرف: سید انور محمود

ایم کیو ایم اپنی تباہی کی طرف گامزن


گیارہ مئی 2013 کے الیکشن سے قبل ایم کیو ایم گذشتہ پانچ سال تک ایک ایسی حکومت کا حصہ رہی ہے جس سے زیادہ کرپٹ حکومت کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہے، اسکے علاوہ ایم کیو ایم پر یہ عام الزامات تھے کہ بھتہ خوری اور ٹارگیٹ کلنگ میں یہ جماعت ملوث ہے اور اسکے سب سے زیادہ لوگ ان جرائم میں پکڑئے بھی گےہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ دوسری طرف ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی اور اے این پی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا نشانہ بھی بنایا جارہا تھا۔ اسی ماحول میں گیارہ مئی کے الیکشن ہوئے، عوام کافی تعدادمیں باہر آئے اور ووٹ ڈالے مگراُسی شام الیکشن کمیشن نے کراچی میں ہونے والے الیکشن میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرلیا اور اس سے پہلے ہی جماعت اسلامی اور کچھ اور جماعتوں نے الیکشن کے بایکاٹ کا اعلان کردیا۔ یہ درد سر الیکشن کمیشن کا تھا کہ کہاں کہاں دھاندلی ہوئی اور اسکو کیسے ٹھیک کرئے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کوتاہیاں اور ناکامیاں ایک داستان کی صورت میں ہم سب جان چکے ہیں ۔ کراچی سے لیکر فاٹا تک ہر کوئی الیکشن کمیشن کو رو رہا ہے۔ مگر یہ رونا تو ابھی کا ہے اور جلدہی ختم ہوجائے گا لیکن کراچی کے عوام تو ایک عرصہ دراز سے رو رہے ہیں، ایک دن بھی سکون کا نہیں گذرتا ہر سال مرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا شہر ہو جہاں یہ صورتحال ہو۔ آخر کیا وجہ ہے کہ جو شہر روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا ، جسے منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے امن وامان کا گہوارا ہوا کرتا تھا ، اب یہ شہر جرائم پیشہ افراد، دہشت گردوں، بھتہ خوروں، لٹیروں اور سفاک قاتلوں کے مکمل قبضہ میں ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ قانون نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور پورا شہر بغیرکسی قانون کے چل رہا ہے۔ 2012 میں کراچی میں ناگہانی اموات کی تعداد 2300 سے زیادہ ہے۔

