PDA

View Full Version : موبائل ادب کا نوحہ



تانیہ
12-13-2010, 09:41 PM
موبائل ادب کا نوحہ


ہمارے ہاں جو ایس ایم ایس اور دوسرے ملکوں میںText messageکہلاتا ہے، وہ سرکاری پابندیوں کی زد میں آگیاکچھ عرصہ پہلے اخباری اطلاعات کے مطابق موبائل کے ادب کی پکڑ دھکڑ بھی شروع ہوگئی اس پکڑ دھکڑ پر ردعمل کا آغاز بھی ہوگیا اور اسے اظہار رائے پر پابندی سے بھی تعبیر کیا جانے لگاایس ایم ایس واقعی پاکستان میں ادب کا درجہ اختیار کرتا جارہا تھا لیکن حکومتی حلقوں میں اس کو بے ادبی قرار دے دیا گیا۔ وزیر داخلہ نی ایس ایم ایس کے بارے میں ارشاد کیا کہ یہ”بڑا بے ادب ہے سزا چاہتا ہے“ اور سزا یہی14 سال بامشقت اور بے مو بائل۔
پاکستان میں ادبی کتابیں شائع ہونا تو ایک طرح سے ختم ہوگئیں۔ 17 کروڑ کی آبادی والے ملک میں جہاں کم ازکم 50 ہزار افراد ادیب اور شاعر ہونے کے دعویدار ہیں، ادبی کتابیں صرف ایک ہزار کی تعداد میں شائع ہوتی ہے۔ یہاں باپ اپنے بچوں کو کھڑے کھڑے دو سو روپے کی کولڈ ڈرنک پلادیتا ہے لیکن ان کو50 روپے کی کتاب خرید کر نہیں دیتا۔ ادبی رسالے ناپید ہوگئے، ڈائجسٹی ادب بھی تنزل کی طرف ہے، مشاعرے بھی کم ہورہے ہیں اور ادبی نشستیں ناپید ہوگئیں۔
ایسے میں موبائل فون پرایس ایم ایس تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ بننا شروع کیا اور پھر اس میڈیم کے ذریعے ہر طرح کا ادب تخلیق ہونے لگا۔ اس میں افسانے کا مزا بھی آنے لگا۔ سیاسی چٹخارے بھی ملنے لگے۔ مزاحیہ ایس ایم ایس بھی آنے لگے، شعری پیغام بھی چلنے لگے۔ ملاقاتی ادب بھی آنے لگا اور طلسماتی ادب بھی، جناتی پیغام بھی آنے لگے اور مذہبی تعلیمات بھی۔ لیکن ایس ایم ایس جو پابندی کی زد میں آیا تو پولیس کو موبائل فون کی تلاشی کا اختیار مل گیا، اس تلاشی میں اب جوایس ایم ایس ملیں گے ان کی تعبیر اور تاویل بھی پولیس اپنے مخصوص انداز میں کرے گی۔ ایک زمانے میں ترقی پسند ادیبوں کا سراغ لگاتے ہوئے پولیس والے کسی شخص کو صرف اس بات پر پکڑ لیتے تھے کہ اس نے گفتگو میں کمیونسٹ کا لفظ3 بار ادا کیا تھا حالانکہ وہ شخص کہتا تھا کہ میں تو ٹی ہاؤس کے دوستوں کو بتارہا تھا کہ میں اینٹی کمیونسٹ ہوں لیکن پولیس والے کہتے تھے تم کمیونسٹوں کی مشہوری کررہے تھے۔
ہر فن پارہ خواہ وہ ناول ہو یا ڈرامہ، افسانہ ہو یا شعر اپنے اندر ایک پیغام رکھتا ہے اورایس ایم ایس کی خوبی یہی ہے کہ وہ مجسم پیغام ہوتا ہے۔
اب کس ایس ایم ایس کو کیا سمجھا جائے، یہ اپنے ذوق، اپنی فکر اور اپنے ارادے کی بات ہے مثلاً غالب کے اس مصرع میں کہ ہم سے کھل جاؤ بہ وقت مے پرستی ایک دن… ایک پیغام ہے۔ اب اگر اس مصرع کو یوں سمجھا جائے کہ کوئی اعلیٰ سیاسی شخصیت اپنے ہم پیالہ کو کسی قسم کی دعوت دے رہا ہے تو پھر اس مصرع پر مرزا غالب کہ یہی قابل دست اندازیٴ پولیس قرار دیا جاسکتا ہے۔ پھر فیض احمد فیض نے کہا تھا۔ چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے۔ اس پیغام کی یہ تاویل کی جائے کہ ایک اعلیٰ حکومتی شخصیت شاید امریکی وزیر رچرڈ ہالبروک کو بلارہی ہے یا پھر احمد فراز کے اس مصرع کو کہ… آپھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لئے آ… سے سمجھا جائے کہ پرائم منسٹر ہاؤس کسی سابق وزیراعظم کو پیغام دے رہا ہے اور علامہ اقبال کے اس مصرع کو کہ…اوروں کا ہے پیام اور میرا پیام اور ہے… یہ سمجھا جائے گا کہ” اور“ کا پیغام Do more کی طرف اشارہ ہے اور اس کے ذریعے امریکی آقاؤں کا مذاق اڑایا گیا ہے تو پھر اقبال یا اقبال کا یہ مصرع پڑھنے اور لکھنے والے کو14سال کی سزا قابل قرار دیا جائے گا۔
ہمارے ملک میں ادبی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے موبائل کمپنیوں نے بھی انقلابی کردار ادا کیا، انہوں نے ایس ایم ایس بھیجنے کی قیمتوں میں حیرت انگیز طور پر کمی کردی۔ پھر کئی کمپنیوں نے ایسے ایس ایم ایس خود چلائے کہ جن میں کہا گیا کہ اگر آپ 100لوگوں کو یہ ایس ایم ایس کروگے تو آج ہی بہت بڑا فائدہ پاؤ گے۔ ایک شخص نے اسےDelete کردیا اس کی دکان جل گئی۔ ایک شخص نے یہ ایس ایم ایس آگے نہ بڑھایا اس کی بھینس مرگئی۔ ایک شخص نے 100کی بجائے 80 ایس ایم ایس کئے اس کی موٹرسائیکل چوری ہوگئی۔ اب ان کمپنیوں کے بزنس کا کیا ہوگا جو ایس ایم ایس کی مندی کا شکار ہورہی ہیں۔
موبائلی ادب میں کیسے کیسے شاہکار پیش ہوئے اس کا تجربہ اور مشاہدہ پاکستان کے ہر فرد نے کیا ہے۔ ہاں کچھ ایس ایم ایس اخلاق سے گرے ہوئے یا ناپسندیدہ بھی تھے لیکن عصمت چغتائی اور سعادت حسن منٹو کے کچھ افسانوں پر بھی ایسے الزام لگ چکے ہیں۔ موبائلی ادب میں کئی ایسے ایس ایم ایس بھی آئے جن میں عہد حاضر کی واضح تصویر پیش کی گئی تھی۔ ایک ایس ایم ایس تھا۔
قیامت کی پانچ نشانیاں۔
(۱) ایک سابق آمر مولوی بن جائے گا۔(۲) ایک سابق خاتون وزیر برقع اوڑھنے لگیں گی۔ (۳) بیرون ملک رکھا ہوا سرمایہ واپس پاکستان آجائے گا۔(۴) سارے سرکاری افسر اپنے پلاٹ واپس کردیں گے۔(۵) ایک پولیس انسپکٹر سڑک کنارے بیٹھے گداگر کو دس روپے کا نوٹ خیرات میں دے گا۔
ایک اور موبائل میں کوئز تکنیک استعمال کی گئی تھی۔ سوال نمبر ایک: کتنے ڈالر نچھاور کئے گئے؟ سوال نمبر 2 : لٹانے والے کون تھے؟ سوال نمبر3: یہ ڈالر کس نے لوٹے؟ سوال نمبر4: یہ ڈالر کس پر وارے گئے؟ اور کس شہر میں؟ چاروں سوالوں کے جواب کی اطلاع اس نمبر پر دیں۔
ایک اور ایس ایم ایس میں مستقبل کا نقشہ بیان کیا گیا تھا۔
وفاقی وزیر نے کہا: لوڈشیڈنگ دسمبر میں ختم ہوجائے گی، ہماری اطلاع”دسمبر تک سارے بجلی گھر بند کرائے جائیں گے“ نہ ہوگی بجلی نہ ہوگی لوڈشیڈنگ۔
موبائلی ادب کو اگر ختم کردیا گیا تو ہمارے ایک دوست کے مطابق پاکستان میں ادب تخلیق ہونے کی یہ ننھی سی امید بھی دم توڑ دے گی اس کے بعد ایس ایم ایس اس طرح کے ہوا کریں گے۔
کیا کررہے ہو؟
(جواب) سورہا ہوں؟
کیوں سورہے ہو؟
(جواب) ایس ایم ایس جو نہیں کرسکتا۔
آہ مظلوم پاکستانی ادیب۔

سقراط
05-06-2011, 10:29 PM
http://simplychrissa.files.wordpress.com/2011/03/hyena-laughing.jpg

اوشو
05-07-2011, 01:35 AM
مزاح ہی مزاح میں کافی سارے معاشرتی المیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے.
بہت خوب.

این اے ناصر
05-05-2012, 10:37 AM
شئیرنگ کاشکریہ۔