PDA

View Full Version : اقتدار کےمتوالے مسٹرمولانا فضل الرحمان



سید انور محمود
06-10-2013, 04:47 PM
تاریخ: 10 جون 2013
از طرف: سید انور محمود

اقتدار کےمتوالے مسٹرمولانا فضل الرحمان


پاکستان میں اقتدار کے متوالوں کی کوئی کمی اور اُن ہی متوالوں میں سے ایک ہیں مسٹر مولانا فضل الرحمان۔ آپ سوچ رہے ہونگے کہ میں مولانا فضل الرحمان کی جگہ مسٹر مولانہ فضل الرحمان کیوں لکھ رہا تو عرض ہے کہ جب تک مولانا الیکشن لڑتے ہیں تو وہ مولانا ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ اسلام کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں ، آپکو یاد تو ہوگاحالیہ الیکشن میں مولانا اپنے سیاسی جلسے ”اسلام زندہ باد کانفرنس“ کے نام سے کرتے رہے اوراسلام کے نام پر ووٹ مانگتے رہے لیکن الیکشن کے بعد مولانا مسٹر بن جاتے ہیں ، پھر مولانا کو اسلام کی فکر کم اور اسلام آباد کی فکر زیادہ ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان انتہائی چالاک اورمعاملہ فہم سیاستدان ہیں، اپنی سیاسی پوزیشن کے بارئے میں بھی وہ اچھی طرح جانتے ہیں، انتخابات سے پہلے انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے مردہ گھوڑئے میں جان ڈالنے کی کوشش کی مگر انکے پرانے اتحادی ان کی چال میں نہ آئے۔ مولانہ کی سیاست کا محور صرف انکے مفادات ہوتے ہیں اس سے مولانہ کو غرض نہیں ہوتی کہ کون مصیبت میں ہے یا کس کا نقصان ہورہا ہے، مولانہ کو اس سے بھی کوئی غرض نہیں ہوتی کہ کون مرا یا کون جیا، مولانہ کا مقصد صرف اپنی غرض سے ہوتا ہے۔ آپکو یاد ہوگا دس جنوری 2013 کوبلوچستان کے شہر کوئٹہ ميں بم دھماکوں کے نتيجے ميں116افراد ہلاک جبکہ تقريباً 250 افراد زخمی ہوگئے۔شہید ہونے والوں کے ورثا نے دھماکوں میں مرنے والے اپنے عزیز و اقارب کی لاشوں کو دفن کرنے سے انکار کردیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ صوبائی حکومت کوبرطرف کر کے کوئٹہ شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے ۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے تیرہ اور چودہ جنوری کو رات گئے مظاہرین سے مذاکرات کے بعد صوبہ بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنے کا اعلان کیا جبکہ صوبائی حکومت کو برطرف کردیا گیا تھا۔ اس واقع میں ہلاک ہونے والوں سے تو مولانا فضل الرحمن کو کوئی ہمدردی نہ تھی مگر مولانہ اور انکی جماعت نے بلوچستان حکومت کی برطرفی کےخلاف احتجاجی تحریک شروع کردی تھی ۔ مولانا فضل الرحمن نے بظاہر گورنر راج کو جمہوریت کے خلاف اقدام قرار دیا تھا لیکن دراصل وہ اپنے مفادات کے چھن جانے پر بلبلا رہے تھے۔ مولانہ اور انکی جماعت جمعیت علمائے اسلام نے بلوچستان حکومت کی برطرفی کے مسئلے پر جوردعمل ظاہر کیا تھا، وہ نہ صرف ظالمانہ تھا بلکہ خودغرضانہ بھی تھا۔

