PDA

View Full Version : کوئٹہ میں بلوچستان کانسٹیبلری کے جوانوں پر طالبان کی دہشتگرد کارروائی



tashfin28
05-23-2013, 09:59 PM
کوئٹہ ميں پاکستانی سیکورٹی فورسز پر طالبان کا حملہ

ہماری دلی تعزیت اور نيک دعائيں ان بہادر سپاہيوں کے سوگوار خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ ہيں جو آج کوئٹہ میں طالبان کی ايک دہشت گرد کارروائی میں جانبحق ہوئے۔ یہ واقعی نہايت پریشان کن ہے کہ اس ظالمانہ دہشتگرد حملے ميں بلوچستان کانسٹیبلری کے جوان جان بحق ہوئے جو ان غير انسانی درندوں کيخلاف ملک کا دفاع کررہےتھے۔ اس طرح کی سفاکانہ کارروائیوں سے ان کا حقيقی سیاہ چہرہ، پراگندہ ذہنیت، اور دہشت گردی سےپاکستان کو لاحق سنگین خطرہ واضح ہوجاتا ہے۔

پاکستان بھر میں باقاعدگی سے فوج اور معصوم عوام کے خلاف ملک بھر ميں کی جانی والی دہشت گردی کی يہ کارروائیاں واضح طور پر دہشت گردوں کی فساد،قتل اور دھمکیوں کے ذریعے پاکستان ميں اپنے سیاسی طاقت حاصل کرنے کے ایجنڈے اور عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکی حکومت ان غير انسانی شدت پسند عناصر کے خلاف پاکستانی سپاہيوں کیطرف سے دی گئی زبردست قربانیوں کا دل سے احترام کرتی ہے، جو انسانيت کی تمام حديں پار کرچکے ہيں ۔ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہيں کہ پاکستانی عوام کے ساتھ ان غیر انسانی درندوں کے خلاف جاری جنگ ميں ان کے ساتھ کھڑے ہیں، جو بلا امتیازمعصوم لوگوں کے قتل میں ملوث ہيں۔

ہم انتخابات کے دن پر بھاری ٹرن آؤٹ کيلۓ پاکستانی بہادر عوام کو خراج تحسين پيش کرتے ہیں جنہوں نے جمہوری عمل ميں خلل ڈالنے کيلۓ ٹی ٹی پی اور ان کے ساتھیوں کی تمام دھمکیوں کے باوجود اس عمل ميں بھر پور حصہ ليا۔ انتخابات کے اس عمل میں پاکستانیوں کی فعال شرکت اس حقیقت کی غمازی کرتی ہے کہ عوام نے بڑے پیمانے پر ٹی ٹی پی کو اور شر اورتباہی پر مبنی انکے انتہا پسندنظریے کو مسترد کر دیا ہے ۔

آخر ميں، ان حضرات سے ايک سوال پوچھنا چاہتا ہوں جنہوں نے ايسے سفاکانہ حملوں پر اپنی آنکھيں بند کی ہوئیں ہيں اور ان غیر انسانی قاتلوں کو نام نہاد جہادی سمجھتے ہيں۔ کہ کيا ہم ان انتہا پسندوں اور تشدد، قتل اور عدم رواداری پر مبنی ان کے شرانگيز ایجنڈے کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟ اس کا سادہ جواب ہے "نہیں" - پاکستان کے امن کو لاحق خطرے کو مٹانے کيلۓ ايک مشترکہ کوشش وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ملک اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنايا جاسکے۔

ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
www.state.gov (http://usinfo.state.gov/)
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu (https://twitter.com/#%21/USDOSDOT_Urdu)
http://www.facebook.com/USDOTUrdu (http://www.facebook.com/USDOTUrdu)