ہر شعبے کی اپنی ایک زبان ہوتی ہے مثلا ایک ڈاکٹر جب اپنے شعبے کے بارئے میں بات کرتا ہے تو وہ میڈیکل کی زبان کہلائے گی، ٹھیک اسطرح سیاست کی بھی ایک زبان ہوتی ہےاور ایک سیاست دان جب کوئی بیان دیتا ہے یا بات کرتا ہے تو وہ ایک سیاسی زبان استمال کرتا ہےوہ اپنے مخالفوں کو جب مخاطب کرتا ہے تو انکی تمام برایئوں کا ذکر کرتا ہے لیکن اپنی زبان سے ناشاستہ بات نہیں کرتا لیکن بدقسمتی سے الطاف حسین کو اپنی زبان پر بلکل قابو نہیں ہے، جنوری 2013 کی بات ہے کہ وہ اپنی اور علامہ طاہرالقادری کی دہری شہریت کی وکالت کرتے ہوئے قائداعظم پر حملہ کربیٹھےالطاف حسین نے کہا تھاکہ " قائد اعظم محمد علی جناح سلطنت برطانیہ کے وفادار تھے"، الطاف حسین نے دعویٰ کرتے ہو ئے کہا کہ وہ ثابت کردیں گے کہ قائد اعظم کے پاس برطانوی پاسپورٹ تھا۔یہ بات نہ قابل سمجھ ہے کہ الطاف حسین کو قائد اعظم محمد علی جناع سے کیا تکلیف ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں کہ الطاف حسین نے قائد اعظم کے متعلق بیان دیا ہو۔اب سےکچھ عرصے پہلے بھی وہ قائد اعظم کو سیکولر بناچکے ہیں ۔ اس سے قبل ہندوستانی دورئے میں الطاف حسین پاکستان کی نفی کرچکے ہیں، چند سال قبل دہلی میں الطاف حسین نے کھلے عام لفظوں میں ہندوستان کی بیورو کریسی سے التجا کی تھی کہ کراچی میں ’’مہاجروں‘‘ کیلئے بارڈر کھول دیا جائے تاکہ وہ سب اپنے گھروں میں واپس لوٹ آئیں۔ الطاف حسین کے متنازعہ بیانات سے نہ صرف ایک محبِ وطن پاکستانی کو دکھ ہوتا ہے بلکہ انکی اپنی سیاسی جماعت کو بھی نقصان ہوتاہے اور سب سے بڑھ کر ان لوگوں کو دکھ ہوتا ہےجن کے بزرگوں نے قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہا اورپاکستان ہجرت کی۔الطاف حسین کہتے ہیں کہ 99فیصدعوام کوتاریخ سے آگا ہی نہیں جبکہ وہ خود تاریخ سے نابلد نظر آتے ہیں۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان مسلم لیگ ن کو اسکی کامیابی پر مبارکباد سبکو دینی چاہیے تھی مگر ہمارئے ملک میں یہ رواج قائم ہونے میں ابھی کچھ عرصہ لگے گا۔ نواز شریف کو سب سے پہلے الطاف حسین نے ہی مبارک باد دی لیکن اسکے ساتھ ساتھ حسب دستور اپنی زبان پرقابو نہ رکھ سکے اور ان پر پنجابی مینڈیٹ کی پھبتی کسی اور اسے جاگ پنجابی جاگ کے نعرے کا نتیجہ قرار دئے ڈالا، ان کے اس بیان کو عام طور پر ناپسند کیا گیا۔ دوسرے روز انہوں نے پاکستان کے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ" اگرآپ کو کراچی اور کراچی کے عوام کا مینڈیٹ پسند نہیں ہے تو صبح شام کراچی والوں کو مغلظات بکنے کی بجائے کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کیوں نہیں کردیتے"، اس بیان پر پورئے پاکستان میں احتجاج کیا گیا۔ اگلا بیان پی ٹی آئی کی حمایت میں دھرنا دینے والوں کو دھمکی تھا۔ پھر پاکستانی میڈیا کے لیے فرمادیا کہ"کارواں چلتے ہیں، کتے بھونکتے ہیں"، اسکے علاوہ وہ مسلسل اپنی تقریروں میں گندی زبان استمال کرتے رہے ہیں۔ ایک سیاسی لیڈر کے طور پر یہ زبان جو گذشتہ چند دنوں میں انہوں نے استمال کی ہے اسکو کبھی بھی پسند نہیں کیا جاسکتا۔ لگتا ہے الطاف حسین اپنے خلاف بات نہ سننے کے اسقدر عادی ہوگے ہیں کہ وہ تھوڑی سی مخالفت ہونے پر ہی گھبراگے ہیں۔

پاکستانی عوام نے سابقہ حکومتی اتحاد کی چار پارٹیوں میں سے اے این پی اور مسلم لیگ ق کو تومکمل طور پر رد کردیا جبکہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم اپنے اپنے علاقوں سے ہی کامیاب ہوپائے، چار کے ٹولے نے گذشتہ پانچ سال میں عام لوگوں کو جو کچھ دیا اسکا بدلہ عوام نے لے لیا۔ کراچی میں کافی عرصے سے عام لوگ خوف اور دہشت کے ماحول میں ہیں اور لوگ اس کو بدلنا چاہتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ ایم کیو ایم کے خلاف کراچی سے آواز اٹھی ہے اور اگر ایم کیو ایم اور اسکے لیڈراپنی سیاسی بقا چاہتے ہیں تو انکو اپنے طور طریقے بدلنے ہونگے اور خاصکر الطاف حسین کو اپنی زبان پر قابو کرنا ہوگا۔ ورنہ کہا جاسکتا ہے کہ ایم کیو ایم اپنی تباہی کی طرف گامزن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ: برائے مہربانی اس مضمون پر تبصرہ ضرور کریں مگر اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں

سیما
05-23-2013, 02:28 AM
السلام علیکم

مجھے تو پتا نہیں کیا لکھنا چاہیے، وہ آپ نے تبصرہ کرنے کو کہا ہے نا اس لیے میں کچھ لکھ لیتی ہوں ، سچ سچ بات بتاتی ہوں
مجھے تو یہ الطاف اتنے بُرے لگتے ہیں کہہ اس کے ساتھ حسین کا نام لکھنا بھی اچھا نھی لگتا پتا نھی کیون مجھے یہ زہر لگتا ہے مینڈک ہے یہ اور پاکستان کا دُشمن ہے پکا پکا