ویسے تو مولانا نے الیکشن کے دوران لاتعداد جلسوں سے خطاب کیا تھا لہذا انکے ایک خطاب کو میں یہاں بیان کرونگا۔ الیکشن سے صرف12 دن پہلےٹانک کے علاقے مُلازئی میں 29 اپریل 2013 کو مولانا فضل الرحمان نے ایک انتخابی جلسے سے خطاب کے دوران کہا کہ" عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے 5 سال میں قوم کو بے روزگاری، مہنگائی اور خونریزی کے سوا کچھ نہیں دیا، ذوالفقار علی بھٹو امریکا مخالف نعرے سے ہی عوامی لیڈر بنے تھے لیکن اب ان ہی کی جماعت امریکا کی سب سے بڑی حامی ہے لیکن ہم نے امریکا کو آقا نہیں مانا۔ مولانا کا یہ بھی کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت آئندہ انتخابات میں تاریخی فتح حاصل کرے گی اور حکومت سازی میں ان کا کردار بھی کلیدی ہوگا، جے یو آئی کے بغیر ملک میں آئندہ حکومت نہیں بنے گی اور اگر بن بھی گئی تو ہمارے بغیر چلے گی نہیں"۔

مولانا فضل الرحمان نے سچ کہا مگر آدھا " عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی نے 5 سال میں قوم کو بے روزگاری، مہنگائی اور خونریزی کے سوا کچھ نہیں دیا" لیکن وہ اور انکی جماعت 2008 میں قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کے اتحادی بن گےاور کشمیر سے متعلق خصوصی کمیٹی کی چیئرمین شِپ حاصل کی، بلوچستان میں انکی جماعت کا ہر ممبر وزیر تھا لہذا جو حاصل نہ ہوا ہو وہ کم۔ 2010 میں اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ کے حصول کیلئے مولانا نے متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا ڈرامہ رچا کر کامیابی سے مولانا شیرانی کیلئے اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئرمین شپ حاصل کرلی۔ مگر جب مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی سے گلگت بلتستان کی گورنر شپ کا مطالبہ کیا تو پیپلز پارٹی نے ان کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا، گلگت بلتستان میں اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت تھی۔ مولانہ فضل الرحمان کا گلگت بلتستان کی گورنر شپ کا مطالبہ پورا نہ ہوا تو وہ کچھ عرصے بعد حکومت سے علیدہ ہوگے۔ اس پورئے وقت میں جب قوم کو بے روزگاری، مہنگائی اور خونریزی کا سامنا تھا، پیپلز پارٹی کے اتحادی مولانہ فضل الرحمان اور انکے ساتھیوں کا روز گار اپنے عروج پر تھا۔

مولانا نے فرمایا تھا کہ " ذوالفقار علی بھٹو امریکا مخالف نعرے سے ہی عوامی لیڈر بنے تھے لیکن اب ان ہی کی جماعت امریکا کی سب سے بڑی حامی ہے لیکن ہم نے امریکا کو آقا نہیں مانا"۔ لیکن الیکشن کے کچھ ہی دن بعد مولانہ امریکی سفیر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور الیکشن کی دھاندلی کارونا روُیا۔ بقول مولانہ کے امریکی سفیر نے ان کی باتوں کو توجہ سے سنا۔ پیپلز پارٹی نے تو امریکہ کو اپنا آقا بہت دیر میں مانا مگر مولانا تو 1979 سے اپنے آقا کی خدمت کررہے ہیں، اس خطے میں اپنے اس آقا کو لانے میں اُن کا بہت بڑا کردار ہے۔ لہذا اگر وہ امریکی سفیر کے پاس جاکر روئے تو اُن کے نزدیک کوئی غلط بات نہ ہوگی۔

