PDA

View Full Version : 28ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس (برمنگھم، یوکے)



سرحدی
06-01-2013, 09:34 AM
اٹھائیسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس



یہ کانفرنس انگلینڈ کے شہر برمنگھم کی سنٹرل جامع مسجد میں منعقد ہو رہی ہےجس میں عالمِ اسلام کے ممتاز علماء کرام ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالیں گے

اسلام ایک کامل اور مکمل دین ہےِ جس کا اعلان حجۃ الوداع کے موقع پر کردیا گیا اور اس تکمیلِ دین کے اعلان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت بھی اس اُمتِ محمدیہ پر تام کردی اور اس اُمت کے لیے دینِ اسلام کو پسندیدہ دِین قرار دیا۔ اور یہ بھی بتادیا کہ اللہ کے نزدیک دِین تو دِینِ اسلام ہی ہے ، اس کے علاوہ کوئی اور دِین اختیار کیا جائے گا تو وہ اللہ کے ہاں ہر گز قابلِ قبول نہیں ہوگا۔
دِین کی تکمیل کا مطلب یہ ہے کہ دِین اب قیامت تک باقی رہے گا، اب اس میں کسی تبدیلی، کسی اضافے، کسی ترمیم کی گنجائش نہیں، لہٰذا جب دین مکمل ہوچکا ہے تو انبیاء کی بعثت کا مقصد بھی مکمل ہوچکا، لہٰذا آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب نہ کسی نبی کی ضرورت ہے اور نہ کسی نبی کی گنجائش، لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ختمِ نبوت کا بھی اعلان کردیا گیا اور نبوّت و انبیاء کا جو سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا، وہ سلسلہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم کردیا گیا۔ حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں، آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب قرآنِ کریم اللہ کی آخری کتاب ہے ، اس کے بعد کوئی کتاب نازل نہیں ہوگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت آخری اُمت ہے ، جس کے بعد کوئی اُمت نہیں۔
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد رہتی دُنیا تک دو ہی مینارہئ نور ہیں، جن کی روشنی میں ہدایت کا راستہ تلاش کیا جاسکتا ہے اور رضائے اِلٰہی کا طریقہ ڈھونڈا جاسکتا ہے اور اسی روشنی میں گمراہی سے بچ کر صراطِ مستقیم پر گامزن ہوا جاسکتا ہے۔ وہ دو مینارہئ نور ایک قرآنِ کریم اور دُوسرے سیرتِ مقدسہ ہیں، بالفاظِ دیگر حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اور آپ کے اقوال وافعال جنہیں احادیثِ مقدسہ کہا جاتا ہے ۔
قرآنِ کریم نے بھی بہت وضاحت اور صفائی کے ساتھ بتایا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں اور احادیثِ مقدسہ نے بھی اس کی تصریح کی ہے ، بلکہ قرآن و احادیث میں جس کثرت اور تواتر و قطعیت کے ساتھ عقیدہئ ختم نبوت کو بیان کیا گیا ہے ، اس کی نظیر بہت کم ملے گی۔ قرآن و احادیث کے علاوہ اُمت کا روزِ اوّل سے اِجماع چلا آرہا ہے بلکہ تمام کتبِ سماویہ اور تمام انبیاء علیہم السلام کا اس پر اِتفاق و اجماع ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی ہیں ۔
عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ دِین کی اساس اور بنیاد ہے،کیوں کہ عقیدہ ختم نبوت ہے تو قرآن محفوظ ہے، عقیدہ ختم ِ نبوت ہے تو دین کی تعلیمات محفوظ ہیں، اگر یہ عقیدہ باقی نہیں رہتا تو پھر نہ دِین باقی رہے گا، نہ اس کی تعلیمات اور نہ قرآن باقی رہے گا، کیوں کہ بعد میں آنے والے ہر نبی کو دِین میں تبدیلی اور تنسیخ کا حق ہوگا۔ اس لیے اس عقیدے پر پورے دِین کی عمارت قائم ہے ،اسی میں اُمت کی وحدت کا راز مضمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی کسی نے اس عقیدے میں نقب لگانے کی کوشش کی یا اس مسئلے سے اختلاف کرنے کی کوشش کی، اسے اُمتِ مسلمہ نے سرطان کی طرح اپنے جسم سے علیحدہ کردیا، اس لیے ختم نبوّت کا تحفظ یا بالفاظِ دیگر منکرین ختم نبوت کا استیصال دِین کاہی ایک حصہ ہے اور مسلمانوں نے ہمیشہ اسے اپنا مذہبی فریضہ سمجھا ہے۔ اور اُمت نے ہر دور میں اپنا یہ فریضہ احسن طریقے سے انجام دیا ہے، اور اس فریضے کی ادائیگی میں کسی کوتاہی اور غفلت کی مرتکب نہیں ہوئی۔
خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری دور میں سب سے پہلے جھوٹے مدعیانِ نبوّت کا خاتمہ کرکے اُمت کے سامنے اس کام کا عملی نمونہ پیش کیا، چناں چہ یمن میں عبہلہ نامی ایک شخص جس کو اسود عنسی کہا جاتا تھا، نے سب سے پہلے ختم نبوت سے بغاوت کر کے اپنی جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ یمن کو اس سے قتال و جہاد کا باقاعدہ تحریری حکم صادر فرمایا اور بالآخر حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کے خنجر نے اس جھوٹی نبوت کا آخری فیصلہ سنا دیا۔
ختم نبوت کا دوسرا غدار مسیلمہ کذاب کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ اس نے نبوتِ محمدی میں شرکت کا دعویٰ کیا تھا، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سربراہی میں صحابہ کرام کی ایک جماعت کو اس کی سرزنش کے لیے بھیجا ، بالآخر ایک معرکۃ الآراء جنگ ہوئی اور مسیلمہ کذاب کو اس کے بیس ہزار اُمتیوںکے ساتھ قلعہ ''حدیقۃ الموت'' کے راستے جہنم کی راہ دکھائی۔(''حدیقۃ الموت'' اس جگہ کا نام ہے جہاں مسیلمہ کذاب کی موت واقع ہوئی)۔ صرف اس ایک معرکے میں مسلمانوں نے تحفظِ ختم نبوت کے لیے بارہ سو صحابہ کرام و تابعین کی شہادت کا نذرانہ پیش کیا، جن میں ستر بدری صحابہ کرام ؓ اور سات سو سے زیادہ وہ صحابہ کرام ؓ تھے جو قرآنِ کریم کے ماہر تھے اور قراء کہلاتے تھے۔ اتنی بڑی قربانی تمام غزوات اور سرایا میں نہیں دی گئی ، کیوں کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جتنی جنگیں لڑی گئیں، غزوات اور سرایا ملا کر ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام ؓ کی کل تعداد ٢٥٩ ہے ۔
