PDA

View Full Version : تہی داماں



تانیہ
12-13-2010, 09:30 PM
تہی داماں۔۔۔۔۔

وہ اولاد جس کے لیے اُس نے سپنے بُنے تھے آج وہی اُس کے سامنے سینہ سپر ہوگئی تھی۔ تمام روایتوں کو بُھلا کر تمام حدود کو پھلانگ کر آج وہ اُس کے سامنے دیدہ دلیری سے کھڑی تھی۔جنکے بہتر مستقبل کے خواب لے کر اُس نے اپنی پیاری زمیں اپنی پیاری دھرتی کو الوداع کہا تھا۔آج اُسے احساس ندامت نے آن گھیرا تھا اور اُسے محسوس ہورہا تھا کہ اس نے زندگی کی کتنی بڑی غلطی کی ہے جو اپنے بچوں کی طرف توجہ نہیں کی بس یہ سمجھا تھا کہ اچھے اسکول میں پڑھ لیں گے تو اچھے لوگ بن جائیں گے ۔ مگر وہ معاشرے کے اُس زہر کو بھول گیا تھا جو نس نس میں بھرا ہوا تھا جس کا زہر سارے مغربی معاشرے کو دلدل کی طرح نگل رہا تھا جہاں آزادی کے نام پر کھلی کھلی بے حیائی عام تھی جہاں ماں بیٹی اور بہن کا تقدس دن رات پامال ہوتا تھا۔جہاں جنسی تعلقات کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ بچوں کے سن بلوغت کو پہنچتے ہی ماں باپ کو یہ فکر ہوتی تھی کہ اُن کا بیٹا یا بیٹی کسی سے تعلقات بنا پائے ہیں یا نہیں۔ یہ زہر تھا جو اُس کی بیٹی کو نگل گیا تھا اور اب وہ صرف
بیٹھا لکیریں پیٹ رہا تھا۔بس انہی سوچوں میں غرقاب نہ جانے کب وہ نیند کی وادیوں میں پہنچ گیا ۔یہ نینید ہی اُسکے تمام غموں سے اُسکی وقتی نجات کاسبب بنی تھی۔ وقت اسی طرح گُزرتا گیا اور وہ کچھ بھی نہ کر پایا لاکھ کوشش کی بیٹی کو با ر بار سمجھایا منتیں کیں ،واسطے دیے،مگر کچھ بھی تو نہ ہو پایاتین سال کا عرصہ گزر گیا ۔اب تو اس کی بیٹی کئی کئی دن گھر سے باہر رہتی تھی کبھی کبھی تو پور ایک ماہ گزر جاتا ۔اس کے گھر آنے پر اگر وہ پوچھ لیتا تو وہ آگے سے جھڑک دیتی اور دھمکیاں دینا شروع کر دیتی۔ بہر حال اُس نے اب اپنے چھوٹے بچوں پر خصوصی توجہ دینی شروع کردی ۔بیٹے باپ کا ساتھ چاہتے تھے اس لیے جلد ہی سُدھر گئے۔جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ خود اور اسکے باقی بچے مذہب کے نزدیک ہوتے گئے مگر وہ جو ہاتھ سے نکل گیا تھا اُس پر سوائے کفِ افسوس ملنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ایک دن کافی عرصہ کی غیر حاضری کے بعد اُس کی بیٹی گھر آئی تو اُس کے ساتھ ایک نوجوان لڑکا بھی تھا ۔آتے ہی اُس نے باپ سے کہا کہ میں نے اور رمیش نے یعنی اس نوجوان لڑکے نے ایک ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا ہے اورمیں آج اپنا سامان لینے آئی ہوں کیوں کہ ہم دونوں نے گھر لے لیا ہے اور ہم اکھٹے رہیں گے۔یہ سُنتے ہی اُس کے پاؤں تلے سے زمیں ہی نکل گئی کہ میری بیٹی نے ایک ہندو سے شادی کرلی ہے اک بجلی تھی جو اُس کے سر پر گر گئی تھی۔اک طوفان تھا جو زور و شور سے اس کے اندر جاری تھا۔ مگر ہر طوفان اُسکے اندر تھا ۔تمام بجلیاں اُسکے اندر گر رہی تھیں ۔باہر تو صرف خاموشی تھی یا پھر اُسکی بیوی کی سسکیاں تھیں جو ماحول کو ماتم کدہ بنا رہی تھیں۔اُس نے ہمت جمع کر کے بیٹی سے صرف اتنا ہی کہا کہ بیٹی اگر تمھیں شادی ہی کرنی تھی تو کسی مسلمان سے شادی کرتیں ہندو کے ساتھ شادی کیوں کی۔مگر توقع کے برخلاف اُس کے سر پہ اک اور بجلی گری ۔اُسکی بیٹی بولی آپ لوگ غلط سمجھ رہے ہیں ہم دونوں شادی کے قائل نہیں اس لیے ہم نے شادی نہیں کی اور آیندہ کا بھی کوئی پروگرام نہیں ہے۔بس اتنی سی بات کہ کر وہ ااپنا سامان اٹھا کر رمیش کی بانہوں میں بانہیں ڈالے چلتی بنی اور وہ لُٹے ہوئے مسافر کی طرح زمین بوس ہوتا چلا گیا۔۔۔۔

این اے ناصر
05-05-2012, 12:58 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