مولانا کا یہ بھی کا کہنا تھا کہ" ان کی جماعت آئندہ انتخابات میں تاریخی فتح حاصل کرے گی اور حکومت سازی میں ان کا کردار بھی کلیدی ہوگا، جے یو آئی کے بغیر ملک میں آئندہ حکومت نہیں بنے گی اور اگر بن بھی گئی تو ہمارے بغیر چلے گی نہیں"۔ گیارہ مئی کے الیکشن میں انکی پارٹی کو قومی اسمبلی کی 10، صوبہ خیبر پختونخواہ میں 13 اور صوبہ بلوچستان میں صرف 6 سیٹیں ملیں جبکہ باقی دو بڑئے صوبوں یعنی سندھ اور پنجاب میں جےیو آئی کوئی سیٹ حاصل نہ کرسکی۔ بس یہ صورتحال دیکھکر مولانہ مسٹر بن گے ، مسٹر فضل الرحمان نےسب سے پہلی کوشش صوبہ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کی مگر نواز شریف اس گندئے کھیل میں اُن کے ساتھ شامل نہیں ہوئے، لہذا پھراُن کو اسلام آباد کی فکر زیادہ ہوئی۔ ماضی میں مسٹرفضل الرحمن حکومتوں کا حصہ اپنی شرائط پر بنتے تھے تاہم اس مرتبہ صورتحال ذرا مختلف ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ پہلے وہ امریکی سفیر سے ملے، بغیر کسی شرط کے قومی اسمبلی میں پہلے اسپیکر اور پھر ڈپٹی اسپیکر کے منصب کے لئے مسلم لیگ نون کے امیدواروں کو ، اور وزیراعظم کے لیئے نواز شریف کو ووٹ دیا ، بلوچستان میں مخلوط حکومت کی حمایت کا اعلان بھی کیا ۔

ایک خبر کے مطابق راتوں رات زرداری کیمپ چھوڑکر نواز شریف کیمپ میں آنے والے مسٹرفضل الرحمن نے ایک تازہ تازہ ملاقات وزیراعظم نواز شریف سے کی اور سرکاری بینچوں پر بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف نواز شریف نے بھی مسٹرفضل الرحمن کی ایک دو پسندیدہ وزارتوں کو ابھی تک پر نہیں کیا ہے اور کشمیر کی خصوصی کمیٹی کی چیرمین شپ بھی خالی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مسٹرفضل الرحمن ابھی بھی پرامید ہیں۔ ہوسکتا ہے کابینہ کی توسیع میں اُن کا کام ہوجائے اور آپ پھر اُن کے بھائی کو وزیر اوراقتدار کے متوالے مسٹر مولانا فضل الرحمن کو کشمیر کی خصوصی کمیٹی کی چیرمین شپ پر دیکھیں گے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔

بےباک
06-11-2013, 10:01 AM
آپ کا تجزیہ حالات کے مطابق ہے ۔جناب مولانا فضل الرحمن صاحب کو اپنے علاوہ کوئی قبول نہیں ، مگر عوام کو کیا کہیں ، اس مرتبہ تو کافی برج الٹ گئے ،
مسلہ ابھی یہی نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن صاحب کی چھوڑی ہوئی دو سیٹوں کا بھی ہے جن سے دستبرداری ہوئی ہے ،وہ بھی بچانے کے لئے لازمی طور پر حزب اقتدار میں رہنا ضروری ہے ،یہی وہ مقاصد اور اصولی فیصلے تھے جس کے لئے سب بےچینی تھی ،
مولانا فضل الرحمن صاحب کی مدارس کے لحاظ سے اسلام کی خدمت میں ایک نام تھا اور ہے ، مگر کیا کریں نفس پریشان کرتا ہے ، ایم ایم اے کی ناکامی میں ان کے اصولی فیصلوں کا بھی کافی ہاتھ ہے ،اس مرتبہ بھی ایم ایم اے بنانے کے لئے خوب محنت کی ،مگر لاحاصل ۔۔
ان کے اصولی فیصلوں کے بجائے ہم وصولی فیصلے سمجھتے ہیں ۔ مولانا کی پچھلے دنوں کی بےچینیاں اسلام اور اقدار سے کم مگر اقتدار کے لئے زیادہ تھیں ۔ مولانا نہ صرف امریکن سفارت کار سے ملے بلکہ باقی یورپین سفارت خانوں میں بھی رپورٹ دینا فرض اولین سمجھ لیا۔
اور وھاں پر انہوں نے انتخابی دھاندلیوں کا رونا رویا ،بقول جناب پرویز خٹک وزیر اعلی اسمبلی کے اندر مولانا ان کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہیں ، مگر اسمبلی سے باھر وہ اس کو دھاندلی کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں اور نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور ایسے دوغلے کردار کی وجہ سے ان سے بات کرتے ہوئے شرم ٓتی ہے ،یہ الفاظ وزیر اعلی خیبر پختون خواہ کے ہیں ،
وکی لیکس میں بھی ایسا ہی کچھ لکھا ہوا تھا کہ مولانا نے اپنے وزیر اعظم بننے کے لئے امریکا کو یقین دھانی دلوائی تھی کہ وہ سابقہ حکمرانوں سے کہیں بہتر امریکا کی خدمت کریں گے ،
ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمن وہ مچھلیاں ہیں جو اقتدار سے باہر رہ کر زندہ نہیں رہ سکتیں ،
ان سب باتوؓں کے باوجود ہمیں تسلیم ہے کہ مولانا ایک زیرک انسان ہیں اور ایک ذہین سیاستدان ہیں ،اور ان کی اسلام کے بارے میں علمی استعداد بڑھ کر ہے ، اور اسلامی تعلیم کے لحاظ سے صوبے بھر میں مدارس کا ایک سلسلہ پھیلایا ہے ،
آئین کو سمجھنے میں دوسروں سے تیز ترین ہیں ، گھتیاں سلجھانا ان پر ختم ہے ، اور وہ وہ نکات نکال لاتے ہیں کہ بندہ عش عش کر اٹھے ، یہ ان کی عقل و ذھانت کا معیار ہے ۔
مولانا کو کوئی بھی مشکل ترین مہم دے دیں ، مولانا اس کو انجام دے سکتے ہیں ۔ اس کا اندازہ موجودہ انتخاب کے بعد حزب اقتدار میں داخل ہونے کا ایک اعلی نمونہ ہے ،


مسئلہ یہ ہے کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا اِلہ الا اللہ‘‘ کے نعرہ کے تحت لیا گیا ملک پاکستان کہاں ہے؟
اسلام کا جتنا مذاق یہاں اڑایا جاتا ہے، طبقوں کی جتنی تقسیم یہاں ہوتی ہے اور وطن عزیز میں تین بڑے واضح تفریق میں لوگ نظر آتے ہیں۔
ایک اسلام سے بے زار، دور بھاگنے والے، اسلام کے نام کو پسند نہ کرنے والے
دوسرا طبقہ وہ جو اسلام کا نام استعمال کرکے، اقتدار کی کرسیوں پر براجمان رہتا ہے کبھی چہرے تبدیل ہوتے ہیں اور کبھی کرسیاں اور عہدے بدلتے رہتے ہیں
تیسرا طبقہ وہ جو اسلام سے محبت کرنے والا ہے، جو اسلام کے نظامِ حیات کو اپنی زندگیوں میں دیکھنا چاہتا ہے
جب تک یہ تفریق باقی رہے گی لڑائی چلتی رہی گی۔
محترم صرف ایک بات ہے بس! اس تفریق کو اور لوگوں میں موجود بے چینی کو ختم کردیں یقین جانیں سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔
کاش رہبران قوم اس بات کو سمجھ سکیں ، اور صحیح رہنما اور رہبر بنیں ، رہزن قوم مت بنیں ۔

سرحدی
06-13-2013, 11:08 AM
بھائی صاحبان میں بہت معذرت خوا ہوں! لیکن عرض کروں گا۔
یہ رونا دھونا چھوڑ دیں خدا کے لیے کب تک دوسروں کے عیوب پر نظریں جمائیں رکھیں گے۔
آپ تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں، کون ایسا گزرا ہے جو سچا اور پکا مسلمان بن کر اس قوم کی خدمت کے لیے آیا ہے، جتنے بڑے نام اٹھاتے چلے جائیں (الا ماشاء اللہ) آپ کو عیوب کی نا ختم ہونے والی داستان ملے گی۔ لکھنے کو تو بہت کچھ دل چاہ رہا ہے لیکن!
پردے میں رہنے دو ، پردہ نہ اٹھاؤ۔۔۔
اللہ تعالیٰ حکمرانوں کا فیصلہ رعایا کے اعمال پر کرتے ہیں، رعایا کا اپنا گریبان گندہ ہے تو دوسروں کو گالیاں کیوں دیتے ہیں، محترمین یہ ہمارے ہی اعمال ہیں ، کوئی مانے یا نا مانے، یہ پاکستانی عوام کے اعمال کا ہی نتیجہ ہے۔ سید صاحب، آپ تو نام کے ساتھ سید لکھتے ہیں، خدارا! آپ ہی رہنما بن جائیں، نکلے سڑک پر ایک ایک پاکستانی کا ہاتھ تھامیے، پاکستان میں کتنے لوگ ہیں جو آپ کی تحاریر کو پڑھتے ہیں؟
انقلابات اور تبدیلیاں صرف علماء کی ہی ذمہ داری نہیں ہیں، تاریخ میں آپ کو بہت سارے لوگ ایسے ملیں گے جو نہ تو عالم تھے اور نہ طالب علم لیکن وہ ایک جذبہ لے کر نکلے اور دنیا کی حالت بدل دی۔
آئیے میں آپ ہی کو دعوت دیتا ہوں، اعتراض کو چھوڑئیے، نکتی چینی کو بند کیجیے اور عمل کے ذریعہ میدان میں اتریں، اس پاک ذات کا پیغام لوگوں تک پہنچائیے جو زمین و آسمان کا مالک ہے، حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جو حیاتِ طیبہ ہمیں دے گئے ہیں اس کو معاشرہ میں رائج کرانے کی کوشش کیجیے۔ ہمیں روشن خیالی کی راہ نہ دکھائیے، ہم پہلے ہی روشن خیالی کے ڈسے ہوئے ہیں، ہماری بیٹیاں اور بہنیں روشن خیالی کے دریا میں ڈوب چوکی ہیں، ان کو کوئی سہارا نہیں ملتا، خدا کے لیے ایسے مضامین لگانا چھوڑدیں جو ہمیں کوئی راہ نہ سمجھا سکے۔
اعتراض اعتراض اعتراض ، بس یہی کچھ رہ گیا ہے؟؟؟؟؟؟
آپ اپنے مضامین میں دوسروں کو گندہ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں لیکن ثبوت نہیں پیش کرسکتے۔ اگر اتنی ہی جرأت ہے تو عدالت میں مولانا پر کیس کیجیے، اعتراض کے انبار لگانے سے کچھ نہیں ہوگا، اگر مولانا کو آپ نے مجرم ثابت کردیا اور ان کو ملک و قوم کا غدار ثابت کردیا، تو ہم مان جائیں گے کہ واقعی آپ اس لائق ہیں کہ اعتراض کرسکتے ہیں اور ثابت کرنے کی سکت بھی رکھتے ہیں اگر نہیں کرسکتے تو پھر لوگوں کے ذہنوں کو گندہ کرنا چھوڑ دیں۔
بہت معذرت کے ساتھ عرض کروں کہ مجھے مکھن لگانا نہیں آتا جو دل کی بات ہوتی ہے وہ زبان پر ہوتی ہے، اس لیے میں تحریر کی شائستگی سے ناواقف ہوں، اس کو برقرار نہیں رکھ سکا، اگر کچھ تلخ لگا ہو تو معذرت خوا ہوں۔
ذاتی طور پر میرا نہ تو مولانا سے کوئی تعلق ہے نہ ہی میں ان کی جماعت کا ممبر ہوں، نہ ہی مسلم لیگ سے لگاو ہے، لیکن آپ کے اعتراضات کے مضامین دیکھ کر اپنے دل کا حال بیان کردیا ہے۔

