PDA

View Full Version : نواز شریف حکومت۔ داخلی اورخارجہ پالیسی



سید انور محمود
06-16-2013, 12:11 AM
تاریخ: 15 جون 2013
از طرف: سید انور محمود

نواز شریف حکومت۔ داخلی اورخارجہ پالیسی




کسی بھی ملک کو ترقی دینے کے لیے اسکی داخلی اور خارجہ پالیسی بہت اہم ہوتی ہیں، پاکستان کی سابقہ پیپلز پارٹی کی حکومت اِن دوُنوں پالیسیوں میں بدترین ناکام رہی ہے۔ سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کبھی بھی امن امان کےلیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ وہ ملک کی داخلی پالیسیوں میں ناکام رہے، یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ جب یہ صورتحال کسی ملک کی ہوگی تو لازمی وہاں معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں، یہ ہی وجہ ہے نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاری رک گی بلکہ ملکی سرمایہ باہر چلا گیا، ایک طرف یہ داخلی صورتحال تھی تو دوسری طرف پاکستان میں ایک ایسی خاتون کو وزیر خارجہ بنایا گیا جن کا خارجہ امور میں دور دورتک کوئی تجربہ نہ تھا، انکی تعلم ایم بی اے ہے اور وہ وزیر خارجہ سے زیادہ فیشن شو کا چلتا پھرتا نمونہ تھیں، سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کے ہندوستانی دورئے کے دوران ہندوستانی میڈیا خارجہ امور کی جگہ اُن کے لباس، ہینڈبیگ اور میک اپ پر بات کرتا رہا۔ مختصر یہ کہ جہاں پیپلزپارٹی کی حکومت نےدوسرئے شعبوں کا ستیاناس کیا، وہیں داخلی اور خارجہ پالیسی بھی پستی میں چلی گیں۔

پاکستان میں اقتدار کی منتقلی مکمل ہوچکی ہے، میاں نواز شریف وزیراعظم کا منصب سنھبال چکے ہیں۔ نواز شریف کابینہ میں ابھی تک وزیر خارجہ کا تقرر ممکن نہ ہوسکا ہے۔ابھی تک جو اعلان سامنے آیا ہے اسکے مطابق خارجہ امور کا قلمدان نواز شریف اپنے پاس رکھیں گے۔ یہ ہمارئے ملک کی بدقسمتی ہے کہ سیاسی جماعتیں اقدار میں تو آنا چاہتی ہیں مگر اُن میں ماہرین کا قحط ہوتا ہے۔ مسلم لیگ ن میں اسوقت صرف سرتاج عزیز ہیں جو نواز شریف کے سابق دور میں وزیر خزانہ اور وزیر خارجہ رہے ہیں۔ سرتاج عزیز جب وزیر خزانہ تھے تو وہ ہر معاشی مسلے کا حل سرچارج میں نکالتے تھے لہذا وہ سرتاج عزیز کی جگہ سرچارج عزیز کہلانے لگے تھے، وزیرخارجہ کی حیثیت سے وہ ناکام رہے اور ایک ایسا بھی وقت آیا کہ بھارت کے وزیر خارجہ نے ان سے ہاتھ ملانے سے بھی گریز کیا، انکی جو تصویر اخبارات میں چھپی تھی اس میں وہ بھارت کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھیگی بلی بنے کھڑئے تھے۔ اسوقت ملک جن معاشی اور بدامنی کا شکار ہے اُس سے ہم سب واقف ہیں۔ معاشی طور پر ہم ایک تباہ حال ملک ہیں جبکہ داخلی طور ہم امن وامان کے مسلئے سے دوچار ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ حال ہی میں جرمنی کے وزیر خارجہ نے دورہ پاکستان میں ڈرون حملوں کا نہ صرف دفعاع کیا بلکہ وہ امریکوں کے لیے رونے لگے۔ نواز شریف کو ابھی صرف تین دن ہوئے تھےوزیر اعظم بننے ہوئے کہ نوشہرہ میں ایک اور ڈرون حملہ ہوا جس میں سات افراد ہلاک ہوئے۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ایک مضبوط داخلی اور خاجہ پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔ مندرجہ ذیل نکات کو سامنے رکھ کر اگر داخلی اور خارجہ پالیسی کو ترتیب دیا جائے تو بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔

۔ امریکی اعلان کے مطابق امریکہ 2014 میں افغانستان سے چلاجائے گا۔ ماضی کی تاریخ پر اگر نگاہ ڈالیں تو افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد امریکہ نے افغانستان سے اپنے آپ کو ایسے علیدہ کرلیا تھا جیسے افغان مسلئے سے اسکا کوئی تعلق نہ ہو جبکہ پاکستان جہاں 20 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین موجود تھے اور ان تمام کا بوجھ اکیلاپاکستان برداشت کرتا رہا ہے اور ان افغان مہاجرین کی وجہ سے آج پاکستان میں امن و امان ایک بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اب جب امریکہ خود افغانستان میں موجود ہے اسکے جانے کے بعد جو صورتحال تباہ حال افغانستان کے اندر پیدا ہوگی اُس سے پاکستان کے داخلی حالات کے مزید خراب ہونے کا ڈر ہے۔ حامد کرزئی ٹولے سے پاکستان کو کوئی خیر کی امیدنہیں ہونی چاہیے۔