بےباک
05-25-2013, 08:25 AM
پیارے تاشفین بھائی ،
ہم سب اس معاملے میں دکھی ہیں ، اور ان غمزدہ خاندانوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ،
لیکن اس کی آڑ میں اسلام کے رکن جہاد کو برا کہنا یہ ہر گز نہیں ہو گا ، بربریت اور جہاد میں بڑا فرق ہے ،
بلوچستان میں امریکا اور انڈیا کے ٹرینر کئی دفعہ پکڑے گئے جن کے دھشت گردوں سے روابط ہیں ، اور ایسی پس پردہ کوششیں ہوتی رہتی ہیں کہ ھالات کبھی سازگار نہ ہوں ، سی ائی اے کے ادارے کے ملٹی رول ہیں ،
میرا آپ سے سادہ سا سوال ہے ، اگر آپ کے پاس جواب ہو تو ضرور بتائیے گا ،
کیا ھزاروں کیلو گرام بارود ، آڑ ڈی ایکس اور دھماکہ خیر مواد کسی گروسری شاپ پر ملتا ہے ؟؟؟ کیا یہ ملٹری کے استعمال والا بارود دکانوں میں فروخت ہوتا ہے ، ھرگز نہیں ،
وہ سپلائر کون ہے ؟؟؟؟؟؟ جو اتنا لاکھوں من دھماکہ خیر مواد مہیا کرتا ہے ، جب ان چیزوں کی چھان بین یا اسباب تلاش کئے جاتے ہیں
تو اس کے سرے انٹیلی جنسیوں کے مختلف اداروں اور جاسوسوں کے ساتھ ملتے ہیں ، نیٹو کے نام پر سامان آیا تھا ، اس کے کئی ھزارکنٹینر راستے میں ہی غائب ھو گئے تھے ، جس بارے آج تک
انکوائری ہو رہی ہے ، لیکن اس بارے نیٹو بالکل خاموش ہے ،حالانکہ ان کا ایک کنٹینر بھی نہ پہنچتا تو ان کو اس کی تحقیق کرنی چاھیئے تھی ، ہمارے ملک میں یہ سب اسلحہ ڈمپ کر دیا گیا ہے ،
محترم گہری نظر سے دیکھئے ، اور یہ آپ گھسا پٹا سوال یہاں مت رکھئے کہ ہم جہادیوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور دھشت گردوں کی حمائت میں لکھتے ہیں ، ایسا ہرگز نہیں ، یہ جعلی جہادی مختلف ایجنسیوں
کے بنائے ہوئے ہیں ، جو ان کو مال سپلائی کرتے ہیں ، ہمیں ان مال سپلائی کرنے والوں اور ان کی تلاش ہے جو ملین ڈالرز میں ان کی مدد کرتے ہیں ، جن میں تحفے کے پیکٹوں میں ڈالرز پیک ہوتے ہیں ،
آپ کا پروپیگنڈا سیکشن اپنا کام کرتا ہے کہ اسلام کے رکن جہاد کو برا کہا جائے ، ، آپ اس کے پیچھے چہرے دیکھئے گا ،
اس مضمون کو پڑھ لیجئے گا ،
http://www.urdutimes.com/content/39555

امریکی دانشور ایرک ڈرائیسٹر جس نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں یہ سب کچھ کہا ایرک نیویارک سٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن میں پیشہ درس و تدریس سے وابستہ ہے اور دنیا کا ایک مانا ہوا کالم نگار بھی ہے۔ اُنکے مضمون کا عنوان تھا ''بلوچستان۔ کراس روڈز آف پراکسی وار'' جو 25 جولائی کو چھپا۔ ایرک نے اپنے مضمون میں بلوچستان کی سٹریٹجک اہمیت بر بہت زور دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بظاہر ویران سر زمین اپنی آغوش میں بہت بڑے بڑے معدنی خزانے چھپائے ہوئے ہے اور اسکے علاوہ یہ تیل اور گیس کی بین الاقوامی تجارت کے کراس روڈ پر بھی واقعہ ہے اور مستقبل کے سارے گیس پائپ لائنز بھی یہاں ہی سے گذرنے ہیں۔ ایرک نے لکھا کہ
'' مغربی طاقتیں ایک مضبوط بلوچستان کو ابھرتا نہیں دیکھ سکتیں۔ یہ علاقہ نہ صرف چین کیخلاف استعمال کرنے کیلئے ضروری ہے بلکہ ایران اور پاکستان پر بھی یہاں سے نظر رکھی جا سکتی ہے۔ یہاں پر موجود دہشتگردوں کے مغربی طاقتوں کی سراغ رساں ایجنسیوں سے تعلقات ہیں اور پاکستانی حکومت اور اسکے سیکورٹی ادارے اس چیز کو بخوبی جانتے ہیں''۔ ایرک نے اپنے مضمون میں قطر کی ایک انگریزی اخبار دی پینیسوالہ کا حوالہ دیا جس کے مطابق
امریکی ایجنسی سی آئی اے مقامی لوگوں کو 500 ڈالر ماہانہ پر بھرتی کر رہی ہے اسکے علاوہ سی آئی اے کا انچارج جنرل پیٹریاس بلوچستان کو غیر مستحکم اور غیر متوازن کرنے کیلئے افغان مہاجرین کو بھی استعمال کرتا رہا ہے۔ کالم نگار کیمطابق بلوچستان میں سی آئی اے کے علاوہ برطانیہ کی ایم آئی سکس ، اسرائیل کی مُساد اور انڈیا کی ایجنسی را ملوث ہیں۔ برطانیہ کی ایم آئی سکس کے تو بلوچستان لبریشن آرمی سے پاکستان بننے کے کچھ عرصہ بعد سے تعلقات ہیں۔ کالم نگار کے خیال میں مغربی طاقتوں کا بلوچستان پر یہ حملہ صرف بلوچستان کی سر زمین پر دہشتگردی تک محدود نہیں۔
امریکی کانگرس کے دانا روہر باچر جیسے کئی قانون دان بھی اس سازش میں شریک ہیں اور بلوچستانیوں کو حقِ خود ارادیت دینے کی باتیں کر رہے ہیں ۔ دانا روہر باچر کا نگرس کی امورِ خارجہ کی سب کمیٹی کا چیئر مین ہے اور وہ امریکی حکومت کو صلاح دے رہا ہے کہ دہشتگردوں سے تعلقات قائم کرو اور پاکستان کی جمہوری حکومت سے رشتے توڑ لو۔
قارئین امریکی کالم نگار کے خیال میں بلوچستان کو پر امن نہ رہنے دینے کے پیچھے امریکہ کا ایک بہت بڑا مقصد یہ ہے کہ اگر امریکہ بلوچستان کو قابو نہیں کر سکتا تو چین بھی بلوچستان میں چَین سے اپنی سرمایہ کاری نہ کر سکے یعنی معدنی ذخائر کو نکالنے میں اور گوادر پورٹ بنانے میں چین کے کردار کو روکنا مقصود ہے,,
اصل مضمون یہاں دیکھئے ،
http://www.globalresearch.ca/balochistan-crossroads-of-another-us-proxy-war/31703

tashfin28
06-04-2013, 10:06 PM
ٹی ٹی پی کے معصوم لوگوں کے خلاف جاری مظالم – اور بے بنياد الزامات

محترم بے باک
السلام عليکم

در حقيقت میں ہمیشہ زیر بحث مسائل پر آپ کی طرف سے ايک جامع تجزیہ کی توقع رکھتا ہوں۔ مجھے دیکھ کر مايوسی ہوئی ہے کہ زیر بحث مسائل پر آپ کا نقطہ نظر آپ کے فہم ، علم اور سمجھ بوجھ کو بےنقاب نہیں کرتا بلکہ اس کے بجاۓ آپ کی سوچ اور نقطہ نظر قیاس آرائیوں اور بے بنیاد نظریات پر مبنی ہيں۔ آپ کئی ايشوز کو زير بحث لاۓ ہيں جن کا ميں ايک پوسٹنگ ميں جواب نہيں دے سکتا۔ تاہم مندرجہ ذيل پيرا گرافس ميں کچھ مسائل پر ضرور اظہار خيال کرونگا ۔