غرض یہ کہ اُمت نے کبھی کسی جھوٹی نبوت کو برداشت نہیں کیا، جھوٹے نبیوں کے استیصال اور خاتمے کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پیش کی، ہر طرح کا ظلم برداشت کیا، آگ میں کودنا قبول کیا، مگر جھوٹی نبوت کو پنپنے نہیں دیا۔ ابو مسلم خولانی ؓکو اسود عنسی نے اپنی نبوت کے نہ ماننے پر آگ میں ڈالا مگر اللہ تعالیٰ نے آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح گلزار بنا دیا۔
اُمتِ مسلمہ کے افراد نے اپنا ایک ایک عضو کٹوانا گوارا کیا مگر جھوٹی نبوت کا انکار کیا، مسیلمہ کذاب نے حضرت حبیب بن زید ؓ سے اپنی نبوت کا اقرار کرانا چاہا، مگر انہوں نے بار بار انکار کیا، وہ بد بخت ایک ایک عضو کاٹتا رہا، بالآخر اُنہیں شہید کردیا گیا، مگر حضرت حبیب بن زید رضی اللہ عنہ سے اپنی نبوت کا اقرار نہ کراسکا۔
حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ تو ختم نبوت کا کام کو اپنی مغفرت کا سبب بتایا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ: '' اگر ہم ختم نبوت کا کام نہ کریں تو گلی کا کتا ہم سے بہتر ہے۔''
حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ :
'' نماز، روزہ،حج ، زکوٰۃ ، تبلیغ اور جہاد جیسے فرائض کا تعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال سے ہے اور ختم نبوت کا تعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مبارک سے ہے، ختم نبوت کی پاسبانی براہِ راست ذاتِ اقدس ۔۔۔۔۔۔ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔ کی خدمت کے مترادف ہے۔''
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ:
''ختم نبوت کا کام کرنے والوں کی حیثیت ذاتی باڈی گارڈ کی ہے ، ممکن ہے دُوسرے کام کرنے والے حضرات کا درجہ و مقام بلند ہو، لیکن بادشاہ کے سب سے زیادہ قریب اس کے ذاتی محافظ ہوتے ہیں اور بادشاہ کو سب سے زیادہ اعتماد بھی انہی ذاتی محافظوں پر ہوتا ہے ، اس لیے جو لوگ ختم نبوت کا کام کرتے ہیں ، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ ان پر اعتماد ہے۔''
خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ نے جماعت کی قیادت سنبھالی۔ آپ کے دور میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی حیثیت حاصل کر لی اور پورے عالم میں مجلس تحفظ ختم نبوت نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے کام کیا۔
١٩٨٤ء میں آپ نے ایک بار پھر تحریک کو منظم کیا جس کے نتیجہ میں امتناع قادیانیت آرڈیننس منظور ہوا، جس کی رو سے قادیانیوں کے لیے اپنے آپ کو مسلمان کہنا یا کہلوانا ، اذان دینا، اپنی عبادت گاہ کو مسجد قرار دینا ، کلمہ طیبہ کو بیج لگانا، مرزا گلام احمد کو نبی کہنا، اس کے ساتھیوں کو صحابی اور اس کی بیویوں کے لیے امہات المؤمنین وغیرہ کے الفاظ استعمال کرنا قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا۔ اس دوران حضرت مولانا مفتی احمد الرحمن، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت سید نفیس شاہ الحسینی صاحب رحمہم اللہ نے نائب امیر کی حیثیت سے شیخ المشائخ کی معاونت کی۔
حضرت شیخ المشائخ کے بعد حکیم العصر حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی مدظلہ العالی کی امارت اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر مدظلہ اور حضرت مولانا صاحب زادہ خواجہ عزیز احمد مدظلہ، کی نائب امارت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور رات دن عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور تردید قادیانیت میں مصروفِ عمل ہے۔
برطانیہ کے شہر برمنگھم کی یہ سالانہ کانفرنس بھی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوششوں کے تسلسل کی ایک کڑی ہے۔یہ کانفرنس حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان و رئیس جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کی زیر صدارت منعقد ہو رہی ہے ۔ اس کانفرنس کے مہمان خصوصی شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحب زادے حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی اور خانقاہ سراجیہ کے گدی نشین حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد صاحب ہوں گے۔ کانفرنس سے ختم نبوت کے مرکزی مبلغ و راہنما حضرت مولانا اللہ وسایا ، امیر مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ مولانا حافظ محمد نگین، جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتمم مولانا حافظ فضل الرحیم، اقرأ روضۃ الاطفال کے نائب مدیر مفتی خالد محمود ، مدرسہ امام محمد کے مہتمم قاری فیض اللہ چترالی، وکیل ختم نبوت منظور احمد ایڈوکیٹ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا یحییٰ لدھیانوی اور مقامی علماء کرام کے علاوہ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش اور یورپ سے آئے ہوئے علماء کرام خطاب فرمائیں گے۔ جمعیت علماء برطانیہ کے کارکنان مسجد حمزہ کا حفاظ گروپ اور برمنگھم کے غیور مسلمان میزبانی کا فریضہ انجام دیں گے۔کانفرنس کے دو سیشن ہوں گے : صبح 9 بجے تا نمازِ ظہر ، دوسرا سیشن نماز ظہر کے بعد 7بجے تک ہوگا، کانفرنس میں پورے یو کے سے عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھرپور شرکت کریں گے۔


