PDA

View Full Version : مصنوعی گردہ بنا لیا گیا ،



بےباک
05-24-2013, 09:53 AM
لیبارٹری میں گردہ اُگانے میں کامیابی حاصل کرلی گئی (http://www.express.pk/story/127869/)http://express.pk/wp-content/uploads/2013/05/127869-GurdaPhotoFile-1368809513-490-640x480.JPG

امریکی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انہوں نے لیبارٹری میں تیار کیے گئے ایک مصنوعی گردے کو جانوروں میں لگادیا ہے جہاں یہ کامیابی سے کام کررہا ہے۔جسم کے مختلف اعضاء کو لیبارٹریوں میں تیار کرنے کا کام کافی عرصے سے جاری ہے تاہم گردہ جسم کا ایک ایسا عضو ہے جو انتہائی پیچیدہ ہے جسے تیار کرنے میں آخر کارکامیابی حاصل کرلی گئی ہے۔جریدے ’’نیچر میڈیسن‘‘ میں شائع ہونے والی سٹڈی کے مطابق اگرچہ مصنوعی طور پر تیار کیا گیا گردہ اصلی گردہ سے کم موثر ہے تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس میدان میں ابھی کام کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کی بہت گنجائش ہے۔یاد رہے کہ گردہ جسم کا ایک ایساعضو ہے جو خون سے فاضل مادوں اور اضافی پانی کو فلٹر کرتا ہے۔یہ سب سے زیادہ طلب رکھنے والا عضو بھی ہے اور مریضوں کی ایک بہت بڑی تعداد ٹرانسپلانٹ کے لیے گردوں کے عطیات کے انتظار میں ہے۔محققین کا جو منصوبہ ہے اس کے مطابق ایک پرانے گردے کو لے کر اس کے تمام پرانے خلیات صاف کرکے اسے اس طرح بنانا ہے جیسے شہد کا چھتہ ہوتا ہے۔اس کے مطابق مریض سے خلیات لے کر اس گردے کو نئے سرے سے تیار کیا جائے گا۔موجودہ ٹرانسپلانٹ کے طریقے کے مقابلے میں اس سے دو فائدے ہوں گے۔ایک تو ٹشو مریض کے ٹشو سے میچ کریں گے اور یوں اس کو تمام عمر وہ مخصوص ادویات لینے کی ضرورت نہیں ہوگی جو مدافعتی نظام کی جانب سے استرداد کو روکتی ہیں۔اس طرح اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے ٹرانسپلانٹ کے لیے دستیاب اعضاء کی دستیابی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا۔اس وقت جو زیادہ تر اعضاء ٹرانسپلانٹ کے لیے عطیہ کیے جاتے ہیں وہ جسم کی جانب سے مسترد ہوجاتے ہیں تاہم ان کو نئے اعضاء کے لیے ٹیمپلیٹ کے طورپر استعمال کیا جاسکتا ہے۔میساچسٹس جنرل ہسپتال کے محققین نے اس طریقے سے قابل استعمال انجینئرڈ گردے تیار کرنے کی جانب سے پہلا قدم اٹھالیا ہے۔انہوں نے ایک چوہے کے گردے کو لے کر ڈٹرجنٹ کے ذریعے اس کے پرانے خلیات کو ختم کیا۔اس کے بعد جو کچھ بچا وہ پروٹین کا ایک جال تھا جو گردے کی شکل جیسا تھا جس میں خون کی شریانوں اور نکاسی کی نالیوں کا ایک پیچیدہ نیٹ ورک بھی موجود تھا۔پروٹین کے اس جال کو بعدازاں صحیح خلیات کو گردے میں صحیح ترین مقام تک پہنچانے کے لیے استعمال کیاگیا جہاں یہ ایک دوسرے سے صحیح طورپر منسلک ہوگئے تاکہ عضو کو نئے سرے سے تعمیرکرسکیں۔اس کو بارہ روز تک ایک خصوصی اوون میں رکھا گیا تاکہ اسے ایسا ماحول دیا جاسکے جو چوہے کے جسم میں ہوتا ہے۔اس کے بعد جب اس گردے کو لیبارٹری میں چیک کیا گیا تو اس کے ذریعے پیشاب کی پیدوار اصل گردے کے 23 فیصد تک پہنچ گئی۔اس کے بعد ٹیم نے اس گردے کو چوہے میں ٹرانسپلانٹ کرنے کی کوشش کی لیکن جب اسے ٹرانسپلانٹ کیا گیا تو اس کی اثرپذیری صرف پانچ فیصد تک رہ گئی۔تاہم اس کے باوجود سرکردہ محقق ڈاکٹر ہیرالڈ اوٹ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نارمل عمل کا صرف معمولی ترین حصہ بحال کرنا بھی کافی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ ہیموڈائلاسس پر ہیں تو گردے کا صرف د س سے پندرہ فیصد کام کرنا بھی آپ کو ہیموڈائلاسس سے نجات دلاسکتا ہے اور ایسا ہمیشہ نہیں رہے گا۔ اس میں مزید پیش رفت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس میں امکانات بھی زیادہ ہیں۔اگر آپ صرف امریکہ کے بارے میں سوچیں تو اس وقت اس ملک میں ایک لاکھ افراد گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے انتظار میں ہیں اور سالانہ صرف اٹھارہ ہزار ٹرانسپلانٹ ہوتے ہیں۔لہذا مذکورہ بالا تجربات کے کامیاب ہونے کی صورت میں اس سے وابستہ امیدیں بھی بہت بڑی ہیں۔جسمانی اعضاء کو مصنوعی طریقے سے تیارکرنا اگرچہ ایک تخیل لگتاہے لیکن حقیقت میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کو کامیابی کے ساتھ اس قسم کے اعضاء ٹرانسپلانٹ کیے جاچکے ہیں۔اس قسم کا ایک بڑا بریک تھرو دو ہزار چھ میں ہوا تھا جب مریض کے اپنے خلیات سے تیار کیے گئے لبلبے ان میں ٹرانسپلانٹ کیے گئے تھے۔جہاں تک ری جینیریٹو میڈیسن کا تعلق ہے تواس میں چار سطح کی پیچیدگیاں ہیں۔اول ہموار سٹرکچر والے اعضاء جیسے جلد ، دوئم نالیاں جیسے خون کی شریانیں ، سوئم کھوکھلے اعضاء جیسے لبلبہ اور چہارم ٹھوس اعضاء جیسے گردے ، دل اور جگر وغیرہ۔ان میں آخری گروپ کے اعضاء انتہائی پیچیدہ ہوتے ہیں کیونکہ ان میں مختلف قسم کے ٹشوز ہوتے ہیں۔تاہم یہاں پر کامیابی کی ایک جھلک دکھائی دی ہے۔ٹھوس اعضاء کو لیبارٹری میں تیارکرنا ابھی بہت ابتدائی مرحلے میں ہے تاہم جانوروں پر کیے جانے والے تجربات سے اس سلسلے میں خاصی پیش رفت دکھائی دیتی ہے کہ آیا اعضاء کے ٹرانسپلانٹ کا مستقبل کیا ہوسکتا ہے۔

نگار
05-24-2013, 04:26 PM
بہترین اور مفید معلومات پہنچانے پہ آپ کا بہت بہت شکریہ