اور آپکا بہت بہت شکریہ

سرحدی
05-23-2013, 11:26 AM
آپ نے حالات حالات و واقعات کی روشنی میں ایک مفصل مضمون شیئر کیا۔ سیما نے بھی اس پر رائے دی۔
اصل میں محترم اگر آج سے کچھ دہائیاں پیچھے چلے جائیں تو ہم دیکھیں گے کہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایسے لوگ ہی مسلط ہوئے جو نہ تو سیاست کو جانتے تھے اور نہ عوام کے دکھ درد کو۔
پاکستان کی تقسیم سے لے کر اب ہم نے دیکھا ہے کہ عموما ایسی حکومتیں قائم ہوئیں جو صرف اور صرف اپنے مفادات، خاندانی اور لسانی سیاست کو ہی چمکانے میں لگے رہے۔ پاکستان کی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ پر اپنے جانوں کی قربانی دینے والے وہ سادہ لوح مسلمان تو کٹ مرے لیکن تخلیقِ پاکستان کے خاکے میں اپنے خون سے رنگ بھرنے والے یہ سادہ لوح لوگ کیا جانتے تھے کہ ہم ایک ایسے پاکستان کی تخلیق کرنے جارہے ہیں جہاں پر فقط کچھ خاندانوں، وڈیروں، جاگیرداروں اور بد معاشوں کی حکومتیں ہی بنتی رہیں گی۔ غریب تو آئے دن غریب ہوتا چلا جائے اور امیر آئے دن امیر، قوم کا پیسہ قوم کا حق غصب کرکے وہ اپنی الماریاں بھرتے رہیں گے۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، لسانیت کے نام پر سیاست نے ہمیشہ مسلمانوں کا نقصان کیا ہے، حضور اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے لسانیت، قومیت کے نعرے کو ایک بد بودار نعرہ فرمادیا ہے۔ اس نعرے کے سائے تلے جو بھی جدو جہد ہوگی وہ اپنی اور اپنی قوم کو تباہی کے دہانے پر لے آئے گی۔ بد قسمتی سے اگر دیکھا جائے تو تقسیم پاکستان ہی لسانیت کی بنیاد پر ہوئی تھی، سندھیوں کے لیے سندھ، پنجابیوں کے لیے پنجاب، بلوچوں کے لیے بلوچستان اور پختونوں کے لیے سرحد (جو کہ اب لسانیت کے نام پر خیبر پختونخوا ہوچکا ہے)۔ لیکن اگر غور کیا جائے تو باقی پاکستان میں تعصب اور لسانیت کی یہ فضا قائم نہ ہوسکی (الحمدللہ) البتہ کراچی میں پتہ نہیں کیوں کسی دوسری قوم کو برداشت کرنا بہت مشکل بنادیا گیا ہے۔ حقیقتا ایسا کچھ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن کچھ سیاسی جماعتیں ہیں جو لسانیت کے نام پر سیاست کررہی ہیں۔ اردو بولنے والے ہمارے مسلمان بھائی ہیں اور یہ رشتہ ایسا ہے کہ جس کو اسلام نے قائم کیا ہے۔ ایک مضبوط اور نہ ٹوٹنے والا رشتہ ہے۔ میں آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ اگر ایم کیو ایم اپنی سیاست کا رُخ بدل دے، مخلص ہوکر وطن عزیز پاکستان کی خدمت کریں اس کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں اور لسانیت اور عصبیت کے نعرے سے نکل ایک اسلام ، ایک مسلمان کے جھنڈے تلے اپنی جدو جہد شروع کردیں تو ہوسکتا ہے کہ پھر وہ داغ دھل جائیں جو ان کے ماتھے پر لگے ہوئے ہیں۔۔

تانیہ
05-24-2013, 08:07 PM
اور اگر میرے دل کی بات پوچھی جائے تو میں الطاف حسین کو لیڈر ہی نہیں مانتی اور ان لوگوں کو بھی عجیب عقل سمجھتی ہوں جو اسکے پیچھے لگے ہیں کیونکہ ایک شخص اتنی دور سے بیٹھ کے انکو یوز کر رہا جیسے کہ اسکے ہاتھ انکا ریمورٹ کنٹرول ہو ۔۔۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوام کے بیچ رہے انکو سنے سمجھے مدد کرے ہر اچھے برے میں انکے ساتھ ہو اور الطاف حسین تو ہماری سیاست کا کوئی مذاحیہ کریکٹر لگتا ہے مجھے جو اینٹرٹینمنٹ دیتا ہے اپنی فنی تقریروں سے اپنے بیانات سے اور جب جوابا اس پہ تنقید ہو تو پھر گندی زبان بولنے پہ اتر آتا ہے ایم کیو ایم بطور سیاسی جماعت کیسی ہے اس میں کون لوگ ہیں انکی اکثریت کیسی ہے یہ بات ایکطرف لیکن الطاف حسین نے ایم کیو ایم کا امیج برا بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی