PDA

View Full Version : عبد اللہ



تانیہ
12-13-2010, 09:34 PM
عبد اللہ

عبد اللہ آج بہت خوش تھا ۔اُسکی مدتوں کی خو اہش پوری ہونے جارہی تھی۔سارے گھر والے جانتے تھے کہ ان دنوں کا اس نے کتنی شدت سے انتظار کیا تھا۔ان دنوں کے انتظار میں اس نے دن گن گن کے گزارے تھے کہ کب آئیں گے یہ دن۔۔پچھلے دو دن سے وہ بہت مصروف تھا صبح سویرے گھر سے نکل جاتا تھا اور پھر رات گئے گھر واپس آتا تھا۔یوں تو وہ ایک سبزی فروش تھا اور اپنی گدھا گاڑی پر روزانہ گلی گلی گھوم کر سبزی فروخت کیا کرتا تھا۔ماں باپ نے جوانی میں ،ہی شادی کروا دی تھی اور اب چالیس کے پیٹے میں وہ پانچ بچوں کا باپ تھا۔پورا گھرانہ پانچ بچوں ایک بوڑھی، ماں اور اسکی دو بہنوں، پر مشتمل تھا۔ دونوں بہنوں میں سے ایک کا رشتہ کچھ ہی دن ہوے تھے طے ہوا تھا۔ چھوٹی بہن کا بھی رشتہ نہیں ہوا تھا۔پانچ بچوں ،دو جوانی اور بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑی بہنوں کےعلاوہ ایک بوڑھی ماں کا بھی اسے خیال رکھنا پڑتا تھا۔ زندگی ایک احساس ذمہ داری کا نام تھا اس کے لیئے اپنے اور بچوں کی خاطر تو کام کرتا ہی تھا ماں اور بہنوں کے لیئے بھی محنت کرنا پڑتی تھی۔
علی الصبح ہی عبداللہ اٹھ گیا تھا ماں سے دعا کا کہہ کر وہ گھر سے نکل کھڑا ہوا ۔اسکی بہن کا رشتہ پکا ہوا تھا اسی لئے خوشی خوشی گھر سے نکلا تھا یہ سوچتے ہوئے کہ چلو ایک بہن کا رشتہ ہوگیا اب اللہ کرے گا دوسری بہن کا رشتہ بھی جلد ہی ہوجائے۔ اس کا خیال تھا کہ سبزی کے علاوہ بھی اسے کوئی اور کام کرنا پڑے گا تبھی کہیں جاکر وہ اس قابل ہوگا کہ بہن کو دو چار چیزیں دے سکے اور عزت سے رخصت کر سکے۔شہر میں ویسے بھی بہت گھما گہمی تھی سیاسی لیڈر عرصے بعد سالوں کی جلا وطنی کے بعد ملک میں آیا تھا اس لئے سارا ملک ہی اس کے استقبال کے لئے جمع ہو رہا تھا۔اور شہر تھا کہ ایک جشن کا سا سماں پیش کر رہا تھا۔اسی لئے اس نے سوچا چلو موقع اچھا ہے کوئی ایسا کام کرلوں کی ان دو دنوں میں جس قدر کما سکوں کما لوں خدا جانے ایسا موقع دوبارہ ملے یا نہ ملے۔اسی لئے وہ آج بھاگا بھاگا ہول سیل مارکیٹ کی طرف جارہا تھا کہ شربت کی بوتلیں خرید لے تاکہ اس دن وہ سارا دن شربت کی ریڑہی لگا کر جتنا کما سکتا ہے کما لے۔اسے معلوم تھا کہ لوگ دور دراز سے آئیں گے اور انہیں بھوک بھی لگے گی اور پیاس بھی لہذا اس سے اچھا موقع اور کیا ہو سکتا ہے ۔چنانچہ اچھا خاصا سامان لے کر وہ گھر آگیا اور سارے گھر والوں نے مل کر اسکے ساتھ صبح کی تیاری شروع کردی۔ اگلے دن وہ صبح ہی صبح گھر سے نکل پڑا حسبِ معمول ماں کے پاؤں چھوکر دعا کے لئے کہا اور گدھا گاڑی لے کر نکل آیا۔گھر سے نکلتے ہی کام شروع ہوگیا تھا گرمی بھی اپنے زوروں پر تھی اور لوگوں کو پیاس بھی لگتی تھی چنانچہ جس طرح سے آمدنی شروع ہوئی تھی اس کی خوشی کی تو انتہا نہ رہی ۔اسے لگنے لگا تھا کہ اگر اسی طرح کام ہوتا رہا تو کم ازکم آج کے دن میں ہی وہ بارہ سے پندرہ ہزار بنا لے گا۔اورایک دن کی آمدن پانچ مہینے کی آمدن کے برابر ہوجائے گی۔
دن گزرنے کا پتہ بھی نہ چلاکیونکہ وہ سارا دن بہت مصروف رہا تھا اور اب شام کا اندھیرا پھیلنے لگا تھا اب تو جو سامان وہ لے کر آیا تھا تقریباً ختم ہونے والا تھا۔سارا دن وہ قافلے کے ساتھ ساتھ ہی چلتا رہا اورکوشش کر رہاتھا کہ لیڈر کی سواری کے ساتھ ہی رہے۔تاکہ زیادہ سے زیادہ گاہک مل سکیں اس وقت بھی وہ لیڈر کی گاڑی کے قریب ہی اپنی گدھا گاڑی لئے کھڑا تھا۔اچانک ایک کان پھاڑ دینے والی آواز سنائی دی۔ایک خوفناک بم دھماکہ جس نے نہ صرف اسکی ریڑھی کو گدھے سمیت اڑادیا بلکہ اس جیسے کئی بھوکے پیاسوں کے بھی پرخچے اڑادئے۔ساری چیزیں اس کے خوابوں کے ساتھ ہوامیں دھواں بن کررہ گئیں۔اپنی جاں بلبی کی حالت میں ماں بہنوں اوربچوں کے چہرے دکھائی دے رہے تھے۔کہ اچانک شوراٹھا کہ
صاحب کو دیکھو!
صاحب کو بچاؤ!
صاحب کی حفاظت کرو !
۔ اس نے پوری طاقت سے سراٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی اور دھندلائی آنکھوں سے اتنا ہی دیکھ پایا کہ لوگ اس جیسے کئی تڑپتے لوگوں کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے دیوانہ وار صاحب کی گاڑی کی طرف بڑھے چلے جارہے تھے۔اسکے مردہ چہرے پر ایک طنزیہ مسکراہٹ ابھری اوراسکا سر ایک طرف کو ڈھلک گیا۔

این اے ناصر
05-05-2012, 12:58 PM
شئیرنگ کاشکریہ۔