۔ اگلے سال 2014 میں بھارت میں الیکشن ہونگے، کانگریس کامقابلہ ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی سے ہونا ہے۔ اس مرتبہ بی جے پی نے ایل کے ایڈوانی سے بھی زیادہ انتہا پسند نریندر مودی جو مسلمانوں اور پاکستان کے بدترین دشمنوں کے طور پر پہچانا جاتا ہے بی جے پی کی قیادت اسکوحوالے کی ہے اور اگر بھارت میں بی جے پی آیندہ انتخابات کے بعد اقتدار میں آتی ہے تو متوقع وزیراعظم نریندر مودی ہوسکتا ہے جس سے بھارت کی خارجہ پالیسی خاص طور پر پاکستان کےلیے یکسر بدل سکتی ہے۔

- توانائی کا بحران حل کرنےکے لیے پاکستان ایران سے گیس پایپ لاین کے زریعے گیس حاصل کرنا چاہتا ہے جس پر کام ہورہا ہے جبکہ امریکہ اس منصوبے کا مخالف ہے۔ ایران امریکہ تعلقات خراب تر ہیں جبکہ عرب دنیا کے ممالک جن میں خاصکر سعودی عرب، کویت اور یواےای شامل ہیں اُن کے ایران سے اچھے تعقارت نہیں ہیں۔ جبکہ گذشتہ حکومت کے دور میں سعودی عرب، کویت اور یواےای سے پاکستان کے تعلقات کافی حد تک سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ اِن تینوں ممالک میں لاکھوں پاکستانی برسرروزگار ہیں جس سے نہ صرف ہمارئے لاکھوں گھروں کا گذارہ ہورہا ہے بلکہ ایک کثیر زرمبادلہ پاکستان آتا ہے جو ہماری معشیت کی مدد کرتا ہے۔

- چین جس کی دوستی کے بارئے ہمارئے ملک میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ پاک چین دوستی ہمالیہ سے بھی بلند ہے، ماضی میں بھی اور اب بھی چین نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی اور فنی طورہماری بھرپور مدد کررہا ہے، گوادر کی بندرگاہ اسکی ایک مثال ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارئے اس عظیم دوست کو ہم سے یہ شکایت ہوگی ہے کہ ایک طرف ہم اُس سے پاکستان میں سرمایہ کاری چاہتے ہیں جبکہ دوسری طرف پاکستان سےدہشت گرد خنجراب ہائی وے کے راستے مغربی چین میں داخل ہوکر وہاں دہشت گردی کررہے ہیں، یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں چینی مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی موجود ہے۔

- پورئے یورپ سے اس وقت ہمارئے تعلقات سفارتی تعلقات سے زیادہ کچھ نہیں ہیں، آج صورتحال یہ ہے کہ امریکہ ، کنیڈا یا پورے یورپ میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی ہوجائے وہ سب سے پہلے اسکو پاکستان سے جوڑتے ہیں اور کچھ واقعات میں یہ ثابت بھی ہوا ہے۔ ہمیں بیرونی سرمایہ کاری اور فنی امداد کےلیے ان ممالک کی ضرورت ہے اور رہے گی۔

اوپر جونکات بیان کیے گے ہیں ان کے تدارک کے لیے پاکستان کو اپنی داخلی اور خارجہ پالیسی پر لازمی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ داخلی طور پر نواز شریف طالبان سے مذکرات کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں امن و امان کےلیے اقتدامات کرینگے۔ وزیر داخلہ کی حیثیت سے چوہدری نثارعلی خان چارج لے چکے ہیں جبکہ وزارت خارجہ کو نوازشریف خود دیکھیں گے۔ نواز شریف کی خارجہ پالیسی کا حدف تجارت، غیر ملکی سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون بڑھانے سے ہے، جبکہ وہ افغانستان کے اندر مفاہمانہ عمل اور ہندوستان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور خطے میں امن کےلیے بھارت کےساتھ امن مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ مگر یہ کافی نہ ہوگا کیونکہ سب سے پہلے ہمیں اپنے گھر کو دیکھنا ہوگا۔ نواز شریف کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے داخلی حالات کو ٹھیک کریں اورملک میں لازمی امن و امان قائم کریں۔ خارجہ پالیسی کے لیے سب سے پہلے اپنے تمام سفارتکاروں کو متحرک کرنا ہوگا۔ سفارتکاری ایک بہت ہی فنی شعبہ ہے لہذا حکومت کو اپنے تمام سفیروں کی جانچ پڑتال کرنی ہوگی۔ اس سلسلے میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سفارتکاروں کی سابقہ کاکردگی کیا رہی اور وہ سیاسی یا سفارشی طور پر تو سفیر نہیں بنے، ماضی کی ایک مثال حسین حقانی ہیں جو سفیر تو پاکستان کے تھے لیکن مفاد انکو امریکہ کا عزیز تھا۔ایک آخری بات یہ کہ نوازشریف کے لیے یہ ایک مشکل کام ہوگا کہ وہ وزیراعظم کی ذمیداری کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ کی ذمیداری بھی پورا کریں۔ انکو چاہیے کہ وزیرخارجہ کے لیے ایک ایسے شخص کا انتخاب کریں جو سفارتکاری کا ماہر ہو اور پاکستان کے مفاد میں خارجہ پالیسی کو آگے بڑھائے۔ پاکستان کے حق میں بہتر ہوگا کہ نواز شریف وزیر اعظم کی حیثیت سے کام کریں اور ملک کی داخلی اورخارجہ پالیسی ملک کے حالات کے مطابق بدلیں اور اپنے وزیروں اورسفیروں سے کام لیں تاکہ داخلی اور خارجی محاذ پر پاکستان میں بہتری آسکے۔