PDA

View Full Version : شاه حكيم اختر رحمه الله



نجم الحسن
06-03-2013, 04:12 AM
ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺍﮬﻠﺴﻨﺖ ﭘﯿﺮ _ ﻃﺮﯾﻘﺖ ﺭﮬﺒﺮ_ ﺷﺮﯾﻌﺖ ﺣﻀﺮﺕ عارف باللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محمداختر صاحب آج عصرومغرب کے درمیان اس جہان فانی سے کوچ کرگئے ۔ حضرت والا رحمہ اللہ کا مختصر سوانحیخاکہ وطن اصلی اور موجودہ: شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت مولاناشاہ حکیم محمد اختررحمہ اللہ کا وطن اصلی پڑتاب گڑھ انڈیاہے ۔ بعد ازاں پاکستان ناظم آباد ۔ پھر گلش اقبال نمبر 2 کراچی میں اور تاحال گلشن ہی میں جلوہ افروز تھے۔ حضرت نے ابتدائی تعلیم طبیہ کالیج علی گڑھ میں حاصل کی اور وہاں سے ڈگری حاصل کی ۔ تین اکابراولیاء کے خلیفہ: 1۔۔ دوران سب سے پہلے مولانا فضل رحمن گنج مراد آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ حضرت مولانا سیّد بدر علی شاہ رحمہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت اٹھائی، تین سال ان کی صحبت اور فیضان سے خوب مالامال ہوئے اور حضرت نے خلافت بھی عطافرمائی۔ 2۔۔ اس کے بعد پھر 17 برس حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کے ایک اورعظیم خلیفہ حضرت مولانا شاہ عبدالغنی پھولپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت میں رہے اور سرائے میر میں ان کے مدرسہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ یاد رہے کہ حضرت پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبندمیں سولہ اسباق بھی پڑھاتے تھےاور تقوی میں در یکتاتھے ، اور 12 مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کا شرف بھی نصیب ہوا۔ 3۔۔ حضرت پھولپوری کی وفات کے بعد حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک اور خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرارالحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے فیض صحبت سے کمال حاصل کیا۔ یاد رہے کہ حضرت والادامت برکاتہم انتینوں بزرگوں کے خلیفہ بھی ہیں جس کی وجہ سے حضرت کو تین دریائی کہا جاتاہے۔ حضرت والا اس وقت خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی میں قیام پذیر ہیں۔ حضرت والا کا دینی ادارہ:: حضرت والا دامت برکاتہم کا ایک بہت بڑا دینی ادارہ جامعہ اشرف المدارس کے نام سے سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر میں واقع ہے جس میں 5000 ہزار قریبا طلبہ زیر تعلیم ہیں نیز صرف کراچی میں مدرسے کی 10 سے زیادہ شاخیں ہیں۔ دنیاکے بیشتر ممالک کے اسفار: حضرت والا کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا درد دل دیاہے، اسی درد دل کو پھیلانے اور لوگوں کے دلوں میں اللہ کے عشق،محبت اور معرفت کی آگ لگانے کے لیے دنیابھر کے اکثر ممالک کاسفرکیااور وہاں الہامی بیانات فرمائے۔ سلسلہ تصوف: حضرت والارحمہ اللہ کا سلسلہ تصوف و اصلاح نفس وہی ہے جو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی اور حضرت حکیم الامت مجدد الملت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا ہے یعنی سلسلہ چشتیہ، قادریہ،نقشبندیہ *، سہروردیہ۔ جنھیں سلاسل اربعہ کہاجاتاہے۔ مواعظِ حسنہ(کتابیں): حضرت والا کی اپنی تصنیفات اور مواعظ سے حاصل شدہ چھوٹی بڑی کتابوں کی تعداد150 تک ہے ۔اور اس سے کئی گنا زیادہ کتابیں چھپائی کے مراحل میں اور کمپیوٹرو کیسٹس میں ہیں جو آہستہ آہستہ سلسلوار شائع ہوتی رہتی ہیں۔ دیگرزبانوں میں کتابیں: حضرت والا رحمہ اللہ کی کتابیں دنیاکی کئی زبانوں میں ترجمہ ہوکر چھپ کرتمام کتابیں فری میں شائع ہوتی رہتی ہیں، جن میں اردو، سندھی عربی، پشتو،بنگلا، برما، جرمن، فرنچ،انگریزی،رش *ین وغیرہ شامل ہیں۔ حضرت والا کا خاص مضمون: ویسے تو ہرموضوع پر بات فرماتے رہتے ہیں لیکن حضرت والا دامت برکاتہم آج کے دور میں سب سے زیادہ پھیلنے والی برائی و گناہ کبیرہ بدنظری،حسن پرستی عشق مجازی، امردپرستی، اغلام بازی کی قباحت پر بیانات فرماتے رہتے ہیں، حضرت کاجوبھی وعظ،کتاب،اوربیا *ن ہوگا اس میں لازما بدنظری ، امارداور حسن و عشق مجازی کے مضامین ہوں گے۔ اور یہ بدنظری اور حسین لڑکوں کاگناہ ایسا قبیح ہے جو ٹی وی فلم، نیٹ، کیبل، اور بازاروں و سڑکوں پر گھومنے والی عورتوں کودیکھنے سے ہوتاہے۔ اس گناہ کے بارے میں قرآن و حدیث میں سخت قباحت آئی ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے دین کی اشاعت: حضرت کی مرکزی ویب سائیٹ یہ ہے:خانقاہ ڈاٹ او آرجی اس کے علاوہ حضرت کے ایک نہایت پیارے خلیفہ اور زبردست دردمندانہ، والہانہ اور الہامی بیانات کرنے والے اور حضرت والا کی سچی تصویرحضرت اقدس شاہ فیروزعبداللہ میمن صاحب دامت برکاتہم کے زیر نگرانی یہ ویب سائیٹ ہے:ٹرو تصوف ڈاٹ او آرجی دونوں ویب سائیٹس میں حضرت والا کی اردو ودیگر کتابیں بے شمار آڈیوبیانات،حضرت * کے عارفانہ اشعار اور اہم و منتخب بیانات موجود ہیں۔ نوٹ: حضرت والاکے بے تحاشا مضامین، بیانات، وغیرہ ان شاء اللہ یہاں شامل اشاعت کرتارہوں گا، میرے علاوہ جو حضرات چاہیں شائع کرسکتے ہیں۔