سید انور محمود
06-13-2013, 05:16 PM
محترم سرحدی صاحب
اسلام علیکم
آپکے بےلاگ تبصرئے کا شکریہ، آپ جب بھی میرئے کسی مضمون پر تبصرہ کرتے ہیں میں اُسے بہت غور سے پڑھتا ہوں۔ آپکے تبصرئے کے جواب میں عرض کروں کہ اگر میں یہ سب نہ لکھوں جس پر آپکو شدت سے اعتراض ہے تو جناب پھر میں لکھنا بند کردیتا ہوں۔ ایک اور ضروری بات وہ یہ کہ آپ روشن خیالی کا کیا مطلب لیتے ہیں، اگر آپ کے نزدیک روشن خیالی کا مطلب مادر پدر آزادی ہے تو معذرت کے ساتھ جس پاکستان میں آپ رہتے ہیں، اُسی پاکستان میں میں بھی اپنے بچوں کے ساتھ ہوں۔ میرا خیال ہے کہ چونکہ میں نے جب بھی جماعت اسلامی یا مولانہ فضل الرحمان کے بارئے میں ان کے خلاف کچھ لکھا ہے ، آپ اس مضمون کو سیاسی سے زیادہ مذھبی رنگ دے دیتے ہیں، اور پھر آپکے ذھن میں آتا ہے کہ یہ سیکولر ہے، یہ روشن خیال ہے، ارئے یہ تو اسلام کے بھی خلاف ہے۔ پاکستان کی سیاست میں یہ بنیادی اختلاف موجود ہے کہ اگر کوئی دین کی بات کرئے تو اُسے ملا کی ٹرٹر کہا جاتا ہے، اور اگر کوئی عوام کےحقوق کی بات کرئے یا کسی مذھبی سیاست دان کا اصل چہرہ سامنے لائے تو وہ سیکولر ہوجاتا ہے۔

یہ بھی تاریخ ہے جو میں لکھ رہا ہوں، میں کسی کو گندہ نہیں کررہا ہوں، کیا یہ غلط ہے کہ دس جنوری 2013 کوکوئٹہ ميں بم دھماکوں کے نتيجے ميں116افراد ہلاک جبکہ تقريباً 250 افراد زخمی ہوگئے اور اس وجہ سے صوبہ بلوچستان میں گورنر راج نافذ ہوا مگر ہلاک ہونے والوں سے مولانا فضل الرحمن کو کوئی ہمدردی نہ تھی ، انہیں اپنے مفادات کی فکر تھی ، کیا یہ بھی غلط ہے کہ کشمیر کمیٹی کے چیرمین کی حیثیت سے مولانہ نے فاہدئے نہیں اٹھائے، کیا یہ بھی غلط ہے کہ ایم ایم اے کو ملاملٹری الاینس بنانے میں مولانہ کا کردار نہیں تھا۔ کل زرداری تھا تو اُس کی وفاداری آج نواز شریف کی وفاداری، مقصد صرف اپنے مفادات کا حصول، اور جب میں یہ حقیقت لکھتا ہوں تو آپ اُسے گند کہہ رہے ہیں۔

میرئے بھائی عملی سیاست بہت کرلی ہے، اور آپکی اس بات سے متفق ہوں کہ ہر جگہ گند ہی گند ہے، اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ جیسے عوام ویسے حاکم ، یہ عام لوگوں کو صرف بےوقوف بنانے کا طریقہ ہے، لیڈر کا کام رہنمائی ہوتا ہے عوام کا نہیں۔ جس سسٹم میں میں اور آپ رہ رہے ہیں اُس میں رہتے ہوئے میں مولانہ پر دس کیس کردوں مولانہ کا کچھ نہیں بگاڑ پاونگا۔ آپ ہر مرتبہ یہ پوچھتے ہیں کہ انکا حل کیا ہے تو آج اسکا بھی جواب لے لیں ، اسکا حل ہےصرف اورصرف عوامی انقلاب چاہئے اُسکی قیادت منور حسن ہی کیوں نہ کریں۔ آپ اور میں لاکھ نظریہ خمینی سے اختلاف کریں، مگر انقلاب خمینی سے اختلاف کرنا ممکن نہ ہوگا۔