ٹی ٹی پی اور امريکی مبينہ تعلقات

پاکستان بھر ميں جاری مظالم میں پاکستانی طالبان کے براہ راست ملوث ہونے کے متعلق آپ کا نقطہ نظر زمینی حقائق سے بلکل مبرا ہے ۔ ميں يہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ ان حملوں کا الزام غير ملکی ايجنٹس پر کيسے لگا سکتے ہيں جبکہ طالبان اور انکے ساتھوں نے ان ظالمانہ کارروائيوں کی ہميشہ ذمہ داری قبول کی ہے اورپاکستان کے معصوم لوگوں کے خلاف قتل اور بربريت پر مبنی ظلم کے اس برے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر کاربند ہيں۔ آپ اس حقيقت کو کيسے جھٹلا سکتے ہيں کہ ان نام نہاد طالبان کے ترجمانوں نے ھميشہ ان ظالمانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ ميں ياد دلاتا چلوں کہ معصوم شہریوں پر ان وحشیانہ حملوں ميں تمام متاثرین اپنے ہی ہم وطنوں کیطرف سے اس بربريت کا نشانہ بنے جو قتل اور دھمکیوں کے ذریعے اپنے برے سیاسی ایجنڈے کے حصول کے لئے کام کر رہے ہیں۔

پاکستان میں طالبان کے ساتھ امریکہ کے ملوث ہونے کے بارے ميں آپکے بے بنیاد الزامات غلط ہيں اورخطے ميں ان انتہاپسندوں کيخلا*ف جنگ ميں امريکی عزم کی صحيح عکاسی نہيں کرتے۔ ہم ٹی ٹی پی کو ايک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہيں جو پاکستان کے معصوم عوام کے خلاف سنگین جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ ہم ٹی ٹی پی کو کس طرح سپورٹ کرسکتے ہيں کيونکہ انکے کيخلاف تو ہم پاکستانی افواج کی جدوجہد میں انکی صلاحيت بہتر بنانے کيلۓ بھرپر مدد فراہم کررہے ہيں؟ ان غیر انسانی بنیاد پرستوں کو شکست دينے تک پاکستان کے ساتھ ہمارا تعاون اور مسلسل امداد ہمارے پختہ عزم پختہ اور غير متزلزل ارادے کی عکاسی کرتا ہے۔ امریکہ ان ریاست مخالف عناصر کو شکست دينے کيلۓ پاکستان کی فورسز کی صلاحیت بہتر بنانے کيلۓ پاکستان کے ساتھ ایک طویل المدتی سٹریٹجک پارٹنرشپ کا خواہاں ہے۔

نیٹو کے چوری ہونے والے کنٹینر

جہاں تک افغانستان کيلۓ جاتے ہوۓ نیٹو کنٹینرز کے چوری کے مسلۓ کا تعلق ہے، آپ کا يہ دعوی کرنا بالکل غلط ہے کہ امریکی حکام ان چوری شدہ کنٹینرز کے مسئلہ کو نظر انداز کرتے ہيں۔ آپ کے یہ تمام الزامات محض قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور محفوظ طريقے سے نیٹو کنٹینرز افغانستان پہنچنے کے حوالے سے ہماری بھرپور خدشات کو ظاہر نہيں کرتے۔ ہم اس ايشو پر کافی فکرمند ہيں اور گاہے بگاہے ہمارے نمائندوں نے پاکستانی حکام کے ساتھ باہمی ملاقاتوں اور روابط کے دوران اس مسئلے کو اجاگر کيا ہے ۔ آپ کسطرح امريکی حکومت کے خدشات اور تحفظات کے متعلق ذرائع ابلاغ کی ان رپورٹس کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟

http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=1114&Cat=13&dt=2/13/2011 (http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=1114&Cat=13&dt=2/13/2011)
http://news.oneindia.in/2010/10/06/pakbound-to-provide-security-to-nato-suppliesenroute.html (http://news.oneindia.in/2010/10/06/pakbound-to-provide-security-to-nato-suppliesenroute.html)
http://breakingnews.gaeatimes.com/2010/10/06/pak-bound-to-provide-security-to-nato-supplies-enroute-to-afghanistan-us-embassy-56209/ (http://breakingnews.gaeatimes.com/2010/10/06/pak-bound-to-provide-security-to-nato-supplies-enroute-to-afghanistan-us-embassy-56209/)