(بصد شکریہ) حضرت مولانا مفتی خالد محمود صاحب دامت برکاتہم العالیہ



1151

لندن کے غیور مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے اپنی کوششیں شروع کردیں، یہ ختم نبوت کے تحفظ کا کام ہے جو ان شاء اللہ شفاعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذریعہ ہوگا۔ مسلمانانِ عالم کو قادیانیت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرائیں تاکہ کوئی ان کے دجل اور فریب میں نہ آسکے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور اکرم نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نصیب فرمائے، اور روز قیامت ہمیں شفاعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کا حق دار بنائے۔

محمد سلمان
06-01-2013, 09:42 AM
واہ سرحدی بھائی! آپ نے تو کمال کردیا ۔ بس مجبوری ہے کہ ہم لوگ برطانیہ نہیں جاسکتے ۔ ۔ ۔ لیکن بہرحال اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے دعا تو کرسکتے ہیں نا ۔۔۔۔چلیں سب مل کر دعا کریں ، اپنے ملک کی خصوصا اور تمام مسلمانوں کی عموما اس فتنے سے نجات کے لیے دعا مانگیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس طرح کے تمام فتنوں سے محفوط رکھے ، ہمارے ملک کو بھی اس طرح کے فتنوں کی آماجگاہ بننے سے محفوظ رکھے اور تمام مسلمانوں کو ان کے شر اور چکنی چپڑی باتوں میں آنے سے بچائے ، آمین۔