آپنے تو پڑحا ہوگا کہ خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ رات کو سوتے سوتے اٹھ جایا کرتے تھے اور روتے تھے کہ اللہ تعالی نے جو ذمیداری انکو سونپی کہیں اُس میں اُن سے کوئی کوتاہی نہ ہوجائے۔ کاش ہمیں کوئی ایسا رہنما مل جائے، پھرآپ یقین کریں میں کوئی گند نہیں کرونگا۔

آپ اپنے تبصرئے جاری رکھیں کیونکہ وہ میرئے لیے بہت اہم ہوتے ہیں، آپکی کوئی بھی بات کبھی بھی بری نہیں لگتی۔ اللہ تعالی میرئے وطن کو سلامت رکھے، اختلاف تو ہوتے رہتے ہیں۔
شکریہ

سرحدی
06-15-2013, 11:57 AM
سید صاحب میں آپ کے تبصرہ پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
عرض ہے کہ آپ لکھنا بند نہ کریں، شدت سے اعتراض کرنا میں سمجھتا ہوں کہ میرا حق بنتا ہے ، اگر کوئی بات آپ کو ایسی لگتی ہے جس پر میری اصلاح ہونی چاہیے تو میں اس کو قبول کروں گا ، بس صرف ایک ہی شرط ہے کہ وہ بات اسلام کے دائرے کے اندر ہو۔
روشن خیالی کا موجودہ مفہوم واقعتا یہی ہے کہ مادر پدر آزاد معاشرہ کو تشکیل دے دیا جائے جس میں کسی کو روکنے والا کوئی نہ ہو، اس کی مثال آپ پچھلے دس سے بارہ سالوں کے پاکستان میں دیکھ سکتے ہیں، جس میں اسلام کے نعرے لگانے والوں کو زدو کوب کیا جاتا ہے اور معاشرتی بے راہ روی ، اخلاقی گراوٹ، لڑکے لڑکیوں کا اکیلے ناچ گانا، شراب و شباب کی محفلوں اور اسلام اور پاکستان کا نظریاتی نظام تباہ کرنے والوں کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے ، کیا آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں؟
محترم سید صاحب! آپ نے فرمایا کہ جماعت اسلامی یا مولانا کے متعلق جب آپ کچھ تحریر فرماتے ہیں تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تو جناب عالی بات یہ نہیں ، میں نے پاکستان کی سیاست کی تاریخ دیکھی ہے، مجھے نہیں پتہ کے لکھنے والے کی بات میں کہاں تک درست ہے ، لیکن اس کی تحریر پڑھ کر مجھے موجودہ سیاسی نظام سے سخت نفرت ہوگئی ہے، اور تحریر کی صداقت کا تو علم نہیں ، البتہ موجودہ سیاست دانوں کو دیکھ کر یہی اندازہ ہوتا ہے کہ شاید ایسا ہی ہوتا ہوگا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک گندہ تالاب ہے اور اس میں اکثر گندے ہی ہیں، البتہ جس کو اللہ تعالی نے بچالیا ہو وہ اس گندگی سے محفوظ ہوگیا ہوگا۔
پاکستان میں سیاست نہیں ہے، بلکہ سیاہ ست ہے۔ ہر کوئی دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگا ہوا ہے، اس لیے آپ کے تبصرے پڑھ کر مزید مایوسی پھیلتی چلی جاتی ہے، کہ کوئی منزل متعین نہیں ہوپارہی ۔