بےباک
06-06-2013, 07:17 PM
جزاک اللہ ، مرحوم جناب اختر صاحب کی کتب پڑھی ہیں ۔ ان شاٗ اللہ ادھر ان کی کتب لگائیں جائیں گی

محمدمعروف
06-10-2013, 09:25 AM
اللہ حکیم صاحب مرحوم کو جنت الافردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔

تانیہ
06-12-2013, 10:46 PM
جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ تعالی حکیم صاحب مرحوم کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔ ۔۔۔۔آمین

سرحدی
06-13-2013, 11:53 AM
حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر رحمہ اللہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال تصوف و سلوک کا سلسلہ چلا رہے تھے۔ آپ کے خدام ، مریدین اور خلفاء کی تعداد بہت زیادہ ہے جو پاکستان اور بیرون ملک اسلام کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔
حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ سے بندہ کا پہلا تعلق غالبا سن 2000ء میں بنا جب میں ان کی خانقاہ گیا اور ان کی مجلس میں شریک ہوا، حضرت کی مجلس میں ایک روحانی سکون اور تسلی ملی۔
پھر اس کے بعد وقتا وقتا ان کی محافل میں جانا شروع کیا ، حضرت کو جب تک فالج کا حملہ نہیں ہوا تھا تو دیدار کرنا آسان تھا، لیکن جب حضرت فالج کے حملے سے متاثر ہوئے تو پھر ان کا دیدار بھی مشکل ہوگیا۔
اس کے بعد بندہ کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ کے ایک بزرگ سے بن گیا ، اور پھر سن 2007 یا 2008 میں قلبی تعلق حضرت الشیخ علی احمد نقشبندی رحمہ اللہ سے قائم ہوگیا، ہمارے شیخ کا انتقال 2010ء میں ہوا، اس کے بعد حضرت کے ایک خلیفہ مجاز سے تعلق قائم کیا۔ ان دونوں حضرات کو ایک دونوں سے بڑا لگاو تھا، اور ایک دوسرے کے ساتھ بڑی محبت رکھتے تھے۔
اللہ تعالیٰ میرے شیخ حضرت علی احمد صاحب نور اللہ مرقدہ اور حضرت شاہ حکیم محمد اختر صاحب اور جتنے بھی اللہ کے نیک بندے اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں ان کے درجات کو بلند فرمائے اور ان کے فیض کو رہتی دنیا تک جاری و ساری رکھے۔

نجم الحسن
06-13-2013, 03:05 PM
سرحدي صاحب جزاك الله آمين