ہم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ نیٹو کيلۓ جانے والا مواد غلط ہاتھوں ميں جاسکتا ہے۔ ميں آپ کو يقين دلانا چاہتا ہوں کہ امريکی حکومت فعال طور پر اپنے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ کام کر رہی ہے تاکہ دہشت گردوں کی امریکی اور نیٹو کے لئے جانے والے سامان تک رسائی کو روکا جاسکے اور پاکستان کے راستے نیٹو کنٹینرز کی محفوظ رسائی کو یقینی بنايا جاسکے۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov (digitaloutreach@state.gov)
www.state.gov (http://usinfo.state.gov/)
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu (https://twitter.com/#%21/USDOSDOT_Urdu)
http://www.facebook.com/USDOTUrdu (http://www.facebook.com/USDOTUrdu)

tashfin28
06-07-2013, 09:58 PM
بلوچستان ايشو - اور امریکی موقف

معزز بے باک،
اسلام‏‏ عليکم،

ميں ابتدا ہی سے يہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ گلوبلائزیشن پر تحقیق کرنے والا يہ سنٹر ايک بائيں بازو والی تنظيم ہے اور اس تنظيم کے لکھنے والے ہمیشہ دنیا بھر کے مسائل پر بے بنیاد سازشی نظریات کو فروغ دينے کيلۓ من گھڑت کہانیوں کا پرچار کرتے رہتے ہيں۔ يہ مضمون امريکہ پر بلوچستان ايشو میں مبينہ ملوث ہونے کا بالکل جھوٹا الزام لگا رہا ہے۔ بلوچستان پر ہماری پوزیشن نہايت ہی واضح اور پوری دنیا کو معلوم ہے۔ امريکہ سنجیدگی سے پاکستان کے اتحاد اور استحکام کی حمایت کرتا ہے اور یہ کہ بلوچستان کو پاکستان کے اٹوٹ انگ کے طور پر قائم رکھنے کيلۓ پر‏عزم ہے۔

بلاشبہ امریکی حکومت بلوچستان میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کے بارے میں کافی فکرمند ہے۔ ليکن، امريکی انتظاميہ اس امر پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ يہ پاکستانی حکومت کی ہی بنیادی ذمہ داری ہے کہ ان مسائل کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ پرامن بات چیت کےذریعے حل کرنے کی ممکن کوشش کريں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ایک مضبوط، مستحکم اور متحد پاکستان امریکہ کے بہترین اسٹریٹجک مفاد میں ہے۔

جہاں تک بلوچستان کے مسئلے پر گانگريس مين روھراباچر کے بیان کا تعلق ہے، براہ مہربانی اس حقيقت کو مد نظر رکھيں کہ کانگریس اور سینیٹ کے منتخب ارکان کیطرف سے بیانات ان کے ذاتی خیالات اور رائے پر مبنی ہوتے ہيں اور کسی صورت ميں امریکی حکومت کے سرکاری موقف کی ترجمانی نہيں کرتے ۔ کسی صورت ميں کانگرس مين روھراباچر وائٹ ہاؤس یا امریکی حکومت کی سرکاری پوزیشن کی نمائندگی نہيں کرتا۔ اس کے علاوہ، کانگریس کے معمول میں اس قسم کے کئی غیر ملکی معاملات اور موضوعات زیرسماعت آتے ہيں ۔ ان سماعتوں سے ضروری نہیں ہے کہ امریکی حکومت کسی ايک نقطہ نظر کی توثیق کرتی ہے۔

مندرجہ بالا حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، ميں بلاترديد کہناچاہتا ہوں کہ يہ تمام بے بنیاد الزامات کہ سی آئی اے دوسری غیر ملکيوں ايجنسيوں کے ساتھ ملکربلوچستان کو غير مسحتکم کرنے کيلۓ ايک خفیہ ایجنڈے پرکارفرماہے يہ بالکل درست نہیں اورخطے ميں پاکستان کيطرف امريکی حقيقی عزم کو بے نقاب نہيں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ پاکستانی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے اور کئی سالوں سے اس سوچ کو مزيد تقويت دينے کی پاليسی پر کارفرما رہا ہے۔

تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov (http://www.state.gov/)
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu (https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu)
http://www.facebook.com/USDOTUrdu (http://www.facebook.com/USDOTUrdu)

بےباک
06-08-2013, 04:21 PM
شکریہ جناب تاشفین صاحب ، آپ کی پاکستان کے بارے پالیسی پر یقینا خوشی کا مقام ہے ،
ایک سادہ سا سوال ہے ، آپ ہیلری کلینٹن کا یہ بیان تو تسلیم کرتے ہیں جس میں اس نے برملا کہا ہے کہ طالبان امریکا کی ہی پیداوار ہیں ،

http://www.youtube.com/watch?v=_doxgN-V5Fg
مزید دیکھ لیجئے ،

http://www.youtube.com/watch?v=X2CE0fyz4ys

اب آپ خود دیکھئے ، دوسرے ملکوں میں مداخلت کون کر رہا ہے ، آپ فضول بحث میں مت الجھئے جو حقیقت ہے اسے تسلیم کیجئے ،
اب مزید دیکھئے ، خود تو طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں ، قطر میں ان کے لیے ایک سفارتی دفتر کھول رہے ہیں ، اپنی افواج کے پرامن اخراج کے لئے تو آپ امن معائدے کر رہے ہیں ،
اور دوسری طرف یہی کوشش ہم کریں تو پاکستان کو جرم کی سزا دیتے ہیں ،اسی دوغلے پن کی وجہ سے امریکا اپنا وقار کھو رہا ہے ۔۔۔۔۔
باقی آپ کی مرضی مانیے یا نہ مانیے ،
ہم امریکا کے خلاف نہیں ، اس کی پالیسیوں سے اختلاف ہے ، طالبان سے بھی ہمارا اختلاف ہے جو پاکستان میں دھشت گردی کرتے ہیں ، ہم ان سے صلح کرتے ہیں تو امریکا کو کیوں تکلیف ہوتی ہے ، کیونکہ خود یہی کام وہ افغانستان میں کر رہا ہے ،
افغانستان کا معاملہ نیٹو اور امریکنوں نے خود گذشتہ دس سال سے زیادہ عرصے سے خود سنھبالا ہوا ہے ،وھاں پر امریکا اپنی خود لگائی ہوئی آگ میں جھلس رہا ہے ، ہمیں اپنی فوج کے ساتھ ساتھ ان امریکن فوجیوں کے اھل خانہ سے بھی ھمدری ہے جو نہ چاھتے ہوئے بھی اپنا فرض ادا کرتے ہوئے مارے جا چکے ہیں ۔ ان غریب افغانیوں سے بھی ہمدردی ہے جن کے ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد امریکنوں یا نیٹؤ کے فوجیوں کے ھاتھوں شہید ہو چکا ہے ،
محترم اب جب یورپ امریکا اور سب ممالک پر واضع ہو چکا ہے کہ وہ لایعنی جنگ لڑ کر اربوں ڈالر خرچ کرکے یہاں سے راہ نجات کے لئے طالبان سے مذاکرات کرنے کے لئے بےچین ہیں تو ہمیں بھی اس جنگ کو بند کرنا ہے ، اس لیے ہمیں بھی اختیار ہے کہ
ہم ان طالبان سے مذاکرات کر سکیں جو قومی دھارے میں شامل ہونا چاھتے ہیں ،
آپ سے درخواست ہے کہ قبلہ ایک کر لیں ، دو کشتیوں کی سواری مت کریں ،
ان مضامین کو پڑھ لیجئے اگر فرصت ہو
http://www.guardian.co.uk/world/2009/nov/13/us-trucks-security-taliban

طالبان کو رشوت دیتے ہوئے ، راستہ لیا جا رہا ہے ، اے بی سی نیوز کی رپورٹ دیکھئے
http://abcnews.go.com/WN/Afghanistan/united-states-military-funding-taliban-afghanistan/story?id=10980527#.UbOf0m0sY80
http://www.thenation.com/article/how-us-funds-taliban