رہی بات خمینی کے انقلاب کی تو جناب عالی! انقلابِ ایران سب کے سامنے ہے، وہ انقلاب ایران میں آیا اس سے تبدیلی ہوئی، یہ کسی سے مخفی نہیں، لیکن انقلاب کی منزل کیا تھی، اور وہ کہاں آکر ٹھہری ہے اس سے اختلاف رکھنا میرے خیال میں نہ تو غیر قانونی ہے اور نہ ہی غیر آئینی۔
آپ کی بات درست ہے کہ ایسے وقت میں صرف انقلاب ہی حل ہے، لیکن انقلاب کے لیے آپ کس کے پیچھے چلیں گے، کیا آپ کو موجودہ لیڈروں میں کوئی نظر آتا ہے کہ وہ مخلص ہو، اگر نہیں تو یاد رکھیے کہ ایسے انقلابات بجائے فائدے کے نقصان دیتے ہیں کیوں کہ بقول شاعر :
یہاں تو ہر شخص نے پہنے ہوئے ہیں دستانے
اس لیے انقلاب کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا ہی کرسکتے ہیں کہ وہ ہمیں کوئی مخلص قیادت نصیب فرمائے جو ہمیں سیدھے راستے پر اسلام کے احکامات کے اندر رہتے ہوئے لے کر چلے اور اس وطن عزیز پاکستان کو ایک صحیح اسلامی ریاست بنانے میں کردار ادا کرسکے۔
آپ نے کوئٹہ کے بم دھماکوں کی بات ہے ، یہاں پر میں عرض کروں کہ میرے علم میں نہیں کہ اس کی کس نے مذمت کی اور کس نے نہیں کی، یہ ہمارے ملک کا بہت بڑا المیہ بنتا جارہا ہے کہ عوام کے نقصان پر خاموشی کا لبادہ اوڑھ لیا جاتا ہے، ڈرون حملوں کو دیکھ لیں، ہمارا خود مختار ملک اس کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں ، سندھ میں الگ صوبہ حتی کہ الگ ملک کا اعلان کردیا جاتا ہے، لیکن ہمارے سابقہ اور موجودہ حکمران خواب غفلت سے بیدار ہی نہیں ہوتے، تو اب آپ ہی بتائیے کہ فقط اعتراضات کرنے اور الزام تراشی سے یہ مسئلہ ہوگا؟؟
آپ بھی دعا کریں، میں بھی دعا کرتا ہوں اور تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مخلص قیادت نصیب فرمائے، ہمیں خوفِ خدا رکھنے والے وہ عادل اور مسلمان حکمران نصیب فرمائے جن کے دل دن میں عوام الناس کی فلاح و بہبود کے لیے دھڑکتے ہوں اور راتوں کو اللہ کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے معافی کے خواستگار ہوں ۔

سید انور محمود
06-15-2013, 04:33 PM
سرحدی صاحب، تبصرئے کا شکریہ۔ امید ہے آیندہ بھی آپ کے بےلاگ تبصرئے جاری رہینگے۔
یہاں میں محترم بےباک صاحب کا بھی انکے تبصرئے پر شکریہ ادا کرونگا۔
آپ دونوں حضرات اور اپنے تمام دوستوں سے ایک بات ضرور عرض کرونگا کہ یہ ملک اسلیے بنا تھا کہ مسلمان نہ صرف معاشی طور پر بلکہ مذہبی طور آزاد ہوں۔ اسلیے وہ لوگ جو یہاں یہ سوچیں کہ انکو مادر پدر آزادی مل جائے یا اسلام کے مخالف کوئی اور نظام آجائے وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ بدنصیبی فقط اور صرف فقط ایک مخلص لیڈر شپ کی ہے۔ مایوسی کفر ہے اسلیے اللہ تعالی کی ذات کبھی نہ کبھی ہم پر اپنا فضل کرئے گی۔
شکریہ